بڑھاپے میں دوسری شادی

بڑھاپے میں دوسری شادی کی خواہش اور غلط فہمیاں

آج کی تحریر کے عنوان کو پڑھ کر اگر آپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ اس کے ذریعے میں اپنی کوئی خواہش بیان کررہا ہوں یا اپنے مستقبل کی منصوبہ بندی آپ کے سامنے پیش کررہا ہوں تو آپ کے یہ دونوں خیال غلط ہیں۔ میں کسی بھی قسم کی کوئی بھی خاندانی یا غیر خاندانی منصوبہ بندی نہیں کررہا بلکہ ہمارے معاشرے کا ایک سنجیدہ مسئلہ آپ کے سامنے پیش کرنے کی جسارت کررہا ہوں۔

دوسری شادی کے بارے میں معاشرتی اور مذہبی نقطہ نظر

ہندوستان میں ہندوؤں کے ساتھ رہنے کی وجہ سے دوسری شادی اگر ایک مکمل قابلِ تحریم حرکت قرار نہیں بھی پائی ہے تو بھی پاکستانی معاشرہ ُاسے ایک ناپسندیدہ فعل کے طور پر ضرور دیکھتا ہے جو کہ مکمل طور پر ہماری مذہبی تعلیمات کے خلاف ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ اسلام نے دوسری شادی کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے، ہاں اس کے کچھ ضابطے ضرور مقرر کیے ہیں اور اسکے اندر رہتے ہوئے ایک وقت میں ایک مرد کو چار بیویوں کی اجازت دی ہے۔

پچاس اور ساٹھ سال کی عمر میں دوسری شادی کا خوف

میں ہمیشہ سے اس بات کا داعی ہوں کہ عمر کے کسی بھی حصے میں اگر مرد یا عورت اپنا ساتھی کھودے تو ُاسے دوسری شادی کر لینی چاہئے لیکن آپ (اپنے) دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیے کہ عموماً دوسری شادی کے سلسلے میں معاشرے کا رویہ کیا ہوتا ہے؟

خاص طور پر اگر مرد یا عورت کی عمر پچاس اور ساٹھ کے درمیان یا اس سے بھی زائد ہوں تو بہت سے لوگ تو یہ بات بھی زبان پر لانے کی جرات نہیں کر پاتے صرف اس خوف سے کہ لوگ کیا کہے گے اور سب سے بڑھ کر ُان کے اپنے بچے اور دیگر رشتے داروں کا خوف علیحدہ ہوتا ہے۔

اگر آپ لوگ دیکھنا چاھے تو ایک شاندار ہندوستانی فلم اس موضوع پر ہے اور ُاس کا نام “پیار میں ٹوئیسٹ” ہے۔ جس میں بڑی عمر میں شادی کے موضوع کو بہت اچھے انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

بڑی عمر کے افراد کے لیے دوسری شادی اور نئے ساتھی کی تلاش

ہمارے معاشرے میں جہاں مخلوط ملاقاتوں کے ویسے بھی محدود مواقع ہوتے ہیں وہاں پچاس سے زائد عمر میں ساتھی کو ڈھونڈنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ جوانی میں تو بے شمار مواقع ہوتے ہیں تعلیمی درسگاہوں سے لیکر دفتر میں آپ چاھے تو ہم آہنگ اور مطابقت والا ساتھی ڈھونڈ سکتے ہیں لیکن بعد میں اس کے مواقع کم سے کم ہوتے ہیں اگر آپ کے قریبی رشتے دار میں ایسا کوئی رشتہ ہے تو ٹھیک ورنہ ہمارے یہاں ایسی مخلوط محافل کا رواج نہیں جو ایسے لوگوں کو آپس میں ملنے اور بات چیت کا موقع فراہم کریں۔

مغربی ممالک میں اگر کسی کے دوستوں میں ایسے مرد اور خواتین ہوں تو اپنے گھر میں دعوت کا اہتمام کرکے ایسے لوگوں کا آپس میں تعارف کرواتے ہیں اور ویسے بھی وہاں مخلوط محافل کی بھی کمی نہیں ہیں۔

دوسری شادی کے لیے ذہنیت اور سوچ بدلنے کی ضرورت

سب سے پہلے تو ہمیں اس سلسلے اپنی ذہنیت کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے کہ انسان کو عمر کے ہر حصے میں ایک ساتھی کی ضرورت ہوتی ہے تو ہمارے وہ دوست یا رشتہ دار جو کسی نہ کسی وجہ سے اپنا ساتھی کھو چکے ہیں انھیں ُان کا نیا ساتھی ڈھونڈنے اور ملوانے میں مدد کرنی چاھئے، ویسے ذہنیت بدلنے کیلئے اوپر بتائی گئی فلم بھی معاون ہوسکتی ہے۔

دوسری شادی میں جائیداد کی تقسیم کی رکاوٹ

دوسری شادی کے موقع پر دوسرا اہم مسئلہ جائیداد کی متوقع تقسیم ہوتی ہے بچے شائد نئی ماں یا نئے باپ کو تو بادل نخواستہ قبول کر لیتے ہیں لیکن ُان کے ساتھ جائیداد تقسیم کرنا کسی قیمت پر قبول نہیں کرتے اور ُاس آدمی یا عورت کیلئے ُاس کی اپنی جائیداد ُاس کی خوشیوں کے پاؤں کی زنجیر بن جاتی ہے۔ ایک عورت کی کیا ضروریات ہوسکتی ہے معاشرہ اس پر بات تو کیا ان حقائق کو بھی تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہوتا اس لئے اس مضمون میں ہم بھی اسے چھوڑ دیتے ہے اور اسے کسی آئندہ مضمون پر موخر کرتے ہے۔

ابا کی دوسری شادی اور بچوں کے بدلتے ہوئے مطالبات

اگر ایک مرد اپنی بیوی کے چلے جانے کے بعد دوسری شادی کرنا چاھے اور اگر کسی طرح ُاس کے بچے تیار بھی ہوجائے تو ُان کے اور ابا کے خیالات نہیں ملتے ابا اپنے لئے نئی گڑیا لانا چاہتا ہے جبکہ وہ ُاس کیلئے نئی بڑھیا لانا چاھتے ہے بلکہ وہ ابا کیلئے بیوی کے بجائے ایک نرس، آیا یا باورچن ڈھونڈتے ہے جس میں بچوں کا ہی فائدہ ہوتا ہے اور پھر ُاس نرس، آیا یا باورچن کو نہ تنخواہ دینی پڑتی ہے اور بچے اسے جائیداد میں بھی حصہ نہیں دیتے۔

آپ سمجھ سکتے ہے کہ پھر ایسی صورتحال میں ایسا پکا انتظام کیا جاتا ہے کہ نہ رشتہ ملے اور نہ ہی شادی ہوں تاکہ جائیداد کا کوئی مسئلہ ہی نہ ہوں۔ ایسا بھی دیکھا گیا ہے کہ اگر والد نے اپنی زندگی میں اپنی جائیداد تقسیم کردی ہے تو بعد میں ُاسی جائیداد میں سے بچے باپ کو قرضہ دیتے ہے اور اب وہ ُان کے قرضے کے بوجھ کے ساتھ بقیہ زندگی گزارے زندگی تو کیا خاک گزرے گی بس ایک کونے میں بیٹھ کر اللہ اللہ کرے اور اپنی موت کی دُعا کریں۔

دوسری شادی جیسے سماجی مسائل پر قلم اٹھانے کا مقصد

آج جب ہر موضوع پر کھل کر بات ہوتی ہے تو اس طرح کے سماجی مسائل پر بھی بات ہونی چاھئے اور ہمیں اپنی سوچ اور رویوں پر نظرِ ثانی کی ضرورت ہے۔ میری اپنے کچھ دوستوں سے بات ہوئی تو ُانھوں نے کہا کہ یہ تو ہر خاندان کا مسئلہ ہے اور ہر خاندان ایسے کچھ نہ کچھ لوگ ہے مگر کوئی ُان کی بات نہیں کرتا کیونکہ مختلف سماجی دباو ہوتے ہے کوئی ایسے لوگوں کے بچوں سے تعلقات خراب نہیں کرنا چاہتا

تو کہیں کچھ اور مفادات ہوتے ہیں اور سب دوستوں نے خواہش کا اظہار کیا اس پر قلم ضرور ُاٹھانا چاھئے میں نے تو ان کی خواہش پوری کردی آپ کے تاثرات اور کلمات بتائیں گے کہ میں نے ٹھیک کیا یا ہمیشہ کی طرح ایک اور متنازعہ مضمون لکھ دیا ہے۔

سہیل یعقوب صاحب کے مزید بلاگز پڑھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں

کپیسیٹی

شادی