مفتی تقی عثمانی صاحب کا فتویٰ اور ڈیجیٹل دنیا کے ادھورے سچ
تحریر: علی فاروقی
آج کل مفتی تقی عثمانی صاحب کا ایک فتویٰ گردش کر رہا ہے جس میں انہوں نے کرپٹو کرنسی کو حرام قرار دیا ہے۔ اس موضوع پر انٹرنیٹ پر بحث گرم ہے۔ بے نام اور بے لگام اکاؤنٹس، حسبِ عادت، تمیز کی حدود عبور کرتے ہوئے اپنی تربیت اور خون کا مظاہرہ کر رہے ہیں، لیکن اس بدتمیزی سے قطع نظر، آئیے اس معاملے کا باریکی سے جائزہ لیتے ہیں۔
مفتی صاحب نے اپنے فتوے میں کرپٹو کی ہر قسم کو حرام قرار دیا ہے، چاہے وہ بٹ کوائن ہو یا USDT۔ چھوٹا منہ بڑی بات، لیکن مجھے لگتا ہے کہ مفتی صاحب کو اس موضوع پر اپنی تحقیق، یا کم از کم اس کی تشریح، مزید تفصیل سے کرنی چاہیے تھی۔
کرپٹو کرنسی کی بنیادی اقسام
جو لوگ اس موضوع سے واقف نہیں، ان کی معلومات کے لیے عرض ہے کہ کرپٹو کرنسی بنیادی طور پر دو اقسام کی ہوتی ہے۔ ایک وہ جس کی ٹریڈنگ کی جاتی ہے، جیسے بٹ کوائن (Bitcoin)، اور دوسری وہ جسے اسٹیبل کوائن (Stablecoin) کہا جاتا ہے، جیسے USDT اور EURC۔
دونوں میں بنیادی فرق یہ ہے کہ روایتی کرپٹو (Traditional Crypto) کی قدر اسٹاک مارکیٹ کی طرح ڈیمانڈ اور سپلائی کی بنیاد پر تیزی سے اوپر نیچے ہوتی ہے، جبکہ اسٹیبل کوائن، جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، نسبتاً مستحکم رہتا ہے۔ ایک USDT کی قدر عموماً ایک امریکی ڈالر کے برابر اور EURC کی قدر ایک یورو کے برابر رکھی جاتی ہے۔ اسی طرح بعض کوائنز کی پشت پناہی سونے (Gold) سے بھی کی جاتی ہے۔
کرپٹو کو حرام قرار دینے کی پہلی دلیل
اب اصل بحث کی طرف آتے ہیں۔
کرپٹو کرنسی کو حرام قرار دینے کی دو بڑی وجوہات بیان کی جاتی ہیں۔
پہلی دلیل: سٹے اور قیاس آرائی کا عنصر
اول یہ کہ اس میں سٹے (Speculation/Gharar) کا عنصر پایا جاتا ہے۔ اس بات میں کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے کہ فیوچرز یا ڈے ٹریڈنگ (Day Trading) کی چند ایسی اقسام، جہاں منٹ منٹ کی بنیاد پر صرف قیمت کے اتار چڑھاؤ پر جوا کھیلا جاتا ہے، نقصان دہ ہیں۔
یہ طریقہ طویل مدتی سرمایہ کاری (Long-term Investment) سے بالکل مختلف ہے، اور معیشت دانوں اور علما کی اکثریت اس قسم کی محض قیاس آرائی پر مبنی ٹریڈنگ کو پسند نہیں کرتی اور حرام قرار دیتی ہے، چاہے وہ کرپٹو ہو، اسٹاکس ہوں، کموڈٹی ہو یا پراپرٹی کی فائلیں۔
لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا محض قیمت کے اتار چڑھاؤ (Volatility) کی بنیاد پر خود اس اثاثے یا کرنسی کو ہی حرام کہا جا سکتا ہے؟
کیا فیاٹ کرنسی واقعی مستحکم ہے؟
اگر ایسا ہے تو ہم اپنی کاغذی کرنسی، یعنی روپیہ، ڈالر یا یورو کا کیا کریں؟ یہ بھی تو انتہائی غیر مستحکم ہیں۔
کرپٹو کا تو پھر بھی سمجھ آتا ہے کہ یہ ٹریڈنگ والیوم کی بنیاد پر اوپر نیچے ہوتی ہے، لیکن ہماری موجودہ فیاٹ (Fiat) کرنسی کا فارمولا تو آج تک کسی کو پوری طرح سمجھ نہیں آیا۔
آج صدر ٹرمپ ایک بیان دے دیں تو کل ڈالر کی قیمت آسمان پر پہنچ جاتی ہے۔ کیا اس میں سٹے یا مارکیٹ مینیپولیشن کا عنصر نہیں دکھتا؟
عموماً جواب دیا جاتا ہے کہ کاغذی کرنسی کے پیچھے حکومت کی گارنٹی ہوتی ہے، اس لیے وہ جائز ہے۔ یہ کہنا، میری نظر میں، معاشی نظام سے معصومانہ لاعلمی کی نشانی ہے۔
آئیے کرپٹو کے حرام ہونے کی دوسری وجہ جاننے سے پہلے اس حکومتی گارنٹی کا سچ بھی دیکھ لیتے ہیں۔
کرنسی کی اصل حقیقت کیا ہے؟
پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کرنسی آخر ہے کیا؟
یووال نوح ہراری اپنی کتاب “سیپیئنز” (Sapiens) میں لکھتے ہیں کہ کرنسی دراصل ہمارے باہمی اعتماد (Mutual Trust) کا نتیجہ ہے۔
سونے کی قدر اس لیے ہے کہ ہزاروں سال پہلے انسان نے متفقہ طور پر اسے قیمتی مان لیا۔ اس سے پہلے کبھی پتھر اور سیپیاں بھی کرنسی کا کام کرتی تھیں۔
آج ڈالر کی قدر اس لیے نہیں کہ اس کے پیچھے کوئی سونا رکھا ہے، بلکہ اس لیے ہے کہ پوری دنیا امریکی معیشت اور امریکہ کی طاقت پر بھروسہ کرتی ہے۔
اگر کل دنیا کا یہ بھروسہ ختم ہو جائے تو اس کی حیثیت ردی جتنی بھی نہ رہے، جیسا کہ ہم زمبابوے، وینزویلا اور کئی افریقی ممالک میں دیکھ چکے ہیں۔
پس، کرنسی ہر وہ چیز ہے جس کے تبادلے کی قدر پر انسان باہم متفق ہو جائیں۔
آج دنیا کے ایک بڑے حصے میں کرپٹو کو بطور ڈیجیٹل اثاثہ تسلیم کیا جا چکا ہے۔ اس میں تنخواہیں دی جا رہی ہیں اور یہ ترسیلاتِ زر (Remittance) کے لیے بھی استعمال ہو رہا ہے۔
بلکہ میں تو یہاں تک کہوں گا کہ اس کی کوئی مالی قدر ہے، تبھی تو اس پر ہیکنگ کے ذریعے ڈاکے ڈالے جاتے ہیں یا یوٹیوبر “ڈکی بھائی” کے واقعے کی طرح اغوا کر کے اسے چھینا جاتا ہے۔
کرپٹو کو حرام قرار دینے کی دوسری دلیل
کیا کرپٹو صرف کمپیوٹر کے نمبرز ہیں؟
اب آتے ہیں دوسری وجہ کی جانب۔
مفتی صاحب نے اپنے فتوے میں فرمایا کہ کرپٹو کوئی حقیقی کرنسی یا مال نہیں بلکہ صرف کمپیوٹر کے کھاتے میں درج چند نمبرز ہیں، اس لیے یہ شرعاً جائز نہیں۔
یہ پڑھ کر حیرت ہوتی ہے کہ مفتی صاحب، جنہوں نے پاکستان میں اسلامک بینکنگ کی بنیاد ڈالی، موجودہ فیاٹ کرنسی کی ڈیجیٹل حقیقت سے کیسے صرفِ نظر کر سکتے ہیں؟
اگر حلال و حرام کا معیار صرف یہ ہے کہ کرنسی نظر نہیں آتی یا ڈیجیٹل ہے، تو پھر ہمارا روپیہ کیا ہے؟
کیا ہمیں فریکشنل ریزرو بینکنگ (Fractional Reserve Banking) کا علم نہیں؟
بینکوں میں پڑے اربوں روپے کیا واقعی لاکرز میں ہزار اور پانچ سو کے نوٹوں کی شکل میں موجود ہیں؟
موجودہ بینکاری نظام کی حقیقت
موجودہ بینکاری نظام میں ہر بینک اپنے کل ڈپازٹس کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ، یعنی بعض ممالک میں تقریباً 3 سے 10 فیصد، نقد رکھنے کا پابند ہوتا ہے۔
یعنی اگر آج ہم سب اپنے اپنے بینک پہنچ جائیں اور اپنے تمام پیسے نقد مانگ لیں، تو پورا پاکستان سیکنڈوں میں ڈیفالٹ کر جائے گا۔
مارکیٹ میں نیا روپیہ صرف اسٹیٹ بینک کے نوٹ چھاپنے سے نہیں آتا، بلکہ کمرشل بینک جب کسی کو قرض (Loan) دیتے ہیں تو بینک صرف آپ کے کھاتے میں اندراج کر دیتا ہے کہ آپ کے نام اتنی رقم موجود ہے۔
یوں بینکار کمپیوٹر اسکرین پر چند نمبرز بڑھا دیتے ہیں اور وہی رقم مارکیٹ میں گردش کرنے لگتی ہے۔
یعنی موجودہ بینکاری نظام، چاہے وہ روایتی ہو یا مروجہ اسلامی، بڑی حد تک کمپیوٹر کے کھاتوں اور ڈیجیٹل اندراجات پر قائم ہے۔
اب اگر صرف ڈیجیٹل نمبرز ہونے کی بنیاد پر کرپٹو حرام ہے، تو پھر موجودہ بینکاری کے کھاتوں میں موجود روپے پر بھی یہی منطق لاگو ہونی چاہیے۔
متوازن تحقیق کی ضرورت
یہ سچ ہے کہ کرپٹو مارکیٹ میں فراڈ، ریگولیشن کی کمی اور ٹریڈنگ کے بعض تشویشناک معاملات موجود ہیں جن پر علما کو ضرور رہنمائی کرنی چاہیے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایک ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کو بیک جنبشِ قلم مطلقاً حرام قرار دے دیا جائے۔
ماضی میں لاؤڈ اسپیکر، تصویر، ٹی وی، یوٹیوب، سوشل میڈیا بلکہ اسلامی بینکاری پر بھی ابتدائی فتوے سخت تھے، لیکن وقت کے ساتھ ان پر رجوع کیا گیا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اس معاملے کو بھی جدید معاشی تناظر میں دوبارہ، گہرائی اور غیر جانب داری کے ساتھ تحقیق کے عمل سے گزارا جائے۔
اختتامی کلمات
بس خیال رہے کہ یہ سارا عمل مکمل ہونے کے فوراً بعد مقتدرہ حلقوں، جیسے PVARA، میں شریعہ ایڈوائزری بورڈ کی لمبی چوڑی بھرتیاں نہ ہو رہی ہوں، ورنہ عوامی سطح پر جائز شکوک و شبہات جنم لیں گے۔
آگے لکھنے کی ہمت نہیں، سمجھدار کو اشارہ کافی ہوگا۔




