ایک نشست اور غیر متوقع فرمائش
اب سے کچھ عرصے پہلے ایک دوست نے کچھ دوستوں کو مع اہل و عیال اپنے گھر مدعو کیا تھا جس میں خاکسار بھی شامل تھا۔ وہاں موجود ایک دوست نے فدوی سے کہا کہ آپ کا کارپوریٹ ورلڈ کا وسیع تجربہ رکھتے ہے اور میرے بیٹے نے ابھی کچھ عرصے پہلے ہی ایک بڑے ادارے میں ملازمت کا آغاز کیا ہے۔ میری خواہش ہے کہ آپ میرے بیٹے کو کوئی اچھا سا مشورہ دے جو کہ اس کو آئندہ زندگی میں ترقی کرنے میں مدد دے۔
پینتیس سالہ پیشہ ورانہ زندگی کا نچوڑ
میں نے کہا کہ آپ کا حکم سر آنکھوں پر اور پھر ان کے بیٹے سے کہا، چونکہ وہ نصیحت یا مشورہ انگریزی زبان میں دیا تھا اس لئے پہلے وہ نقل کئے دیتا ہوں اور پھر اس پر اس تحریر میں مزید روشنی ڈالی جائے گی۔ تو مشورہ کچھ یوں تھا کہ: “You will rise upto the middle management on the basis of your competence and after that you will rise on the basis of your incompetence”۔ اس پر ان صاحب نے کہا کہ میں نے تو آپ سے خواہش کی تھی کہ آپ میرے بیٹے کو کوئی اچھا اور آسان سا مشورہ دے پر آپ نے تو اتنی مشکل بات کہہ دی تو اس پر میں نے عرض کیا کہ حضور میں نے تو آپ نے اپنی پینتیس سالہ کارپوریٹ زندگی کا نچوڑ پیش کردیا ہے اور مجھے امید یے کہ جیسے جیسے آپ کا بیٹا ترقی کی سیڑھیاں چڑھتا جائے گا اس کو میری بات سمجھ آتی جائے گی۔
کارپوریٹ ڈھانچہ اور قابلیت کا معیار
آپ نے اکثر یہ بات سنی ہوگی کہ ایک طرف تو اتنی بیروزگاری ہیں اور دوسری طرف کسی بھی عہدے کے لئے قابل لوگ نہیں ملتے۔ اداروں کو قابل لوگ صرف اسٹاف یا درمیانی انتظامیہ (مڈل مینجمنٹ) تک چاھئے ہوتے ہیں اس سے اوپر افسران بالا کی اپنی قابلیت پر منحصر ہوتا ہے اور وہ کسی طور پر بھی بلکہ انتہائی اشد ضرورت میں بھی نہیں چاہتے کہ ایسا قابل ماتحت آئے جو اپنے باس یا متعلقہ افسر سے زیادہ اہل اور قابل ہوں۔ ایسا ماتحت کسی بھی اعلی افسر یا انتظامیہ کو قابل قبول نہیں ہوتا خاص طور پر چیف ایگزیکٹو آفیسر کو تو بالکل بھی نہیں ہوتا۔
قابل ماتحت اور افسرانِ بالا کا خوف
قابل ماتحت میں ایسی کیا “شرعی” خرابیاں ہوتی ہے کہ وہ کسی کو بھی قبول نہیں ہوتا؟ سچی بات تو یہ ہے کہ قابل ماتحت میں عموماً کوئی شرعی خرابی نہیں ہوتی، ہاں ہوسکتا ہے قابلیت کے مان میں اس میں خوشامد اور چاپلوسی کے جراثیم نہ ہونے کہ برابر ہوں (آج کل کے دور میں یہ جراثیم کسی میں بھی مکمل طور پر ناپید نہیں ہوسکتے)۔ یہ تو خود افسران بالا کا اپنا خوف ہوتا یے جس کی وجہ سے وہ عدم تحفظ کا شکار ہوتے ہیں اور کسی طور پر بھی ادارے میں اپنے سے قابل فرد یا افراد برداشت نہیں کرتے اور جب تک اسے نکلوا نہیں لیتے چین سے نہیں بیٹھتے۔ ایک اور بڑی وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ یہ خود بھی کسی کے طفیل یہاں تک پہنچے ہوتے ہے اور ایک طفیلی سے اور کیا ُامید کی جاسکتی ہے۔
جمود، عدم تحفظ اور خوشامد کا کلچر
اگر آپ تعصب کی عینک ہٹا کر اور قیمتی سوٹ کے نیچے (شرعی حدود کے اندر رہتے ہوئے) دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں تو پھر اپنے اردگرد اداروں کو دیکھنا شروع کر دیجئے اور مجھے امید ہے کہ زیادہ تر جگہوں پر آپ کو “قابل ماتحت اور انتظامیہ” والی بات سچ نظر آئے گی اور کہیں آپ نے اس ادارے کے لوگوں سے پوچھ لیا تو پھر تو آپ کو اس بات کے ثبوت بھی مل جائے گے۔ یہ لوگ عدم تحفظ کا شکار کیوں ہوتے ہیں؟ اس کی عموماً سب سے بڑی وجہ یہ ہوتی ہے کہ انھوں نے ایک ہی ادارے یا ایک ہی صنعت (انڈسٹری) میں زیادہ وقت گزارا ہوتا ہے اور آپ جانتے ہیں کہ کسی بھی ادارے میں پانچ سات گزارنے کے بعد کسی کو بھی کام مکمل طور پر سمجھ آجاتا ہے اور اس کے بعد کوئی بھی نئی چیز سیکھنے کا عمل بہت محدود ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد یہ لوگ نہ تو خود کوئی نیا تجربہ کرتے ہے اور نہ ہی کسی نئے تجربہ کرنے والے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ ان کے گرد خوشامدی لوگوں کا ایک ایسا ٹولہ جمع ہوجاتا ہے کہ جس کے بعد یہ خود کو زمین پر فرعون سمجھنے لگتے ہیں اس کی جملہ خرابیوں کے ساتھ اور جہاں کسی نے ان سے اختلاف رائے کے جرم کا ارتکاب کیا تو سمجھ لے کہ اس نے سب سے بڑا جرم کیا ہے اور اس جرم کی سزا Capital Punishment ہے یعنی ادارے سے انتقال فرمانا۔ یہ تمام باتیں آج کل نجی اداروں میں ہورہی ہے اور اگر کبھی سرکاری ادارے یا اداروں کا حال لکھا تو لوگوں کو لگے گا کہ یہ سچ نہیں بلکہ فکشن ہے۔
ایک سچا واقعہ: میٹنگ، سحری اور “شاہکار” سوال
میں نے اپنے پینتیس سال کی سروس میں دس اداروں میں کام کیا ہے کہ جس میں سے ایک نیم سرکاری بھی تھا۔ عام طور پر میں اپنی تحریر کا اختتام ایک کہانی پر کرتا ہوں پر اس دفعہ ایک سچے واقعے کے ساتھ اختتام جو میں نے اپنے ایک سابقہ ادارے میں دیکھا ہے۔ ہماری ایک اہم میٹنگ رمضان میں رکھی گئی اور طے ہوا کہ تراویح کے بعد سب ایک پانچ ستاروں والے ہوٹل میں جمع ہونگے اور سحری کے ساتھ یہ میٹنگ ختم ہوگی۔ میٹنگ کو چلانے کیلئے ایک کارپوریٹ ماہر صاحب کی خدمات حاصل کی گئی تھی۔ میٹنگ اپنے وقت پر شروع ہوئی کوئی رات دو بجے کے قریب جبکہ میٹنگ اپنے عروج پر تھی اور تھوڑی ہی دیر پہلے ہمارے اعلی افسر نے بہت جذباتی انداز میں ادارے کیلئے اپنے ارادے اور اہداف کے بارے میں ہمیں فیضیاب کیا تھا۔
اچانک میٹنگ کے دوران ایک بڑے افسر نے ہاتھ اٹھایا اور کہا کہ ان کا سوال ادارے کے اعلی افسر سے ہے، سب لوگ حیران و پریشان تھے کہ خدا معلوم یہ صاحب کیا سوال کرنے والے ہیں؟ اس بڑے افسر نے اعلی افسر سے پوچھا کہ “کیا چوبیس گھنٹوں کوئی ایسا وقت بھی ہوتا ہے کہ جب آپ ادارے کی فلاح و بہبود کیلئے نہیں سوچتے؟” اس پہلے کہ کوئی یہ کہتا کہ کیا احمقانہ سوال ہے۔ اعلی افسر کی ہنسی نے سب کو یہ پیغام دے دیا کہ انھیں سوال بہت پسند آیا ہے۔ بعد میں ہونے والے چائے کے وقفے میں لوگ باقاعدہ کف افسوس ملتے نظر آئے کہ یہ سوال ان کو کیوں نہیں سوجھا۔ سب کا خیال تھا یہ سوال ادارے میں ان کی زندگی بنا دے گا اور جب سب لوگوں کا یہ خیال ہوں تو پھر غلط بھلا کیسے ہوسکتا ہے۔
فیصلہ آپ کے ہاتھ میں: قابل یا کامیاب؟
اب آپ ہی بتائیے کہ ان حالات میں قابل ماتحت بننا چاہیے یا کامیاب ماتحت؟ جواب میں آپ پر چھوڑتا ہوں حالانکہ ہم سب کو جواب پتہ ہے اور جو جواب سب کو پتہ ہوں وہ بھلا کیسے غلط ہوسکتا ہے۔



