(The Rising Divorce Rate)معاشرے میں طلاق کا بڑھتا تناسب!! ( آخری حصہ)

Divorce Rate

Rising Divorce Rate In Society Last Part

حلالہ کی حقیقت اور شرعی وضاحت

سب سے پہلے تو ایک بات کی وضاحت ضروری ہے کہ اس تحریر کے پہلے حصے میں لکھا تھا کہ “تیسری طلاق کا حق استعمال کرنے کی صورت میں مستقل علیحدگی ہے اور اس کے بعد اسی عورت سے نکاح حلالہ کے بغیر ممکن نہ ہوگا”۔ یہ پڑھنے سے کچھ لوگوں نے ایسا محسوس کیا کہ “حلالہ” کیا یا کروایا جاسکتا ہے۔ یہ بات قطعی طور پر سمجھ لی جائے کہ حلالہ کی پیشگی منصوبہ بندی کی مذہب میں کوئی گنجائش ہی نہیں ہے۔

اگر کوئی عورت ایک شخص سے طلاق لینے کے بعد اپنی مرضی سے دوسری شادی کرتی ہے اور پھر اگر اس کے دوسرے شوہر کا انتقال ہوجائے یا وہ اپنی مرضی سے اپنی بیوی کو طلاق دے دے تو اب یہ عورت اگر چاہے تو عدت کے بعد اپنے پہلے شوہر سے نکاح کر سکتی ہے اور اس صورتحال کو کہ جس کا پیش آنا بالکل بھی اختیاری نہ ہوں بلکہ حالات و واقعات کے نتیجے میں ظہور پذیر ہوں تو اس کو حلالہ کہتے ہیں۔ یہ بھی اللہ تعالی کا ہم پر بہت بڑا احسان ہے کہ ایک عورت کو تین طلاق کے بعد ُاس کے پہلے شوہر پر مستقل حرام نہیں کیا بلکہ اگر حالات و واقعات اس طرح ہوجائے کہ ُاس عورت کی دوسری شادی بھی طلاق یا شوہر کے انتقال کی صورت میں اگرختم ہوتی ہے تو وہ اگر چاہے تو عدت کے بعد باہمی رضامندی سے اپنے پہلے شوہر سے نکاح کرسکتی ہے۔ ُامید ہے کہ اگر کوئی ابہام پہلے والی تحریر کی وجہ سے ہوئے ہوں گے تو اس وضاحت کے بعد اب دور ہوجائے گے۔

نفسیاتی امراض اور غلط سماجی رویے

اب ہم طلاق کے عوامل اور اس کے سدِباب پر آتے ہیں۔ اس وقت ہمارا معاشرہ نفسانفسی، مادہ پرستی اور عدم برداشت کی انتہا پر پہنچا ہوا ہے۔ اس وقت معاشرے میں نفسیاتی امراض کا تناسب بھی بہت زیادہ ہے اور اگر کوئی لڑکا اس کا شکار ہے تو بجائے اس کے کہ اس کے گھر والے اس کا باقائدہ علاج کروائے ان کے نزدیک شادی ہی ایسے لڑکوں کا علاج ہے جو کہ انتہائی نامناسب رویہ اور طریقہ کار ہیں۔ ہمارے مذہب نے تو ہر مسئلے کا اتنا سادہ اور آسان حل دیا ہے اگر ہم اس کی پیروی کرنا چاہے، حل یہ ہے کہ “جو اپنے لئے پسند کرو وہی اپنے دوسرے مسلمان بھائی کیلئے پسند کرو” تو کیا ہم میں سے کوئی بھی اپنی بہن یا بیٹی ایسے لڑکے کو دینا پسند کرے گا، اگر جواب نفی میں ہے جو کہ ہونا بھی چاہیئے تو کسی اور کی بہن یا بیٹی کیلئے ہم یہ کیسے پسند کرسکتے ہیں۔ نور مقدم اور ایاز امیر کے بیٹے کے مقدمات ہمارے سامنے ہیں۔ ایسے لڑکوں کو باقائدہ علاج کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ معاشرے کے فعال رکن بن سکے۔

مادہ پرستی اور شادی بحیثیت کاروباری لین دین

مادہ پرستی اور عدم برداشت بھی طلاق کے دو بڑے عوامل ہیں۔ شادی کو عام طور پر دو لوگوں کا ملاپ نہیں بلکہ دو خاندانوں کے ملاپ کا نام دیا جاتا ہیں لیکن آج کل کی بہت سی شادیاں تو کاروباری لین دین کی طرح ہوگئی ہے کہ جس میں پہلے دن سے ہی مطمعِ نظر منافع ہوتا ہے اور اگر منافع حسبِ منشا حاصل نہ ہوں تو یہ لین دین لعنت و ملامت پر اختتام پذیر ہوتا ہے کہ جس میں کم از کم ایک فریق یا دونوں فریقوں کو خسارے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہمیں چاہئے کہ ہم اپنے بچوں پر اپنی پسند اور اپنا کاروبار شادی کی صورت میں مسلط نہ کرے بلکہ انھیں موقع دے کہ وہ اپنی مرضی اور اپنی پسند کے ساتھی کے ساتھ اپنی زندگی گزارنے کا فیصلہ کرے۔

جہیز کی رسم اور اسلام کا قانونِ وراثت

کم جہیز بھی بہت لڑکیوں کی شادی کو طلاق کے انجام تک لے جاتا ہے حالانکہ جہیز کا بھی اسلام میں کوئی تصور نہیں یہ خالص ہندوانہ رسم ہے چونکہ ہندو مذہب میں عورت کا وراثت میں کوئی حق نہیں اس لئے لڑکی کو جہیز کے ذریعے ُاس کا تھوڑا بہت حصہ دیا جاتا ہے جبکہ اسلام میں وراثت کا قانون بالکل واضح ہے اور عورت کا حصہ والد اور شوہر دونوں کے ترکے میں ہیں۔

عدم برداشت: طلاق کا سب سے اہم سبب

طلاق کے اسباب میں سب سے اہم اور سب سے زیادہ کردار ادا کرنے والا عنصر عدم برداشت کا ہے۔ ہمارے معاشرے سے برداشت کا تصور قریب قریب مفقود ہوچکا ہے اور ہم اپنے مزاج سے ذرا بھی ہٹ کر ہونے والی بات پر مرنے مارنے کیلئے ہر وقت تیار رہتے ہے جبکہ شادی تو نام ہی پیار اور برداشت کا ہے اور اگر شادی میں پیار مقدم ہوجائے تو برداشت بھی پیار کا ہی حصہ معلوم ہوتا ہے لیکن اب ایسی باتیں گھروں میں نہیں سکھائی جاتی اور یہ بات سمجھ لیجئے کہ یہ باتیں جتنی لڑکی کیلئے سیکھنا ضروری ہے شاید لڑکے کیلئے سیکھنا اس سے بھی زیادہ ضروری ہے کیونکہ عام طور پر ہمارے معاشرے میں طلاق کا اختیار لڑکے کے پاس ہوتا ہے اور بہت کم گھرانوں میں یہ اختیار لڑکے اور لڑکی دونوں کے پاس ہوتا ہے اور مذہب میں یہ اختیار دونوں کو دینے میں کوئی ممانعت نہیں ہے۔

نئے ماحول میں ہم آہنگی اور خاندان کا کردار

لڑکے کے گھر والوں کو اور خصوصاً لڑکے کو یہ بات سمجھنی چاہئے کہ لڑکی اپنا گھر، والدین، بھائی بہن غرضیکہ پورا خاندان چھوڑ کر آتی ہے ُاسے وقت دینا چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو نئے ماحول میں ڈھال سکے۔ ہم اس قسم کی سہولت اپنی بیٹی کیلئے تو چاہتے ہیں لیکن اپنی بہو کو یہ موقع نہیں دیتے جو عام طور پر اختلاف کے آغاز کی وجہ بنتا ہے۔ لڑکیوں کو بھی برداشت سے کام لینا چاہیے لیکن بدقسمتی سے اُسے یہ تربیت گھر پر نہیں ملتی بلکہ اُسے تو ترکی بہ ترکی جواب دینے کی ترغیب دی جاتی جو اختلاف کی صورت میں جلتی پر تیل کا کام کرتی ہے۔

گھر ٹوٹنے کے محرکات اور بعد کے پچھتاوے

وہ تمام لوگ جن کا کام اس وقت مصلحت اور برداشت کی تلقین کرنا ہوتا ہیں وہ گھر توڑنے کے درپے ہوتے ہیں اور لڑکی کو مزید ترغیب دیتے ہے لیکن گھر ٹوٹنے کے بعد ایسے تمام لوگ ایک ایک کرکے ُاڑ جاتے ہیں جس میں بعض اوقات سگے بھائی بہن بھی شامل ہوتے ہیں اور اپنی اپنی دنیا میں جاکر مگن ہوجاتے ہیں اور پچھتاوا لڑکے اور لڑکی کا مقدر ٹھرتا ہے۔ طلاق کے بعد کسی بھی شخص اور عورت کو شادیانے بجاتے نہیں دیکھا ہر کسی نے اپنے عمل پر پشیمانی کا اظہار کیا، اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ قدم اٹھا کر پشیمان ہونا چاہتے ہیں یا جذبات پر قابو پا کر اس خوبصورت رشتے کو اور مضبوط بنانا چاہتے جو وقت کی آندھی کا شکار تو ضرور ہوتا ہے لیکن اس میں کھڑا رہ کر اپنے آپ کو اور مضبوط ثابت کرتا ہے لیکن اگر ایک دفعہ تیر کمان سے نکل بھی گیا تو اگر آپ قرآنی طریقے پر عمل کرے تو رجوع کی صورت میں بچاؤ کی گنجائش ہے۔

خلاصہ کلام اور اصلاحِ معاشرہ کی دعوت

آج کل طلاق کو جس طرح کھیل بنادیا گیا ہے اس ہیجانی ماحول میں قرآنی طریقہ طلاق اور اس کے عوامل کو سامنے لاکر اس پر بند باندھنے کی کوشیش کی گئی ہے اگر آپ اس سے متفق ہے تو اس کو پھیلا کر اس اجر میں شریک ہوسکتے ہیں اور اگر نہ چاھے تو کوئی بات نہیں کیونکہ ویسے بھی ہمارے مذہب میں زور زبردستی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

پہلا حصّہ پڑھنے کے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں

Divorce Rate