کتابوں پر تبصرہ
Maeraj Jami - معراج جامی

گرد کی تہ سے خزانہ نکلا: پروفیسر ڈاکٹر فیاض احمد شیخ

گرد کی تہ سے خزانہ نکلا خود نوشت کا عنوان اور پس منظر پروفیسر ڈاکٹر فیاض احمد شیخ نے اپنی خود نوشت کا نام‘‘تہ گرد ’’ رکھا ہے ۔بلکہ انھوں نے کہاں رکھا یہ نام تو فیاض صاحب کی نصف بہتر نے رکھا ہے جسے پروفیسر ڈاکٹر فیاض احمد شیخ نے بے چوں وچرامان لیا ہے کیونکہ اسی میں ان کی بہتری تھی مگر صاحب بیگم فیاض کی اس دور اندیشی کی داد دینا واجب ہے کہ انھوں نے کتا ب کا نام تہ گرد رکھا ۔ دراصل گرد کی تہ میں بہت سارے واقعات ، یادیں ، حادثات اور سانحات پنہاں ہوتے ہیں اور یہ خزانے ہر شخص کی گرد کی تہ میں ہوتے ہیں۔ آپ اگر ایک بہترین

« مزید پڑھیے
عبدالعلیم صدیقی
کتابوں پر تبصرہ
Maeraj Jami - معراج جامی

نوا ہائے قلب زار: ڈاکٹر عبدالعلیم صدیقی کی علمی و ادبی خدمات اور اقبال شناسی

نوا ہائے قلب زار: ڈاکٹر عبدالعلیم صدیقی ابتدائی تعارف اور شخصیت سے غائبانہ انس کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن سے زندگی کے کسی بھی موڑ پر رابطہ نہیں ہوتا مگر جن کے تبحر علمی کے پیش نظر ان کی شخصیت سے قدرتی طور پر انس پیدا ہوجاتا ہے اور وہ شخصیت ایک طرح سے انسان کے لیے عزت و احترام کا درجہ حاصل کر لیتی ہے۔ مجھے عبدالعلیم صدیقی صاحب کے بارے میں نہایت تفصیل سے فرہاد احمد فگار نے بتایا جو اگرچہ مظفر آباد کا رہائشی ہے مگر عبدالعلیم صدیقی صاحب کے علم و فن کا قدر دان بھی ہے جبکہ مجھے صدیقی صاحب کی دو کتابیں نوائے شرق اور نغمہ سروش 2013ء میں میرے برادر خورد غازی

« مزید پڑھیے
حسن
کتابوں پر تبصرہ
Tasnim Farooqui - تسنیم فاروقی

Afghanistan: The Bear Trap — The Defeat of a Superpower

افغانستان دی بیئر ٹریپ: سوویت سپر پاور کی شکست اور افغان جنگ کی اندرونی کہانی دنیا کی ایک عظیم فوجی طاقت افغانستان میں داخل ہوئی تو شاید کسی نے سوچا بھی نہ ہوگا کہ جدید طیاروں، ٹینکوں اور میزائلوں سے لیس سوویت فوج کو ایسے جنگجوؤں کے مقابلے میں پسپائی اختیار کرنا پڑے گی جن کے پاس نہ باقاعدہ فوج تھی، نہ جدید عسکری نظام اور نہ ہی کوئی متحدہ مرکزی قیادت۔ مگر یہ جنگ صرف افغان پہاڑوں میں نہیں لڑی جا رہی تھی۔ اس کی منصوبہ بندی پاکستان میں ہو رہی تھی، اس کے لیے اسلحہ دنیا کے مختلف ملکوں سے آ رہا تھا اور اس کی مالی معاونت میں امریکہ اور سعودی عرب شریک تھے۔ افغانستان دی بیر

« مزید پڑھیے
کتابوں پر تبصرہ
Maeraj Jami - معراج جامی

مرحومین کا خیر خواہ: ڈاکٹر منیر احمد سلیچ کی تحقیق و وفیات نگاری

مرحومین کا خیر خواہ: ڈاکٹر منیر احمد سلیچ کی تحقیق و وفیات نگاری ہمارے عزیز دوست ڈاکٹر منیر احمد سلیچ طب کے ڈاکٹر ہیں، ادب کے محقق ہیں اور محبت کے سفیر ہیں۔ خاموش طبع، دھیمے مزاج کے حامل، چہرے پر اپنائیت کی رمق اور آنکھوں میں ذہانت کی چمک کے ساتھ منیر سے ملنے والا منیر کو ایک ہی نظر میں اپنے دل میں اتار لیتا ہے۔ ڈاکٹر منیر احمد سلیچ کو قدرت نے مرحومین کے تذکرے کے لیے وقف کر دیا ہے۔ دنیا میں ہر انسان کسی نہ کسی مقصد کے لیے آتا ہے مگر انسانوں کی ایک بڑی آبادی اپنے وجود کے مقصد سے لاعلم رہتی ہے اور یہ لاعلم رہنے والے غربا یا مساکین ہی میں

« مزید پڑھیے
کتابوں پر تبصرہ
Editorial Desk

دی ون منٹ مینیجر: قیادت اور انتظامی صلاحیتوں کا ایک منٹ کا طریقہ

دی ون منٹ مینیجر: قیادت اور انتظامی صلاحیتوں کا ایک منٹ کا طریقہ کیا کوئی شخص صرف ایک منٹ میں اپنے ملازم کی کارکردگی بدل سکتا ہے؟ کیا ایک منٹ کی تعریف کسی انسان میں نئی جان ڈال سکتی ہے؟ اور کیا ایک منٹ کی تنبیہ اسے ذلیل کیے بغیر اپنی غلطی سدھارنے پر آمادہ کر سکتی ہے؟ بظاہر یہ باتیں ناقابلِ یقین لگتی ہیں، لیکن آج جس کتاب کا ذکر کرنے جا رہا ہوں، اس کے مصنفین کا دعویٰ ہے کہ اچھی قیادت کے لیے ہمیشہ طویل تقریروں، مسلسل نگرانی اور سخت احکامات کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کتاب کا نام ہے دی ون منٹ مینیجر، یعنی ایک منٹ کا منتظم۔ اسے کین بلانچارڈ اور اسپینسر جانسن نے تحریر کیا

« مزید پڑھیے
پاندان
کالم
Azhar Azmi

ضعیف مائیں اپنے پرانے گھر میں انتظار کرتی ہیں: پان کھانے کے بہانے ہی چلے آئیں

پاندان کا یومِ صفائی اور صحن کا کرفیو جس دن پاندان کا یوم صفائی ہو تو سمجھ لیں کہ صحن میں پاندان ، اس کی بڑی طشتری ، کلیاں وغیرہ جہیز کی طرح بکھری پڑی ہیں ۔ صحن میں کرفیو کا سماں ہے ۔ کسی کو قدم رکھنے کی اجازت نہیں ۔ بہوئیں بچوں کو ایسے کمروں میں بند رکھتیں جیسے صحن میں کوئی بردہ فروش بیٹھی ہو ۔ اللہ جانے پاندان کو مانجھنے کے لیے کہاں سے بجری لے آتیں پھر وہ رگڑائی کرتیں کہ قلعی ہی اتر جائے ۔ اس کے بعد ان پر وہ پانی بہایا جاتا کہ جیسے پاندان کا غسل آخر ہو رہا ہے ۔ کتھے اور چونے سے پورا صحن دو رنگی لکیریں کھینچتا

« مزید پڑھیے
کالم
Sohail Yaqoob - سہیل یعقوب

درباری مورخ اور تاریخ

درباری مورخ اور تاریخ درباری مورخ کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ بادشاہ سلامت کی مرضی کے مطابق تاریخ رقم کرتا رہے۔ اس کے بعد بادشاہ سلامت تاریخ رکھ لیتے ہیں اور درباری مورخ رقم رکھ لیتا ہے، یوں دونوں کے لیے یہ سودا خاصا نفع بخش ہوتا ہے۔ بادشاہ سلامت کی مرضی کی تاریخ تاریخ کو پراثر بنانے کے لیے درباری مورخ کو مختلف واقعات گھڑنے پڑتے ہیں۔ ان میں سرفہرست یہ بات ہوتی ہے کہ بادشاہ رات کو بھیس بدل کر رعایا کی دادرسی کے لیے نکلتا تھا۔ اب نہ اس زمانے میں ٹیلی وژن تھا، نہ اخبارات کہ لوگ بادشاہ کی شکل پہچانتے ہوں، پھر اسے بھیس بدلنے کی کیا ضرورت تھی؟ اس سوال پر مورخ

« مزید پڑھیے
کالم
Sohail Yaqoob - سہیل یعقوب

اقتدار کا سنہری سیب

اقتدار کا سنہری سیب بچپن میں یونانی دیومالائی کہانیاں پڑھنے کو ملتی تھیں۔ ان کہانیوں میں زیوس  سب سے طاقتور دیوتا تھا، جبکہ باقی دیوتاؤں اور دیویوں کے ذمے الگ الگ کام تھے۔ ایک مرتبہ دو دیوتاؤں کی شادی میں ایرس  کو مدعو نہیں کیا گیا۔ ایرس اختلاف اور ناچاقی کی “To the fairest one” دیوی تھی۔ وہ ایک سنہرا سیب لائی جس پر لکھا تھا:  یعنی سب سے خوبصورت کے لیے، اور اسے تقریب میں پھینک کر چلی گئی۔ سیب کو دیکھتے ہی تین دیویوں، ہیرا ، ایتھینا  اور افروڈائٹ میں اختلاف ہوگیا کہ یہ سیب کس کا حق ہے۔ تینوں زیوس کے پاس پہنچیں کہ وہ فیصلہ کرے، مگر زیوس نے خود یہ فیصلہ کرنے کے بجائے ٹرائے

« مزید پڑھیے

چند چنیدہ تحریریں

ہمارے چینل کی پسندیدہ ویڈیوز

Banker

کامیابی کی وہ پوشیدہ داستان جو کتابوں کے صفحات میں نہیں ملتی۔
بینکاری کی دنیا کے ان رہنماؤں کی سوچ، جو مارکیٹ کا رخ بدل دیتے ہیں۔ بچپن کے وہ سبق اور خاص حکمتِ عملی، جس نے انہیں بلندیوں تک پہنچایا۔آئیے جانتے ہیں وہ راز، 

Corporate Leader

عام پاکستانیوں کی وہ غیر معمولی محنت، جس نے کارپوریٹ دنیا کو حیران کیا۔ برسوں کی مشقت سے حاصل کردہ وہ دانش، جو صرف تجربہ کاروں کو ملتی ہے۔ذہانت اور بصیرت کے وہ قیمتی موڑ، جنہوں نے ناممکن کو ممکن بنا دیا

 

یونیورسٹی کی وہ ناقابلِ فراموش راتیں، جنہوں نے زندگی میں لڑنا سکھایا۔سابق طلبہ رہنماؤں کی زبانی، بچپن کی مضبوط بنیادوں سے کٹھن موڑ تک کا سفر۔ جدید دنیا کی پیچیدگیوں کو سمجھنے اور منزل پانے کے وہ ان کہے حقائق۔

جانیے ان معروف ادیبوں اور شاعروں کے بارے میں، جنہیں دنیا صرف ان کی تحریروں سے جانتی ہے۔ ​ان عظیم مفکروں کے ماضی کے وہ بند دروازے، جو پہلی بار آپ کے سامنے کھلنے جا رہے ہیں۔ ​ایک عام انسان کے اندر سے ایک انقلابی قلم کار کے جنم لینے کی وہ ان کہی داستان جس نے اپنی سوچ سے لاکھوں دلوں کو اپنی مٹھی میں لیا۔

کتاب اور صاحب کتاب

کتاب اور صاحب کتاب کتاب اور صاحب کتاب کتاب اور صاحب کتاب

کتابوں کے آئینے میں کتابوں کے آئینے میں کتابوں کے آئینے میں

ذکر کتاب تاثرات – اقتباسات ذکر کتاب تاثرات – اقتباسات ذکر کتاب تاثرات – اقتباسات

Banker

کامیابی کی وہ پوشیدہ داستان جو کتابوں کے صفحات میں نہیں ملتی۔
بینکاری کی دنیا کے ان رہنماؤں کی سوچ، جو مارکیٹ کا رخ بدل دیتے ہیں۔ بچپن کے وہ سبق اور خاص حکمتِ عملی، جس نے انہیں بلندیوں تک پہنچایا۔آئیے جانتے ہیں وہ راز، 

کیا آپ اپنی تحریر شائع کرانا چاہتے ہیں؟