بجٹ نے تعلیم کی مد میں افسوس ناک حد تک مایوس کیاہے!

تعلیم

حالیہ بجٹ نے تعلیم کی مد میں افسوس ناک حد تک مایوس کیا ہے! تعلیم میں اور خاص طور پر اعلیٰ تعلیم میں ہم ویسے ہی تیزی سے پیچھے ہی جا رہے ہیں کہ اس حالیہ بجٹ نے ہمارے تعلیمی مستقبل کو بھی مزید مخدوش بنا دیا ہے! یہاں اپنی معروضات میں میری یہ کوشش ہوگی کہ میں یہ بتا سکوں کہ خصوصاً ہمارا نظامِ تعلیم ہر سطح پر، بالخصوص سرکاری سطح پر، اپنی بدانتظامی، لاپرواہی اور بے حسی کے نتیجے میں قوم کو تباہی اور بربادی کے دہانے پر پہنچا چکا ہے

جس کی اصلاح اور بہتری کے لیے کہیں کوئی مناسب و مؤثر اقدامات بھی نظر نہیں آ رہے ہیں۔ چاہے اربابِ اختیار ہوں یا ذمے دار افراد و ادارے، یہاں تک کہ اساتذہ بھی، کہیں کسی جگہ اس کی بہتری اور اصلاح و ترقی کے لیے مخلصانہ اور مناسب و مؤثر انداز سے کوئی کچھ سوچتا اور کرتا نظر نہیں آ رہا ہے۔

تعلیم: سیاست اور معیشت کی ترقی کی بنیاد

اگر بغور دیکھیں تو تعلیم ہی وہ بنیاد ہے جو ملک و قوم کو ترقی و استحکام عطا کرتی ہے اور پاکستان کی تعمیر و ترقی میں سیاست و معیشت کی بہتری اور فلاح تو یقیناً اس کے بنیادی عناصر ہیں لیکن دراصل اس جیسے سارے ہی عناصر کے مقابلے میں تعلیم اور اس کا معیار میں سمجھتا ہوں کہ کچھ کم اہم نہیں، بلکہ شاید تعلیم کی بہتری ہی سے سیاست و معیشت کی بہتری بھی وابستہ ہے اور ملک و قوم کو حقیقی معنوں میں ترقی اور عروج و فلاح بہتر و مناسب تعلیم ہی سے ممکن ہے

جو اگر عصری تقاضوں کے مطابق ہو تو ملک و قوم حقیقی معنوں میں ترقی کر سکتے ہیں۔ لیکن افسوس کہ وزارتِ تعلیم اور متعلقہ ذمے دار مناصب پر بالعموم وہ فرد یا افراد براجمان نظر آتے ہیں جن کی متعلقہ تعلیمی و انتظامی لیاقت اور امتیاز خود سوالیہ نشان ہوتے ہیں۔ چناں چہ وہ تعلیمی نظام کی خرابیوں کو کہاں دیکھ سکتے ہیں اور بہتری کیوں کر لا سکتے ہیں! ہر طرف کم علمی و نااہلی اور اپنی ذمے داریوں کی ادائیگی سے بے نیازی و لاتعلقی عام نظر آتی ہے۔

تین نسلوں کی محرومی اور اسکولوں کی خستہ حالی

ان ستر پچہتر سالوں میں تین نسلیں گزر گئیں لیکن وہ بڑی حد تک حصولِ علم کے اپنے بنیادی حقوق اور قومی و ملی تقاضوں کے مطابق مناسب تعلیم و تربیت حاصل کرنے سے بڑی حد تک محروم ہی رہی ہیں یا محروم رکھی گئی ہیں! اب تو ان کی محرومیوں کا سلسلہ تو مزید وسعت اختیار کر رہا ہے۔

جب پرائمری اسکولوں میں بچے بطور طالب علم موجود ہیں لیکن ان کے بیٹھنے کے لیے کمرے اور فرنیچر موجود نہیں، پھر ان کے لیے مناسب و لایق اساتذہ اتنے نہیں کہ اپنا فرض عمدگی سے انجام دے سکیں، سارے مضامین عمدگی سے پڑھا سکیں، اس لیے متعدد اساتذہ اپنے طلبہ کو کھیل کود میں لگا کر یوں اپنی نوکری پوری کر کے تنخواہیں لے رہے ہیں اور بچے بھی جا کر وقت کسی طرح گزار کر واپس ہو جاتے ہیں۔

اعلیٰ تعلیمی اداروں میں اقربا پروری کا راج

اساتذہ کی کمی تو سرکاری کالجوں میں عام سی بات ہے۔ نشستیں موجود رہتی ہیں لیکن اساتذہ کے تقرر نہیں ہو پاتے اور نہ ان کے مناسب تقرر کے لیے کوششیں اور مناسب اقدامات کیے جاتے ہیں۔ بلکہ یہ صورت حال تو یونیورسٹیوں میں بھی عام ہے۔ سرکاری یونیورسٹیوں میں تو سفارشوں پر زیادہ تر کام چلتے یا چلائے جاتے ہیں۔ اس لیے اہل اور معیاری اساتذہ بہت کم نظر آتے ہیں۔

سفارشوں یا اقربا پروری کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نااہل افراد اساتذہ کے طور پر عہدے حاصل کر لیتے ہیں اور کسی مطالعے اور تحقیق کے بغیر ہی ترقی پر ترقی پاتے اور اعلیٰ مناصب پر پہنچتے اور یہاں تک کہ پروفیسر اور ڈین کے مناصب تک بھی پہنچتے رہتے ہیں۔ اب تو یہ بھی مشاہدہ ہے کہ ایسے ہی نااہل اور تصنیف و تحقیق سے بے نیاز افراد ترقی کی اعلیٰ منازل اور عہدوں پر پہنچ کر وائس چانسلر تک بھی بن رہے ہیں اور ذمے دار ادارے حتیٰ کہ ‘ایچ ای سی’ بھی ان ناجائز ترقیوں سے بالعموم بے نیاز رہتی ہے!

ایچ ای سی کا زوال اور ‘پروفیسر ایمریطس’ کا لالچ

خود ‘ایچ ای سی’ بھی ان دنوں اپنے شاندار ماضی سے بہت دور جا چکی ہے اور اس کے اکابر و اعلیٰ عہدیداروں سے منسوب ماضی کی عالی شان علم و تحقیق کی روایات کو بھلا بیٹھی اور محض سابقہ شہرت و نام وری پر گزارا کر رہی ہے۔ یہی ‘ایچ ای سی’ اپنا وجود دکھانے کے لیے گاہے گاہے ایسی شرائط اور پابندیوں کا اطلاق کر کے انھیں اساتذہ کے لیے لازم قرار دے کر نافذ کرتی ہے تاکہ اس کا اثر عام اساتذہ پر بطور حکم نافذ رہے اور ‘ایچ ای سی’ کی ہیبت و رُعب کا ایک احساس ان پر ضرور طاری رہے۔

اسی ضمن میں ایک تازہ سرگرمی اس کی جانب سے یہ دیکھنے میں آئی ہے کہ اس نے سینیئر اساتذہ میں، جو چاہے نااہل ہی کیوں نہ رہے ہوں، ایک لالچ پیدا کیا کہ انھیں اپنی سماجی و معاشرتی شہرت کے لیے دیگر متعدد عہدوں کے ساتھ ساتھ ‘پروفیسر ایمریطس’ یا ‘تاحیات پروفیسر’ بننا اور اس کے لیے درخواست دینی چاہیے۔ چناں چہ چند اساتذہ نے، جو چاہے اس منصب کے اہل نہ بھی ہوں

انھوں نے درخواستیں دیں اور دو ایک نے کامیابی بھی حاصل کر لی جب کہ ان کے بارے میں ایک عام سقہ رائے یہ ہی ہے کہ وہ بمشکل پروفیسر ہی کی اہلیت کے حامل ہیں جب کہ ان میں سے ایک دو تو مجلسی شہرت سے زیادہ کچھ نہیں رکھتے ہیں، ہاں بس ایک دوسرے تیسرے درجے کے شاعر اور دانش ور کے طور پر اپنے آپ کو نمایاں رکھنے کی کوششوں میں کامیاب ضرور کہے جا سکتے ہیں۔

علمی و تحقیقی معیار پر اٹھتے سنجیدہ سوالات

یعنی اگر وہ شاعر ہیں یا شاعری کر کے شہرت حاصل کر رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ قابل اور لائق بھی ہیں اور عمدہ شاعری کرتے ہیں! شاعری تو تخلیقی عمل ہے علمی سرگرمی نہیں، کم علم اور علم سے بے نیاز انسان بھی اچھی سے اچھی شاعری کر کے شہرت و ناموری حاصل کر لیتے ہیں لیکن بہتر استاد نہیں بن سکتے ہیں۔

علمی و تحقیقی دنیا میں اپنے مطالعات کی بنیاد پر وہ کوئی اہمیت و حیثیت نہیں رکھتے اور واقعتاً ہم دیکھتے ہیں کہ انھیں بیرونی علمی و تحقیقی دنیا میں کوئی جانتا بھی نہیں! اور کسی علمی و مطالعاتی مذاکروں اور کانفرنسوں میں، جن کی شہرت یہاں تک بھی پہنچتی ہے، ان کا نام شامل نہیں رہتا ہے! ایسے شہرت پسند افراد یہ کیوں نہیں بتاتے کہ اب تک انھوں نے کتنے تحقیقی مقالے بین الاقوامی شہرت کے حامل تحقیقی مجلوں میں شائع کروائے؟

کتنے پی ایچ ڈی کروائے؟ ان کی کتنی علمی و تحقیقی تصانیف شائع ہوئیں؟ باہر کتنی بین الاقوامی کانفرنسوں میں مدعو کیے گئے اور کتنوں میں شرکت کی اور مقالات بھی پڑھے؟ پھر آخر کن بنیادوں پر وہ ‘پروفیسر ایمریطس’ بنوائے گئے یا بنوائے جائیں؟ ملک میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں کی کیا کیا خدمات ہیں؟ اور ان کی جانب سے ‘ایچ ای سی’ اور اس کے منصوبوں میں کیا کیا کارنامہ ہر سال انجام دیا جاتا ہے؟ ایسا کوئی سوال یا اس کا جواب کسی ادارے کی جانب سے سامنے نہیں آتا ہے!

تعلیمی بجٹ میں کٹوتی: اربابِ اقتدار کی بے نیازی

حالیہ بجٹ نے تو تعلیم کی مد میں عوام اور دلچسپی رکھنے والے ہر فرد کو مایوس کن حد تک شدید متاثر کیا ہے، کہ پچھلے سال کے بجٹ میں رکھے گئے 65 ارب کے مقابلے میں اس سال صرف 39 ارب کر دیا جانا اربابِ اقتدار کی تعلیم سے حد درجے بے نیازی ہی کو تو ظاہر کرتا ہے!

ناگزیر تعلیمی اصلاحات اور قومی زبان کا کردار

اس تشویش ناک اور المناک صورت حال میں یہ ضروری ہے کہ ہم قومی سطح پر ان مؤثر تدابیر کو اختیار کرنے کی بابت سوچیں کہ جن کے ذریعے ملک میں تعلیم کا نظام قوم اور ملک کی بنیادی ضرورتوں اور عصری تقاضوں کے مطابق ڈھل سکے، موجودہ کمزوریوں اور کوتاہیوں کو دور کر سکے

نصابات جدید رجحانات اور معیارات سے فیض یافتہ ہوں اور ساری قوم کا ابتدائی نصاب یکساں مرتب ہو اور ذریعۂ تعلیم کی مد میں ایک حتمی و مستحکم نقطۂ نظر کے مطابق سختی سے عمل ہو اور ہر سطح پر اردو زبان کو بطور ذریعۂ تعلیم اختیار کر لیا جائے، جو ہر نئے سے نئے مضمون میں بھی قریباً سوا سو ڈیڑھ سو سال سے، جہاں جہاں اسے موقع دیا گیا، ذریعۂ تعلیم کے طور پر اپنا انتہائی کامیاب کردار ادا کر چکی ہے۔ یہی دو بنیادی عوامل ہیں جو قوم کو ایک قوم بناتے، روزگار اور خواندگی عام کرتے

ملک و قوم میں اتحاد و اتفاق کے احساسات و جذبات عام اور مستحکم کرتے اور ملکی ترقی کی ضمانت دیتے ہیں۔ یہ وہ خوبیاں ہیں جو ہماری قوم میں نہ ہونے کے برابر ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اگر ہم نے کسی طرح خود کو ایٹمی ملک بنا لیا ہے لیکن افسوس باقی دیگر قومی و ملی اوصاف ہم سے دور ہی رہے ہیں۔ چناں چہ اب ہمارے لیے کسی طور ان اوصاف سے خود کو بہرہ مند کرنے کی جستجو اور کوشش ناگزیر ہے۔

اس قسم کے مزید بلاگز پڑھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں

استاد