کھتری عبدالغفور: کراچی کی تاریخ کے معتبر مورخ
محترم کھتری عبدالغفور کا تعلق ان کاروباری طبقوں سے ہے جن کا ماضی صنعت و تجارت سے جڑا ہے۔ کراچی کی تاریخ کے مطالعے میں کھتری عبدالغفور کا نام اس لیے اہم ہے کہ میمن اور چنوٹی برادریوں کا تعلق ماضی میں محض حساب کتاب اور انگریزی کی شد بد تک محدود سمجھا جاتا تھا، مگر اب یہ قصہ پارینہ ہو چکا ہے۔ کھتری عبدالغفور کراچی یونیورسٹی سے گریجویشن کرنے والے ایک ایسے کاروباری شخص ہیں جنہوں نے اپنے وسیع وژن کے ساتھ کراچی کی تاریخ پر تحقیق کی ہے۔ اس تناظر میں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ کھتری برادری تقریباً دو سو سال سے کراچی میں مقیم ہے اور اپنی محنت و حسن سلوک سے اس شہر کی تعمیر و ترقی میں رنگ بھر رہی ہے۔
کھتری عبدالغفور کا تحقیقی سفر اور کراچی کی تاریخ
کھتری عبدالغفور نے لکھنے لکھانے کا عمل 1970ء سے جاری رکھا اور کراچی کی تاریخ کے حوالے سے اپنی شناخت بنائی۔ پہلے وہ اپنی برادری کے اخبار میں لکھتے رہے، مگر ان کے اندر موجود محقق اور مورخ نے 1980ء سے کراچی کی تاریخ کو قلمبند کرنا شروع کیا۔ ادبی دنیا میں کھتری صاحب کا مقام اس لیے مسلمہ ہے کہ کراچی کی تاریخ کے حالات و واقعات سے ان کا تعلق ایسا ہے جیسے دائی کا بچے سے ہوتا ہے۔ انہوں نے کراچی کی تاریخ کی ہر خوبصورتی، ہر زخم اور ہر حادثے کو سیاق و سباق کے ساتھ دیکھا ہے۔ کھتری صاحب کے نزدیک کراچی کی تاریخ کی بدلتی فضا، پرانی عمارات کا حسن اور حکومتی غفلت سے ضائع ہونے والی تاریخی عمارتیں ایک ایسی کہانی ہیں جنہیں تاریخ کی زبانی ہی بیان کیا جا سکتا ہے۔
کراچی کی کہانی: تاریخ کی زبانی
ان کی پہلی تاریخی اور تحقیقی کتاب ’’کراچی کی کہانی، تاریخ کی زبانی‘‘ کراچی کی تاریخ کے منظرنامے میں ایک حوالہ جاتی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کتاب کی اہمیت قارئین کے لیے اس لیے بھی زیادہ ہے کہ اس میں کراچی کی تاریخ کی قدیم ترین عمارات کی ایسی تصاویر شامل ہیں جو دیگر کتابوں میں کم ملتی ہیں۔ 21 ابواب اور 576 صفحات پر مشتمل یہ کتاب کراچی کی تاریخ کے فن پر تحقیق کرنے والوں کے لیے مواد اور تصاویر کے لحاظ سے ایک مفصل تاریخ کا درجہ رکھتی ہے۔ اس تحقیق میں کھتری صاحب نے دس برس کی جانکاہ محنت صرف کی ہے، جس سے ان کی علمی دیانت کا پتہ چلتا ہے کہ کس طرح کراچی کی تاریخ کو محفوظ کیا جائے۔
قبرستانوں کی تاریخ اور کھتری صاحب کی تحقیق
کھتری صاحب کی کتاب کا ایک اہم باب قبرستانوں پر محیط ہے جو کراچی کی تاریخ کی تحقیق کا ایک لازمی حصہ ہے۔ یہاں وہ ایک محقق، مورخ کے ساتھ ساتھ ایک مبلغ کے روپ میں بھی نظر آتے ہیں جو کراچی کی تاریخ کے فکری زاویوں کو اجاگر کرتے ہیں۔ انہوں نے کراچی کی تاریخ کے قدیم اور جدید قبرستانوں، جن میں چوکنڈی، گورا قبرستان اور دیگر شامل ہیں، کی تاریخ مع تصاویر پیش کی ہے۔ اس سفر میں کھتری صاحب کا یہ انکشاف کہ کراچی دنیا کا واحد شہر ہے جو قبرستانوں میں خود کفیل ہے، کراچی کی تاریخ پر ان کی گہری تحقیق کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے واگھودر اور منگھو پیر کے مگرمچھوں کے قبرستانوں کا ذکر بھی تفصیل سے کیا ہے۔
مستند حوالوں سے مزین علمی کاوش
اس کتاب کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کراچی کی تاریخ کے ذکر کے ساتھ اس کا پہلا ایڈیشن 2014ء میں اور دوسرا ایڈیشن 2024ء میں آیا۔ کھتری صاحب نے کراچی کی تاریخ کے موضوع پر اپنی تحقیق کے لیے 40 اردو، 21 سندھی، 9 انگریزی اور ایک گجراتی کتاب سے استفادہ کیا ہے۔ اس تناظر میں کھتری صاحب نے ثابت کر دیا ہے کہ میمن یا کھتری برادری سے تعلق رکھنے والا شخص بھی ادب اور کراچی کی تاریخ میں کارہائے نمایاں انجام دے سکتا ہے۔ ڈاکٹر اقبال ہاشمانی، سہیل یعقوب اور رمضان بلوچ جیسے ناقدین نے بھی اس کوشش کو سراہا ہے۔
تبصرہ آنے والی کتاب پر
زاہد کلیم: ایک خرد افروز شاعر
زاہد کلیم کی ادبی شخصیت کا تعارف محمد یوسف میر کے مقالے ’’زاہد کلیم: بحیثیت شاعر‘‘ سے ہوتا ہے۔ زاہد کلیم کا تعلق وادی نیلم کے علمی گھرانے سے ہے اور وہ محمد خاں نشترؔ کے صاحبزادے ہیں۔ ان کے والد نہ صرف ایک شاعر تھے بلکہ کشمیر میں سیرت کمیٹی اور انجمن ترقی اردو کے بانیوں میں سے تھے۔ زاہد کلیم نے اپنے والد سے درویشی، سادگی اور علمیت ورثے میں پائی ہے جو ان کے فن میں نظر آتی ہے۔
زاہد کلیم کا ابتدائی عہد اور علم کا شوق
زاہد کلیم جن کا اصلی نام محمد الیاس خاں ہے، 26 جنوری 1954ء کو پیدا ہوئے جو ان کے ادبی سفر کا ایک حصہ ہے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم مسجد کے مکتب اور گورنمنٹ پرائمری اسکول سے حاصل کی۔ اس سفر میں زاہد کلیم اپنی کلاسوں میں پیچھے بیٹھنے کے عادی تھے تاکہ اساتذہ ان سے سوالات کریں اور وہ جواب دے کر انہیں متاثر کر سکیں۔ فنی سفر میں جوش ملیح آبادی سے ان کا تلمذ ایک اہم موڑ ثابت ہوا جہاں زاہد کلیم، غالب، اقبال، انیس اور جوش کے کلام کے حافظ بنے۔
شعری مجموعے اور نظم نگاری میں مہارت
ادبی زندگی کا آغاز زاہد کلیم کی نو بندوں پر مشتمل نظم ’’آتش کدہ‘‘ سے ہوا جس پر جوش ملیح آبادی نے انہیں خراج تحسین پیش کیا۔ اس کے علاوہ ان کے مجموعہ کلام ’’نغمہ تارِ حیات‘‘، ’’محرابِ فکر‘‘ اور نعتیہ مسدس ’’روحِ انقلاب‘‘ ادبی حلقوں میں کافی مقبول ہوئے۔ زاہد کلیم غزل سے زیادہ نظم نگاری میں اپنے جوہر دکھاتے ہیں۔ ان کی نظموں میں معاشرتی عکاسی اور جذباتی گہرائی ان کے فن کا ایک منفرد امتزاج ہے۔
جمال پرستی اور انسانیت کا درس
شاعری میں جمال پرستی کے عناصر وافر مقدار میں موجود ہیں جو زاہد کلیم کے بارے میں ہماری بصیرت کو بڑھاتے ہیں۔ ان کی نظم ’’تصویرِ جاناں‘‘ اور ’’سوزِ غم‘‘ اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ زاہد کلیم ایک ہمہ گیر ادیب ہیں۔ فن پر محمد یوسف میر نے جو مقالہ لکھا ہے، اس میں انہوں نے زاہد کلیم کو ایک راسخ العقیدہ، نفیس مزاج اور خوش گفتار انسان کے طور پر پیش کیا ہے۔ وہ رنگ و نسل سے بالاتر ہو کر انسانی دوستی پر یقین رکھتے ہیں، اسی لیے ان کے چاہنے والے زاہد کلیم سے عشق کی حد تک لگاؤ رکھتے ہیں۔
ادبی سرمایہ اور آخری کلمات
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ زاہد کلیم نے اپنی شاعری کے ذریعے جو نقوش چھوڑے ہیں، وہ ان کے مداحوں کے دلوں میں رہیں گے۔ محمد یوسف میر کا ان کی شاعری پر مقالہ لکھنا اس بات کا ثبوت ہے کہ زاہد کلیم کا فن آنے والی نسلوں کے لیے ایک سرمایہ ہے۔ یہ ادبی رفاقت اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ اردو ادب میں زاہد کلیم کا نام ہمیشہ فخر کے ساتھ لیا جائے گا۔ عزت افزائی کے لیے اللہ تعالیٰ زاہد کلیم کو تادیر صحت و تندرستی کے ساتھ سلامت رکھے۔




