جاپانی اسکالر کا اردو میں غیر معمولی خطاب

جاپانی

جاپانی اسکالر کا اردو میں غیر معمولی خطاب

(Order of the Rising Sun, Gold Rays with Neck Ribbon) ڈاکٹر معین الدین عقیل جاپان کے شہنشاہ، اسلامی جمہوریہ پاکستان کے شہری، پروفیسر ڈاکٹر معین الدین عقیل کو ‘آرڈر آف دی رائزنگ سن، گولڈ ریز ود نیک ربن’

 سے نوازتے ہیں۔

شاید کم ہی لوگوں کو معلوم ہو کہ اس وقت جاپانیوں میں، جو کراچی کے جاپانی قونصل خانے میں سفارتی کام کرتے ہیں، ایک جاپانی اسکالر بھی ہیں جو اردو جانتے ہیں۔

حیران کن بات یہ ہے کہ اسلامی تصوف کے موضوع پر ایک مخصوص حوالے سے وہ سے پی ایچ ڈی بھی کر چکے ہیں۔

دو سال سے کراچی میں مقیم ہیں اور یہاں کی علمی اور تہذیبی سرگرمیوں میں بھی شریک رہتے ہیں۔

کراچی میں علمی سرگرمیوں میں شرکت

کچھ عرصے قبل انہوں نے کے شعبہ اسلامک اسٹڈیز میں، اس شعبے کے ایک سینئر استاد کی دعوت پر “جاپان میں مطالعہ اسلام کا رجحان اور میری تحقیق” کے موضوع پر ایک سیر حاصل خطاب کیا۔

اس تقریب میں حاضرین، طلبہ و اساتذہ نے بھرپور دل چسپی لی اور عالمانہ نوعیت کے سوالات بھی کیے۔

سوال و جواب کا دلچسپ مرحلہ

تقریب کے دوران کیے جانے والے سوالات کے جوابات ڈاکٹر ماتسودا نے ذوق و شوق سے دیے۔

ان کے مدلل اور علمی جوابات نے حاضرین کو بے حد متاثر کیا اور سامعین نے اس نشست کو غیر معمولی قرار دیا۔

تقریب کا آغاز اور خصوصی خطاب

خطاب کے آغاز میں اساتذہ کے مدعو کرنے پر تقریب میں شریک نے بھی گفتگو میں حصہ لیا۔

وہ جاپان بھر کے اعلیٰ علمی حلقوں میں پہچانے جاتے ہیں۔

جاپان میں اسلامی مطالعات کا فروغ

ڈاکٹر معین الدین عقیل نے “جاپان میں اسلام اور اسلامی مطالعات اور جاپانیوں کے روز افزوں اسلامی مطالعات کا فروغ” کے موضوع پر خطاب کیا۔

ان کی گفتگو نے بھی حاضرین کو خاصا متاثر کیا اور تقریب کے علمی معیار کو مزید بلند کیا۔

ایک منفرد اور یادگار تقریب

حاضرین کے مطابق یہ تقریب اور یہ خطابات اپنی نوعیت اور اپنے انداز کے منفرد پروگرام تھے۔

کسی جاپانی اسکالر کے ذریعے اور جاپانی دل چسپی کے موضوعات پر کراچی میں اس نوعیت کا پروگرام پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔

یہ تقریب اس لحاظ سے ایک یادگار علمی نشست ثابت ہوئی جس نے پاکستان اور جاپان کے درمیان علمی و تہذیبی روابط کے ایک منفرد پہلو کو اجاگر کیا۔

اس قسم کے مزید بلاگز پڑھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں

جاپانی