ہم متفق ہیں کہ ہم متفق نہیں

ہم متفق ہیں کہ ہم متفق نہیں!!!

​آج کا عنوان اس انگریزی جملے We agree to disagree کا ترجمہ ہے اور یہی اس تحریر کا عنوان ہے۔ کسی ُاستاد کا خوب کہنا ہے کہ لفظ اپنے معنی آواز کے ذریعے ہی نہیں بلکہ اپنی ساخت کے ذریعے بھی بتاتے ہیں۔ مثال کے طور لفظ غصہ، ناراض، مسکراہٹ اور ہنسنا پیش کیا جاسکتا ہے۔ لفظ ناراض دیکھنے سے ہی ناراض لگ رہا ہے اور غصے کو دیکھ کر ہی ڈر لگ رہا ہے۔ اس پیراہے میں اگر آپ اوپر دیئے گئے انگریزی کے جملے کو دیکھے تو جملے کی ساخت سے لگتا ہے کہ متفق نہ ہونے کہ باوجود جملہ اپنے آپ اور اپنے حالات پر شاکر ہے۔ جبکہ اردو والے جملے میں لفظ متفق کے دوبار آنے کے باوجود ایسا لگتا ہے کہ کچھ بھی متفق نہیں اور ہر طرف انتشار ہی انتشار ہے کیونکہ ہمیں من حیث ُالقوم اختلافِ رائے کا ساتھ جینا نہیں آتا اور یہی آج کی تحریر کا موضوعِ سخن ہے۔

​گفتگو کے منقطع ہوتے سلسلے اور معاشرتی تربیت

​جب ہم کسی سے اختلافِ رائے رکھتے ہیں یا ناراض ہوجاتے ہیں تو لوگوں کو کیسے پتہ چلتا ہیں کہ ہم آپس میں کسی بات پر متفق نہیں کیونکہ ہم آپس میں بات چیت بند کردیتے ہیں، کیونکہ اختلافِ رائے کے ساتھ نہ ہمیں جینا آتا ہے اور نہ ہی ہمیں اس کی تربیت اپنے گھروں اور تعلیمی درس گاہوں میں دی جاتی ہے۔ زندگی کا جو سب سے بنیادی سبق ہونا چاہئے وہ یہ ہے کہ جو بات ہمیں جانوروں سے ممتاز کرتی ہے یعنی بات چیت کی صلاحیت تو یہ رابطہ کسی صورت منقطع نہیں ہونا چاہیے۔

​جناب گفتگو کے دروازے کو کبھی بند نہیں ہونا چاہیئے اور بات چیت ہر صورت میں جاری رہنا چاہیئے لیکن ہمارے گھروں، دفاتر اور روزمرہ زندگی میں اس کا بالکل الٹ ہوتا ہے اور کبھی بحالتِ مجبوری اختلافِ رائے کے ساتھ گفتگو کرنی پر جائے تو ہماری محفل بہت جلدی پطرس بخاری کے مضمون “کتے” کی عملی تصویر بن جاتی ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کتے پیدا ہی اس لئے کیئے گئے ہیں کہ پطرس ان پر یہ لافانی مضمون لکھ سکے ۔ مغرب میں تو پتہ نہیں کتوں سے کیا کیا کام لیتے ہیں شائد اسی لئے وہاں شوہر حضرات کے مقابلے میں کتوں کی زیادہ عزت ہے۔ مغربی خواتین شوہر بدلنے میں لمحہ نہیں لگاتی لیکن کتے کا فیصلہ بہت سوچ سمجھ کر کرتی ہیں۔ فلم Johnny English میں جب ملکہ برطانیہ سے کہا جاتا ہے کہ وہ تاجِ برطانیہ سے دستبرداری کے کاغذات پر دستخط کر دے تو نہیں مانتی ہے لیکن جب ُان کے کتے کے سر پر پستول رکھ کر یہی مطالبہ دوہرایا جاتا ہے تو وہ فوراً دستخط کردیتی ہے۔

​تنظیم سازی اور جمہوری روایات کا فقدان

​میرا بہت سی غیر سرکاری اور سماجی تنظیموں میں رہنے کا اتفاق ہوا ہے۔ ہر تنظیم کیلئے یہ بات باعثِ افتخار ہوتی ہے کہ ُان کے یہاں تنظیم کے عہدیداران اتفاقِ رائے یا متفقہ طور پر منتخب ہوتے ہیں اور چناؤ نہیں ہوتا۔ ارے صاحب جب تک ہم لوگوں کی جمہوری طرز اور روایت پر تربیت نہیں کرے گے تو لوگوں کی اختلاف کے ساتھ رہنے اور جینے کی تربیت کیسے ہوگی۔ اس کے علاوہ جہاں بحالتِ مجبوری چناؤ کروانے پڑ جائے وہاں گروہی عصبیت اس انتہا کو پہنچی ہوئی ہوتی ہے کہ لوگ ہر بات کا فیصلہ غلط یا صیحیح کے بجائے اس بات سے کرتے ہیں کہ کہنے والا اگر ہمارے گروہ سے تعلق رکھتا ہے تو غلط بات بھی صیحیح اور اگر مخالف گروہ سے تو درست بات بھی غلط قرار دی جاتی ہے۔

​تاریخی تناظر اور ہماری ذہنیت

​ہمارے لوگوں کی یہ ذہنیت کوئی نئی بات نہیں ہم اقلیت میں ہوں تو اکثریت پر حکومت ہمیں ہمارا پیدائشی اور موروثی حق نظر آتا ہے اور جب اقلیت میں آجائے تو کبھی دو قومی نظریہ، کبھی ون یونٹ اور کبھی نظریہ ضرورت کے پیچھے جا چھپتے ہیں۔ ہماری تاریخ تو یہ ہے کہ ہم نے دو بار اکثریت کو حکومت دینے کے بجائے الگ ہونے کو ترجیح دی تو اس صورت میں ہم جس قسم کی جمہوریت کے داعی ہونے چاہئے ویسی ہی جمہوریت ہم نے اپنے آپ پر ہر جگہ مسلط کی ہوئی ہے۔ ہم ببول کے درخت سے پھلوں اور پھولوں کی ُامید لگائے بیٹھے ہیں تو نتیجہ ہم سب کو پتہ ہونا چاہیئے۔

​تجدیدِ روایات اور روشن مستقبل کی امید

​اس اختلافِ رائے کو برداشت نہ کرنے کے نتیجے میں معاشرے میں جو جنونیت، عدم برداشت اور انتہا پسندی پھیلی ہوئی ہے۔ اب ہمیں اس کو ختم کرنے میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہوگا اور اس کا آغاز ہمیں اپنے گھر، خاندان، محلے اور دفاتر سے کرنا ہوگا۔ شائستگی، تہذیب اور برداشت ہمارے معاشرے کی روایات تھی ان کی ازسرِ نو تجدید کرنی ہوگی تاکہ ہمارا معاشرہ دوبارہ ایک صحتمند معاشرے میں تبدیل ہوسکے۔ جہاں ہمارے معاشرے میں کافی خرابیاں ہے وہاں ایک بہت بڑی خوبی بھی ہے we are a very resilient society ہم میں نیچے جاکر ابھرنے کی صلاحیت کسی بھی دیگر معاشرے سے بہت زیادہ ہے بس اس کی صیحیح خطوط پر تربیت کرنے کی ضرورت ہے۔

​آئیے ہم سب ملکر عہد کریں کہ ہم اس کا آغاز اپنے گھر سے کرے گے اور پھر اسے اپنے محلے، پورے شہر اور ملک میں پھیلائے گے تاکہ ایک برداشت کی قوت سے معمور ایک بھرپور اور صحتمند معاشرہ تشکیل پاسکے جو اختلافِ رائے کو نہ صرف قبول کرسکے بلکہ اس کے ساتھ خوشی خوشی گزارہ کرسکے۔ اللہ ہمیں اس راہ پر ثابت قدمی سے عمل پیراہ ہونے کی ہمت، طاقت اور استقامت عطا فرمائیں۔ آمین۔