ٹنڈو آدم ریلوے اسٹیشن کے 148 سال (1878–2026) حصہ دوئم

ریلوے

ٹنڈو آدم میں ریلوے لائن بچھانے کا کام

ٹنڈو آدم ا ریلوے لائن بچھانے کا کام ایک کمپنی کے پاس نہیں تھا، بلکہ یہ مختلف مراحل میں برطانوی نجی کمپنیوں اور پھر سرکاری محکمے کے درمیان تقسیم رہا۔

لائن بچھانے کے کام کو ان تین بڑے ناموں سے سمجھا جا سکتا ہے:

سندھ ریلوے کمپنی (Sind Railway Company)

سب سے پہلے 1850 کی دہائی میں لائن بچھانے کا معاہدہ (Contract) سندھ ریلوے کمپنی کو دیا گیا۔

اس کمپنی کا سربراہ جان برنٹن (John Brunton) تھا، جو چیف انجینئر تھا۔

سر جیمز براؤن (Sir James Browne)، جنہیں ریلوے کی تاریخ میں “بسٹر براؤن” (Buster Browne) کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، برطانوی دور کے ایک انتہائی قابل اور نڈر انجینئر تھے۔ ان کا تعلق برطانوی فوج کے رائل انجینئرز سے تھا۔

ٹنڈو آدم ریلوے اسٹیشن جس انڈس ویلی اسٹیٹ ریلوے کا حصہ تھا، اس کی تعمیر میں ان کا کردار کلیدی تھا۔

انڈس ویلی اسٹیٹ ریلوے میں کردار

جب 1870ء کی دہائی میں حکومت نے کراچی کو پنجاب سے جوڑنے کے لیے انڈس ویلی اسٹیٹ ریلوے پر کام شروع کیا، تو جیمز براؤن اس کے اہم ترین انجینئرز میں سے ایک تھے۔ ان کی نگرانی میں ٹنڈو آدم، نوابشاہ اور روہڑی کے سیکشنز کو ڈیزائن اور تعمیر کیا گیا تاکہ یہ لائن فوجی اور تجارتی مقاصد کے لیے استعمال ہو سکے

اسی کمپنی نے کراچی سے کوٹری کے درمیان پہلی پٹری بچھائی۔

لائن بچھانے کے لیے مزدور مقامی تھے، لیکن انجینئرز اور سپروائزر برطانیہ سے بلائے گئے تھے۔

برانٹم اینڈ برانٹم (Messrs. Brunton & Co.)

یہ وہ تعمیراتی فرم (Construction Firm) تھی جس نے عملی طور پر پٹری بچھانے، مٹی کی بھرائی کرنے اور پلوں کی تعمیر کا ٹھیکہ لیا تھا۔ اس وقت مشینوں کا استعمال نہ ہونے کے برابر تھا، اس لیے ہزاروں اونٹوں، گدھوں اور مقامی مزدوروں کی مدد سے زمین کو ہموار کر کے پٹری بچھائی گئی تھی۔

1870 میں چند چھوٹی کمپنیوں سندھ، پنجاب اور دہلی ریلوے (SP&DR) کو ملا کر ایک بڑی کمپنی بنا دی گئی ۔جسے “سندھ، پنجاب اینڈ دہلی ریلوے” کہا گیا۔

ٹنڈو آدم کی لائنوں کا بڑا حصہ اسی دور میں تعمیر ہوا

 نارتھ ویسٹرن اسٹیٹ ریلوے (NWR)

جب نجی کمپنیوں کا کام مکمل ہو گیا تو 1886 حکومت نے انتظام سنبھالا، تو NWR کے اپنے انجینئرنگ ونگ نے لائنوں کی توسیع اور دیکھ بھال کا کام سنبھال لیا۔ ٹنڈو آدم سے روہڑی تک کی بڑی لائن کو دوہرا (Double Track) کرنے کا زیادہ تر کام NWR کے دور میں ہوا۔

قیام پاکستان کے بعد یہی کمپنی “پاکستان ویسٹرن ریلوے” (PWR) اور پھر اب “پاکستان ریلوے” بن گئی۔

لاگت

مجموعی سرمایہ کاری

سندھ ریلوے کمپنی نے جب 1855 میں کام شروع کیا، تو اس وقت حکومتِ برطانیہ نے کمپنی کو 5 لاکھ پاؤنڈ (500,000 GBP) کے سرمائے کی منظوری دی تھی۔ بعد میں جب لائن کو ٹنڈو آدم اور روہڑی کی طرف بڑھایا گیا تو یہ لاگت بڑھتی گئی

فی میل لاگت (Cost per Mile)

اس دور میں ریلوے لائن بچھانے کا حساب “فی میل” (Per Mile) کے حساب سے لگایا جاتا تھا۔

سندھ ریلوے (Sindh Railway): کراچی سے کوٹری کے درمیان پہلی لائن کی اوسط لاگت تقریباً 15,000 سے 20,000 پاؤنڈ فی میل آئی تھی۔

انڈس ویلی سٹیٹ ریلوے (Indus Valley State Railway): کوٹری سے ٹنڈو آدم کی لائن پر لاگت کچھ کم تھی کیونکہ زمین زیادہ تر ہموار تھی، یہ تقریباً 10,000 پاؤنڈ فی میل کے قریب پڑی

لاگت زیادہ ہونے کی وجوہات

اس کی چند خاص وجوہات تھیں:

درآمدی سامان: لوہا (پٹریاں)، انجن اور ڈبے براہِ راست انگلینڈ سے سمندر کے راستے منگوائے جاتے تھے۔ جہاز کا کرایہ اور پھر کراچی بندرگاہ سے اونٹوں یا کشتیوں کے ذریعے سامان کی منتقلی پر بہت خرچ ہوتا تھا۔

ایندھن اور پانی: سندھ کے صحرائی اور خشک علاقوں میں سٹیم انجنوں کے لیے میٹھا پانی فراہم کرنے کے لیے جگہ جگہ کنویں کھودنا اور واٹر ٹینک بنانا بھی لاگت کا حصہ تھا۔

مزدوری اور اینٹیں: اگرچہ مزدوری سستی تھی، لیکن لاکھوں کی تعداد میں پکی اینٹیں بنانا اور انہیں کوارٹرز اور اسٹیشنوں کی تعمیر کے لیے دور دراز علاقوں تک پہنچانا مہنگا عمل تھا۔

تعمیراتی سامان کی منتقلی

اس دور میں ٹنڈو آدم تک لوہا اور سلیپر پہنچانا ایک بہت بڑا لاجسٹک چیلنج تھا۔ کراچی بندرگاہ پر آنے والا سامان پہلے کوٹری پہنچایا جاتا، اور وہاں سے اونٹ گاڑیوں یا ریلوے کی اپنی تعمیری ٹرینوں (Work Trains) کے ذریعے ٹنڈو آدم کی سائیٹ پر پہنچایا جاتا تھا

لائن بچھانے کا طریقہ کار

پٹری بچھانے کا طریقہ (The Technical Process)

اس دور میں کام کرنے کا طریقہ بہت سخت اور منظم تھا:

زمینی سروے: سب سے پہلے برطانوی نقشہ نویس (Surveyors) دوربینوں اور پیمائشی فیتوں سے زمین کی سطح چیک کرتے تھے تاکہ ٹرین کو چڑھائی میں مشکل نہ ہو۔

بیلسٹ (Ballast): پٹری کے نیچے بچھائے جانے والے پتھر اکثر قریبی پہاڑیوں (جیسے روہڑی یا حیدرآباد کے قریب کی پہاڑیاں) سے لا کر بچھائے جاتے تھے۔

ریل کی پٹریاں: پٹریاں اور فلش پلیٹ (Fishplates) براہِ راست برطانیہ سے سمندری جہازوں کے ذریعے کراچی لائی جاتی تھیں۔

لکڑی کے سلیپر: پٹری کے نیچے بچھانے کے لیے لکڑی کے تختے (Sleepers) مقامی طور پر حاصل کیے گئے جن پر کوئلے کا تارکول لگایا جاتا تھا تاکہ وہ دیمک سے محفوظ رہیں

سلیپر کو جوڑنے: لکڑی کے سلیپر کو پٹری کے ساتھ جوڑنے کے لیے لوہے کی کنڈیاں یا پیچ (Dog Spikes) استعمال کیے جاتے تھے۔

پٹریوں کے درمیان خلا (Expansion Gap)

پٹریاں بچھاتے وقت برطانوی کمپنیوں کا ایک خاص قانون تھا کہ دو پٹریوں کے جوڑ کے درمیان آدھے انچ کا خلا چھوڑا جائے۔

وجہ: سندھ کی شدید گرمی میں لوہا پھیلتا (Expand) ہے۔ اگر خلا نہ ہو تو پٹری ٹیڑھی ہو کر حادثے کا سبب بن سکتی ہے۔ ٹرین کے چلتے وقت جو “کھٹ کھٹ” کی آواز آتی ہے، وہ دراصل پہیوں کے اسی خلا کے اوپر سے گزرنے کی ہوتی ہے

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔

اس قسم کے مزید بلاگز پڑھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں

ریلوے