مشاہداتِ سائنس : ایک حیرت انگیز کتاب
مصنف سید محمد عمر حسنی کا تعارف
خاندانی پس منظر: آپ کا تعلق حضرت امام حسن علیہ السلام کی اولاد (ساداتِ قطبیہ) اور مشہور بزرگوں شاہ علم اللہ اور سید احمد شہید رائے بریلوی کے معزز خاندان سے ہے۔ آپ کے والد ریاست ٹونک میں ناظم کے عہدے پر فائز تھےسید عمر حسنی صاحب کی پیدائش بھی ٹونک کی تھی ۔آپ کا انتقال 4 اپریل 1941 میں جونا گڑھ میں ہوا اور وہیں آپ کی تدفین بھی ہوئی۔آپ نے علی گڑھ اور ٹوکیو (جاپان) یونیورسٹی سے انجینئرنگ (بی، ای) کی اعلیٰ ڈگری حاصل کی۔ آپ اردو، فارسی اور جرمن زبانوں پر کامل عبور رکھتے تھے۔سید محمد حسنی صاحب کا ایک تعارف یہ بھی ہے کہ آپ ذکر کتاب کے قلمی معاون جیولجسٹ اور معروف سائیکلسٹ سید طارق حسنی صاحب کے دادا بھی ہیں-
مکمل ویڈیو دیکھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں
پیشہ ورانہ خدمات (انجینئرنگ): آپ امریکہ، ہندوستان اور جرمنی کی معتبر انجینئرنگ سوسائٹیز کے رکن رہے۔ آپ نے حیدرآباد کے محکمہ برقیات میں بطور الیکٹریکل انجینئر اور ریاست بھوپال میں پانچ سال تک چیف الیکٹریکل انجینئر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ نواب عبید اللہ خان کے تعاون سے جرمنی کی تکنیکل یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد، آپ نے وہاں کے مشہور ‘برگمین’ کارخانے میں بطور پروجیکٹ انجینئر کام کیا، جو اس دور میں کسی بھی ہندوستانی کے لیے ایک منفرد اعزاز تھا۔
علمی و ادبی خدمات: آپ نے مولانا ابوالکلام آزاد کے ساتھ مشہور اخبار ‘الہلال’ میں کام کیا اور مختلف علمی و سائنسی مضامین کے تراجم کیے۔ مولوی عبدالحق اور ڈاکٹر ذاکر حسین کی فرمائش پر آپ نے سائنسی و صنعتی موضوعات پر عام فہم مضامین تحریر کیے، جو ‘رسالہ جامعہ’ اور ‘رسالہ سائنس’ میں شائع ہوتے رہے۔
تصنیف: آپ کی مشہور علمی تصنیف “مشاہداتِ سائنس” (طبع اول 1937 ہے، جو اردو زبان میں سائنسی اصطلاحات کے آسان اور شگفتہ استعمال کی وجہ سے علمی ذخیرے میں ایک گراں قدر اضافہ مانی جاتی ہے۔ اس کتاب کی تیاری اور اشاعت میں قاضی احمد میاں اختر جونا گڑھی، مخمور اکبر آبادی اور دیوانِ ریاست جونا گڑھ کی سرپرستی شامل رہی۔
اس کتاب “مشاہداتِ سائنس“ میں شامل 13 اہم مضامین کی فہرست درج ذیل ہے:
- تحت الثریٰ کی سیر صفحہ 1
- بچوں کی نشوونما صفحہ 21
- جرمانہ (جرمنی) کی صنعتی تعلیم صفحہ 25
- قوتِ برق صفحہ 43
- آسمانی بجلی صفحہ 58
- دوربین صفحہ 85
- برف سازی صفحہ 92
- روشنی کی رفتار صفحہ 113
- نظامِ شمسی صفحہ 138
- توانائی و برق صفحہ 172
- تارِ برقیات صفحہ 190
- توپ کا گولا صفحہ 210
- مصطلحات اصطلاحات
سائنس کی دنیا کے 5 حیرت انگیز حقائق جو آپ کو دنگ کر دیں گے: سید محمد عمر حسنی کے مشاہدات
سائنس صرف تجربہ گاہوں کی چار دیواری یا خشک نظریات کا نام نہیں، بلکہ یہ کائنات کے اسرار کو سلجھانے کا ایک مسلسل سفر ہے۔ بیسویں صدی کے آغاز میں جب جدید ٹیکنالوجی انگڑائیاں لے رہی تھی، ٹوکیو اور جرمنی کی صفِ اول کی جامعات سے تعلیم یافتہ انجینئر سید محمد عمر حسنی نے اپنی آنکھوں سے سائنسی کرشموں کا مشاہدہ کیا۔
ان کے قلم سے نکلے ہوئے یہ مشاہدات آج کے ڈیجیٹل دور میں بھی ہمیں ورطہِ حیرت میں ڈال دیتے ہیں اور یہ ثابت کرتے ہیں کہ گہرا مشاہدہ معلومات کو بصیرت میں بدل دیتا ہے۔
زمین کے ہزاروں فٹ نیچے کی “مصنوعی زندگی”
سید محمد عمر حسنی نے جاپان کی تانبے کی مشہور کانوں (جیسے ‘اشیو’) کا تذکرہ کرتے ہوئے ایک ایسی انوکھی دنیا کا نقشہ کھینچا ہے جو سطحِ زمین سے ڈھائی ہزار فٹ کی گہرائی میں واقع ہے۔ وہاں سورج کی کرنوں کا گزر ممکن نہیں، اسی لیے وہاں کی زندگی مکمل طور پر مصنوعی روشنی پر منحصر ہے۔
کاربائیڈ لیمپ (Carbide Lamp): بجلی کے بڑے لیمپوں کے علاوہ، ہر شخص کے پاس اس کا ہونا لازمی ہے، جو نہ صرف روشنی فراہم کرتا ہے بلکہ ہنگامی صورتحال میں جان بچانے کے لیے ناگزیر سمجھا جاتا ہے۔
اس زیرِ زمین زندگی کی سب سے حیرت انگیز بات وہاں کا سماجی ڈھانچہ ہے:
“اس گہری دنیا میں نہ کوئی سمت ہے، نہ افسر اور مزدور میں کوئی تمیز، اور نہ ہی رات دن کا کوئی فرق۔ وہاں سلام و کلام میں بھی ‘حفظِ مراتب’ کا لحاظ ختم ہو جاتا ہے کیونکہ تاریکی اور ایک جیسے ماحول میں صبح و شام کے آداب بے معنی ہو جاتے ہیں۔”
وہاں کام کرنے والے انجینئر اور مزدور ایک ایسی عالمِ ارواح جیسی زندگی گزارتے ہیں جہاں وقت کا احساس ہی مٹ جاتا ہے۔
لفٹ کا ٹوٹنا اور ‘فولادی پنجہ’: ایک حیرت انگیز حفاظتی انتظام
کان کنی کے لیے 2,000 فٹ گہرے شافٹ (Shaft) میں اترنا کسی مہم جوئی سے کم نہیں تھا۔ اتنی گہرائی میں جانے والی لفٹ (Elevator) اگر رسی ٹوٹنے سے گر جائے تو بچاؤ کا کیا راستہ ہے؟ اس دور کے انجینئرز نے اس کا ایک “ماورائے عقل“ حل نکال تھا جسے ‘فولادی پنجہ’ کہا جا سکتا ہے۔
حفاظتی میکانزم کس طرح کام کرتا ہے؟
فولادی پنجہ: لفٹ کے اوپری حصے پر ایک فولادی پنجہ اس طرح نصب ہوتا ہے کہ وہ رسی کے کھچاؤ (Tension) سے بند رہتا ہے۔
ہنگامی عمل: جیسے ہی رسی ٹوٹتی ہے اور کھچاؤ ختم ہوتا ہے، یہ پنجہ ایک دم کھل کر شافٹ کے چاروں طرف لگی ہوئی مضبوط لکڑی کے ستونوں میں پوری قوت سے دھنس جاتا ہے۔
متحرک حفاظت: یہ عمل اتنا تیز ہوتا ہے کہ 2,000 فٹ کی بلندی سے گرتی ہوئی لفٹ چند لمحوں میں اپنی جگہ ساکت ہو جاتی ہے اور قیمتی جانیں ضائع ہونے سے بچ جاتی ہیں۔
بچہ صرف ‘چھوٹا انسان’ نہیں ہے: جسمانی ساخت کے انکشافات
برلن کے ایک معتبر کیمیاوی اخبار (Chemiker Zeitung) کی تحقیق کے حوالے سے عمر حسنی نے انسانی جسم کے بارے میں ایسے حقائق پیش کیے ہیں جو عام سوچ کو بدل دیتے ہیں۔ ایک نو زائیدہ بچہ محض قد و قامت میں چھوٹا نہیں ہوتا، بلکہ اس کی کیمیاوی ساخت بالغ انسان سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔
اہم تنبیہ: ان حیران کن اعداد و شمار کی روشنی میں وہ خبردار کرتے ہیں کہ چونکہ بچوں کی ہڈیاں نرم ہوتی ہیں اور ریڑھ کی ہڈی لچکدار، اس لیے ان پر بھاری بوجھ لادنا یا اسکول کا وزنی بستہ ان کے جسمانی ڈھانچے کو ہمیشہ کے لیے ٹیڑھا کر سکتا ہے۔
جرمنی کی صنعتی کامیابی کا راز: “ہاتھ سے سیکھنا”
جرمنی کی عالمی صنعتی بالادستی کا راز صرف ان کی کتابوں میں نہیں بلکہ ان کے “عملی نظامِ تعلیم“ میں پوشیدہ ہے۔ وہاں انجینئرنگ کا طالب علم بننے کے لیے صرف امتحان پاس کرنا کافی نہیں، بلکہ اسے ایک سال تک فیکٹری میں بطور ‘مزدور’ (Practikant) کام کرنا پڑتا ہے۔
اس فلسفے کو سید محمد عمر حسنی نے ایک خوبصورت قول سے واضح کیا ہے:
“کمالِ کفش دوزی علمِ افلاطون سے بہتر ہے۔”
جرمن نظام یہ سکھاتا ہے کہ وہ انجینئر جو فیکٹری میں لوہے سے ہاتھ رنگتا ہے اور اجرت لے کر پسینہ بہاتا ہے، وہ اس انجینئر سے کہیں بہتر ہے جو صرف نظریاتی علم رکھتا ہو۔ وہاں انجینئرنگ کی ڈگری پانے سے پہلے لوہار، بڑھئی اور مشین آپریٹر کے طور پر عملی تجربہ حاصل کرنا لازمی ہے۔
بجلی کی حقیقت: پانی کے پائپ کی ایک دلچسپ مثال
بجلی کے پیچیدہ تصورات کو سمجھنے کے لیے عمر حسنی نے پانی کے بہاؤ کی ایک لاجواب تمثیل پیش کی ہے، جو آج بھی اس علم کو سمجھنے کا بہترین طریقہ ہے۔
بجلی کو سمجھنے کا ‘چیٹ شیٹ’ (Cheat Sheet)
بجلی کا تار: اسے پانی کا پائپ تصور کریں۔
ولٹ (Volt): یہ پائپ میں پانی کا دباؤ (Pounds per square inch) ہے۔
ایمپئیر (Ampere): یہ پائپ سے بہنے والے پانی کی کل مقدار ہے۔
سوئچ آن کرنا: یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے آپ پانی کی ٹونٹی (Tap) کھول دیں، جس سے رو کا بہاؤ شروع ہو جائے۔
اختتامیہ: مشاہدے کی طاقت
سید محمد عمر حسنی کے یہ مشاہدات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ علم کی پیاس صرف ڈگریوں سے نہیں بجھتی، بلکہ اپنے ارد گرد کی دنیا کو کھوجنے اور اسے تسخیر کرنے کے جذبے سے حاصل ہوتی ہے۔ جاپان کی تانبے کی کانوں سے لے کر جرمنی کے کارخانوں تک، ان کا ہر مشاہدہ ایک سبق ہے کہ “عمل” علم سے زیادہ طاقتور ہے۔
آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا آج کے ڈیجیٹل دور میں، جہاں معلومات کی بھرمار ہے، ہم اپنے ارد گرد کی دنیا کو اتنی گہرائی اور دلچسپی سے دیکھنے کی صلاحیت کھو چکے ہیں؟ کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار ضرور کریں!
اس قسم کے مزید بلاگز پڑھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں
-
View all postsمیں نے زندگی کے چار عشرے قانون، اسلامی بینکاری اور کارپوریٹ گورننس کے شعبوں کی خدمات میں گزارے ۔ جامعہ کراچی سے ایل ایل ایم کے بعد، مجھے میزان بینک کے بانی کمپنی سیکرٹری اور پاکستان کویت انویسٹمنٹ کمپنی سمیت کئی معتبر اداروں میں کلیدی خدمات کی سعادت ملی۔ پیشہ ورانہ سفر کے دوران کئی بڑی کمپنیوں اور مالیاتی اداروں کے بورڈ پر ڈائریکٹر کے فرائض انجام دیئے اور ٹرینر کی حیثیت سے نوجوانوں کی فکری آبیاری کی کوشش کرتا رہا ہوں ۔ ریٹائرمنٹ کے بعد، اب میں نے خود کو کتابوں اور علم کے فروغ کے لیے وقف کر دیا ہے۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں، میں مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے نئی نسل تک اخلاقی اور بامقصد پیغام پہنچانے کی عاجزانہ کوشش کر رہا ہوں۔ میری زندگی کا اب ایک ہی مقصد ہے: سیکھنا، سکھانا اور اپنے تجربات کو دوسروں کے لیے مشعلِ راہ بنانا۔





