تحقیقاتِ غالب: موجودہ اور مستقبل کے امکانات

تحقیقاتِ غالب: موجودہ اور مستقبل کے امکانات

ڈاکٹر معین الدین عقیل

غالب اردو و فارسی کے ان خوش قسمت شاعروں میں ہے جسے بلا شبہ، اقبال کے بعد، عہدِ حاضر میں سب سے زیادہ مقبولیت اور توجہ حاصل ہوئی ہے۔ غالب کی اس مقبولیت کے پسِ پشت یقیناً غالب کی شاعری ہی ہے لیکن غالب کا خود اپنا عہد، اس کے حالات، اس کے معاصرین اور ان سب سے قطع نظر غالب کی اردو خطوط نویسی نے بھی خطوط کے عام قارئین اور ساتھ ہی محققین و مصنفین کو بھی غالب میں بے پناہ دلچسپی لینے پر مجبور کیا ہے۔

چنانچہ ان مصنفین و محققین کی ایک بھرپور سرگرمی ہمیں جہاں “دیوانِ غالب” اور اردو خطوط کی جمع و ترتیب اور تدوین میں نظر آتی ہے، وہیں زندگی کے احوال اور عہد و معاصرین سے متعلق موضوعات و عنوانات بھی اس میں یکساں شامل نظر آتے ہیں۔ اس طرح کے مطالعات اور جستجو و کوششوں کا ذکر اور جائزے و حوالے ان متعدد مصنفین نے اپنی ایسی کاوشوں میں بھی درج کیے ہیں۔

غالب کے خطوط کی تدوین اور ابتدائی کوششیں

ان کوششوں کا سلسلہ غالب کے اولین خط: “نامہ غالب” بنام رحیم میرٹھی کی اشاعت (ستمبر 1865)، پھر غالب کے خطوط کے اولین مجموعے: “مہرِ غالب” مرتبہ چودھری عبدالغفور سرور سے اولاً خطوط کے بارے میں تحقیقات کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا، وہ “عودِ ہندی” (1868) اور “اردوئے معلیٰ” (1869) کی اشاعتوں سے متعلق بحث مباحثوں تک پہنچا تھا۔ بعد میں سر خوش کا مرتبہ “اردوئے معلیٰ کا ضمیمہ” اور “نکاتِ غالب” از نظامی بدایونی ہے اور “انتخابِ غالب” از محمد عبدالرزاق ان متعدد مجموعوں اور کوششوں کی ابتدائی کڑیاں تھیں جو غالب کے چاہنے والوں کی جانب سے شائع ہوئیں۔

ان مجموعوں میں “ادبی خطوطِ غالب” (1929) از محمد عسکری، “سرگزشتِ غالب” (1932) از مرزا محمد بشیر، “مکاتیب الغالب” (1936) از احسن مارہروی، “مکاتیبِ غالب” (1937) از امتیاز علی عرشی، “نادر خطوطِ غالب” (1939) از رسا ہمدانی، “خطوطِ غالب” (1941) از مہیش پرشاد اور “نادراتِ غالب” (1949) از منشی نبی بخش حقیر، یکے بعد دیگرے دنیائے ادب کو فراہم ہوتی رہیں۔

یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہا جب تک کہ اولاً مولانا غلام رسول مہر نے اپنا سب سے ضخیم مجموعہ “خطوطِ غالب” (1951) نہ مرتب کر لیا جو دوسری مرتبہ 1969 میں غالب کی صد سالہ تقریبات کے سلسلے میں پنجاب یونیورسٹی سے لاہور 1969 میں شائع ہوا، جو حال میں ڈاکٹر خلیق انجم کے مرتبہ “کلیاتِ خطوطِ غالب” سے پہلے کا سب سے مکمل مجموعہ ہے۔

تذکرہ غالب صدی اور تحقیقی انکشافات

لیکن اس سے کچھ قبل 1961 میں ڈاکٹر خلیق انجم نے “غالب کی نادر تحریریں” کے عنوان سے ایک مجموعہ مرتب کیا تھا جو تحقیقی اعتبار سے اس لیے اہم تھا کہ اس میں صرف نادر و منتشر یا غیر مدون خطوط ہی نہیں بلکہ دیگر تحریریں بھی شامل تھیں اور جن میں سے بعض غالب کے تعلق سے ایک انکشاف سے کم بھی نہ تھیں۔ غالب صدی تقریبات کی مناسبت سے غالب کی نہایت اہم تحریروں اور غالب کی حیات و شاعری اور فن و عہد کے تعلق سے متعدد اہم تصانیف منظرِ عام پر آئیں جن کا زیادہ تر اہتمام پنجاب یونیورسٹی لاہور نے کیا۔

بین الاقوامی سطح پر غالب شناسی اور تراجم

بھارت میں بھی متعدد ادارے اس ضمن میں سرگرم ہوئے مگر ان سے قطع نظر ایک قابلِ قدر کام مغربی دنیا میں بھی ہوا اور ہمارے پیشِ نظر انگریزی زبان میں ہونے والے ایسے کام کی اہمیت شاید دیگر مغربی زبانوں میں ہونے والے کاموں سے کہیں زیادہ ہے۔ ضمنی طور پر یہاں یہ حوالہ بھی مناسب ہو سکتا ہے کہ جاپان میں بھی غالب، جاپانی اسکالرز اور اردو زبان کے اساتذہ کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ وہاں سے نکلنے والے جامعاتی مجلوں میں گاہے گاہے غالب کے کلام کے تراجم شائع ہوتے رہے ہیں اور “دیوانِ غالب” کا مکمل ترجمہ بھی ایک جاپانی اسکالر اور اردو کے استاد پروفیسر ہیروجی کتاؤکا نے کیا جو بڑے اہتمام سے ٹوکیو سے 2006 میں شائع ہوا۔

اس طرح کے تراجم دیگر متعدد ایشیائی اور مغربی زبانوں میں اور علاقائی زبانوں میں بھی ہوتے رہے ہیں، لیکن زیادہ معیاری کام اور تراجم انگریزی زبان میں امریکہ اور برطانیہ میں سامنے آئے ہیں۔ انگریزی زبان میں اردو زبان و ادب کی جو تاریخیں لکھی گئیں ان میں بھی غالب نے خاطر خواہ جگہ پائی ہے۔ جیسے این میری شمل (Annemarie Schimmel) کی معرکۃ الآراء تاریخِ ادب سلسلے کی اردو سے متعلق ایک جلد جس کا عنوان Classical Urdu Literature from the Beginning to Iqbal ہے، اس میں اگرچہ کوئی مستقل باب غالب کے لیے مخصوص نہیں لیکن جس قدر بھی غالب کے عہد و شاعری اور فن پر لکھا گیا ہے وہ بہت جامع اور معنی خیز ہے۔

مغرب میں غالب کے مطالعات اور پروفیسر احمد علی کی خدمات

مغربی دنیا میں غالب کو انگریزی تراجم اور مطالعات کے حوالے سے دیکھتے ہوئے اولاً ہماری نظر پروفیسر احمد علی کے تراجم اور ان کی کوششوں پر پڑتی ہے۔ 1969 میں جہاں غالب کی یادگار صد سالہ تقریبات کا اہتمام بھارت اور پاکستان میں ہوا، وہیں مغربی دنیا میں بھی غالب کے چاہنے والوں نے اپنے اپنے انداز سے غالب کی نسبت اپنے جذبات کے اظہار میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔

جیسے پروفیسر احمد علی نے اولاً اٹلی میں ایک ادبی سلسلے Serie Orientale Roma کے تحت روم کے معروف ادارے ISMEO کے اہتمام سے غالب کے فکر و فن پر خطبات کا ایک سلسلہ پیش کیا جو وہیں سے ان کے کیے ہوئے انگریزی تراجم کے ساتھ کتابی صورت میں Ghalib: Selected Poems کے عنوان سے اسی سال شائع ہوا۔ اسی ضمن میں پروفیسر احمد علی صاحب کا ایک خطبہ بعنوان The Problem of Technique in Ghalib کراچی میں پاکستان امریکن کلچر سینٹر میں اسی سال پیش کیا گیا اور کتابی صورت میں شائع بھی ہوا۔

ہارورڈ یونیورسٹی نے بھی غالب صدی کا اہتمام کیا جس کے لیے وہاں اعجاز احمد پیش پیش رہے۔ غالب کے کیے ہوئے ان کے چند تراجم مع مقدمہ Poems by Ghalib کے عنوان سے بہ اشتراک William Stafford اور Adrienne Rich غالب صدی کے تحت 1969 میں شائع ہوئے۔

رالف رسل اور خورشید الاسلام کا تحقیقی کام

برطانیہ میں اس کی بازگشت بڑے پیمانے پر دیکھنے میں آئی اور اردو کے نامور اسکالر رالف رسل (Ralph Russell) نے ڈاکٹر خورشید الاسلام کے ساتھ مل کر ایک عمدہ اور بہت معیاری کتاب Ghalib: Life and Letters مرتب اور شائع کی، جس میں غالب کی زندگی اور عہد و ماحول پر نہایت محققانہ و تجزیاتی مطالعے کے ساتھ ساتھ منتخب اردو خطوط کے انگریزی تراجم، تصریحات اور حواشی شامل کیے۔ یہ اپنی وقعت اور محنت کے اعتبار سے ایک بے مثال کاوش تھی۔

اسی طرح کا بلکہ اس سے بھی کہیں زیادہ وقیع کام لندن میں 1972 میں The Poet and his Age کے نام سے سامنے آیا ہے جس کے پسِ پشت رالف رسل ہی پیش پیش رہے ہیں۔ یہ غالب کے فکر و فن اور عہد کے تعلق سے مقالات کا مجموعہ ہے جس میں کل پانچ مقالات شامل ہیں، جن کی تفصیل یہ ہے:

  • Ghalib: A Self Portrait از رالف رسل
  • Ghalib’s Delhi از پرسیول اسپئیر (Percival Spear)
  • Ghalib and the British از پی ہارڈے (P. Hardy)

  • Ghalib’s Persian Poetry از اے بوسانی (A. Bausani)

  • Ghalib’s Urdu Verse از رالف رسل

فکری مطالعہ اور مستقبلیاتی تناظر

یہ تمام مقالات اپنے موضوع کا نہ صرف حق ادا کرتے ہیں بلکہ ایک مثال ہیں کہ موضوعات کو کیسا ہونا چاہیے اور ان پر کس معیار کے مقالات لکھے جانے چاہئیں۔ ان مقالات میں عصری مآخذ اور مصادر کو پیشِ نظر رکھا گیا ہے۔ غالب صدی کی مناسبت سے جو تحقیقات سامنے آئی ہیں، رالف رسل کی یہ کاوشیں بلا شبہ ان میں بہت ممتاز ہیں۔ اس مجموعے میں پرسیول اسپئیر اور پیٹر ہارڈے کے مقالات بے مثال ہیں۔ پیٹر ہارڈے کی قدیم تصنیف Historians of Medieval India اور ان کی ایک اور تصنیف Muslims of British India نے اپنے موضوع اور تجزیے کے اعتبار سے ایک دنیا کو اپنی جانب متوجہ کیا ہے۔

یہ واقعتاً غالب کی خوش قسمتی ہے کہ اسے ہر جگہ ایسے نابغہ روزگار محققین کی توجہ حاصل ہوئی ہے۔ اردو شاعروں کی صف میں یہی ایک شاعر ہے جسے اقبال کے بعد بطور موضوع سب سے زیادہ اہمیت حاصل ہوئی اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ یورپ میں ہونے والے یہ مطالعات ہمارے لیے ایک مثال ہیں کہ علمی و تحقیقی کام کی نوعیت اور معیار کیا ہونا چاہیے۔