کیا واقعی ہم یوم الدین پر ایمان رکھتے ہیں؟

شادی

کیا واقعی ہم یوم الدین پر ایمان رکھتے ہیں؟

قرآنِ پاک کا اعجاز اور اللہ کے دو بنیادی احکامات

قرآن پاک ایک ایسی کتاب ہے کہ آپ اس کو جتنی دفعہ پڑھے گے ہر دفعہ آپ کو اس میں کوئی نئی بات یا نئی چیز سمجھنے کو ملے گی اور یہی قرآن کا اعجاز یا معجزہِ قرآن ہے۔ اسی لئے اس کو کلام اللہ یا اللہ کا کلام بھی کہا جاتا ہے۔

میں نے جتنی دفعہ بھی قرآن کا ترجمہ پڑھا ہے اپنی محدود معلومات میں، میں یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ پوری کتاب میں صرف دو احکامات اللہ تعالی کی اپنی ذات کے حوالے سے ہیں اور باقی دیگر تمام احکامات، قوانین اور باتیں مخلوق کے اپنے فائدے کیلئے ہی ہیں اگر وہ ُاس پر ایمان رکھتی ہے۔

توحید اور مشرکینِ مکہ کا ردِعمل

:پہلا حکم

اب وہ دو احکامات کیا ہیں؟ پہلا یہ ہے کہ اللہ ایک ہے اور کوئی اللہ کا شریک نہیں ہے اور یہ بالکل حتمی ہے۔ اس بات میں کوئی بھی اور کسی بھی قسم کا شک اور ابہام کی گنجائش نہیں ہے۔ شرک اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ فعل ہے اور اس کی کوئی معافی نہیں ہے۔ اسی لئے ہمارے ایمان کی ابتدا اس بات سے ہوتی ہے کہ “نہیں ہے کوئی عبادت کے لائق سوائے اللہ کے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے (آخری) نبی اور رسول ہے”

:دوسرا حکم

 دوسرے حکم پر آنے سے پہلے تھوڑا سا پس منظر، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکینِ مکہ کو ایمان کی دعوت دی اور نہ ماننے کی صورت میں اللہ کے عذاب سے ڈرایا کہ ایک دن آئے گا جب سب لوگ دوبارہ اٹھائے جائے گے اور اللہ کی بارگاہ میں پیش کئے جائے گےجسے یوم الدین کہتے ہیں

تاکہ جو اعمال وہ دنیا میں کر کے آئے ہیں اس پر ُان کی جزا یا سزا کا تعین کیا جاسکے تو کفارِ مکہ نے اس بات کا بہت مذاق اڑایا کہ جب ہم خاک ہوکے بکھر چکے ہوں گے تو تمھارا اللہ کیسے ہمیں دوبارہ زندہ کرے گا۔ یہ بات کفارِ مکہ کیلئے قریب قریب ناقابلِ فہم اور ناقابلِ یقین تھی تو اس پر اللہ نے فرمایا کہ جو ایک دفعہ پیدا کرنے پر قادر ہے وہ ہی دوبارہ اٹھائے گا اور جزا اور سزا کا تعین کرے گا۔

 مالکِ یوم الدین اور ہمارا طرزِ عمل

اس طرح دوسرا حکم مالکِ یوم الدین کے متعلق ہے کہ اللہ یوم جزا و سزا کا مالک ہے۔ ُاس دن سب انسانوں کو دوبارہ زندہ کر کے رب کے حضور پیش کیا جائیگا جہاں ُان کے اعمال کے مطابق اس کا فیصلہ ہوگا۔ اب دیکھا جائے تو یہ حکم بھی ہمارے عقائد کا لازمی جز ہے

لیکن جس طرح زندگی کے تمام شعبوں میں لوٹ کھسوٹ، چوری، دھوکہ دہی، غبن اور کرپشن کا دور دورہ ہے تو یہ سوال بنتا ہے کہ کیا واقعی اس ملک کے لوگ یوم الدین پر ایمان رکھتے ہیں؟ اور اگر رکھتے ہیں تو پھر یہ سب کیسے کر لیتے ہیں اور نہیں رکھتے (جو کہ حرکتوں سے لگتا ہے) تو پھر مسلمان ہونے کے دعویدار کیسے ہیں؟

 معاشرتی بگاڑ: رشوت اور نا انصافی کا سیلاب

شاید کچھ لوگوں کو یہ مضمون بہت سخت لگے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس ملک میں اس وقت کوئی بھی جائز کام کروانا آسان نہیں ہے۔ ہر کام کیلئے رشوت دینی پڑتی ہے شائد جائز کام کیلئے تھوڑی کم اور ناجائز کام کیلئے تو جیسا کام ویسے پیسے۔ آپ کچھ بھی کروا سکتے ہیں، جی کچھ بھی کروا سکتے ہیں بس آپ کی جیب میں قیمت دینے کی طاقت ہونی چاھئے۔

اب آپ ہی بتایئے کہ ِان حالات میں یہ سوال نہیں بنتا کہ کیا واقعی ہم یوم الدین پر ایمان رکھتے ہے؟ یا ہمارا یہ ایمان زبانی کلامی ہے کیونکہ اگر ایمان رکھتے تو کسی کا چونی کا سکہ (جو کہ اب موجود ہی نہیں ہے) یا کوئی اور معمولی چیز بھی اٹھانے کی جرات نہ کرتے کہ بعد میں اس کا حساب دینا ہے یا شاید ہمارے لوگوں کو مولوی صاحبان ایسے عملیات بتا دے گے کہ جس کے بعد یہ سب لوگ ایسے ہوجائے گے کہ جیسے ابھی ماں کے پیٹ سے نکلے ہے۔

اللہ کی بے نیازی اور یومِ حساب کی حقیقت

کوئی بھی عمل لوگوں کے حقوق غصب کرنے کی تلافی نہیں کر سکتا۔ دنیا کی کوئی کرسی مضبوط نہیں بس ایک ہی کرسی مضبوط ہے کہ جس پر بیٹھنے والے کو نہ اونگھ آتی ہے اور نہ نیند اور وہ تمام رموزِ کائنات نہایت آسانی سے چلا رہا ہے اور وہ اللہ کی بابرکت ذات ہے کیونکہ ُاس نے جو کرنا ہوتا ہے تو بس وہ صرف کہتا ہے کہ ہوجا اور وہ ہوجاتا ہے۔

اگلی دفعہ اگر کوئی کسی کا حق بلا خوف و خطر کھائے تو سمجھ لے لیجئے کہ عنوان میں جو سوال کیا گیا ُاس کا جواب فعل و عمل میں نفی میں ہے اور ہاں وہاں کوئی سفارش بھی نہیں چلے گی اور اگر اس کو پڑھ کر کسی ایک نے بھی اپنا فعل و عمل درست کر لیا تو اس کا تو یقیناً بیڑا پار ہوجائے گا شاید ُاس کے طفیل فدوی کا بھی بھلا ہوجائے اور اس تحریر کا بھی حق ادا ہوجائے ورنہ اللہ یقیناً سب باتوں سے بے نیاز ہے اور ہمارا یوم الدین پر ایمان ہی ہماری نجات کا راستہ ہے۔

سہیل یعقوب صاحبکے مزید بلاگز پڑھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں

یوم الدین
Rising Divorce Rate

شادی