تو جانتا ہے کہ میرا باپ کون ہے؟

(ایک سماجی و نفسیاتی تجزیہ)طاقت کا اظہار یا شناخت کا بحران؟یہ ایک فلمی ڈائیلاگ نما جملہ ہے جو کہ عام طور پر اس وقت بولا جاتا ہے کہ جب پولیس یا قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی طاقتور، امیر کبیر اور تو جانتا ہے کہ میرا باپ کون ہے؟
(ایک سماجی و نفسیاتی تجزیہ)

طاقت کا اظہار یا شناخت کا بحران؟

یہ ایک فلمی ڈائیلاگ نما جملہ ہے جو کہ عام طور پر اس وقت بولا جاتا ہے کہ جب پولیس یا قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی طاقتور، امیر کبیر اور سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے گھرانے کے نوجوان فرد کو قانون شکنی پر روکتی ہے تو وہ عام طور پر وہ یہ کہتا ہے کہ تم کو پتہ ہے کہ میرا باپ کون ہے؟ اب اگر آپ جملے کی ساخت کے حوالے سے اسے دیکھیں تو یہ ایک بیانیہ جملہ تو ہوہی نہیں سکتا، یہ یقینی طور پر ایک سوالیہ جملہ ہے۔ اب اس سوالیہ جملے پر مزید ایک سوال کیا جائے کہ اگر یہ سوالیہ جملہ ہے تو یہ نوجوان ان قانون نافذ کرنے والوں سے کیوں پوچھ رہا ہے؟

سوال کا رخ اور خاندانی پس منظر

یہ سوال قاعدہ کی رو سے تو اسے اپنی والدہ ماجدہ سے پوچھنا چاہیے لیکن اگر ان کو بھی اس کا جواب حتمی اور یقینی طور پر معلوم نہ ہوں تو پھر یقیناً یہ ایک پریشانی کی بات ہوسکتی ہے حالانکہ کچھ گھرانوں میں یہ بات اتنی معیوب بھی نہیں سمجھی جاتی اگر اس سے انھوں نے فوائد حاصل کیے ہوں۔

جان، پہچان اور قانون کی بے وقعتی

یہ سوال بہرحال اپنی جگہ قائم و دائم ہے کہ قانون شکنی کا باپ یا والد کی پہچان سے کیا تعلق ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ پورا ملک جان پہچان پر چل رہا ہے کہ جس میں جان الگ ہے اور پہچان الگ ہے۔ ویسے تو ہر ایک کی اپنی جان ہوتی ہے کہ جس پر وہ جان چھڑکتا ہے اسی لئے یقینی طور پر جان کا درجہ پہچان سے اوپر آتا ہے اور اس سیڑھی کے سب سے آخری زینے پر قانون آتا ہے۔ ہم اپنے ملک میں قانون کو داشتہ سے زیادہ عزت دینے کو تیار نہیں ہے اور دنیا والوں سے امید کرتے ہیں کہ وہ ہمارے قانون کو ہماری شرعی منکوحہ کے برابر عزت دے۔ وہ ہمارے قانون کو اتنی ہی عزت دیتے ہیں کہ جتنی ہم اسے اہمیت دیتے ہے۔

قانونی تقاضے اور ‘صداقت’ کا تماشہ

ایسا نہیں ہے کہ ہم قانون کو بالکل بھی اہمیت نہیں دیتے اور اس کے تقاضے پورے نہیں کرتے، نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ اگر کسی کو پاکستان سے باہر جانا ہوں اور اسے کوئی بھی بیماری نہ ہوں تو ایسے حالات میں میڈیکل سرٹیفکیٹ یا ط صداقت نامے کی بنیاد پر باہر بھیجا جاتا ہے۔ اس پورے کھیل میں صداقت نامے کی صداقت پر اور جاری کرنے والے کی صداقت، قابلیت اور اہلیت پر کوئی سوال نہیں کیا جاسکتا کیونکہ قانون کے تقاضے پورے کرنے ہوتے ہیں۔

مصلحت کے نام پر یو-ٹرن

اب یہ تقاضے بھی بڑی عجیب کیفیت ہے، محبوب کرے تو اٹھکھیلیاں اور قانون کرے تو یہ ضرورتیں کہلاتی ہیں۔ آنے والے وقت میں اگر یہ ثابت بھی ہوجائے کہ طبی صداقت نامے صداقت کے معیار پر پورے نہیں اترتے تھے تب بھی جاری کرنے والے کی اسناد، عہدے اور حیثیت پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑتا کیونکہ یہ یقین دہانی اسے پہلے سے ہی کردی گئی تھی۔ یہاں تو الکوحل بھی وقت پڑنے پر شہد بن جاتا ہے چاہے پکڑنے والا قاضی القضاہ ہی کیوں نہ ہوں۔

جدید سہولیات اور ماضی کے ‘حرم’

بات شروع ہوئی تھی کہ تم کو پتہ ہے کہ میرا باپ کون ہے اور دیکھیں بھلا کہ بات کہاں سے کہاں چلی گئی۔ اب تو ڈی این اے کو چیک کرنے کی بھی سہولت ہے کہ جس سے حرکت پدری کا حتمی اور یقینی تعین کیا جاسکتا ہے۔ اللہ کا شکر کہ یہ سہولت گئے زمانوں میں نہیں تھی جب بڑے بڑے حرم کی ذمہ داری اکیلے بادشاہ کے کاندھوں پر ہوتی تھی اگر اس وقت ڈی این اے ٹیسٹ کی سہولت ہوتی تو بادشاہ ہر وقت ملک میں ہی لڑ رہا ہوتا اور اس کے پاس سلطنت کو وسعت دینے کیلئے فتوحات کرنے کا وقت ہی نہیں ہوتا۔

مسائل کا حل: قانون کی بالادستی

اس ملک کے تمام مسائل کا حل اس سوال کے جواب میں پنہاں ہے کہ تم کو پتہ ہے کہ میرا باپ کون ہے؟ اگر قانون سب سے بالاتر قوت بن جائے تو یہ سوال نہ صرف غیر ضروری ہوجائے گا بلکہ شاید اس کی نوبت ہی نہ آئے کیونکہ پھر قانون ہی اس کا حتمی اور آخری جواب ہوگا۔

مادری زبان بنام پدری زبان (جوش ملیح آبادی کا ایک قصہ)

اس دفعہ آخر میں کہانی کے بجائے جوش ملیح آبادی کا ایک واقعہ اور اختتام۔ جوش نے پاکستان میں ایک بہت بڑے وزیر کو اردو میں خط لکھا لیکن اس کا جواب انھوں نے انگریزی میں دیا۔ جواب میں جوش نے انھیں لکھا کہ جناب والا میں نے تو آپ کو اپنی مادری زبان میں خط لکھا تھا لیکن آپ نے اس کا جواب اپنی پدری زبان میں تحریر فرمایا ہے۔

اب جب ایسی صورتحال ہوں تو سوال تو بنتا ہے کہ “تو جانتا ہے کہ میرا باپ کون ہے”۔۔