
تلخ مشروب کا میٹھا ذائقہ
تلخ مشروب کا میٹھا ذائقہ ذائقوں کی دنیا اور کڑوی دوا کی حقیقت بسم اللہ الرحمٰن الرحیم انسان دنیا میں آنے کے بعد وقت کے ساتھ ساتھ مختلف ذائقوں سے آشنا ہوتا ہے۔ نومولود صرف ماں کے دودھ کی لذت سے آشنا ہوتا ہے۔ پہلی بار کھٹا ذائقہ زبان پہ آتے ہی بچے کا سارا جسم منفی ردعمل کا اظہار کرتا ہے، دوا کی کڑواہٹ اس کو پیٹ کی ہر شے اگلنے پہ مجبور کر دیتی ہے۔ بچے کو عمر گزرنے کے ساتھ ساتھ مختلف ذائقوں سے شناسائی ہوتی جاتی ہے اور پھر کڑوی دوا کا استعمال بھی آسان ہو جاتا ہے کیونکہ شعور اس کے فائدے سے واقف ہو جاتا ہے۔ انسان نے پیٹ پوجا کی تسکین کے لیے

برٹش راج ، فورٹ ولیم کالج اور اردو نثر کا فروغ
اردو نثر کا ارتقا: فورٹ ولیم کالج، میر امن اور انگریزوں کا کردار تمہید تاریخ کے صفحات اٹھا کر دیکھیں تو لگتا ہے کہ اردو نظم اور شاعری کی تاریخ اردو نثر سے کہیں زیادہ پرانی ہے۔ شاید اس لیے کہ ایک دور میں لوگوں کے پاس شاعری ہی وہ واحد راستہ تھا جس سے وہ مشاعروں میں شرکت کر کے بادشاہوں اور نوابین کا قرب حاصل کرتے، قصائد لکھ کر سناتے، انعام و اکرام اور وظائف حاصل کرتے اس بلاگ پر ویڈیو دیکھنے کے لیے نیچےکی امیج پر کلک کریں جب مغلیہ سلطنت کو زوال آیا تو ان شعرا نے اودھ کا رخ کیا اور اسے اپنا مرکز بنایا، جہاں ان کی شاعری کے قدردانوں میں طوائفوں کا اضافہ

پاکستانی ٹیلی ویژن ڈرامہ: زوال، تبدیلی اور نئے امکانات – ایک تفصیلی جائزہ
پاکستانی ٹیلی ویژن ڈرامہ: زوال، تبدیلی اور نئے امکانات (معاشی، ادبی اور تکنیکی امتزاج) پاکستانی ٹیلی ویژن ڈرامہ: ماضی کی ادبی روایت اور جدید ٹیکنالوجی کا امتزاج پاکستانی ٹیلی ویژن ڈرامہ ہمیشہ سے برصغیر کی ثقافتی اور معاشرتی اقدار کا عکاس رہا ہے، جہاں ہر سنہری دور ہمیشہ قائم نہیں رہتا بلکہ ہر نئے دور میں ایک نیا سنہری دور پیدا ہونے کی بھرپور صلاحیت موجود ہوتی ہے۔ ماضی کے ادوار میں ہمارے تخلیق کاروں نے ہمیشہ اس بات کو یقینی بنایا کہ اسکرین پر پیش کی جانے والی کہانیاں عام آدمی کے دل کی آواز ہوں اور معاشرے کی اصل تصویر پیش کریں۔ پاکستانی ڈرامہ نے وقت کے ساتھ ساتھ اپنی جڑوں کو مضبوط رکھتے ہوئے نئے تقاضوں

ٹنڈو آدم ریلوے اسٹیشن کے 148 سال (1878–2026): حصہ سوئم
ٹنڈو آدم ریلوے اسٹیشن کے 148 سال (1878–2026): حصہ سوئم ٹنڈو آدم ایک اہم جنکشن رہا ہے۔ برطانوی حکومت نے ٹنڈو آدم میں دو مختلف اقسام کی پٹریاں (Gauges) بچھائی گئی تھی۔ اس کے علاؤہ برطانوی حکومت نے یہاں کی صنعتوں (Factories) کو ریلوے لائن سے منسلک کیا گیا ۔ ریلوے کے مختلف گیجز اور صنعتی ٹریک کا جال براڈ گیج Broad Gauge( گیج سے مراد پٹری کے دو متوازی لوہے کے پیڑیوں کے درمیان کا فاصلہ ہے۔)۔ اس کی چوڑائی 5 فٹ 6 انچ ہوتی ہے۔ یہ پاکستان ریلوے کا مین ٹریک ہے (جیسے کراچی سے لاہور والی لائن)۔ ٹنڈو آدم کا مین پلیٹ فارم اسی پر مشتمل ہے۔ نیرو گیج (Narrow Gauge): اس کی چوڑائی 2 فٹ 6

پیڈرو پارامو ‘کا قاری کیسا ہونا چاہیے؟ 5 ۔ اہم خوبیاں’
’پیڈرو پارامو‘ کا قاری کیسا ہونا چاہیے؟ 5 ۔ اہم خوبیاں خوآن رُلفو کا شاہکار ناول ’پیڈرو پارامو‘ غیر روایتی قاری کا مطالبہ کرتا ہے۔ یہ محض ایک کہانی نہیں بلکہ ایک ایسا ادبی تجربہ ہے جس میں پڑھنے والے کو واقعات کا پیچھا کرنے کے بجائے متن کے ساتھ قدم ملا کر چلنا پڑتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس ناول کا قاری کیسا ہونا چاہیے اور خوآن رُلفو کے اس پیچیدہ شاہ کار کو سمجھنے کے لیے اسے کن خصوصیات کی ضرورت ہے؟ ناول عام ڈگر سے ہٹ کر چلتا ہے اور اس کا قاری بھی چند خاص خوبیوں سے متصف ہونا چاہیے۔ کومالا میں داخل ہوتے ہی سیدھا راستہ ختم ہو جاتا ہے۔ آوازیں بدلتی ہیں،

کم خرچ، بالا نشین نیکی
بسم اللہ الرحمن الرحیم نیکیوں میں سبقت لے جانے کا جذبہ اللہ رب العزت نے سورۃ البقرہ کی آیت 147 میں فرمایا “ہر شخص کسی نہ کسی (عمل) کی طرف متوجہ رہتا ہے۔ پس (تمہیں چاہیے کہ) نیکیوں کی طرف سبقت لے جانے کی کوشش کرو۔” عمومی طور پر ہر ہوش مند مسلمان نیکیوں میں سبقت لے جانے والا ہوتا ہے اور ہونا بھی چاہیے۔ مگر دنیا میں ہم ہر طرح کی نیکی نہیں کر سکتے، کیونکہ ہر انسان کی قابلیت، صلاحیت اور حالات مختلف ہوتے ہیں۔ مال دار مال خرچ کر سکتا ہے، مفلس نہیں کر سکتا۔ عالم علم پھیلا سکتا ہے، جاہل سے یہ کام نہیں ہو سکتا۔ صحت مند دوسروں کے لیے جسمانی بھاگ دوڑ کر

کاروباری دنیا کا مفت ظہرانہ
کاروباری دنیا کا مفت ظہرانہ تعارف: مفت ظہرانہ یا کاروباری فریب؟ کہتے ہیں کہ کاروباری دنیا میں کوئی مفت ظہرانہ نہیں ہوتا اور کوئی نہ کوئی اس کی قیمت ضرور ادا کرتا ہے۔ کبھی اس کے لیے ادائیں دکھانا پڑتی ہیں اور کبھی بہت کچھ سننا یا برداشت کرنا پڑتا ہیں۔ میرے نزدیک تو کاروباری دنیا کا مفت ظہرانہ کاروباری نہیں بلکہ کاروکاری ہے اور وقت ہی بتاتا ہے کہ کون کارو ہے اور کون کاری! طاقت اور مفادات کی دنیا تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ اس کھیل میں عموماً طاقتور ہی کارو ہوتا ہے اور کمزور کو کاری بننا پڑتا ہے۔ رنگ، نسل، زبان یا لباس کچھ بھی ہو، اصل فرق طاقت کا ہوتا ہے۔ بلکہ بعض

کلام یا مکالمے کی اہمیت
کلام یا مکالمے کی اہمیت اللہ ربالعزت نے سب سے پہلے سے پہلا کلام قلم سے کیا کہ لوح محفوظ یعنی نورانی تختی پر لکھ جو کچھ قیامت تک ہونے والا ہے۔ پھر فرشتوں سے اور عزازیل سے کلام کیا۔ اس سے قلم اور تحریر کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے۔ عرش پر تو اللہ پاک نے فرشتوں اور عزازیل سے مکالمہ کیا۔اور زمین پر سب سے پہلے حضرت موسئ علیہ السلام سے کلام کیا۔ حضرت موسئ علیہ السلام کا لقب بھی ل چنانچہ کلیم اللہ ہے ۔ انبیاء اور مخلوقات کا مکالمے حضرت سلیمان علیہ السلام کا تمام جن و انس کے ساتھ قافلہ پانی کی تلاش میں جا رہا تھا تو چیونٹوں کی ملکہ نے اپنی چیونٹوں کو خبر
چند چنیدہ تحریریں

جاپانی اسکالر کا اردو میں غیر معمولی خطاب
جاپانی اسکالر کا اردو میں غیر معمولی خطاب (Order of the Rising Sun, Gold Rays with Neck Ribbon) ڈاکٹر معین

خود نوشت ‘کاریز’: رفیع الدین راز کی ادبی اور سفری داستان
خود نوشت ‘کاریز’: رفیع الدین راز کی ادبی اور سفری داستان ‘جہا نیاں جہاں گشت ‘کا ایک دل نشیں کارنامہ:

کمیشن والی دوائیں اور لیبارٹری ٹیسٹ
ماضی کا طریقہ علاج: ڈاکٹر صاحبان کی تشخیصی صلاحیت (diagnostic)ڈاکٹر صاحبان اسی اور نوے کی دہائی میں مریضوں کا علاج

سچ حسب ذائقہ اور تلخ معاشرتی رویے
سچ کی کڑواہٹ اور سچ حسب ذائقہ کا تصور کسی جگہ پڑھا تھا کہ دشمن بنانے کیلئے ضروری نہیں کہ
ہمارے چینل کی پسندیدہ ویڈیوز
یونیورسٹی کی وہ ناقابلِ فراموش راتیں، جنہوں نے زندگی میں لڑنا سکھایا۔سابق طلبہ رہنماؤں کی زبانی، بچپن کی مضبوط بنیادوں سے کٹھن موڑ تک کا سفر۔ جدید دنیا کی پیچیدگیوں کو سمجھنے اور منزل پانے کے وہ ان کہے حقائق۔
جانیے ان معروف ادیبوں اور شاعروں کے بارے میں، جنہیں دنیا صرف ان کی تحریروں سے جانتی ہے۔ ان عظیم مفکروں کے ماضی کے وہ بند دروازے، جو پہلی بار آپ کے سامنے کھلنے جا رہے ہیں۔ ایک عام انسان کے اندر سے ایک انقلابی قلم کار کے جنم لینے کی وہ ان کہی داستان جس نے اپنی سوچ سے لاکھوں دلوں کو اپنی مٹھی میں لیا۔
ذکر کتاب تاثرات – اقتباسات ذکر کتاب تاثرات – اقتباسات ذکر کتاب تاثرات – اقتباسات
