یہ بجلی کے کپیسیٹی چارجز کیا ہے؟

کپیسیٹی

 یہ بجلی کے کپیسیٹی چارجز کیا ہے؟- سہیل یعقوب

 کپیسیٹی چارجز کیا بلا ہے؟

یہ بجلی کے کپیسیٹی چارجز کیا ہے؟

یہ کپیسیٹی چارجز (Capacity Charges) کیا بلا ہے؟ یہ وہ معمہ یے جو سلجھائے نہ سلجھے اور جو سمجھائے نہ سمجھے۔ آپ اسے جو چاہے سمجھئے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ اس وقت یہ لفظ وہ عفریت بنا ہوا ہے جو پوری قوم کے حواسوں پر طاری ہے اور ان کی جیب پر بہت بھاری ہے۔

 آنٹی گوگل اور کپیسیٹی کا لفظی مطلب

آئیے اس کو سمجھنے کیلئے سب سے پہلے آنٹی گوگل سے مدد لیتے ہے کہ کپیسیٹی چارجز کا کیا مطلب ہے؟ تو آنٹی گوگل نے کہا کہ وہ ایک ایک لفظ کا علیحدہ علیحدہ مطلب بتائے گی۔ ہماری بھی مجبوری تھی کہ ہمیں کیا پوری قوم کو اس کا مطلب سمجھنا ہے چناچہ ہم نے کہا ٹھیک ہے ایک ایک لفظ کا مطلب بتائیے۔

کپیسیٹی کا مطلب ہے استعداد، صلاحیت یا گنجائش اور چارجز کا مطلب ہے قیمت یا لاگت۔ اب اگر ان دونوں کو اکٹھا سمجھا جائے تو بنے گا استعدادی لاگت یا گنجائش کے مطابق قیمت۔ اب آپ یہی سمجھے گے کہ یہ وہ لاگت ہے جو بجلی بنانے والے ادارے اپنی استعداد کے مطابق بجلی بنا کر اپنے صارفین سے حاصل کرتے ہیں تو یہ آپ کی خام خیالی ہے۔ تو پھر سچ کیا ہے؟

 آزاد اداروں کے ساتھ کپیسیٹی معاہدے

ملک بھر کے اخبارات، سماجی ذرائع ابلاغ اور دیگر ذرائع سے ہم نے جو معلومات اکٹھی کی اس سے یہ سمجھ میں آیا کہ حکومت نے بجلی کی فراہمی کیلئے بجلی پیدا کرنے والے آزاد اداروں سے معاہدے کئے ہوئے ہیں اور اہم بات یہ ہے کہ یہ ادارے واقعی “مادر پدر آزاد ہے”۔ ہر ادارے کی اپنی ایک استعداد ہے اور کچھ کی استعداد تو صرف کاغذات پر ہی ہے۔

اب حکومت یہ بجلی لے یا نہ لے ان اداروں کو ان کی استعداد کے مطابق ادائیگی کرنی ہوگی۔ اب لامحالہ ذہن یہ سوچنے پر مجبور ہوتا ہے کہ یہ تمام معاہدے ہمارے ملک کی بجلی کی تقسیم کے نظام کی استعداد کے مطابق ہی ہوں گے کیونکہ تقسیم کی استعداد سے زیادہ بجلی ہم پیدا بھی کر لے تو ہمارا تقسیم کا نظام اس کو تقسیم کرنے سے قاصر ہوگا اور یوں پورا تقسیم کا نظام زمیں بوس ہوجائے گا-

جب ایسی بنیادی بات کا جواب بھی مانگا جاتا ہے تو اس کا سیدھا جواب دینے کے بجائے قانونی جواب دیا جاتا ہے جو کہ عام آدمی کے سر کے اوپر سے گزر جاتا ہے، بالکل عدالتی کارروائی کی طرح جو ہمیں آج کل بالجبر دکھائی جارہی ہے۔

 کپیسیٹی کا گورکھ دھندہ اور نظام کی نااہلی

دل کو اطمنان نہ ہوا اس لئے ایک دفعہ پھر ادھر اودھر سے معلومات لی تو پتہ یہ چلا کہ سب سے پہلے تو یہ معاہدے انتہائی خفیہ ہے اور ان کو عام کرنے سے کچھ ایسے مفادات پر ضرب آتی ہے کہ جس کو ضرب دینے پر ضرب دینے والا تقسیم ہوجاتا ہے بلکہ تقسیم در تقسیم ہوجاتا ہے۔

حساب کا یہ گورکھ دھندہ نہ پہلے کبھی ہمیں سمجھ میں آیا اور نہ اب آنے کی کوئی امید ہے، پر اتنا ضرور پتہ چلا یہ معاہدے ہماری ضروریات سے کئی گنا زیادہ ہے اور یہ تمام بجلی نہ یہ ادارے بنا سکتے ہیں اور بالفرض محال اگر یہ بنا بھی دے تو ہمارا تقسیم کا نظام اسے تقسیم کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔

قومی سلامتی اور کپیسیٹی کا آخری تازیانہ

اس کے مالکان کے حوالے سے سوال کرنا بھی قومی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ اس حوالے سے ایک سابق نگران وزیر کی ویڈیو تو آپ کی نظر سے گذری ہی ہوگی۔ یوں سمجھ لیجئے کہ یہ استعدادی لاگت ہمارے پیوند ذدہ سماجی فیبرک (کپڑے) پر آخری تازیانہ ہے اور سماجی اور معاشی افراتفری کی طرف وہ قدم ہے

جو شاید اگر جلدی اس کی تصیح نہ کی گئی تو پھر یہ معاشرہ تباہی کی ایسی راہ پر چل دے گا کہ جس سے شاید واپسی ممکن نہ ہوں۔ اس وقت ہمارا پورا نظام بس ایک ہی صلاحیت رکھتا ہے وہ یہ ہے کہ اس بجلی کی لاگت وصول کرتا رہے جو نہ کبھی بنی تھی اور شاید کبھی بنے بھی نہیں۔ یہ قوم کی استعداد پر منحصر ہے وہ کب تک اس کی قیمت ادا کرتی رہتی ہے یا پھر اس سے جان چھڑانے کی کوئی سعی کرتی ہے۔

 ہوٹل کی کہانی اور بلوں کا تنازعہ

آخر میں حسب روایت ایک کہانی اس میں سمجھنے والوں کیلئے اس مسئلے کا حل بھی پوشیدہ ہے۔ کہانی تھوڑی بے حجاب ہے اس لئے حسب ضرورت اس پر سینسر کی قینچی چلائی ہے مگر پڑھتے ہوئے آپ کی سوچ کو مکمل آزادی ہے۔

ایک میاں بیوی کسی دوسرے شہر میں اپنے لئے ہوٹل میں ایک بک کراتے ہیں اور دو دن کے اختتام پر جب میاں ہوٹل کے بل کی ادائیگی کیلئے کاونٹر پر آتا ہے تو بل اس کی توقعات سے بہت زیادہ ہوتا ہے تو وہ ہوٹل کی انتظامیہ سے اس پر احتجاج کرتا ہے تو ہوٹل کی انتظامیہ ہوٹل کی سہولیات گنوانا شروع کرتی ہے کہ ہمارے ہوٹل میں سوئمنگ پول ہے، جمنازیم ہے، بڑے بڑے ہال ہے اور بھی بہت سی سہولیات ہے۔

اس پر وہ میاں کہتا ہے کہ ہم نے تو ان سہولیات میں سے کسی سے بھی استفادہ نہیں کیا۔ انتظامیہ کہتے ہے سہولیات تو تھی اور اگر آپ نے اس سے فائدہ نہیں اٹھایا تو یہ آپ کا قصور ہے اس لئے بل تو آپ کو دینا ہی پڑے گا۔

میاں کچھ دیر سوچتا ہے اور پھر ہوٹل کی انتظامیہ سے ایک کاغذ اور قلم لیکر وہ بھی ایک بل بناتا ہے کہ ہوٹل کے لوگوں نے اس کی بیوی سے فلاں فلاں خدمات لی اور یہ اس کا بل ہے۔ ہوٹل کی انتظامیہ کہتی ہے کہ انھوں نے ایسی کوئی خدمات اس کی زوجہ محترمہ سے نہیں لی تو اس پر میاں کہتا ہے کہ یہ ان کا قصور ہے ورنہ اس کی بیوی تو حاضر اور موجود تھی۔

کپیسیٹی چارجز کا حل اور عوامی ردعمل

امید ہے کہ اب سب کو کپیسیٹی چارجز کی سمجھ آگئی ہوگی اور اس سے خلاصی کا طریقہ بھی سمجھ اگیا ہوگا۔ ان مادر پدر آزاد اداروں کو ان کی زبان میں ہی جواب دینا ہوگا ورنہ یہ بل بھیجتے رہے گے اور قوم بھرتی رہے کسی کو کوئی جلدی نہیں ہے۔ کوڑے لگنے دوں بس کوڑے مارنے والے کی تعداد کم نہیں ہونی چاہیے تاکہ قطار لمبی نہ ہوں۔ کوڑے کیوں مار رہے ہوں یہ سوال پوچھنے کا نہ کسی کے پاس وقت ہے اورنہ ہمت تو بس پھر یوں ہی چلنے دیتے ہیں۔

سہیل یعقوب صاحب کے مزید بلاگز پڑھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں

کپیسیٹی