کراچی میں عوامی تعمیراتی منصوبہ: عوامی تکالیف کا پیغام – ایک تجزیہ
پاکستان میں فلاح و بہبود کے منصوبے، خاص طور پر شہری علاقوں جیسے کراچی میں، اکثر عوام کے لیے مشکلات کا باعث بنتے ہیں۔ جب کوئی سرکاری ادارہ سڑک، پانی، گیس، بجلی، یا دیگر تعمیرات کا کام شروع کرتا ہے، تو وہ عوام کو پہلے سے مطلع کرنا ضروری نہیں سمجھتا۔ بس شروع ہوجاتا ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ گنڈاسا ہاتھ میں لیے پہنچ گئے میدان میں اور ماری ایک للکار کسی میں ہمت ہے تو سامنے آئے ہمیں روک کے دکھائے۔ نہ ہی متبادل راستوں، دھول سے بچاؤ، یا کاروبار کی حفاظت کا کوئی انتظام کیا جاتاہے اور نہ ہی عوام کیلئے کوئی مناسب نوٹس۔ یہ مضمون اس مسئلے کی جڑ، اس کے اثرات، اور ممکنہ حل پر روشنی ڈالتا ہے۔
ریڈ لائن بس منصوبہ: ایک پیچیدہ عوامی مسئلہ
کراچی شہر میں یونیورسٹی روڈ پر زیرِ تکمیل ریڈ لائن بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) کا منصوبہ آج ایک انتہائی پیچیدہ عوامی مسئلہ بن چکا ہے، جس نے عوام کی زندگیوں کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ یہ پروجیکٹ نہ صرف ہماری منصوبہ بندی کی خامیوں کو بے نقاب کرتا ہے، بلکہ ہمیں مستقبل میں غلطیوں سے بچنے، موثر منصوبہ بندی کرنے، اور اپنی کوتاہیوں سے سبق سیکھنے کے کافی مواقع بھی فراہم کرتا ہے۔
ملیر ہالٹ سے نمائش چورنگی تک 27 کلومیٹر پر محیط اس منصوبے کا اعلان 2017 میں کیا گیا تھا، جبکہ 2022 میں اس کا آغاز ہوا اور اس کی تکمیل 2025 میں طے پائی تھی۔ اس کی لاگت کا ابتدائی تخمینہ 79 ارب روپے تھا، جو تاخیر اور مہنگائی کے باعث 103 ارب روپے تک جا پہنچی ہے۔ اس مفاد عامہ کے منصوبے کی تکمیل میں غیر معمولی تاخیر ایک بہت ہی سنگین انسانی اور آئینی مسئلہ ہے جس کے فوری حل کیلئے بلدیہ کراچی، حکومت سندھ اور وفاقی حکومت کو جلد از جلد ہنگامی اقدامات لینے چاہئے۔
تعمیراتی کام اور عوام کی مشکلات
عام طور پر سرکاری محکمے تعمیرات شروع کرنے سے پہلے اعلان نہیں کیا کرتے، یا اگر کرتے بھی ہیں تو بہت خاموشی سے اور مبہم طریقہ سے کہ عوام کو خاطر خواہ خبر بھی نہیں ہو پاتی۔ اور ادارہ جات کام پر لگ جاتے ہیں۔ نتیجتاً دکانیں اور ہوٹل بند ہو جاتے ہیں، لوگوں کا آنا جانا مشکل ہو جاتا ہے۔
دھول اور مٹی سے صحت متاثر ہوتی ہے۔ کاروبار مہینوں تک بری طرح متاثر ہوتا ہے۔ سرکار کا مؤقف ہوتا ہے کہ وہ عوام کی خدمت کر رہے ہیں، اس لیے ان تکالیف کو ضروری برائی سمجھ کر برداشت کر لینا چاہیے۔ تاہم، یہ مؤقف عوام کے بنیادی حقوق کو نظر انداز کرتا ہے۔
منصوبہ بندی کا فقدان اور بین الاقوامی معیار
اس کی بنیادی وجہ منصوبہ بندی کی کمی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ملک میں سائنسی انداز میں کام کرنے کا فقدان ہے، اور اگر کہیں ایسا ہوتا بھی ہے تو صرف کتابوں اور دفاتر تک محدود ہے جو نظر وں سے اوجھل ہے۔ منصوبوں کے اطراف میں بکھری ہوئی تعمیراتی مشینری اور دیگر سامان کی بے ترتیبی، نیز کنٹریکٹرز اور مزدوروں میں نظم و ضبط کا فقدان، اچھے بھلے ماحول کو بھی انتہائی وحشت زدہ اور بد نما بنا دیتا ہے۔
تعمیراتی کاموں میں انسانی جان کی حفاظت، اسکی عزت و توقیر، اسکے آرام، حفظان صحت، صفائی، اور ماحولیاتی تحفظ کے بین الاقوامی اصولوں کو یکسر نظر انداز کرنا ایک وطیرہ بن چکا ہے جس سے چھٹکارا حاصل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
بین الاقوامی سطح پہ موازنہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں تعمیرات سے پہلے کم از کم ساٹھ سے نوے دن پہلے عوام کو تفصیلی نوٹس دیا جاتا ہے، متبادل راستے اور عارضی پل بنائے جاتے ہیں۔ دھول، شور اور حفاظت کے معیارات طے ہوتے ہیں۔ اور ان قوانین پہ عملدرآمد کو یقینی بنانے کیلئے باقاعدہ آڈٹ ٹیمیں بنائی جاتیں ہیں جو تعمیرات کے کام کی مسلسل نگرانی کرتی ہیں۔ متاثرہ کاروباروں کو عارضی معاوضہ یا ٹیکس میں ریلیف دیا جاتا ہے۔
قانونی پہلو اور بنیادی انسانی حقوق
اب ذرا آئیں قانونی پہلو سے بھی جائزہ لیتے ہیں کہ پاکستان کا آئین عوام کی جان و مال اور انکے حقوق کیلئے کیا کہتا ہے۔ پاکستان کے موجودہ آئین میں بنیادی انسانی حقوق شامل ہیں۔ آرٹیکل 9، شہریوں کو زندگی کا حق دیتا ہے، جس میں صحت، روزگار اور کاروبار کی حفاظت جبکہ آرٹیکل 18، کاروبار، پیشہ یا تجارت کرنے کا حق دیتا ہے
جبکہ آرٹیکل 14 عزت اور گھر کی حفاظت کا ضامن ہے۔ جب کوئی سرکاری ادارہ عوام کو بلااطلاع اور بغیر متبادل انتظام کے سڑک توڑتا ہے، تو یہ انسانی حقوق عملاً معطل ہو جاتے ہیں۔
تجویز کردہ لائحہ عمل
اس ضمن میں ہمارا لائحہ عمل کیا ہونا چاہئے؟ سرکاری اداروں کے لیے عوام کو لازمی پیشگی نوٹس دینا لازمی ہو کیونکہ اس میں ان کی فلاح و بہبود براہ راست ملوث ہے۔
پیشگی آگاہی: ہر بڑے منصوبے سے کم از کم 60 دن پہلے مقامی اخبارات، ریڈیو، اور سوشل میڈیا پر اعلان کیا جائے۔
سہولیات: متبادل محفوظ اور مضبوط راستے تعمیر کئے جائیں اور جہاں ضرورت ہو وہاں عارضی پل یا سڑک بنائی جائے۔
احتساب: کسی بھی پروجیکٹ کی تعمیر کے دورانیہ کا درست تعین ہونا ضروری ہے اور تاخیر کی صورت میں عوام کے سامنے تاخیر کی وجوہات اور وضاحت پیش کرنا بھی پروجیکٹ کا لازمی حصہ قرار دیا جائے۔
معاوضہ: متاثرہ کاروباروں کے لیے معقول معاوضہ کا اعلان ہو یا کم از کم ٹیکس میں چھوٹ دی جائے۔
عوامی اتحاد: عوام کو آئین اور قانون کے تحت اپنے حقوق کی مکمل آگاہی لازمی ہے، تاکہ بوقت ضرورت عملی اقدامات اٹھا سکیں۔ اس سلسلے میں وہ اپنی تنظیمیں بنا سکتے ہیں — جیسے محلے کی رہائشی یا تاجر انجمن، تاکہ اجتماعی درخواست عدالت میں دائر کی جا سکے۔
پاکستان میں تعمیرات کا مقصد عوام کی سہولت ہونا چاہیے، مصیبت نہیں۔ آئین ہمیں حقوق دیتا ہے، عدالتیں ان پر عمل درآمد کروا سکتی ہیں، جبکہ عوام متحد ہو کر تبدیلی لا سکتے ہیں۔ ضرورت ہے اس رویے کو چیلنج کرنے کی — نہ احتجاج سے، بلکہ قانونی اور منظم آواز سے۔




