ظہیر بٹ صاحب: ایک کثیر الجہت شخصیت اور روشن خدمات

ظہیر بٹ صاحب

تعارف اور دیرینہ رفاقت

ظہیر بٹ صاحب میرے انتہائی محترم دوستوں میں سے ہیں۔ اتفاق سے ان کی ریٹائرمنٹ کے چند سال بعد میں نے خود اسی اسکول کا چارج بحیثیت ہیڈ ماسٹر سنبھالا اور ۱۱ سال خدمات انجام دیں۔ اپنی ہیڈ ماسٹری کے دوران میں پیشہ ورانہ رہنمائی کے لیے ان سے اکثر ملاقات کرتا رہتا تھا۔ وہ ایک کثیر الجہت شخصیت کے مالک ہیں، ان کے لیے بے ساختہ یہی شعر یاد آتا ہے: ​جن سے مل کر زندگی سے پیار ہو جائے وہ لوگ شاید آپ نے دیکھے نہ ہوں مگر بھی ہیں

اصول پسندی اور اسکول سے محبت

اصولی موقف پر ڈٹ جانا، دلیل سے بات کرنا اور بے لوث دیانت داری ان کا طرۂ امتیاز ہے۔ وہ اپنے اسکول اور بچوں سے بے پناہ محبت کرتے تھے اور رات گئے تک اسکول کے کاموں میں مشغول رہتے۔

تعلیمی بحران میں گراں قدر خدمات اور نیشنلائزیشن

جب بھٹو صاحب کے دور میں اسکول نیشنلائز ہوئے تو یہ اسکول (غالباً برائٹر گرامر ایلیمنٹری اسکول) نارتھ ناظم آباد ‘این’ بلاک میں شفٹ ہو گیا۔ اس زمانے میں اس پورے علاقے میں کوئی گورنمنٹ سیکنڈری اسکول نہیں تھا۔ بچوں کا تعلیمی مستقبل بچانے کے لیےظہیر بٹ صاحب نے سرکاری منظوری کے بغیر ہی اپنے اسکول میں نویں اور دسویں کی کلاسیں شروع کروا دیں۔

وہ بچوں کے فارم علیمیہ گورنمنٹ اسکول سے بھجواتے اور اپنے اساتذہ کو نائنٹھ، میٹرک پڑھانے کا پابند کرتے۔ یہ ان کی بہترین انتظامی صلاحیت اور بے لوث جذبہ تھا جس سے بے شمار غریب و متوسط بچوں کو تعلیم میسر آئی۔

فنی تعلیم، اسکاؤٹنگ اور اساتذہ کی فلاح

انہوں نے اسکول میں اسکاؤٹنگ اور اپنے پاس سے آلات خرید کر فنی تعلیم (ٹیکنیکل ٹریننگ) کا بھی آغاز کیا۔ علاوہ ازیں، نیشنلائزیشن کے بعد جب اساتذہ کو تنخواہیں اور درجات نہیں مل رہے تھے تو انہوں نے ‘نیشنلائزڈ اسکولز ٹیچرز ایسوسی ایشن’ بنا کر بطور جنرل سیکرٹری وزیرِ تعلیم اور دیگر حکام سے اساتذہ کے حقوق کی کامیاب جدوجہد کی۔

خانگی زندگی، آزمائشیں اور وطن سے وابستگی

تمام تر سماجی مصروفیات کے ساتھ وہ خانگی ذمہ داریوں سے کبھی غافل نہ رہے۔ انہوں نے بچوں کی بہترین تربیت کی اور آج ان کے تمام بچے بیرونِ ملک مقیم ہیں۔ ریٹائرمنٹ کے قریب ان کی شریکِ حیات کا انتقال ہوا تو انہیں شدید صدمہ پہنچا۔ بعد میں بچوں کے اسرار پر دوسری شادی کی، مگر چند سال بعد وہ خاتون بھی انتقال کر گئیں۔

ظہیر بٹ صاحب تمام تر آزمائشوں کے باوجود بچوں کے پاس مستقل رہنے کے بجائے اپنے وطن ہی میں مسجد کی انتظامی کمیٹی کے رکن کی حیثیت سے زیادہ وقت عبادت اور خلقِ خدا کی خدمت میں گزار رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی تمام خدمات کو قبول فرمائے، انہیں صحت و سلامتی عطا کرے اور دنیا و آخرت میں سرخرو فرمائے۔ آمین!

اس قسم کے مزید بلاگز پڑھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں

ظہیر بٹ صاحب