حجاب ایک رومانی تصور

حجاب ایک رومانی تصور

حجاب: جستجو، دریافت اور کشش کا فلسفہ

انسان کو اللہ رب العزت نے دریافت، جستجو، تلاش کی فطرت کے ساتھ پیدا کیا ہے، اور اس فطرت کے مطابق ہی دنیا بنا کر اس کے سامنے رکھ دی ہے۔ کائنات کے راز تلاش کرنے کے سارے وسائل اسے مہیا کر دیے۔ عقل و فہم کے ساتھ دل کی دولت، بصارت کے ساتھ بصیرت عطا کی، اور ان کی بدولت تسخیرِ کائنات کی کھلی اجازت دے دی۔ اختیار و انتخاب بھی ودیعت کر دیا۔

اس میں جو پُرکشش چیز ہے، وہ کسی چھپے راز کو دریافت کرنا اور اس اصل تک پہنچنا ہے جو پوشیدہ رکھی گئی ہے۔ «سَخَّرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ» کی مہم ایسی ہے کہ جب تک کوئی پوشیدہ راز منظرِ عام پر نہ آ جائے، لگن، کوشش، محنت کا عنصر نمایاں رہتا ہے، اور جب تک حجاب رہتا ہے، کشش قائم رہتی ہے۔

مؤمن کی زندگی تو حجاب در حجاب کی کشش سے نکل ہی نہیں سکتی۔ «کُلَّ یَوْمٍ هُوَ فِی شَأْنٍ» — ہر صبح، ہر شام، ہر پہر، ہر موسم، ہر آن اس کو نیا جلوہ دکھائی دیتا ہے۔ ہر لمحہ اس کے سامنے نئی سوچ لے کر آتا ہے کہ اس کے رب نے حکمت کے پردے میں اس کے لیے کیا چھپا رکھا ہے۔

حکمت کیا ہے؟ کچھ نہ کچھ حکمت ہوگی، ضرور ہوگی۔ کیا ہے؟ یہ حجاب ہی دراصل زندگی میں ایک کشش اور تھرل کا باعث ہے۔ انسان جب حجابوں سے نکل آتا ہے تو پژمردہ ہو جاتا ہے۔ جب حجاب اٹھ جاتا ہے تو جستجو کی ترنگ ختم ہو جاتی ہے۔

زندگی کی کشش اور حجاب

کائنات کا ہر باسی اسی لیے زندہ ہے کہ زندگی کے لیے کچھ دریافت کرنا باقی ہے۔ وہ رزق جو حجاب میں ہے، اسے تلاش کرنا ہے۔ جب رزق وافر میسر ہو جائے تو بھی «هَلْ مِنْ مَزِیدٍ» کا حجاب شوق و جستجو باقی رکھتا ہے۔

حجاب ایک فلسفۂ زندگی ہے۔ یہ آسمان سے پرے اور تحت الثریٰ تک زندگی کو پُرکشش بنائے ہوئے ہے، اور زمین کے اوپر، آسمان کے نیچے بھی انسانوں کی زندگی اسی جستجو سے عبارت ہے۔

زندہ ہے تو تقدیر کا حجاب ہے۔ کسی کو موت آئے تو اس کے بارے میں زندوں کے لیے حجاب ہی حجاب ہے، اور مردے کے لیے زندوں کی دنیا پسِ حجاب ہے۔

کسی پھل کے ایک بیج میں ذائقے اور رنگ کی کتنی کثرت کے حجاب ہیں۔ ان کی دریافت کی طلب سے ہی باغبان کی زندگی عبارت ہے۔ ایک مخلوط پانی کے ناپاک قطرے کے حجاب میں نیکی و بدی لیے ایک مکمل شخصیت موجود ہے۔ اس کی دریافت ہی سے والدین کی پوری زندگی جڑی ہوئی ہے۔

دریافت کا سفر: پیدائش سے موت تک

ایک مربوط نظامِ زندگی کی ساری کڑیاں کسی نہ کسی دریافت کے ساتھ مربوط ہیں۔ ایک دریافت کے بعد اگلی پہچان کی تلاش، پیدائش سے موت تک، ہر مرحلہ ایک نئی دریافت کا تقاضا لیے کھڑا ہوتا ہے۔

رشتوں میں حجاب اور لحاظ

حجاب انسانوں کے درمیان بھی ہو تو زندگی پُرکشش اور خوب صورت رہتی ہے۔ حجاب کے معنیٰ رشتوں میں لحاظ بھی ہیں۔ عمر، مرتبے، رشتوں یا درجے کا لحاظ ہی ہوتا ہے جو انسانوں کو ایک دوسرے سے دست و گریباں ہونے سے روکتا ہے۔

ایک حجاب قائم رہتا ہے درمیان میں، جو اخلاق کا دامن ہاتھ سے چھوٹنے نہیں پاتا، آنکھوں کا پانی مرنے نہیں دیتا، زبان کو بے قابو ہونے سے روکتا ہے۔

انسانوں کے درمیان نیتوں اور دل کے ارادوں کا حجاب میں رہنا ایک نعمت ہے۔ گھر اور گھر کے کمروں کے در و دیوار کا حجاب بھی نعمتِ عظمیٰ ہے۔ پرائیویسی کا تصور حقیقت میں دوسروں سے پسِ پردہ رہنا ہے۔ کسی بھی عمل کو راز میں رکھنے کی تمنا حجاب ہی ہے۔

حجاب اور زندگی کا حسن

زندگی کے حسن کا کمال دراصل حجاب کا جمال ہے۔ جب حسن و جمال بے نقاب ہوا تو وہ جستجوئے جلوۂ جاناں ختم ہو گئی۔ معلوم یہ ہوا کہ جستجو ہی رومانی احساس ہے۔

حجاب ایک رویہ ہے، ایک تہذیب ہے، پورا فلسفۂ زندگی ہے، جو سوچ سے لے کر عمل تک اور جسم سے روح تک کلام کرتا ہے۔

جسم کے حجاب سے روح کے اسرار تک

جسم پہ کپڑے کا حجاب ہے تو روح پہ جسم کا حجاب ہے۔ مہم جوئی یہ ہے کہ دریافت روح کی کرنا ہے جو انسان کی اصل ہے۔ جو روح کے اسرار تک پہنچ گیا، وہ اپنے مطلوبِ حقیقی تک پہنچ جائے گا۔

اس اسرار کی کامیاب دریافت کا تعجب خیز معاملہ یہ ہے کہ جسم بے حجاب نہ ہو۔ اگر جسم بے حجاب ہوا تو روح کا عقدہ نہیں کھلے گا اور انسان اپنی مہم جوئی کو غلط سنگِ میل کے حوالے کر دے گا۔

درست جستجو، درست راستہ

ضروری یہ ہے کہ جستجو درست چیز کی ہو اور حاصل کرنے کا طریقہ بھی غلط نہ ہو۔ جو انسان یہ ہی طے نہ کر پائے کہ اسے کس کی تلاش کرنی ہے، اس کو ظاہری چیزوں کی جستجو ظاہری پردے اٹھانے پر مجبور کرتی ہے۔

اور روح کی گہرائیوں اور مطلوب تک پہنچنے کے لیے جس احساسِ ایمانی کی ضرورت ہوتی ہے، وہ نامکمل ہو تو جسم کی بے حجابی پہ ہی نگاہ ٹھہر جاتی ہے۔

روح کی اصل یا خودی کو دریافت کرنے کا پہلا مرحلہ ہی ناکام ہو گیا تو اگلے مرحلے میں پہنچنے کی باری کا موقع بھی ختم ہو جاتا ہے۔ خودی کے اسرار علم کے سمندر کی گہرائیوں میں جا کر کھوجنے پڑتے ہیں۔

ایسی مہم سر کرنے کے مرحلے نٹ کھٹ لوگوں کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ جس مالکِ کائنات نے حجابوں کی یہ دنیا انسان کے حوالے کی ہے، اس نے اس مہم کو سر کرنے کا جو انعام رکھا ہے، وہ بھی حجابوں میں ہے۔ منعمِ حقیقی خود بھی حجاب میں ہے۔

محبوبِ حقیقی تک پہنچنے کی جستجو

اور اس کا حجاب میں رہنا ہی ایک کشش کا باعث ہے۔ اس تک پہنچنے کے لیے محبت کے ساتھ جستجو، کوشش، محنت ہی مومن کے دل کا رومانس ہے۔

انسان کے دل میں جس چیز کے حصول کی تمنا خوشی کا ارتعاش پیدا کرے، اور تمنا بے تاب و بے قرار رکھے، کسی پل چین نہ آئے، ہر طرف اسی کا جلوہ نظر آئے، یہی تو رومانی احساس ہے۔

پردے اور حجاب نے ہی تو روح کی بے کلی بڑھا رکھی ہے۔ یہ حجاب ہی تو لہو کو گرمائے رکھتا ہے کہ کب جلوۂ جاناں نظر افروز ہوگا۔

پردوں میں چھپی جنتوں سے رومانی احساس وابستہ کرنے والے اپنی زندگی میں حجاب کلچر سے وابستہ رہتے ہیں۔ وہ رشتوں میں ہو تو مٹھاس ہے، معاملات میں ہو تو سکون و عافیت ہے، جسم کا حجاب ہو تو عزت ہے۔

اور جو اپنے محبوبِ حقیقی کے وجہِ کریم اور اپنی آنکھوں کے درمیان حجاب اٹھنے کے انتظار میں ہے، اس کو تو اپنی زندگی، جان، مال سمیت پیش کرنا ہی ہوگی، کہ محبوب کے جمال سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرنے کے لیے پہلے خود کہیں حجابوں کی پابندی کرنا ہوگی اور کہیں بہت سے اسرار کے حجاب اٹھانے ہوں گے۔

حجاب: زندگی کا امتحان اور دیدارِ الٰہی کا انعام

حجاب کب، کہاں قائم رکھنا ہے، کب، کہاں حجاب کے اسرار کی کھوج لگانی ہے، اختیار و انتخاب کی آزادی کے ساتھ یہی زندگی کا امتحان ہے، اور اسی امتحان میں کامیابی کا انعام دیدارِ الٰہی ہے۔

بشریٰ تسنیم

اس قسم کے مزید بلاگز پڑھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں

حجاب

  • Bushra Tasneem

    ڈاکٹر بشریٰ تسنیم ایک معروف مصنفہ، کالم نگار اور مبلغ ہیں جن کا تعلق جماعت اسلامی کے بانی گھرانے سے ہے۔ وہ درجنوں کتابوں اور سفرناموں کی مصنفہ ہونے کے ساتھ ساتھ ادبی تنظیم ”حریم ادب“ اور مجلہ ”حریم“ سے وابستہ رہی ہیں۔ انہوں نے ممتاز دینی اسکالرز سے کسبِ فیض کیا اور صحافت میں گریجویشن کی۔ وہ پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں خواتین کی تربیت اور دینی خدمات سرانجام دے رہی ہیں، اور آج کل اپنا تمام وقت قلم، قرآنی کلاسز اور سوشل میڈیا کے ذریعے تربیتی کام کے لیے وقف کیے ہوئے ہیں۔

    View all posts