یاد رفتگاں – فضل الرحمان عباسی

یادوں کے جھروکے: معتصم صاحب کی زندگی اور تجربات کا نچوڑ

آج کی اس تیز رفتار زندگی میں جہاں ہم اپنی جڑوں سے کٹتے جا رہے ہیں، ذکرِ کتاب کی یہ پلے لسٹ ایک ایسی ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ہے جو ہمیں ماضی کی خوبصورت گلیوں میں لے جاتی ہے۔ یہ محض ایک گفتگو نہیں، بلکہ ایک تہذیب، ایک خاندان کی جدوجہد اور ہجرت سے لے کر کامیابی تک کا وہ سفر ہے جسے سن کر دل کو ایک عجیب سا سکون ملتا ہے۔

ہماری مشترکہ شناخت کا آئینہ

یہ پلے لسٹ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہم کون ہیں اور ہمارے بزرگوں نے کن کٹھن راستوں سے گزر کر ہمارے لیے آسانیاں پیدا کیں۔ یہ ان تمام پاکستانیوں کے لیے ایک تحفہ ہے جو اپنی مٹی کی خوشبو کو محسوس کرنا چاہتے ہیں۔

نسلوں کے درمیان ایک مضبوط پل

معتصم صاحب کی یہ گفتگو دو نسلوں کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرتی ہے۔ جہاں ایک طرف پرانے کراچی کی سادگی ہے، وہیں دوسری طرف دیارِ غیر میں اپنی شناخت بچانے کی تڑپ۔ یہ ویڈیوز ہمیں بتاتی ہیں کہ اقدار کبھی پرانی نہیں ہوتیں۔

تربیت اور اخلاقیات کا سرچشمہ

اس سلسلے کا اصل مقصد صرف کہانیاں سنانا نہیں، بلکہ ان تجربات سے وہ سبق کشید کرنا ہے جو آج کی نسل کے لیے مشعلِ راہ بن سکیں۔ یہ ایک ایسی دستاویزی سیریز ہے جو ہر گھر کے ڈرائنگ روم میں سنی جانی چاہیے۔

قسط 1: ہجرت کی داستان اور کراچی کی یادیں

اس افتتاحی قسط میں معتصم صاحب نے اپنے والدِ محترم فضل الرحمن عباسی صاحب کی حیاتِ طیبہ اور ان کے پیشہ ورانہ سفر کا نہایت عقیدت سے ذکر کیا ہے۔

اعظم گڑھ سے ہجرت اور جالندھر کیمپ

قیامِ پاکستان کے وقت پیش آنے والی مشکلات اور ہجرت کا وہ دردناک سفر جس نے ایک نئی قوم کی بنیاد رکھی۔

پیشہ ورانہ سفر: ایئرفورس سے پی آئی اے تک

والد صاحب کی محنت اور لگن کی داستان، جنہوں نے ان اہم اداروں میں اپنی خدمات پیش کیں۔

استانی جی” کی سماجی خدمات

 والدہ محترمہ کا ذکر، جنہوں نے کورنگی کے علاقے میں تعلیمِ قرآن اور سماجی خدمت کے ذریعے لوگوں کے دلوں میں گھر کیا۔

پرانے کراچی کی جھلک 70

 کی دہائی کی کورنگی، خاندان کی پہلی گاڑی اور محلے میں پہلے کلر ٹی وی کی آمد کے وہ سچے قصے جو لبوں پر مسکراہٹ لے آتے ہیں۔

قسط 2: دمشق کے دن اور 1971 کی جنگ کے حالات

دوسری قسط میں ہمیں شام کے تاریخی شہر دمشق کی سیر کرائی گئی ہے اور اس دور کے معاشرتی رویوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔

دمشق کا جدید طرزِ زندگی70

کی دہائی میں پی آئی اے کی تعیناتی کے دوران دمشق کے خوبصورت اپارٹمنٹس، زیرِ زمین مکانات اور وہاں کی صفائی ستھرائی کا تذکرہ۔

روحانی مقامات اور لسانی مشکلات

 مسجدِ بنو امیہ کی فضا اور عربی اسکولوں میں تعلیم کے دوران پیش آنے والے دلچسپ لسانی تجربات۔

1971 کی جنگ اور کراچی

 جنگ کے دوران سائرن کی آوازیں، گلیوں میں کھودی گئی خندقیں اور وہ خوف و ہراس کا ماحول جس نے ہمیں متحد کر دیا تھا۔

خاندانی اقدار اور قربانی کا فلسفہ

 بڑے بہن بھائیوں کی ذمہ داریاں اور لیاقت آباد (لالو کھیت) کے بدلے ہوئے حالات کا موازنہ۔

قسط 3: ریٹائرمنٹ، سفرِ ہند اور گلشنِ معمار کی آبادکاری

تیسری قسط میں زندگی کے ایک نئے موڑ کا ذکر ہے جہاں ریٹائرمنٹ کے بعد کے تجربات اور نئے علاقوں کی آبادکاری کو بیان کیا گیا ہے۔

1991 کا دورہِ ہندوستان

 ریٹائرمنٹ کے بعد آبائی وطن کا سفر، جہاں راجستھان میں دل کا دورہ پڑنے اور پھر علی گڑھ میں علاج کے جذباتی واقعات پیش آئے۔

تاریخی لمحات کا مشاہدہ

دہلی میں موجودگی کے دوران راجیو گاندھی کا قتل اور اس وقت کے سنگین حالات کی عینی شہادت۔

گلشنِ معمار کی ابتدائی زندگی

جب گلشنِ معمار میں نہ سڑکیں تھیں اور نہ بجلی، اس وقت کچے گھروں میں رہائش اختیار کرنے کی ہمت اور جدوجہد۔

قدیم مہمان نوازی اور لوکل ٹرین

نمّا جیسی شفیق ہستیوں کی یاد اور کراچی کی لوکل ٹرین میں ملیر تک پکنک منانے کے وہ دور جو اب قصہِ پارینہ بن چکے ہیں۔

قسط 4: بیرونِ ملک قیام اور شکر گزاری کا پیغام

آخری قسط میں معتصم صاحب نے اپنی ذاتی کامیابی، بیرونِ ملک ہجرت اور معاشرتی زوال پر نہایت پُرمغز گفتگو کی ہے۔

تعلیمی مسیحا اور کیریئر کا موڑ

شہاب احمد صدیقی صاحب کا تذکرہ، جن کی بے لوث رہنمائی نے معتصم صاحب کے مستقبل کو ایک نئی سمت دی۔

دبئی سے کینیڈا تک کا سفر

 دبئی میں ملازمت کی مشکلات سے لے کر کینیڈا میں اپنے کاروبار کے قیام تک کی انتھک محنت کی داستان۔

ملازمت کے بجائے کاروبار کی سوچ

نوجوانوں کے لیے ایک اہم پیغام کہ وہ صرف نوکری کے پیچھے نہ بھاگیں بلکہ دوسروں کے لیے روزگار پیدا کرنے والے بنیں۔

بزرگوں کی تنہائی اور امید کی کرن

 معاشرے میں ختم ہوتی ہوئی محفلوں پر دکھ کا اظہار اور پاکستان کے روشن مستقبل کے لیے مثبت سوچ اور شکر گزاری کی اہمیت۔

مکمل انٹرویو سننے کے لئے تھمب نیل کو پریس کریں

Author