جامعہ کراچی کا سنہرا دور اور ڈاکٹر منظور احمد کی عالمانہ شخصیت
تعلیمی اداروں کا ماضی: نظم و ضبط اور تہذیب کا گہوارہ
وہ بھی کیا دن تھے کہ زندگی ایک نظم و ضبط میں گزر رہی تھی، ہر طرف اپنے اطراف ایک تہذیب و شائستگی، اخلاق و مروت اور فروغِ علم و دانش کی مثالیں عام تھیں کہ ان صفات کے دلدادہ افراد کہیں بھی تشنگی اور مایوسی سے دوچار نہ ہوتے تھے اور زندگی تمام تر سکون اور طمانیت سے حسبِ خواہش گزرتی تھی۔
تعلیمی ادارے اور بالخصوص جامعات یا یونیورسٹیاں فروغِ علم، اصول پسندی اور نظم و ضبط کی ایک مثال ہوتی تھیں اور اپنے یہ اوصاف عام بھی کرتی رہتی تھیں۔ یہ سب کچھ اس نظام کے سبب بھی تھا جس کے تحت یہ نظام یا یہ ادارے قائم تھے جو ان علمی و تعلیمی اداروں کا ایک امتیاز ہوتے اور سمجھے بھی جاتے تھے، اور اس کا ایک بڑا سبب ان اداروں سے منسلک اساتذہ بھی تھے۔
جامعہ کراچی کا سنہرا دور: یادگار تعلیمی سفر (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۵ء)
اسی ماحول میں راقم الحروف نے اپنی زندگی کے تعلیمی دور کے یادگار دن ۱۹۵۳ء تا ۱۹۶۴ء گزارے؛ پہلے اسکولوں اور کالجوں میں اور پھر یونیورسٹی اور بالخصوص جامعہ کراچی میں۔ اولاً ۱۹۶۵ء سے ۱۹۶۹ء تک بی اے آنرز تا ایم اے اور پھر ۱۹۷۵ء میں پی ایچ ڈی کی تکمیل تک کا سفر یہیں طے ہوا۔
جامعہ کراچی کا سنہرا دور نہایت عمدہ، یادگار اور قابلِ رشک زمانہ تھا۔ بہترین ماحول، عمدہ نظام اور پھر نہایت لائق اور فاضل اساتذہ جو اپنے مضامین میں نہایت ماہر و عالم اور اخلاق و دانش میں بھی یکتا تھے۔ میں نے اس طرح کے نہایت مثالی اساتذہ سے تدریس اور شفقت و محبت کے ایسے درس لیے کہ بعد میں بھی اب تک کبھی بھول نہ سکا ہوں!
شعبہ اردو کا انتخاب اور اختیاری مضامین
میں نے یونیورسٹی میں بی اے امتیازی (آنرز) سے اپنی تعلیم کا آغاز ۱۹۶۵ء میں کیا تھا اور آنرز میں اردو زبان و ادب کے ساتھ فلسفہ اور نفسیات کا انتخاب بطور اختیاری مضامین کیا تھا۔ بعد ازاں ایم اے اور پی ایچ ڈی اردو زبان و ادب میں کیے۔ یہ شعبہ ۱۹۵۲ء میں قائم ہوا تھا اور ایم ایم احمد اس کے اولین پروفیسر اور صدر تھے۔
قیام کے کچھ ہی عرصے بعد ڈاکٹر منظور احمد بھی اس سے منسلک ہو گئے تھے لیکن پھر جلد ہی اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلستان چلے گئے تھے۔ فلسفے کے علاوہ دیگر مضامین کے اساتذہ کا ذکر یہاں کیا کیا جائے، فلسفے کے یہی میرے استاد تھے ڈاکٹر منظور احمد جن سے میں نے فلسفہ پڑھا اور خوب سیر ہوکر پڑھا!
ڈاکٹر منظور احمد کی شخصیت: مابعد الطبیعات اور طرزِ تدریس
جس زمانے میں، میں نے فلسفے میں داخلہ لیا تھا اسی زمانے میں ڈاکٹر منظور احمد انگلستان سے خود فارغ التحصیل ہوکر واپس آئے تھے اور تدریس کا فرض ادا کرنا شروع کردیا تھا۔ وہ ہمیں ‘مابعد الطبیعات’ پڑھاتے تھے۔ نصاب میں بی اے آنرز میں ایک سال ‘اخلاقیات’ شامل تھا جو ایک دوسرے استاد پڑھاتے تھے۔ بظاہر تو ‘مابعد الطبیعات’ فلسفہ ہی ہوتا ہے اور اسے پڑھنے کے دوران انسان واقعتاً کسی اور ہی دنیا میں پہنچا ہوا محسوس کرتا ہے۔
شائستہ گفتگو اور عالمانہ لب و لہجہ
ڈاکٹرمنظور احمد صاحب نہایت نستعلیق اور شائستہ انسان تھے اور ہمیشہ ہی سنجیدگی کے تابع محسوس ہوتے تھے۔ زبان نہایت شستہ اور مہذب اور لب و لہجہ اور الفاظ حد درجے عالمانہ۔ گفتگو یا لیکچر بھی، چاہے اردو ہو یا انگریزی، ایک تواتر کے ساتھ نہایت مفکرانہ اور فاضلانہ ہوتا تھا۔ جیسے “وہ کہیں اور سنا کرے کوئی” کی سی ایک حقیقی کیفیت سارے وقت طاری رہتی تھی۔ ان کے طرزِ گفتار اور حرکت و عمل سے صاف جھلکتا تھا کہ وہ یقیناً ایک شائستہ گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اور واقعہ بھی یہی تھا جس کے بارے میں بعد میں پتہ چلا کہ وہ رامپور کے ایک مہذب خاندان میں پیدا ہوئے تھے۔
ڈاکٹر منظور احمد کی حیات کا سفر: ۱۹۳۴ء سے ۲۰۲۶ء تک ان کا طرزِ عمل یہی رہا اور ساری زندگی، چاہے جس مصروفیت میں گزری ہو، علم و دانش ہمیشہ ان کے ساتھ رہی اور خاصی فعال رہی۔
تدریسی انہماک اور طلبہ کے سوالات کے جوابات
تدریس میں ان کا طرزِ عمل ہمیشہ نہایت سنجیدہ اور انہماک کے ساتھ رہا۔ دورانِ تدریس ہمیشہ موضوعات و مطالب میں ڈوبے رہتے تھے لیکن کبھی کبھی نفسِ مضمون سے متعلق ایک آدھ سوال ضرور کرلیتے تھے جو شاید طلبہ کی دلچسپی و انہماک کو جانچنے کے لیے ہوتا تھا۔ لیکن ایسا بھی کبھی نہیں ہوتا تھا کہ وہ طلبہ سے کسی حوالے سے گفتگو میں وقت صرف کرتے ہوں، ہمیشہ لیکچر کے موضوع پر ہی مرکوز رہتے تھے۔
ہاں، اگر لیکچر کے دوران کسی طالب علم نے کوئی سوال کرلیا تو وہ ضرور اس کا ایسا معقول جواب دیتے کہ سوال کرنے والا پوری طرح مطمئن ہوجاتا۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا کہ کسی سوال کے ساتھ کوئی اور سوال بھی نکل آتا تو وہ اس کا بھی پوری طرح تسلی بخش جواب عنایت کرتے اور طالب علم کی تشفی تک اس سے محوِ کلام رہتے۔
ڈاکٹر منظور احمد کے مرغوب موضوعات اور تصانیف
مجھے محسوس ہوتا تھا کہ ڈاکٹرمنظور احمد کو فلسفے کے معروف تر موضوعات خاصے پسند تھے اور وہ ان موضوعات کے تعلق سے ضرور سامعین یا طلبہ کو بھی ان سے قریب تر رکھنے کے لیے کوشاں رہتے۔ اس طرح ان کے لیکچر میں کبھی کبھی سارا وقت یا بڑی حد تک اسی موضوع پر وقت کا بڑا حصہ صرف ہوجاتا تھا لیکن ایسا کم ہوتا تھا۔
فکرِ اقبال اور اسلامی اجتہاد سے رغبت
بعض معروف و مقبول موضوعات جیسے اقبال کی حیات و فکر بھی ان کے مرغوب موضوعات محسوس ہوتے تھے اور اگر ان کے کسی لیکچر کا موضوع کسی حوالے سے یا تمام تر اقبال کے تعلق سے ہوتا تو وہ دن ان کی ساری دلچسپیاں اقبال ہی کی فکر و دانش لے جاتی تھیں۔ اسلام اور اجتہاد بھی ان کے محبوب موضوعات کہے جاسکتے ہیں۔ اسلام کے فکری و اجتہادی مسائل و موضوعات بھی ان کے لیکچر کے موضوعات بنتے رہتے تھے جن پر ان کے لیکچر خاصے خشوع و خضوع پر مبنی ہوتے تھے۔
علمی شاہکار اور تصانیف
یہاں ان کے کچھ خیالات و نظریات کا حوالہ آیا ہے تو میرے تاثر کے مطابق وہ ایک کثیر التصانیف شخص نہ تھے۔ جو تصانیف میرے علم میں آئیں ان کا موضوعاتی تعلق فلسفے اور مذہب سے ہے
اقبال شناسی (اردو): یہ ان کے محبوب و پسندیدہ موضوع اقبال کی حیات و فکر پر مشتمل ہے، جو اقبال پر ان کے منفرد و پرمغز مقالات کا مجموعہ ہے۔ یہ مجموعہ خاصا پسند کیا گیا اور پڑھا بھی گیا۔
Islam and Contemporary Perspective (انگریزی)
یہ انگریزی تصنیف بھی علمی حلقوں میں بے حد مقبول ہوئی۔
چوں کہ ڈاکٹرمنظور احمد کثیر التصانیف نہیں تھے اس لیے ان کی تصانیف کا ذکر بھی عام نہیں ہے۔ اردو میں ان کی چند مختصر کتابوں یا کتابچوں کا ذکر ملتا ہے لیکن ان کی اہم تصنیف “اقبال شناسی” ہی ہے جو تمام تر فکری مباحث و مشمولات پر مشتمل ہے، اور اسلام اور جدید فکری مسائل و مباحث کا احاطہ کرتی ہے۔
استاد اور شاگرد کے درمیان ایک مقدس فاصلہ
جس دور اور اساتذہ کے جس حلقے میں ڈاکٹرمنظور احمد کراچی یونیورسٹی میں اپنے فرائض انجام دے رہے تھے، وہ اپنے انداز اور معیار کے لحاظ سے آج کے دور سے بہت مختلف تھا۔ اس دور میں ڈاکٹرمنظور احمد منفرد اور چنیدہ اساتذہ میں شمار ہوتے تھے جو محض میرا تاثر نہیں، اس وقت کا عمومی تاثر ان کے بارے میں ایسا ہی تھا اور ہمیشہ رہا۔ میں بہر حال ان کی شائستگی اور نفاست و سنجیدگی کی وجہ سے بھی انہیں بہت پسند کرتا تھا۔ وہ اس لحاظ سے میرے چند نمائندہ اور منتخب اساتذہ میں شامل تھے۔
لیکن جس دور اور جس سطح کا میں طالب علم تھا، اس زمانے میں طالب علم اپنے اساتذہ سے بہت زیادہ بے تکلف نہ ہوتے تھے اور اپنے اور ان کے درمیان میں ایک مناسب فاصلہ ضرور رکھتے تھے۔ چنانچہ بہت کم ہی طالب علم اساتذہ کے کمروں میں جاتے اور اگر جاتے تو کسی کام ہی سے جاتے اور جلد واپس بھی ہوجاتے تھے۔ چند اساتذہ خود طلبہ کو اپنے کمروں میں آنے کی اجازت دیتے اور ان کو اچھی صحبت بھی فراہم کرتے لیکن ڈاکٹرمنظور احمد کا مزاج ایسا نہ تھا۔
خود مجھے بعض اساتذہ کی صحبت بہت پسند رہی اور میں نے ان کی صحبتوں میں موقع ملنے پر خاصا وقت گزارا بھی ہے۔ ان سے قطع نظر، ڈاکٹرمنظور احمد کی سنجیدگی و شائستگی ایک حصار سا اپنے اطراف باندھے رکھتی تھی اس لیے طلبہ ان سے بالعموم ایک فاصلے پر ہی رہے؛ خاص طور پر جب جب میں نے انہیں اور ان کے کمرے کو دیکھا، میرا یہ تاثر ہمیشہ ہی ان کے بارے میں ایسا ہی رہا ہے۔
ایک لازوال عہد کا خاتمہ اور تابندہ یادیں
اب وہ دنیا میں نہیں لیکن ان کی شخصیت کے انتہائی متاثر کن اثرات و تاثرات اور ان کا یادگار لب و لہجہ اور قابلیت و لیاقت کی مثالیں ان کے ہر جاننے ماننے والوں کے ذہنوں میں ضرور جھلملاتی رہیں گی اور خاص طور پر میری طرح ان کے شاگردوں کے احساسات میں تابندہ بھی رہیں گی۔
اس قسم کے مزید بلاگز پڑھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں




