
فکرِ اقبال اور ملک و ملت کے تقاضے
فکرِ اقبال اور ملک و ملت کے تقاضے موجودہ تعلیمی نصاب میں فکرِ اقبال کی صورتِ حال اس وقت ہمارے تعلیمی نصاب میں جہاں جہاں اقبال کی شخصیت اور ان کا پیغام اور ان کی فکر کو، چاہے کسی پیرائے (شاعری، خطبات، مقالات، مکاتیب) میں بھی پیش کرنے کی طرف توجہ دی گئی ہے، وہ پورے طور پر قابلِ اطمینان نہیں اور ایسی کوششیں ہمارے نصابوں میں فکرِ اقبال کی شمولیت کے تقاضوں کو کماحقہٗ پورا نہیں کرتیں۔ اس ضمن میں اور اس حوالے سے جو جائزے لیے گئے یا مطالعات کیے گئے ہیں ان سے بھی بے اطمینانی کی یہی صورت ظاہر ہوتی ہے۔ وفاقی سطح پر یکساں اور نظریاتی نصاب کی ضرورت اس صورتِ حال میں ہمیں نصاب

مصنوعی ذہانت: انسان کی حلیف یا حریف
ذہانت، حماقت اور وقت کا فیصلہ کہتے ہیں کہ ذہانت چاہے کتنی ہی مصنوعی کیوں نہ ہوجائے، حماقت ہمیشہ فطری ہی رہے گی۔ اب انسان نے مصنوعی ذہانت کا آغاز کرکے ذہانت دکھائی ہے یا حماقت کی ہے، اس کا فیصلہ تو وقت کرے گا۔ تاہم ہم مصنوعی ذہانت کا ماضی کھنگال کر، حال کے حالات دیکھ کر مستقبل کے حوالے سے ایک رائے قائم کرسکتے ہیں، جو صحیح بھی ہوسکتی ہے اور غلط بھی۔ مصنوعی ذہانت کے ابتدائی نقش اور تاریخی سفر مصنوعی ذہانت کا آغاز 1940ء کی دہائی میں اس وقت ہوا جب ریاضیاتی استدلال اور ڈیجیٹل زبان پر مبنی پروگراموں کے مطابق چلنے والے ڈیجیٹل کمپیوٹرز نے جنم لیا۔ 1950ء میں ایلن ٹورنگ نے ٹورنگ ٹیسٹ کی

یوم اُستاد ۔۔۔۔ مدتوں تک جو پڑھایا کیا اُستاد مجھے
مُدتوں تک جو پڑھایا کیا اُستاد مجھے اُستاد اور علم وآگہی کا سفر عالمی یوم اُستاد ہر برس پانچ اکتوبر کو منایا جاتا ہے۔ مدتوں استاد کی پڑھائی گئی بے شمار نصابی کتابوں اور کتاب میں غیر موجود لیکن زندگی گزارنے کے لیے مشعل راہ بننے والے ان گنت اسباق کو ازسرِ نویاد کرنے کا دن، جو آج بھی ذہن کے کسی گوشے میں موجود ہیں اور ان اساتذہ کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع جنہوں نے علم و آگہی کے سفر میں ہماری رہنمائی کی، جن کے پند و نصائح اور سکھائی گئی مہارتیں بہت سا وقت گزرنے کے بعد بھی کسی نہ کسی صورت میں ہمارے ساتھ موجود ہیں۔ اُستاد کو یاد کرنے کا ایک

پہچان
اللہ رب العزت نے ہر شے کو پیدا کیا اور اس کو مخصوص شناخت، یا پہچان عطا کر دی۔ ہر چیز اپنی شناخت اور پہچان ہی کے دم سے قائم ہے۔ ہر شے کا وجود اسی وقت تک قابلِ ذکر ہے جب تک اس کی شناخت زندہ ہے۔ کائنات کا ذرّہ ذرّہ اپنا وجود، اپنی پہچان اور اپنے تشخص کا داعی ہے۔ آسمان کا وجود ان گنت اسرار و رموز سے وابستہ ہے۔ کچھ نظر آنے والے اور بہت کچھ نظر نہ آنے والے شہود ہی اس کی شناخت ہیں۔ دیکھنے والے کی نظر کے محدود یا لامحدود ہو جانے کے ساتھ ساتھ آسمان و کائنات کی شناخت بدلتی جاتی ہے۔ یہ نظر کے زاویے ہی ہیں جو دل کے

امریکا کی سیر (قسط ششم): شکاگو کی گہما گہمی، پرانے دوست اور دیوان اسٹریٹ کا سفر
امریکا کی سیر (قسط ششم): شکاگو کی گہما گہمی، پرانے دوست اور دیوان اسٹریٹ کا سفر شکاگو آمد اور خورشید اقبال سے ملاقات اگلی منزل شکاگوتھی جہاں میری بھتیجی ماہ وش، اس کاشریکِ زندگی خاوراورتین بیٹے عثمان ،علی اورارحم مقیم تھے۔اس شہرکی شہرت ہندوستانی اور پاکستانیوں کی مستقل منتقل ہونے والوں کی نسبت سے بہت زیادہ رہی ہے۔ایئرپورٹ پر خاورنے ہماراخیرمقدم کیا۔ دوسرے دن سے دوستوں سے رابطہ کرناشروع کیا۔ دبئی کے قیام کے دوران جن احباب سے تعارف ہواان میں خودشیداقبال وہیں رہتے تھے۔ انہوں نے این ای ڈی سے مکینیکل انجینئرنگ میں گریجئوایشن کی تھی۔ ایک لمبی اننگ دبئی میں کھیل کرامریکاآبسے تھے۔شروع کے چندسال دبئی میں ہمارے فلیٹ ایک ہی عمارت میں تھے ،اکثر شام ساتھ گزرتی۔

امریکا کی سیر (قسط پنجم): ہیوسٹن کی سحر انگیزی، پرانے دوست اور یادگار محفلیں
امریکا کی سیر (قسط پنجم): ہیوسٹن کی سحر انگیزی، پرانے دوست اور یادگار محفلیں ہیوسٹن شہر کی خصوصیات اور انور ملک کی میزبانی ہیوسٹن کے متعلق کچھ زیادہ معلومات نہ تھی صرف اتنا جانتے تھے کہ ایک شہر ہے لیکن اس شہر کی غو ناغوں خوبیوں کا علم وہاں جا کر ہوا۔ یہ غریب پرور شہر ہے۔ ٹیکس بھی دوسری جگہوں سے کم ہیں۔ پراپرٹی کی قیمت دوسرے شہروں سے کم ہیں۔ اس کے علاوہ زندگی کی دوسری ضروریات بھی کم دام میں دستیاب ہیں۔ مجموعی طور پر کم آمدنی والوں کا گزارہ بہتر طور پر ہو جاتا ہے۔ اس شہر میں شرف آباد اور ملحق بہادر آباد کے کئی دوست آباد ہیں ، انور ملک نے دل کے ساتھ

امریکا کی سیر (قسط چہارم): نیویارک، ورجینیا، ڈلاس اور ہیوسٹن کے سفر کی روداد
امریکا کی سیر (قسط چہارم): نیویارک، ورجینیا، ڈلاس اور ہیوسٹن کے سفر کی روداد نیویارک میں شرف آبادی دوستوں کی برنچ محفل اگلے دن یعنی 28 جون بروز اتوار جمال محسن نے سازش کے تحت ایک برنچ کا اہتمام کیا، معلوم یہ سب اکیلے کا اقدام تھا اس میں کچھ پردہ نشینوں کے نام آتے ہیں خواتین بھی شریک تھیں۔ ہماری بیگم نے گنا کہ پانچ خواتین اور پینتیس (35) مرد حضرات تھے۔ کئی لوگوں سے اس سال یا اس سے زائد عرصہ گزرنے پر ملاقات ہوئی۔ دو کے علاوہ سب شرف آبادی تھے لیکن ان میں سے ایک انور ہاشمی سے ہم زمانہ سے سلام دعا رکھتے تھے۔ صرف ایک سے پہلی ملاقات تھی۔ اس دعوت کے اوقات مقرر

امریکا کی سیر (قسط سوئم): نیویارک کی آمد، پرانے دوستوں سے ملاقات اور ہیرا بھائی کی یادگار داستان
امریکا کی سیر (قسط سوئم): نیویارک کی آمد، پرانے دوستوں سے ملاقات اور ہیرا بھائی کی یادگار داستان دھورا جی ممین خاندان اور پرانی یادیں دوران شادی کسی نے بتایا کہ دلہن کے والد کے پچھی ممین ہیں۔ یہ سن کر ہمارے ذہن میں کئی خیالات گونج گئے۔ ہمارے شرف آباد کے متصل بہادر آباد اور پچھی ممین سوسائٹی کے درمیان ایک سڑک تھی۔ اس سوسائٹی کے قیام سے قبل اس علاقے سے واقف تھے، اس لیے ان سے دریافت کیا۔ ان کا جواب تھا کہ وہ دھورا جی ممین ہیں۔ اس پر تو ہماری رگِ بجس پھڑک گئی۔ پوچھا کہ آپ دھورا جی گروپ کے سایا خاندان کے کسی فرد کو جانتے ہیں۔ انہوں نے جواب دیا اور ذکریا
چند چنیدہ تحریریں

جاپانی اسکالر کا اردو میں غیر معمولی خطاب
جاپانی اسکالر کا اردو میں غیر معمولی خطاب (Order of the Rising Sun, Gold Rays with Neck Ribbon) ڈاکٹر معین

خود نوشت ‘کاریز’: رفیع الدین راز کی ادبی اور سفری داستان
خود نوشت ‘کاریز’: رفیع الدین راز کی ادبی اور سفری داستان ‘جہا نیاں جہاں گشت ‘کا ایک دل نشیں کارنامہ:

کمیشن والی دوائیں اور لیبارٹری ٹیسٹ
ماضی کا طریقہ علاج: ڈاکٹر صاحبان کی تشخیصی صلاحیت (diagnostic)ڈاکٹر صاحبان اسی اور نوے کی دہائی میں مریضوں کا علاج

سچ حسب ذائقہ اور تلخ معاشرتی رویے
سچ کی کڑواہٹ اور سچ حسب ذائقہ کا تصور کسی جگہ پڑھا تھا کہ دشمن بنانے کیلئے ضروری نہیں کہ
ہمارے چینل کی پسندیدہ ویڈیوز
یونیورسٹی کی وہ ناقابلِ فراموش راتیں، جنہوں نے زندگی میں لڑنا سکھایا۔سابق طلبہ رہنماؤں کی زبانی، بچپن کی مضبوط بنیادوں سے کٹھن موڑ تک کا سفر۔ جدید دنیا کی پیچیدگیوں کو سمجھنے اور منزل پانے کے وہ ان کہے حقائق۔
جانیے ان معروف ادیبوں اور شاعروں کے بارے میں، جنہیں دنیا صرف ان کی تحریروں سے جانتی ہے۔ ان عظیم مفکروں کے ماضی کے وہ بند دروازے، جو پہلی بار آپ کے سامنے کھلنے جا رہے ہیں۔ ایک عام انسان کے اندر سے ایک انقلابی قلم کار کے جنم لینے کی وہ ان کہی داستان جس نے اپنی سوچ سے لاکھوں دلوں کو اپنی مٹھی میں لیا۔
ذکر کتاب تاثرات – اقتباسات ذکر کتاب تاثرات – اقتباسات ذکر کتاب تاثرات – اقتباسات
