امیر دنیا کے غریب لوگ: موت کے منہ میں جاتی شہزادی اور اس کی بے بسی

امیر دنیا کے غریب لوگ: موت کے منہ میں جاتی شہزادی اور اس کی بے بسی

ڈاکٹروں نے دو ہزار اٹھارہ میں ہی اس کے پھیپھڑوں کی بیماری کی تشخیص کر لی تھی۔ علاج جاری رہا، مگر کوئی افاقہ نہ ہو سکا۔ آخرکار ڈاکٹروں نے کہہ ہی دیا کہ اب زندگی کی واحد امید پھیپھڑوں کی پیوندکاری ہے۔ یہ بات کہنا بہت آسان ہے، مگر اس پر عمل درآمد جوئے شیر لانے کے مترادف ہے، کیونکہ ٹرانسپلانٹ تب ہی ممکن ہے جب کوئی انسانی پھیپھڑا میسر ہو۔ جی ہاں، آپ درست سن رہے ہیں ۔وہ اہم ترین انسانی عضو، جس سے ہر جاندار سانس لیتا ہے اور جس کے بغیر زندگی رک جاتی ہے۔

اور سانس رکنے کا مطلب موت ہے۔یہ کسی بھی انسان کے لیے کوئی آسان صورتحال نہیں ۔یہ انتہائی سنگین معاملہ ہے۔ شدید اور ناقابلِ بیان تکلیف نہ صرف مریض کے لیے ہے، بلکہ اس کے گھر والوں کے لیے بھی۔ طویل انتظار کے بعد، آخر کار وہ دن آیا کہ ایک متوفی کا پھیپھڑا مریض کو لگا دیا گیا۔

کیا آپ اس کیفیت کا اندازہ لگا سکتے ہیں جب مریض کو بتایا گیا ہوگا کہ اب آپ سرجری کے لیے تیار ہو جائیں، کل وہ دن ہے جس کا آپ کو شدت سے انتظار تھا۔ اس خبر کی خوشی کا احساس کوئی صحت مند انسان نہیں کر سکتا، وہ تصور بھی نہیں کر سکتا۔ اس کو سمجھنے کے لیے ہمیں ایک دوسری تخیلاتی صورتحال پر نظر ڈالنی ہوگی۔

سزائے موت کا قیدی اور زندگی کی ناامیدی کا تخیل

تخیل کریں کہ ایک سزائے موت کا قیدی، جس کے منہ پر کالا کپڑا باندھ دیا گیا ہو اور گلے میں پھانسی کا پھندا ڈالا جا چکا ہو، جلاد اپنے بےرحم اور سخت کھردرے ہاتھوں سے رسی کو اس کے گلے پر سختی سے کس رہا ہو۔ مجرم کو سانسیں رکتی محسوس ہورہی ہوں اور انجام بالکل سامنے ہو۔ وہ اپنے آخری لمحات میں اپنی بیتی ہوئی زندگی کی فلم کے مناظر دیکھ رہا ہو، اسے اپنے معصوم اور چھوٹے بچوں کے معصوم چہرے یاد آ رہے ہوں اور بے بس ہو اور خاموش ۔

بس زندگی کا یہ کھیل ختم ہونے والا ہے ۔اچانک، اس المناک اور سرد لمحے میں، کوئی کہنے والا آواز لگائے اور کہے ،آپ کی سزا معطل کر دی گئی، آپ کو معاف کر دیا گیا۔ آپ کو زندگی بخش دی گئی ، جاؤ اپنی بیوی بچوں کے ساتھ زندگی گزارو۔ زندگی سے آپ ناامید ہو چکے تھے، اس سزائے موت کے قیدی کی کیفیت کیسی ہوگی اس کا اندازہ ہم میں سے کوئی نییں لگا سکتا ، مگر کچھ ایسی ہی کیفیت اس مریض کی بھی رہی ہوگی۔

ایک غریب اور بے یار و مددگار مریض کی حیران کن حقیقت

ایک عام انسان بھی اپنے خاندان کے کسی فرد کی ایسی حالت میں اپنا سارا مال و دولت لٹا کر اپنے جگر گوشے کو بچانا چاہتا ہے، اس کی زندگی واپس لانا چاہتا ہے۔ لیکن یہ کون بےبس، غریب مسکین، بےیارومددگار اور لاچار تھا جو اس بےسی میں اپنے لیے زندگی کی خیرات کا متمنی تھا؟

کیا بھری دنیا میں وہ اکیلا تھا؟ کوئی اس کا چاہنے والا نہ تھا؟ ذرا توقف کیجیے، میں آپ کو بتاتا ہوں۔ آپ کے کانوں کو یقین نہیں آئے گا ۔ جس مریض کی جان بچائی گئی وہ کوئی اور نہیں ، ناروے کے ولی عہد ہاکن میگنس کی بیوی، باون سالہ میٹ میریٹ تھی، جسے مستقبل میں ناروے کی ملکہ بننا تھا۔ یہی وہ مریضہ ہیں جن کی یہ سرجری چند دن قبل ہی ہوئی ہے اور جنہیں نئی زندگی نصیب ہوئی ۔

ناروے کا سخت قانون: جہاں شہزادی بھی ایک غریب شہری کے برابر ہے

شہزادی نے یہ عذاب کیوں جھیلا؟ کیوں تکلیف دہ انتظار کی گھڑیوں سے گزریں؟ آئیں بتاتے ہیں۔ناروے کے اعضاء کی پیوند کاری کے قوانین بہت سخت ہیں۔ ایسے مریضوں کو طویل انتظار کرنا پڑتا ہے جب تک کہ انہیں کوئی مناسب ڈونر نہ مل جائے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ طبی ادارے مریض کی بیماری کی شدت اور نوعیت کے حساب سے ترجیح کا تعین کرتے ہیں، سب سے زیادہ مستحق وہ مریض ہے جو وینٹیلیٹر پر ہو، اور پھر اس کے بعد دیگر مریضوں کی باری آتی ہے۔

اب سوچیں،ایک ملکہ بننے والی خاتون کے لیے کیا بڑی بات تھی کہ قانون کا ذرا سا بازو موڑ دیا جائے، ڈاکٹر رپورٹیں ایسے تشکیل دیں کہ اس کا نام ٹرانسپلانٹ کی سب سے زیادہ ترجیح والی فہرست میں ڈال دیا جائے،حالانکہ وہ اس کی مستحق نہ ہو۔چونکہ آپ شاہی خاندان سے ہیں، آپ عام انسان سے مختلف ہیں ۔ آپ کے پاس زیادہ طاقت ہے، زیادہ پیسہ ہے، تو آپ کو ترجیحی لسٹ کے دسویں نمبر سے اٹھا کر پہلے نمبر پر کر دیا جائے اور فوری سرجری ہو جائے۔ کوئی اور ملک ہوتا تو یہ شائد ممکن تھا مگر ناروے میں نہیں۔

مگر نہیں۔ ایسا نہیں کیا گیا۔ ولی عہد شہزادی کو ایک عام مریض کی طرح طویل انتظار کرنا پڑا، جسکا ہر ہر لمحہ اورہر گھنٹہ بھاری، مگر کوئی ترجیحی سلوک نہیں کیا گیا۔ ان کی سرجری تبھی ممکن ہوئی جب قانون اور اصول کے مطابق ان کی باری آئی یعنی میرٹ پہ۔ یہی نہیں، بلکہ اوسلو یونیورسٹی کے جس ہسپتال میں یہ سرجری کی گئی، وہاں شہزادی صاحبہ کو عام دیگر مریضوں کے ساتھ کئی ہفتے گزارنے پڑے گیں تاکہ ڈاکٹر ان کی صحت کا خیال رکھ سکیں ۔

ناروے میں طبی سہولیات ایک عام نارویجن شہری کے لیے، چاہے وہ ماہانہ دو سو ڈالر ہی کیوں نہ کماتا ہو، اور مستقبل کی ملکہ کے لیے یکساں ہیں، اور ڈاکٹروں کی توجہ اور انہماک بھی۔

یاد دہانی کے لیے بتاتا چلوں کہ ناروے یورپ ہی کا نہیں بلکہ دنیا کے امیر ترین ممالک میں سے ایک ہے، جس کی جی ڈی پی پانچ سو پچاسی ارب ڈالر ہے، فی کس آمدنی ایک لاکھ سات ہزار ڈالر ہے، اور یہ یورپ کا سب سے زیادہ تیل پیدا کرنے والا ملک ہے، اورجس کی سرکاری دولت دو ٹریلین ڈالر سے زائد ہے۔ اور یہ کوئی عام عورت کی نہیں وہاں کی ہونے والی ملکہ کی آب بیتی ہے

شاہی خاندان کے لیے بھی قانون کی بالادستی اور سخت فیصلے

یہی نہیں، مزید ایک حیران کن خبر یہ ہے کہ شہزادی صاحبہ کے انتیس سالہ صاحبزادے، شہزادہ میریس ہوگ لوبی، جو دو خواتین pe جنسی حملوں کے جرم میں چار سال قید کاٹ رہے ہیں، انہوں نے عدالت سے کی ماں کی تیمارداری کے لیے پیرول پر رہائی کی درخواست کی جسے عدالت نے فوری مسترد کر دیا۔ ہیں نہ یہ تینوں باتیں اس دنیا سے باہر کی؟ کم از کم ہماری دنیا میں تو ہم نے ایسا نہ دیکھا، نہ سنا۔

ہمارے معاشرے کا المیہ: کیا ایک غریب ہاری کی بیوی بہترین علاج پا سکتی ہے؟

سوچتا ہوں: کون لوگ ہیں یہ؟ یہ کہاں سے آئے ہیں؟ ہمیں کیوں نہیں دکھتے؟کیوں اللہ تعالیٰ نے ایسے منصفانہ معاشرے کو ناروے تک محدود کر دیا ہے؟ کیا ہمارے نصیب میں صرف بےانصافی لکھی ہوئی ہے؟ امیر غریب کا اتنا بڑا فرق۔ اور ا ہم سے ہماری دولت اور تعلقات پہ منحصر اچھا اور برا رویہ ۔کیوں ہمارے ملک میں ایک غریب ہاری کی بیوی بہترین علاج کی مستحق نہیں ٹھہرتی؟

کیا وہ بھی اس شاہانہ ہسپتال میں اپنا علاج کروا پائے گی جہاں ہمارے امرا، وزراء، اور جرنیل علاج کراتے ہیں؟ کہ کوئی بڑا شخص اس طرح قانون کے اصولوں کے تحت اپنی جان بچانے کے لیے اتنا طویل اور تکلیف دہ انتظار کرے؟ قانون ایسا ہو کہ اسکے آگے سب بے بس ہوجائیں۔ سرکاری حیثیت کو استعمال کرنے کے قابل ہی نہ ہو۔ کوئی گنجائش ہی نہ رکھا گیاہو کوئی استشنا ہی نہ ہو۔ کیا ایسا ہمارے ملک میں ممکن ہے اگر آپ کے علم میں ہو تو مجھے بھی بتا ئیے۔

اس قسم کے مزید بلاگز پڑھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں

غریب

  • Tariq Hasany

    سید طارق حسنی ایک تجربہ کار پٹرولیم جیولوجسٹ ہیں جنہوں نے 36 سال سے زائد عرصہ پاکستان اور دیگر ممالک میں عالمی تیل اور گیس کی تلاش (exploration) میں گزارے۔ انہوں نے پاکستان کی بڑی کمپنیوں جیسے پاکستان آئل فیلڈز لمیٹڈ (POL) اور پاکستان پٹرولیم لمیٹڈ (PPL) میں خدمات انجام دیں۔ اس کے علاوہ، وہ معروف بین الاقوامی اداروں بیکر ہیوز، شلمبرگر، پیٹروناس اور جیو سروسز سے بھی منسلک رہے۔ ان کا پیشہ ورانہ سفر ملائیشیا، اٹلی، قازقستان اور سعودی عرب تک پھیلا ہوا ہے۔ اب وہ ریٹائرڈ کنسلٹنٹ جیولوجسٹ ہیں، جن کی دلچسپی پٹرولیم کی تلاش میں اب بھی قائم ہے، جبکہ ان کی حالیہ تحریریں سیاحت، تاریخ اور جیو اسٹریٹجک موضوعات پر مرکوز ہیں۔

    View all posts