
ڈاکٹر بشریٰ تسنیم کا ادبی اور دینی سفر
ڈاکٹر بشریٰ تسنیم کا ادبی اور دینی سفر تحریکی اور ادبی گھرانے کی تربیت ڈاکٹر بشریٰتسنیم کا گھرانہ جماعت اسلامی کی تشکیل کے وقت سے ہی جماعت سے منسلک ہے ۔ تحریکی اور ادبی گھرانے میں تربیت پانے والی ہماری بہن درجن سے زیادہ کتابوں کی مصنفہ ہیں خواتین کی ملک گیر ادبی تنظیم ” حریم ادب “ کی رکن ہیں، وہ چھ برس تک اس کی سیکرٹری بھی رہ چکی ہیں، اس کے علاوہ ” ادارہ بتول “ کے بورڈ آف ٹرسٹیز کی ممبر بھی رہ چکی ہیں ۔ وہ مجلہ ” حریم “ کی ایڈیٹر بھی تھیں ۔ اور کئی جرائد ای میگزین میں اور میڈیا پہ پندرہ سال سے باقاعدگی سے کالم لکھتی ہیں۔ کم عمری سے

محبت کے راستے پہ
حبِ رسول ﷺ، سنتِ نبوی اور سیرتِ صحابہ سے رہنمائی انسان اپنے سارے حواس سے کام لے کر بھی اُس علم کو نہیں پہنچ سکتا جو اس کی روح کو شاد کام اور مطمئن کر سکے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے پہلے انسان کو وحی اور نبوت و رسالت اور علم کے خاص وصف سے آراستہ کیا اور انسانوں کی ہدایت کے لیے یہ سلسلہ قائم رکھا۔ یہاں تک کہ انسانیت کے ارتقائی مدارج علم کے اس دور میں داخل ہو گئے جو انسانیت اور دنیا کا آخری دور کہلاتا ہے۔ اور یہ دور خاتم النبییّن محمد رسول اللہ کا دور ہے۔ اور علم وحی کا دور ہے۔ علم، عمل اور تکمیلِ انسانیت انسان کی طلب و جستجو، علم کی

رشتے محبتوں کے
رشتے محبتوں کے ایک خوبصورت شام کی یاد شام تو روز ہوتی ہے لیکن کل کی شام اتنی خوبصورت تھی کہ اسکے بارے میں اپنی فیسبک فیملی کو نا بتایا تو نا انصافی ہوگی۔ پیارے بھانجے عرفان صدیقی کے گھر دعوت تو جناب کل دعوت تھی ہماری اپنے پیارے۔ بھانجے عرفان صدیقی کے گھر۔ عرفان نے ہمارے خاندان میں سب کو دین کی تعلیم سے مزید جوڑ کے رکھا ہے۔ ماشاءاللہ انکا مدرسہ بھی ہے جہاں دین و دنیا کی تعلیم کے زیور سے نئ نسل کو آراستہ کیا جاتا ہے۔ نہ صرف دین بلکہ دنیا کی تعلیم بھی یعنی اور عام پبلک تعلیم بھی دی جاتی ہے A. Level , O Level ! کی بھی کلاسیں ہوتی ہیں۔ انکے

عزیز آباد کا محلہ: دہلی کے پڑوسی اور بچپن کی ایک یاد
عزیز آباد کا محلہ: دہلی کے پڑوسی اور بچپن کی ایک یاد دہلی والوں کا ذوقِ خوراک اور ہمارے پڑوسی کھانے پینے میں دہلی والے اپنا ایک علیحدہ ذوق رکھتے ہیں۔ عزیز آباد، بلاک نمبر آٹھ میں جہاں میرا ابتدائی بچپن گزرا، ہمارے گھر کے بالکل سامنے ایک دہلی والا گھرانہ رہتا تھا۔ غالباً یہ وہ دور تھا جب کراچی میں دہی، دودھ اور کریم وغیرہ بیچنے کا کام پنجاب کے گوجروں کے علاوہ دہلی کے لوگ بھی کرتے تھے۔ ہمارے ان پڑوسی کی دکان کا نام “وینس ڈیری فارم” تھا، اور محلے کے لوگ انہیں “وینس والے” کے نام سے جانتے تھے۔ گھر کی خواتین کو بھی “وینس والی” یا “وینس والیاں” کہا جاتا تھا۔ دودھ دہی کا کاروبار

زعفرانی وادی: محبت، جنگ اور آزادی کی ایک لافانی داستان
وادیِ نیلم کا تہذیبی نوحہ اور آزادی کا استعارہ کشمیر کی سرزمین سے ابھرنے والا ادب اکثر و بیشتر محض ایک “استحصالی جبر” کا بیانیہ بن کر رہ جاتا ہے، لیکن مشرف زمان خان کا (زعفرانی وادی) “Saffron Valley” ناول اس سے کہیں بلند فکری سطح پر فائز ہے۔ یہ محض ایک کہانی نہیں، بلکہ ایک ایسی قوم کا “تہذیبی نوحہ” ہے جس کے زخموں کو وقت مرہم دینے میں ناکام رہا ہے۔ کتاب کے عنوان اور ذیلی عنوان “محبت، جنگ اور آزادی کی جدوجہد” کے مابین ایک ایسا نامیاتی تعلق ہے جو قاری کو محض ایک رومانوی داستان کی طرف نہیں بلکہ ایک ایسی نفسیاتی اور سیاسی کھائی کی طرف لے جاتا ہے جہاں انفرادی جذبات اور قومی بقا

جشنِ آزادی یا تجدیدِ عہد کا دن
جشنِ آزادی یا تجدیدِ عہد کا دن جشن کا رنگ یا ذمہ داری کا احساس؟ چودہ اگست 2026ء کو قوم اپنا اناسی واں یومِ آزادی منا رہی ہے۔ ہر سال کی طرح اس بار بھی وطنِ عزیز سبز و سفید رنگوں میں رنگا ہوا ہے۔ گلیاں، بازار، عمارتیں اور گاڑیاں قومی پرچم سے سجی ہوئی ہیں، ملی نغمے فضا میں گونج رہے ہیں اور ہر طرف جشن کا سماں ہے۔ یہ سب اپنی جگہ خوبصورت اور خوش آئند ہے، لیکن ایک سوال ہم سب کے ضمیر کو ضرور جھنجھوڑنا چاہیے۔ کیا جشنِ آزادی صرف جھنڈے کے رنگوں کے لباس پہن لینے، کپڑوں پر قومی پرچم کے اسٹیکر آویزاں کرنے، گاڑیوں کو سبز و سفید رنگوں سے سجا دینے یا آتش

افتخار گیلانی اور ان کا سفری پس منظر
افتخار گیلانی اور ان کا سفری پس منظر افتخار گیلانی بے باک صحافت، گہری بصیرت اور حق گوئی کا ایک معتبر استعارہ ہیں۔ ان کا تعلق مقبوضہ کشمیر سے ہے اور آپ ممتاز کشمیری حریت پسند رہنما مرحوم سید اسد شاہ گیلانی کے داماد ہیں۔ 3 دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط اپنے قلمی سفر میں انہوں نے جنوبی ایشیا، بھارت اور مشرقِ وسطیٰ کے زلزلہ خیز سیاسی منظرنامے کی بے لاگ ترجمانی کی ہے۔ مکمل ویڈیو دیکھنے کیلئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں دہلی میں کشمیر ٹائمز کے بیورو چیف، DNA کے اسٹریٹیجک افیئرز ڈیٹر اور ترکیہ کی عالمی خبر رساں ایجنسی انادولو سے وابستہ رہنے والے افتخار گیلانی آج کل انقرہ سے Frontline اور Outlook India

اسلامی بینکاری اصلاح کے وعدے، نظام کی ضد
اسلامی بینکاری اصلاح کے وعدے، نظام کی ضد سچ پوچھیں تو دہائیوں سے اسلامی بینکاری سننے کے باوجود عام آدمی آج بھی ایک ہی سوال کرتا ہے، یہ واقعی اسلامی بینکاری ہے یا صرف بنکاری پر اسلامی لیبل چسپاں کر دیا گیا ہے؟ کیونکہ جیسا کہ کہا جاتا ہے، ہونٹوں اور پیالی کے درمیان بہت کچھ گر جاتا ہے اور جدید مالی زبان میں کہا جائے تو، کام بہت ہے، مگر منزل تک پہنچنے والی رفتار کم ہے بڑا سوال کیا ہے؟ ہم اسلامی بینکاری پر بات تو بہت کرتے ہیں، مگر کیا ہم واقعی اسے سمجھ بھی رہے ہیں؟ یا پھر معاملہ وہی ہے کہ، بہت سی اجلاس، بہت سیمینار، بہت سے اجتماعات، بہت سے پاورپوائنٹ عرضِ حال یعنی
چند چنیدہ تحریریں

جاپانی اسکالر کا اردو میں غیر معمولی خطاب
جاپانی اسکالر کا اردو میں غیر معمولی خطاب (Order of the Rising Sun, Gold Rays with Neck Ribbon) ڈاکٹر معین

خود نوشت ‘کاریز’: رفیع الدین راز کی ادبی اور سفری داستان
خود نوشت ‘کاریز’: رفیع الدین راز کی ادبی اور سفری داستان ‘جہا نیاں جہاں گشت ‘کا ایک دل نشیں کارنامہ:

کمیشن والی دوائیں اور لیبارٹری ٹیسٹ
ماضی کا طریقہ علاج: ڈاکٹر صاحبان کی تشخیصی صلاحیت (diagnostic)ڈاکٹر صاحبان اسی اور نوے کی دہائی میں مریضوں کا علاج

سچ حسب ذائقہ اور تلخ معاشرتی رویے
سچ کی کڑواہٹ اور سچ حسب ذائقہ کا تصور کسی جگہ پڑھا تھا کہ دشمن بنانے کیلئے ضروری نہیں کہ
ہمارے چینل کی پسندیدہ ویڈیوز
یونیورسٹی کی وہ ناقابلِ فراموش راتیں، جنہوں نے زندگی میں لڑنا سکھایا۔سابق طلبہ رہنماؤں کی زبانی، بچپن کی مضبوط بنیادوں سے کٹھن موڑ تک کا سفر۔ جدید دنیا کی پیچیدگیوں کو سمجھنے اور منزل پانے کے وہ ان کہے حقائق۔
جانیے ان معروف ادیبوں اور شاعروں کے بارے میں، جنہیں دنیا صرف ان کی تحریروں سے جانتی ہے۔ ان عظیم مفکروں کے ماضی کے وہ بند دروازے، جو پہلی بار آپ کے سامنے کھلنے جا رہے ہیں۔ ایک عام انسان کے اندر سے ایک انقلابی قلم کار کے جنم لینے کی وہ ان کہی داستان جس نے اپنی سوچ سے لاکھوں دلوں کو اپنی مٹھی میں لیا۔
ذکر کتاب تاثرات – اقتباسات ذکر کتاب تاثرات – اقتباسات ذکر کتاب تاثرات – اقتباسات
