​اردو زبان و لسانیات کی اہمیت اور مطالعہ

زبان اور لسانیات اور ان کے معاملات و مسائل ہر دور اور ہر عہد میں بالخصوص زبان وادب کےشایقین ،مصنفین وماہرین اور اہلِ علم ودانش کا موضوع بنتے رہے ہیں جنھوں نے نہایت اخلاص و سنجیدگی سے ان سب کا مطالعہ بھی کیا اور ان کے تعلق سے ان کے بارے میں اپنی رائے دینے اور اپنا خیال اور اپنا نقطہء نظر بیان کرنے سے کبھی تامل یا گریزبھی نہیں کیا۔

​طارق بن آزاد صاحب کی اچھوتی علمی کاوش

آج ایسی ہی ایک صورت اس وقت ہمارے پیشِ نظر بھی ہے کہ جس کے تحت فاضلِ گرامی طارق بن آزاد صاحب نے ایک ایسے موضوع پر اظہارِ خیال کیا ہے جواپنی جگہ نہایت اہم اور مطالعات اور استعمال کے لیے اچھوتا بھی ہے لیکن آج کی تازہ تر علمی ترقی پذیر دنیا میں ناگزیر بھی ہے اور یہ بھی احساس دلاتاہے کہ ہم نے اب تک اس کی تفہیم اور تعبیر و تشریح کے حوالے سے انتہائی اور حد درجے بے نیازی بل کہ لاتعلقی برتی ہے، جو واقعتا” افسوس ناک ہے!

​اصطلاحِ ‘تثنیہ’ کی تفہیم اور اردو لغت بورڈ کی خدمات

اس مناسبت سے ‘اردو لغت بورڈ کراچی’ کے موجودہ سربراہ محمد طارق بن آزاد مبارک باد و تحسین کے حق دار ہیں کہ انھوں نے اپنے روز مرہ مطالعات کے ضمن میں بالخصوص ایک اصطلاح: ‘تثنیہ’ کی تفہیم و تشریح اور اس کے استعمال کو موضوع بنایا اور کمالِ محنت و جستجو اور سنجیدگی و اخلاص کے ساتھ نہ صرف اس کی تعبیر و تشریح کی بل کہ اردو قواعد کے ذیل میں صیغہء تثنیہ کے ضمن میں اس اصطلاح کا ایک جامع اور بھرپور مطالعہ کر کے اس کا تعارف بھی کرایا اوراس کی قواعد بھی تحریر کی اور اس سے متعلق اسناد و مآخذ کی فہرست بھی درج کی تاکہ عام قارئین بھی اس کو سمجھ سکیں اور ان کی معلومات میں ضروری اضافہ بھی ہو۔

​لغت نویسی کی تاریخ میں “اولین لغت تثنیہ” کا اضافہ

بظاہر یہ کاوش طارق بن آزاد صاحب نے “اردوقواعد اور صیغہ تثنیہ” کے تحت انجام دی ہےلیکن ایک نہایت مستحسن اضافی کام شاید پہلی ہی بار اردو لغت نویسی کی تاریخ میں ایک مختصر لیکن جامع “اولین لغت تثنیہ” بھی مرتب کر کے اسی مسودے میں شامل کردی، جو اس وقت پیش ِ نظر ہے۔

​اردو میں تثنیہ کا استعمال اور تجزیاتی مطالعہ

‘اردو میں تثنیہ کا استعمال’جو اس متن میں حرفِ آغاز، صیغہ عدد کا تجزیاتی مطالعہ اور قواعد تثنیہ کے بعد شامل ہے بل کہ واقعتا” سارا کام ہی اس تثنیہ کے استعمال پر مشتمل ہے جو اردو میں یا اردو لغت نویسی اور زبان و قواعد میں شاید واحد مثال ہے جس کے اہتمام اور محنت و مشقت کے لیے عزیزم طارق بن آزاد حقیقی استحسان و مبارک باد کے جائز حق دار ہیں۔

​فرہنگ کی جامعیت اور علمی افادیت

تثنیہ کے استعمال کی جو فرہنگ نہایت اہتمام اور کامل جامعیت کے ساتھ یہاں فاضل مرتب نے ترتیب دی ہے یہ ایک نہایت بہترین اور مفید ترین کاوش ہے جو آج کے ذخائرِ لغت میں اب تک عنقا رہی تھی لیکن طارق صاحب کی اس توجہ اورمحنت کے سبب اب عام دستیاب رہے گی۔

​ماہرانہ لغت نویسی اور وضاحتیں

اس زمرے میں فاضل مرتب نے نہ صرف تمام ممکنہ اسماء و الفاظ کو درج کیاہے بل کہ ایک ماہِر لغت نویس کے طور پر تمام ضروری وضاحتیں، اردو میں معانی اور تشریحات بھی درج کرکے ایک جامع گوشہء لغت کی حیثیت دے دی ہے جو جمیع شایقین اور ضرورت مندوں کے لیے استفادے کے قابل اورہمیشہ دست یاب رہے گی۔​حتمی جائزہ اور مستقبل کے لیے تجاویز

​فہرست سازی، خلاصہ کلام اور حوالہ جات کا اہتمام

ساری فرہنگ کو تمام پیش کردہ تقاضوں کے ساتھ ترتیب دینے کے بعد آخر میں تمام اسماء و الفاظ کی فہرست درج کرنے کا اہتمام بھی کیا گیاہے تاکہ مطلوبہ الفاظ کو باآسانی بھی تلاش کیاجاسکے۔پھر ایک مزید بڑا اہتمام یہ بھی کیاگیاہے کہ آخر میں ‘خلاصہ کلام’ بھی تحریر کرکے شامل کردیاگیاہے جو عام قارئین کے لیے بے حدمفید ہے۔اور اسی طرح اختتام پر عنوان’حوالہ جات’ کے تحت ان مآخذ کی فہرست بھی شامل کی گئی ہے جن سے پتا چل سکتاہے کہ فاضل مرتب نے کون کون سے مآخذ کو پیش نظر رکھا ہے یا کن کن مآخذ سے استفادہ کیاہے۔اس اہتمام سے یہ اندازہ بھی ہوسکتاہے کہ فاضل مرتب کا معیار کیا تھا۔

​حتمی جائزہ اور مستقبل کے لیے تجاویز

اس سارے جائزے اور تبصرے کے بعد یہ برملا کہاجاسکتاہے کہ ایک عرصے کے بعد ایک سرکاری علمی ادارے کی جانب سے ایک وقیع علمی خدمت انجام دی گئی ہے، جو آج کے عصری ماحول میں کم سے کم ہی کسی علمی و ادبی ادارے میں نظر آتی ہے۔ اس اعتبار سے فاضل مرتب محمد طارق بن آزاد اس مثالی خدمت پر حقیقی مبارک باد اور ستائش کے مستحق اور مبارک باد کے حق دار ہیں۔ اور ان کی یہ تجویز بھی لازما” قابل عمل ہےکہ اردو قواعد کی کتب میں ‘تثنیہ’ کو ضرور اہمیت دے کر طلبہ کے لیے مطالعے کا موضوع ضرور بنایا جانا چاہیے تاکہ اس طرح ہرایک کی اس سے شناسائی بھی عام ہوسکے۔

Author

  • Moinuddin Aqeel

    ڈاکٹر معین الدین عقیل اردو زبان کے ممتاز نقاد، نامور محقق اور جید استاد کی حیثیت سے پہچانے جاتے ہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ اردو زبان و ادب کی تدریس اور فروغ کے لیے وقف کیا، اور اٹلی، جاپان اور پاکستان کی مختلف جامعات میں علمی خدمات انجام دیں۔ ان کی معروف تصنیف جنگِ آزادی میں اردو کا حصہ علمی حلقوں میں خاص شہرت رکھتی ہے۔
    ڈاکٹر صاحب اردو، انگریزی، فارسی اور جاپانی زبانوں پر عبور رکھتے ہیں، جبکہ انہوں نے نوّے سے زائد کتب تصنیف و تالیف کرکے علمی دنیا کو گراں قدر سرمایہ عطا کیا۔ پاکستان اور جاپان کی متعدد جامعات میں تدریسی فرائض سرانجام دینے کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنی ذاتی لائبریری کی ستائیس ہزار سے زائد کتابیں سن 2012ء میں کیوتو یونیورسٹی کو ہدیہ کرکے علم دوستی کی روشن مثال قائم کی۔