مئی 1942 کو لاہور میل پر حملہ اور حر تحریک کا دوسرا مرحلہ
مئی 1942 کو ہونے والا لاہور میل پر حملہ حر تحریک کا اہم ترین واقعہ تھا۔
حر تحریک کے دوسرے مرحلے کا آغاز سید صبغت اللہ شاہ ثانی (سورہیہ بادشاہ) کی قیادت میں ہوا ۔ آپ نے اس تحریک کا آغاز ” وطن یا کفن ” کا نعرہ بلند کرکے کیا۔ یہ تحریک 1941ء سے 1943ء کے دوران عروج
پر پہنچ گئی، اور لاہور میل پر حملہ اس تحریک کا اہم ترین واقعہ ہے، جس نے برطانوی حکومت کو پریشان کرکے رکھ دیا تھا ۔

16 مئی 1942 کو ٹنڈو آدم کے نزدیک ہونے والے اس واقعے میں سندھ کے وزیر شیخ غلام حسین ہدایت اللہ کے بیٹے منور حسین سمیت 22 افراد ہلاک اور کافی تعداد میں لوگ زخمی ہوئے تھے ۔ اس ٹرین میں سندھ کے وزیر اعلیٰ اللہ بخش سومرو بھی سوار تھے لیکن ان کو حیدرآباد ریلوے اسٹیشن پر جام جان محمد خان (جام صادق علی کے چچا) نے اتار کر اپنے ساتھ لے گئے تھے ۔
مقام اور وقت کا انتخاب
لاہور میل پر حملہ(1942) کرنے کے لیے وقت اور جگہ کا انتخاب انتہائی مہارت سے کیا گیا تھا۔ لاہور میل شام 5 بجے کر 41 منٹ پر کینٹ اسٹیشن کراچی سے نکلی اور رات تقریباً ساڑھے بارہ بجے وہ ٹنڈو آدم کے نزدیک پہنچی جہاں یہ حملہ ہوا ۔
برطانوی انجینئرز کی تیار کردہ رپورٹس کے مطابق، حملے کا مقام (Mile 173/7-8) منتخب کیا گیا تھا ۔ اس مقام پر ریلوے لائن ایک معمولی موڑ (Curve) پر تھی، جہاں ڈرائیور کی نظر دور تک نہیں جا سکتی تھی ۔ قریب ہی ایک چھوٹی نہر اور جھاڑیاں تھیں، جنہوں نے مجاہدین کو حملے کے بعد روپوش ہونے میں مدد دی تھی ۔
حر مجاہدین کی حکمتِ عملی اور ٹرین پر حملہ
حر مجاہدین نے ریلوے لائن کی پلیٹوں کے نٹ بولٹ کھول دیے، جس کی وجہ سے لاہور میل الٹ (کلٹی) ہو گئی ۔ اس وقت ٹرین کی رفتار 40 سے 45 میل فی گھنٹہ تھی اور انجن کے پیچھے والے 7 سے 8 ڈبے مکمل طور پر تباہ ہو گئے ۔ اس کے بعد ٹرین پر حر مجاہدین نے حملہ کیا جس کے نتیجے میں 22 افراد ہلاک اور سو کے قریب افراد زخمی ہوئے ۔ زخمیوں میں برطانوی فوج کے افسران بھی شامل تھے، جو کورس کرکے واپس جا رہے تھے ۔
ایک برطانوی افسر، جو اس حملہ کے وقت ٹرین میں موجود تھا، وہ کہتا ہے کہ حملہ آوروں کے دو گروپ تھے:
ایک تو وہ جنہوں نے ٹرین پر حملہ کیا
دوسرا ان کا مددگار تھا
حملہ آوروں کی تعداد 50 سے 100 کے درمیان تھی ۔لاہور میل پر (1942) حملہ کرنے کے بعد وہ گھوڑوں اور اونٹوں پر سوار ہو کر تھر کے ریگستان اور سانگھڑ کے جنگلات کی طرف فرار ہو گئے ۔

ہلاک ہونے والی اہم شخصیات
اس حادثے میں مرنے والوں میں سر غلام حسین ہدایت اللہ (جو اس وقت سندھ کے اہم سیاستدان اور بعد میں گورنر بنے) کے بیٹے انور ہدایت اللہ بھی شامل تھے ۔ اس ہائی پروفائل موت کی وجہ سے برطانوی حکومت نے اس واقعے کو “سیاسی دہشت گردی” قرار دے کر انتہائی سخت کارروائی شروع کی تھی ۔
برطانوی ردعمل اور شدید کریک ڈاؤن
لاہور میل پر (1942) حملہ نے برطانوی انتظامیہ کو جڑ سے ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اس کے نتیجے میں انگریز سرکار کی طرف سے درج ذیل سخت اقدامات کیے گئے
پورے سندھ میں، بالخصوص ضلع سانگھڑ اور نواب شاہ میں کریک ڈاؤن تیز کر دیے گئے ۔
حکومت نے “Hur Suppression Act” کے تحت سخت قوانین نافذ کیے ۔
فوجی کارروائیوں میں بے پناہ اضافہ ہوا ۔
حملے کے بعد کے اثرات اور مارشل لا کا نفاذ
لاہور میل پر (1942) حملہ کے فوری بعد برطانوی حکومت نے انتقامی کارروائیوں کا آغاز کیا
ٹنڈو آدم کی ناکہ بندی
ٹرین پر حملے کے فوراً بعد ٹنڈو آدم شہر اور گردونواح کے دیہاتوں میں کرفیو لگا دیا گیا تھا اور بڑے پیمانے پر گرفتاریاں ہوئی تھیں ۔
مارشل لا کا نفاذ
اس واقعے نے انگریز سرکار کو اتنا مجبور کر دیا کہ یکم جون 1942 کو سندھ کے بالائی حصوں (بشمول سانگھڑ اور نواب شاہ) میں باقاعدہ مارشل لا نافذ کر دیا گیا ۔
خصوصی ٹرینیں
اس حملے کے بعد انگریزوں نے ریلوے ٹریک کی حفاظت کے لیے “پائلٹ انجن” (جو اصل ٹرین سے تھوڑا آگے چلتا تھا) اور مسلح بکتر بند ٹرینوں کا گشت شروع کر دیا تھا ۔
ٹنڈو آدم کی معاشی ناکہ بندی اور برطانوی انٹیلیجنس کی ناکامی
(Collective Fines)اس واقعے کی سزا کے طور پر ٹنڈو آدم اور اس کے گردونواح کے دیہاتوں پر بھاری جرمانے
عائد کیے گئے تھے ۔ حکومت کا خیال تھا کہ مقامی زمینداروں اور دیہاتیوں نے مجاہدین کو پناہ اور معلومات فراہم کی تھیں ۔
(H.T. Lambrick) ایچ. ٹی. لیمبرک
“The Terrorist” ، جو اس وقت سندھ کے اسپیشل کمشنر تھے، انہوں نے اپنی کتاب
میں لاہور میل پر حملہ کو برطانوی انٹیلیجنس کی سب سے بڑی ناکامی قرار دیا ہے ۔
اس قسم کے مزید بلاگز پڑھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں






