عصر حاضر کے کولمبس ۔ رمضان بلوچ

رمضان بلوچ

عصر حاضر کے کولمبس …… رمضان بلوچ

​ماضی کا کرسٹوفر کولمبس ایک بحری مہم جو تھا اور آج کے کولمبس ہمارے رمضان بلوچ صاحب ہیں۔ اُس نے امریکہ دریافت کیا تھا جو آج پوری دنیا کے لیے ایک ناسور بن چکا ہے مگر رمضان بلوچ صاحب نے جس لاپتہ شہر کا سراغ لگایا ہے وہ آج شہر کراچی کا ایک تابناک ستارہ ہے ۔ رمضان بلوچ صاحب نے ’’ایک لاپتہ شہر کا سراغ‘‘ میں کراچی کے علاقے ’’لیاری ‘‘ کا سراغ لگایا ہے۔

یہ سراغ اس اس قدر مفصل ،جامع اور دلچسپ معلوماتی انداز سے لگایا کہ کتاب کے کئی حصوں کو پڑھتے ہوئے ایک شدید محرومی کا احساس ہوا کہ کا ش میں بھی لیاری میں پیدا ہوا ہوتا کیونکہ میری اوررمضان بلوچ صاحب کی عمروں میں صرف دس برس کا فرق ہے وہ مجھ سے دس برس بڑے ہیں اس لیے ان کی اس کتاب میں کسی نہ کسی صفحے پر میرا بھی تذکرہ ہوتا مگر …

​ع …حسرت اِس غنچے پہ ہے جو بن لیاری رہ گیا

​کتاب کا مرکزی موضوع اور اہم اہل علم کی آراء

رمضان بلوچ صاحب کی کتاب ’’ایک لاپتہ شہر کا سراغ ‘‘کا ضمنی عنوان ہے ’’ کراچی کا درخشاں ماضی، تخریب کے دن ، مستقبل کے امکانات ‘‘۔ اس کتاب میں ویسے تو تین بڑے اہل علم کی تقریظات ہیں جن میں محمود شام صاحب، ڈاکٹر سید جعفر احمد صاحب اور ڈاکٹر ریاض شیخ صاحب ،پیش لفظ اور کچھ ہماری عرض کے عنوان سے رمضان بلوچ صاحب نے ابتدا کی ہے ۔میںبھی اپنے اس مضمون کی ابتدا انہی کے الفاظ سے کرتا ہوں:

​’’شہر کے ایک ایسے علاقے میں ہم نے پرورش پائی جہاں غربت تھی ،افلاس تھا او رمحرومیاں بھی تھیں لیکن ایک اور انمول چیز بھی یہاں ہمیں میسر تھی جوبچپن ہی سے ہمارے ذہنوں میں بٹھا دی گئی جس کا لمس او رپور ی زندگی مائوف ہوئی اور نہ اب ہو سکتی ہے اور وہ تھی انسانوں سے محبت۔ ہم جہاں رہتے تھے وہاں بلوچ ، سندھی، کچھی ،پٹھان، پنجابی ،میانوالی اور اردو بولنے والے مہاجر بھی رہائش پذیر تھے ۔یہ ایک پریم نگری تھی جہاں کرسچن اور ہندو مہیشوری برادریوں کی بڑی تعداد بھی مقیم تھی اور ابھی تک ہے ۔ اس دور کے کراچی کی روایتوں اور قدروں کے مطابق کہ ثقافت اپنی اپنی ،عقیدہ اپنا اپنا لیکن تمام طبقات کی سماجی زندگی کا محور انسانیت سے محبت ہی تھی ۔جس کے تحت اپنائیت کے جذبے سے سرشار باہمی محبت اور بھائی چارہ کے احساسات کے ساتھ یہاں تمام طبقوں پر مشتمل ایک ملا جلا پُر سکون معاشرہ تشکیل پا چکا تھا ۔اس دور کی خوشگوار یادوں کو الفاظ کا جامہ پہنا کر سمیٹنے اور نوجوان نسل تک یہ بات پہنچانے کی سعی اس کتاب میں کی گئی ہے تاکہ وہ ذہن نشیں کر لیں کہ کبھی ہمارا یہ چمکتا دمکتا شہر ایک انسانی بستی بھی تھا۔‘‘[۱

​لیاری کے ماضی کا حال اس مختصر مگر جامع تحریر میں سما چکا ہے ۔

​محمود شام صاحب کا تبصرہ

​محمود شام صاحب نے کتاب کے عنوان کو اپنی تحریر کا عنوان بناتے ہوئے لکھتے ہیں:

​’’رمضان بلوچ کی یہ کاوش کراچی کی تاریخ اور جغرافیے پر لکھی جانے والی کتابوں میں ایک اہم اور قیمتی اضافہ ہے ۔اس سے کراچی کے خدوخال ، عارض و گیسو اور خوبصورت ہو کر کراچی والوں کے سامنے آئے ہیں۔اگر کسی یونیورسٹی کے لیے رمضان بلوچ تحقیق کرتے وہ یقینا پی ایچ ڈی کی ڈگری لے سکتے تھے ۔اب بے نظیر بھٹو یونیورسٹی لیاری انھیں اس تحقیقی کاوش پر اعزازی ڈگری جار ی کر سکتی ہے‘‘۔

​ڈاکٹر سید جعفر احمد کی رائے

​ڈاکٹر سید جعفر احمد اپنی تحریر ’’رمضان بلوچ کا شہر آرزو ‘‘ میں لکھتے ہیں:

​’’رمضان بلوچ صاحب صحیح معنوں میں فرزند کراچی ہیں۔وہ پاکستان کے قیام سے کوئی تین سال قبل ساحل سمندر پر آباد اس شہر میں پیدا ہوئے۔سو دوسرے لفظوں میں ان کی زندگی کا سفر پاکستان کی ہمراہی میں آگے بڑھا۔یہی نہیں بلکہ انھوں نے اپنے شہر سے اپنے تعلق خاطر کو اپنے لیے وسیلہ تفاخر بھی بنایا اور یہی ان کی پہچان بھی قرار پایا ۔

وہ کراچی کی تاریخی بستی لیاری کے ایک غریب خانوادے میں پیدا ہوئے ۔سو ان کی زندگی دو باہم متصل شاخوں میں آگے بڑھی۔انھوں نے اپنی زندگی کو مادی طور پر استوار کرنے کی جدوجہد بھی کی اور اپنے شہر سے محبت کا پیمان بھی پورا کرتے رہے ۔اسی پیمان وفا کا حاصل ان کی کئی کتابیں ہیں جو کراچی سے متعلق ہیں‘‘-

​ڈاکٹر ریاض شیخ کا نقطہ نظر

​’’تاریخ کے جھروکوں سے‘‘کے عنوان سے ڈاکٹر ریاض شیخ لکھتے ہیں:

​’’رمضان بلوچ کی یہ کتاب ان کی اپنی جنم بھومی یعنی کراچی سے عشق و محبت کی ایک دلگداز داستان ہے۔ اس سے قبل ان کی دیگر کتابیں ’لیاری کی ادھوری کہانی ‘اور ’لیاری کی ان کہی کہانی ‘ ہماری نظر سے گزر چکی ہیں۔اکثر سرکاری افسران بعد از ریٹائرمنٹ اپنی بقیہ زندگی دوران ملازمت اپنے گزارے ہوئے برسوں کی تلافی میں زیادہ مذہبی ہو جاتے ہیںیا پھر وہ اپنا وقت پوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں کے ساتھ گزارتے ہیں

لیکن بہت کم ایسے ہوتے ہیں جو ان روایتوں سے انحراف کرتے ہوئے اپنی بقیہ زندگی لکھنے پڑھنے میں صرف کرتے ہیںاور آنے والی نسلوں کے لیے علم وآگہی کی روایت چھوڑ جاتے ہیں۔ رمضان بلوچ دوسری قسم کے افراد میں شامل ہیں اور یقینا اس کے پس پشت ان کا لیاری سے تعلق ہے ۔انھوں نے کراچی کے قدیم اور نسبتاً کم ترقی یافتہ علاقے میں آنکھ کھولی جو سیاسی طور پر زیادہ باشعور اور عوامی سیاست کا گڑھ رہا ہے او ریہی رنگ رمضان بلوچ صاحب کی گزشتہ اور اس کتاب میں بھی نظر آتا ہے‘‘۔

​میں نے یہ تین اقتباسات اس لیے دئیے ہیں کہ ان تینوں اقتباسات سے رمضان بلوچ کی ذات اور ان کی تحقیق پر بہت مستند انداز میں اظہار خیا ل ہوا ہے۔ رہی بات اس کتاب کے بارے میں میرا اظہار خیال توحضرات!

​میں کہاں کا دانا ہوں ، کس ہنر میں یکتا ہوں

​مگر جب محبت اپنا اثر کرتی ہے تو ناکارہ عاشق بھی کمر ٹھوک کر میدان عمل میں اتر آتا ہے۔ کراچی کے علاقے اورکراچی کے احباب میرے لیے ایک بے بہا خزانے سے کم نہیں ۔ رمضان بلوچ صاحب بھی انہی احباب میں شامل ہیں جن کی قربت اور صحبت میرے علم میں اضافہ کرتی ہے۔

​کتاب کا باطنی مطالعہ اور حقیقت

​میں نے رمضان بلوچ صاحب کی کتاب کا مطالعہ کیا۔ میں یہ بات تقریباً ہر کتاب پر اظہار خیال کے موقع پر کرتا ہوں کہ میں لکھتا ہی اسی وقت ہوں جب تک کتاب کا مطالعہ نہ کرلوں ۔اسی لیے میری تحریریں کتاب کے ظاہر سے شروع ہو کر اس کے باطن تک کی خبر لاتی ہیں اور اس بات کی گواہی میرے احباب دیں گے ۔ شفیق الرحمن اپنی کتاب ’’لہریں‘ میں لکھتے ہیں کہ اب وہ اس قدر مشاق ہو چکے ہیںکہ کتاب سونگھ کر تبصرہ کر لیا کرتے تھے ۔یہی حال اب میرا بھی ہے کہ میں کتابیں پڑھتے پڑھتے اس قدر پختہ ہو چکا ہوں کہ

​خط کا مضموں بھانپ لیتا ہوں لفافہ دیکھ کر

​بہرحال آمدم بر سر مطلب

​پُر امن شہر کے عظیم لوگ: ایک یادگار واقعہ

​’ایک لاپتہ شہر کا سراغ‘‘ کی ابتدا ’پُر امن شہر کے عظیم لوگ‘‘ کے عنوان سے ہوتی ہے ۔ رمضان بلوچ صاحب اس پُر امن شہر کے عظیم لوگ‘‘ کی ابتدا ایک واقعہ سے کرتے ہیں:

​’’یہ سال 1930ء کی بات ہے ، کراچی کی اہم شاہراہ بندر روڈ پر ہلکی سی ٹریفک جاری تھی۔ایک لمبے تڑنگے صاحب سر پر ایک مخصوص ٹوپی پہنچے خراماں خراماں قدم آگے بڑھا رہے تھے۔وہ اکیلے نہیں تھے بلکہ ان کا دایاں ہاتھ برابر میں ایک زخمی گدھے پر رکھا ہوا تھا ۔پیچھے ایک موٹر کار آہستہ آہستہ رواں دواں تھی جو ان ہی صاحب کی ملکیت تھی جسے ان کا ڈرائیور چلا رہا تھا کچھ دور جا کر وہ بائیں طرف مڑے اور ایک وسیع و دلکش عمارت میں داخل ہوئے ۔

یہ بیمار جانوروں کا اسپتال تھا ۔ ہنگامی طور پر ایک ڈاکٹر اس جانب متوجہ ہوا اور فوراً زخمی گدھے کی مرہم پٹی کا مرحلہ شروع ہوا ۔اس دوران وہ صاحب وہیں کھڑے رہے اور بار بار ڈاکٹر کو احتیاط کی تاکید کرتے رہے تاکہ بے زبان جانور کو کسی طرح بھی ایذا نہ پہنچے۔یہ مرحلہ جب ختم ہوا تو ان صاحب کے کہنے پر گدھے کو باقاعدہ اسپتال میں ان ہی کے خرچے پر ایڈمٹ کرایا گیا۔پھر وہ صاحب اس گدھے کے مالک کی طرف بڑھے اور زیر علاج ’مریض‘ کی غیرحاضری میں نہ ہونے والی کمائی کے پیسوں کی ادائیگی کی حامی بھرلی اور موقع پر ہی کچھ پیسے پیشگی اسے تھما دیے ۔

جب یہ صاحب جانوروں کے اسپتال سے تمام کام مکمل کر کے نکلے تو ان کا چہرہ سکون اور طمانیت سے تمتما رہا تھا ۔ اب ہم آپ کو بتاتے ہیں آخر یہ صاحب تھے کون لوگ انھیں جمشید سروانجی مہتا کے نام سے جانتے او رپھچانتے تھے ۔وہ نہ صرف ایک مشہور اور رحم دل پارسی تاجر تھے بلکہ اس وقت وہ کراچی میونسلٹی کے سربراہ (صدر ) کے عہد ہ پر فائز تھے جنھیں پڑھے لکھے طبقے میں ’مسٹر پریڈیڈنٹ‘ کے القاب سے مخاطب کیا جاتا تھا‘‘۔

​کہانی شروع کہاں سے ہوئی؟

​رمضان بلوچ صاحب کی اس کتاب کے باب اول کا عنوان ہے ’’کہانی شروع کہاں سے ہوئی؟‘‘ اس باب کے ابتدائیہ میں فرماتے ہیں:

​’’کراچی شہر کی کہانی تو الف لیلوی ہوشربا داستان سی لگتی ہے۔ذرا آگے بڑھتے ہیں توا یک طرف یہ اندورنی اور بیرونی سازشوں او رطالع آزمائوں کی جنگ و جدل سے بھرپور ہمیں ایک مہم جویانہ دیوانگی کا تاثر دیتی ہے تو دوسری جانب اس میں امن و سلامتی ،پیار و محبت اور انسان دوستی کے ساتھ ساتھ جدید دنیا کے تقاضوں اور شہری انتظامات کی اعلیٰ مثالیں بھی ملتی ہیں۔بہرحال حقائق اور فسانے کچھ بھی ہوںا س کہانی میں دلچسپ اور تجسس کا پورا سامان موجود ہے۔ بہتر یہی ہوگا ہم اس عجب کہانی کا سرا وہاں سے تھام لیں جس پر بیشتر محققین حضرات مضبوطی کے ساتھ قائم اور متفق ہیں‘‘۔

​حضرات گرامی! اس کتاب پر لکھنے کے لیے میرا دل بہت مچل رہا تھا اور ہو سکتا تھا کہ میں اپنے اس مضمون کو ایک طویل مقالے کی شکل دے دیتا مگر یہاں صرف رمضان بلوچ صاحب کی اس کتاب کا تعارف ذرا مفصل انداز میں اپنے خیالات کی روشنی میںکرنا چاہتا ہوں اس لیے میںدودھ کی کڑھائی سے بالائی اتار کر آپ کی تواضع کر رہا ہوں۔ کتاب کے 39 باب ہیں، ان کے نام لینے کا مقصد صرف یہ ہے کہ جن کی نظروں سے یہ کتاب نہیںگزری وہ ان عنوانات سے اپنے مطلب کا مضمون حاصل کر سکتے ہیں۔

​کراچی کی تاریخ، سیاست اور نشیب و فراز

​رمضان بلوچ صاحب نے کتاب تو لیاری پر لکھی ہے او رخوب لکھی ہے مگر لیا ری کے ساتھ ساتھ کراچی شہر کی تاریخ ،جغرافیہ ،شخصیات ، تاریخ ، سیاست، انگریزوں کی حکمرانی ،تقسیم سے قبل اور بعد از تقسیم کراچی کا ذکر کیا ہے ۔

کراچی میں نفرت کے بیج کیسے بوئے گئے، کراچی دارالحکومت بن کر کیوں قائم نہیں رہا، ایوب خان کی حکومت ،ضیا دور کی فوجی آمریت ،بشری زیدی کی ہلاکت سے کراچی کے نقشے کا بدل جانا ، طلبہ تحریک ، بے نظیر بھٹو کے دور کے نشیب و فراز ،کراچی تشدد کی زد میں، نوا زشریف، پرویز مشرف کی داستان ہزیمت ، ایک لسانی گروہ کانمرودانہ دور او رپھر دائمی امن کی جستجو کے ساتھ کراچی کا مستقبل ۔ان عنوانات پر رمضان بلوچ صاحب نے راست گوئی کے ساتھ جم کر لکھا ہے ۔

​محقق اور مورخ میں ایک مماثلت ہے کہ دونوں سچ لکھتے ہیں اور سچ کے سوا کچھ نہیں لکھتے ہیںاو ریہ دونوں مخلوق براہ راست خدا کے جواب دہ ہوتے ہیں اس لیے ان کی تشکیل کرتے ہوئے خدائے جل جلالہ نے ایک خاص مٹی سے ان کو تیار کیا ہے ۔ کتاب کے 39 باب کے بعد دو اور ضمنی عنوان ہیں ایک’مرتے شہر کا عشق‘ اور دوسرا ’نئی زندگی ‘۔

​کراچی کا مستقبل: امید اور امکانات

​میں کتاب کے آخری باب نمبر 39 یعنی ’’کراچی کا مستقبل ‘‘ جس کی امید میں کئی ماہ و سال گزر گئے اور ہم بیٹھے رہے تصور جاناں کیے ہوئے ’اس آخری باب سے رمضان بلوچ صاحب کی یہ چند سطریں نقل کرنا چاہتا ہو ں ۔

​’’دوسری طرف اگر ہم قدیمی باشندوں یعنی بلوچ ،کچھی ،میمن، سماٹ برادریوں کے شہری مفادات اور حقوق شہریت کے معاملوں کو اہمیت کے قابل نہ سمجھیں تو کراچی شہر کی ملکیت کے دعویداروں میں غالب طبقہ اردو زبان بولنے والے مہاجرین شامل ہیں جن کی اکثریت عملی طور پر اب دو سیاسی جماعتوں یعنی ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی میں بٹ چکی ہے ۔

ان کے اور پی پی پی کے درمیان سنجیدہ ڈائیلاگ اور پائیدار مفاہمت کی بنیادہی کراچی کے مستقل امن کی ضمانت ثابت ہو سکتی ہے جس سے اس عظیم شہر کا مستقبل تابناک ہونے کے امکانات روشن ہو سکتے ہیں اور اس کے لیے انھیں ذاتی اَنا ،مخصوص مفادات اور برسوں سے جاری دونوں طبقوں کے درمیان سرد او رگرم جنگ کی صورت حال سے نکلنا ہو گا‘‘۔

​کتاب کے 39 عنوانات تو ایسے ہیں جن میں سے بیشتر کراچی سے محبت یا واقفیت رکھنے والے حضرات پڑھ چکے ہیں، حالات و واقعات اگرچہ ایک جیسے ہی ہیںصرف انداز بیاں بدلا ہوا ہے اور کچھ ایسی باتیں جن کو ہر محقق اپنی اپنی نظروں سے دیکھتا ہے اور اپنے اپنے انداز میں قلم بند کرتا ہے ۔

​مرتے شہر کا عشق: چارلس نیپئر کی محبت

​رمضان بلوچ صاحب کی وہ دو آخری تحریر میں سے پہلی تحریر’’،مرتے شہر کا عشق‘‘صرف ایک صفحے کی تحریر ہے ۔جس میں رمضان بلوچ صاحب نے بتایا کہ کراچی کے 178 برس کی تاریخ میں چارلس نیپئر ہی ایک ایسا حاکم آیا جس نے اس شہر کو اچھی طرح سمجھا، اسے سنوارا اور پھر اس سے جی بھر کر محبت کی اور پھر جب 1847ء میں ‘سماج کی دیوار’ آڑے آگئی تو بچھڑتے وقت اپنی محبوبہ کے لیے انھوںنے غمزدہ عاشق کی طرح یہ تاریخی الفاظ اد ا کیے :

​”You will yet be the glory of the East, would that I could come again to see you, Kurachee , in your grandeur!”

(کراچی ! عنقریب تم ملکہ مشرق بنو گی، خواہش ہے میںدوبارہ آئوں تاکہ تمہاری شان بان دیکھ سکوں )

​اختتامیہ: نئی زندگی کی تلاش

​حاضرین گرامی قدر! رمضان بلوچ صاحب کی کتاب کا آخری اختتامہ ’’نئی زندگی‘‘ ہے اور اس ’نئی زندگی‘ کا سب سے آخری مختصر پیرا گراف پڑھنا چاہتا ہوں جسے پڑھ کر میری آنکھیں نم ہو گئی تھیں۔

​’’باہر سے آئے ہوئے فاتح سندھ کی اس محبوبہ کا اجلا اجلا چہرہ وقت کے ساتھ ساتھ آج اپنوں کی بے قدری ،لالچ او رغفلت کی بنا پر دھیما ضرور پڑ چکا ہے لیکن پُر کشش تو یہ اب بھی ہے ۔حسن بھی کافی حد تک برقرار ہی ہے۔ بس ! اسے سر چالیس نیپئر جیسے کسی سر پھرے عاشق کی ضرورت ہے جو اس کی فریفتگی میں اتنا بے خود ہو جائے کہ اپنی دیگر تمام ترجیحات اور مفادات کو بالائے طاق رکھ کر اس کو سجانے اور سنوارنے پر لگ جائے جو اس کی خاطر چاہت کی تمام منزلیں طے کرنے پر آمادہ ہو جائے ۔جو اسے دل و جان سے چاہے اور ٹوٹ کر چاہے ‘‘۔

​رمضان بلوچ صاحب ! آپ بھی انتظار کریں اور ہم سب بھی اس عاشق کی راہ تکتے ہیںجو یہ کمال کر سکے وگرنہ ہم سب تو گفتار کے غازی ہیں۔عرض ہے :

​ٹوٹ کر چاہے جو ایسے ظالم کو

ایسا عاشق کہاں سے لائیں ہم

​حواشی:

​[۱] رمضان بلوچ، ایک لاپتہ شہر کا سراغ، انسی ٹیوٹ آف ہسٹاریکل اینڈ سوشل رسرچ ،کراچی، اپریل ۲۰۲۴ء،ص ۹

[۲]ایضاً،ص ۱۸

[۳] ایضاً،ص ۲۶۔۲۷

[۴]ایضاً،ص۲۸

[۵]ایضاً،ص۳۵

[۶]ایضاً،ص۳۸

[۷]ایضاً،ص۳۰۱۔۳۰۲

[۸] ایضاً،ص۳۰۳

[۹]ایضاً،،ص ۳۱۱

اس قسم کے مزید بلاگز پڑھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں

رشتہ