فوجی: ایک، کہانیاں بے شمار

<div dir=”rtl” align=”right”>

فوجی: ایک، کہانیاں بے شمار

وردی سے نکلتے ہوئے الفاظ، جو ادب بھی ہیں اور تاریخ بھی

یہ بڑی حیرت کی بات ہے کہ پاکستانی ادب کی کئی روشنیاں دراصل فوج کی خاکی وردیوں سے پھوٹی ہیں۔ کرنل محمد خان نے ’بجنگ آمد‘، ’بسلامت روی‘، ’بدیسی مال‘ اور ’بزم آرائیاں‘ کے ذریعے جنگ کے سخت ماحول میں بھی ہنسی کا چراغ جلایا۔ عنایت اللہ التمش نے 1965 اور 1971 کی جنگوں کے سچے واقعات اور تاریخی ناولوں سے تاریخ کو زندہ کر دیا۔ بریگیڈیئر صدیق سالک نے ’میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا‘ میں سکوتِ ڈھاکہ کا کرب لکھا اور ’سلوٹ‘ اور ’حمیانہ دوزخ‘ میں مزاح کو نئی جہت دی۔ ڈاکٹر شفیق الرحمن نے بطور ڈاکٹر اور جنرل اپنی زندگی کے تجربات ’شعاعیں‘، ’لہریں‘، ’موجِ در موج‘ اور ’دجلہ‘ میں اس خوبصورتی سے سموئے کہ مزاح اور رومان دونوں کو نئی جان ملی۔

فیض احمد فیض نے کیپٹن کی حیثیت سے فوج میں گزارے وقت کو اپنی شاعری کی گہرائیوں میں کہیں نہ کہیں بسا لیا۔ بریگیڈیئر شاہ حسین نے ’جنرل بسم اللہ‘ اور پھر بریگیڈیئر صولت رضا نے ’کاکولیات‘ کے ذریعے کیڈٹوں کی شوخیوں اور جدوجہد کو ہنستے مسکراتے لفظوں میں قید کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی جنرل مرزا اسلم بیگ کی ’سولجرز اسٹوری‘، جنرل ضیاء الحق کی ’مائی لائف مائی کمانڈ‘ اور جنرل اے کے نیازی کی ’وٹنس ٹو سرینڈر‘ جیسی کتابیں اپنی اپنی جگہ تاریخ کی اہم گواہیاں ہیں۔

یہ سب تحریریں ثابت کرتی ہیں کہ جب قلم اور وردی ایک ہی انسان میں اتر آتے ہیں تو الفاظ صرف ادب نہیں بنتے بلکہ تاریخ بھی بن جاتے ہیں۔

یو ٹیوب پر مکمل طیدعہ دیکھنے کے لیئے  اس امیج پر پریس کرین

 

 

عسکری ادب کی ایک منفرد روایت

عسکری ادب کی خاص بات یہ ہے کہ زیادہ تر فوجی یہ کتابیں ریٹائرمنٹ کے بعد ہی لکھتے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ ریٹائرمنٹ کے باوجود بھی انہیں اپنی کتابوں کی پہلے سے منظوری لینی پڑتی ہے۔

اسی عسکری ادب میں ایک خوبصورت اضافہ بریگیڈیئر (ر) صلاح الدین (ستارۂ امتیاز ملٹری) کی کتاب ’فوجی: ایک، کہانیاں بے شمار‘ ہے، جو انہوں نے ریٹائرمنٹ کے 22 سال بعد لکھی۔

ایک پرانے فوجی کی سچی داستان

وہ لکھتے ہیں کہ یہ ایک پرانے فوجی کی سچی داستان ہے، جو دوستوں، رشتہ داروں اور جاننے والوں کے بے حد اصرار پر ریٹائرمنٹ کے 22 سال بعد لکھی گئی ہے۔ یہ اپنی یادداشتوں، باقاعدہ لکھی گئی ڈائریوں اور مختلف دستاویزات پر مبنی ہے۔ اس میں کوئی دروغ گوئی نہیں ہے۔

اپنے قلم سے لکھی ہوئی تحریر کو ایک ادارے سے ٹائپ کروا کر جنرل ہیڈ کوارٹر (GHQ) سے منظور کروایا اور زیادہ وقت ٹائپ کیے ہوئے مسودے کی غلطیوں کو درست کرنے میں لگا۔

252 صفحات پر مشتمل اس کتاب کی قیمت صرف 800 روپے ہے، جو پیراماؤنٹ بکس پر دستیاب ہے۔ کتاب کی طباعت، جلد بندی اور کاغذ بہت عمدہ ہے۔

کتاب کے مندرجات: ایک پوری زندگی کا سفر

سب سے پہلے تو میں آپ کو بتا دوں کہ کتاب کے مندرجات کیا ہیں۔ اس میں چھوٹے چھوٹے واقعات ہیں، جنہیں آپ کبھی ایک نشست میں ایک پڑھیں اور دوسری نشست میں دوسرا۔

کتاب میں پیدائش اور جدِ امجد، بچپن کی کچھ یادیں، پاکستان آمد اور پاکستان میں شروع کے دن، مشکلات کے چند سال، کالج کا زمانہ، فوجی زندگی کا آغاز، پی ایم اے کاکول میں کیڈٹ کے ڈھائی سال، پہلا فوجی یونٹ، ملٹری کالج آف انجینئرنگ کے تین سال، انجینئرنگ بٹالین کوئٹہ، شادی اور ازدواجی زندگی، رن آف کچھ کا جنگ سے پہلے کا ایک افسوسناک واقعہ، 1965 کی جنگ لاہور میں اور میجر کے رینک میں ترقی، ملیشیا اور ملتان میں پوسٹنگ، کوئٹہ اسٹاف کالج کی زندگی، ضلع خاران میں مارشل لا ڈیوٹی اور اسٹاف کالج میں پوسٹنگ جیسے ابواب شامل ہیں۔

اس کے بعد 1971 کی جنگ کا زمانہ، جی ایچ کیو (GHQ) کی پہلی پوسٹنگ، 102 انجینئر بٹالین کی کمانڈ، انجینئر ٹو کور میں اسٹاف ڈیوٹی، جی ایچ کیو میں دوسری پوسٹنگ، فوجی سروس کے آخری 10 سنہری سال، کمانڈر انجینئر 10 کور، وزارتِ خارجہ میں ڈیوٹی، چترال پوسٹنگ، 475 آرمی انجینئر گروپ کا زمانہ، آرمی ڈیفنس کورس اور پاکستان نیوی میں سروس سمیت ریٹائرمنٹ سے پہلے آخری کمانڈ کا ذکر ہے۔

ریٹائرمنٹ کے بعد کی زندگی میں پورٹ قاسم کے ڈھائی سال، ایف ڈبلیو او ویلفیئر، ملیشیا کا دورہ اور لوکل نظام، اپنے علاقے کی خدمت، ایگزیکٹو سیکرٹری CITL، تحریکِ محصورینِ مشرقی پاکستان کی صدارت، کرکٹ سے وابستگی، پاکستانی جونیئر کرکٹ ٹیم کا دورۂ زمبابوے و کینیا، ویٹرن کرکٹ اور کرکٹ کے دوستوں کا ذکر بھی ملتا ہے۔

کتاب کے آخری حصے میں متفرق خطوط، لکھنے کا انعام و شوق، ’ہزاروں خواہشیں ایسی۔۔۔‘، میری زندگی میں سفر، اسکول اور کالج کے دوست، فوجی دوست، میرے مہربان معین اختر، میرے مشہور پڑوسی، میرے رشتہ دار، پاکستان: ایک عجائب ملک، اللہ تعالیٰ کا ہندوستانی مسلمانوں کے لیے انعام، دنیاوی زندگی کی اہمیت اور پاکستان ایک بہترین ملک جیسے موضوعات شامل ہیں۔

چند الفاظ، صرف دلچسپی پیدا کرنے کے لیے

یہ میں نے آپ کو صرف فہرست اس لیے سنائی ہے تاکہ آپ میں دلچسپی پیدا ہو اور اس میں آپ بڑے دلچسپ واقعات سنیں گے۔ خصوصاً معین اختر کا واقعہ بہت دلچسپ ہے۔

اس کتاب میں صلاح الدین صاحب نے بڑی تاریخی اور نادر تصویریں بھی شامل کی ہیں۔ مثلاً 1945 میں مدرسہ ابتدائی جامعہ نگر دہلی سے ملنے والا وہ سرٹیفکیٹ بھی شامل ہے جس میں سب سے اوپر ”جاگو اور جگاؤ“ تحریر ہے، جو بعد میں حکیم سعید صاحب کی زندگی کا مشن بنا۔

حکیم شجاع الدین اور خاندان کی ابتدائی زندگی

بریگیڈیئر صلاح الدین صاحب کی پیدائش اپنے والد کے نانا حکیم شجاع الدین کے دیوان خانے میں ہوئی، کیونکہ ان کے والد اپنے نانا کی لے پالک اولاد تھے۔

حکیم شجاع الدین صاحب شاندار شخصیت، صاحبِ حیثیت اور فیاض تھے۔ انہوں نے اپنی جائیداد کا کچھ حصہ صلاح الدین صاحب کے والد کے نام کر دیا تھا۔

اس کتاب میں نانا کی اس بگھی کی تصویر بھی موجود ہے جس پر وہ روزانہ شام کو پورے شہر کی سیر کو جاتے تھے اور کبھی کبھی صلاح الدین صاحب بھی ان کے ہمراہ ہو تھے۔

ان کے نانا ان کے والد کی ہر خواہش پوری کرتے تھے اور اس دور میں انہیں ٹرمپ موٹر سائیکل اور بعد میں اوپل کار بھی دلوائی۔

جائیداد سے محرومی اور ہجرت کا کرب

پھر بعد کے حالات کا تذکرہ ہے کہ ان کے انتقال پر کس طرح حکیم شجاع الدین کے بھائی نے ساری جائیداد پر قبضہ کر لیا اور صلاح الدین صاحب کی دادی، جو شجاع الدین صاحب کی اکلوتی بیٹی تھیں، انہیں ہر چیز سے محروم کر دیا گیا۔

اچھا، قبضہ گیری کا رواج تو پاکستان بننے کے وقت سے ہی ہے؛ کیونکہ دہلی کے اچانک فسادات کے بعد جب یہ خاندان لٹ پٹ کر کراچی آیا تو کافی عرصے جیکب لائنز، جمشید روڈ، لالو کھیت اور آرام باغ وغیرہ کے علاقوں میں کرائے کے مکان بدلتے رہے۔

جہاں کوئی سہولیات نہیں ہوتی تھیں، سائیکل کے دونوں طرف ڈرم لٹکا کر دور سے پانی بھر کر لانا پڑتا تھا۔

برنس روڈ کا فلیٹ اور ایک بڑا صدمہ

اللہ اللہ کر کے برنس روڈ پر گراؤنڈ فلور کا ایک فلیٹ پگڑی پر مل گیا۔

پھر ان کے والد کے طبیہ کالج کے استاد ڈاکٹر سمیع اللہ صاحب جب ملنے آئے تو فلیٹ دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور مشورہ دیا کہ میں اور آپ مل کر اس فلیٹ میں ایک مشترکہ دواخانہ چلائیں گے۔

ان کے والد راضی ہو گئے اور گھر والوں کی مخالفت کے باوجود انہوں نے اپنے گھر والوں کو کہیں اور منتقل کر دیا اور خود چند روز کے لیے دہلی چلے گئے تاکہ وہاں اپنے کچھ اثاثے بیچ کر معاشی حالات بہتر بنائیں۔

وہاں ان کو ناکامی ہوئی۔ چار ماہ بعد جب واپس آئے تو انہیں زندگی کا سب سے بڑا صدمہ یہ ملا کہ ان کے استاد ڈاکٹر سمیع اللہ اپنے وعدے سے مکر گئے اور اس فلیٹ پر انہوں نے قبضہ کر لیا۔ اس طرح وہ فلیٹ ان کے ہاتھ سے نکل گیا۔

ڈی جے کالج: زندگی کا درخشاں زمانہ

اس کتاب میں ڈی جے کالج کی زندگی کا بڑا ذکر ہے۔ وہ ڈی جے کالج میں پڑھتے تھے۔ لکھتے ہیں:

”ڈی جے کالج میں گزرے سال میری زندگی کا درخشاں زمانہ تھے۔ کالج نہ صرف تعلیم کے لحاظ سے اول درجے کا تھا بلکہ کھیل اور ثقافتی سرگرمیوں میں بھی اس کا نمبر ایک مانا جاتا تھا۔ اسٹوڈنٹ یونین کے الیکشن، سالانہ میلے، مختلف لوگوں سے ملاقاتیں اور سالانہ اسپورٹس فیسٹیول باقاعدگی سے منعقد ہوتے تھے۔“

وہ مزید لکھتے ہیں:

”انٹر کالج اسپورٹس مقابلوں میں زیادہ تر لوگ کالج کی ٹیم کو انکریج کرتے تھے۔ پروفیسر صاحبان ساری سرگرمیوں کو پسند کرتے تھے اور شامل بھی ہوتے تھے۔ غرض پڑھائی کے علاوہ پورا سال اچھی ایکٹیویٹیز میں گزرتا تھا کیونکہ یہ کو-ایجوکیشن کالج تھا، لہٰذا اس کے اپنے ہی رنگ تھے۔ لڑکیاں نہ صرف تعلیم میں پوزیشن حاصل کرتی تھیں بلکہ ٹیبل ٹینس اور بیڈمنٹن کے مقابلوں میں بھی حصہ لیتی تھیں، سالانہ مکس کرکٹ میچ بھی ہوتا تھا۔“

کالج کے مشہور ہم جماعت

انیتا غلام علی مشہور طالبہ تھیں جو ٹیبل ٹینس کی اچھی کھلاڑی تھیں۔ اس کے علاوہ بھی انہوں نے اپنے کالج کے کئی لوگوں کا ذکر کیا ہے، جن میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ڈاکٹر ادیب رضوی شامل ہیں۔

اسی طریقے سے عبدالحفیظ پیرزادہ، جو ان کے کرکٹ کے ساتھی بھی تھے، پھر فلم اسٹار وحید مراد صاحب کا ذکر کیا، جو تین سال جونیئر تھے اور باقاعدہ کالج آتے تھے۔

اس کے علاوہ دو کھلاڑی پاکستان کی ٹیبل ٹینس ٹیم کے چیمپئن بھی رہے اور کچھ سیاسی زندگی میں چلے گئے۔

ایک بڑی دلچسپ بات انہوں نے لکھی ہے:

”ابھی کچھ عرصہ پہلے ایک صاحب نے مجھ سے سوال کیا تھا کہ اگر آپ کو پچھلی زندگی مل جائے تو کس زمانے میں جانا پسند کریں گے؟ تو میرا جواب تھا: کالج کی زندگی۔“

1955: کرکٹ ٹیم کا ہندوستان کا سفر

اس میں ایک بہت بڑا اور دلچسپ قصہ 1955 کا ہے۔

چونکہ کرکٹ کے شوقین تھے، کرکٹ ٹیم وغیرہ بنائی تھی اور شوق ہوا کہ ہندوستان جا کر وہاں کرکٹ کھیلی جائے۔ علی گڑھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی طرف سے ان کی ٹیم کو دعوت نامہ آ گیا کہ آپ آئیے اور ہمارے ہاں آ کر میچ کھیلیے۔

   زمانہ تھا ۱۹۵۵ کا ، پیسے تھے نہیں۔ پوری ٹیم کے جانے کے اخراجات 5,000 روپے تھے، وہ بھی اکٹھا نہیں ہو پائے۔ کچھ لوگوں نے چندہ دیا اور اس طریقے سے وہ روانہ ہوئے۔

اب آئیے اس دلچسپ قصے کی طرف جو انہوں نے علی گڑھ یونیورسٹی میں دیکھا۔

”ہمارے استقبال کے لیے علی گڑھ یونیورسٹی کے صدر سینکڑوں طلبہ کے ساتھ پلیٹ فارم پر موجود تھے۔ ٹیم کے لیے الگ بس کا انتظام تھا۔ جلوس کی شکل میں گاتے بجاتے یونیورسٹی کے مہمان خانے پہنچے۔ کھانے کا شاندار انتظام تھا۔ یہ مہمان نوازی رات 12 بجے تک جاری رہی۔“

اگلے دن دو روزہ میچ کا آغاز ہوا جسے دیکھنے سینکڑوں طلبہ و طالبات آئے۔ شام کو ان کا تعارف اسٹوڈنٹ یونین ہال، جو اسٹریچی ہال  کہلاتا ہے، میں ہوا۔ یہ ہال علی گڑھ یونیورسٹی کے طلبہ سے بھرا ہوا تھا اور اوپر کی گیلری طالبات سے بھری ہوئی تھی۔

 پاکستان کا ترانہ اور ایک یادگار لمحہ لیکن ٹیم پر سناٹا چھا گیا جب اوپر گیلری سے ایک طالبہ کی آواز آئی  آپ ہمیں پاکستان کا ترانہ سنائیے آئی

یونکہ، ان کے بقول، ان سمیت پورا ترانہ کسی کو بھی یاد نہ تھا۔

کچھ دیر خاموشی کے بعد ان کے ایک کھلاڑی آفتاب عالم نے، جو اچھا سنگر بھی تھا، نامکمل ترانہ سنایا جس سے ٹیم کی شرمندگی میں کچھ کمی ہوئی۔

ایسے بہت دلچسپ واقعات ہندوستان کے دورے کے حوالے سے کتاب میں موجود ہیں۔

فوجی زندگی کے چھوٹے بڑے واقعات

انہوں نے اپنی عسکری زندگی کے چھوٹے چھوٹے واقعات بھی بیان کیے ہیں۔

لکھتے ہیں کہ ایک بار ان کے کمانڈنگ آفیسر کو حکم دیا گیا کہ مائن فیلڈ لگانے کا پلان تیار کریں اور وہ پلان لا کر سبمٹ کریں۔ یہ ذمہ داری ان کے سپرد کی گئی اور وہ وہاں چلے گئے۔

جس کمپنی کے ذمے یہ کام تھا، اس کمپنی سے کہا گیا۔ وہاں پہنچے تو حیران ہو گئے کہ پلان تو بڑی دور کی بات ہے، وہاں تو مائن فیلڈ لگنی شروع ہو گئی تھی۔

جب انہوں نے بتایا کہ ”سر، مائن فیلڈ لگانی نہیں ہے بلکہ صرف پلان تیار کر کے لے جانا ہے“ تو انہیں سختی سے جھڑک بھی دیا گیا۔

ایک حادثہ اور ذمہ داری کا بوجھ

بعد میں ایک حادثہ ہوا۔ مائن ڈمپ پھٹا اور، ان کے مطابق، سات لوگ شہید ہو گئے، لیکن ملبہ سارا ان کے سر گر گیا۔

حالانکہ یہ تو بیچارے صرف پیغام لے کر گئے تھے کہ آپ لوگوں کو مائن فیلڈ لگانے کا پلان بنانا ہے اور پلان لے کر سبمٹ کرنا ہے۔ لیکن جب حادثہ ہوا تو ساری چیز ان کے گلے میں ڈال دی گئی کہ ”ان کے حکم پر ہم وہ مائن فیلڈ لگا رہےتھے، کہتے ہیں نا کہ  وقت کرتا ہے پرورش برسوں، حادثہ ایک دم نہیں ہوتا!

اس واقعے میں بھی کچھ چیزیں ایسی ہیں جو عجیب و غریب سی ہیں، جنہیں پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ واقعی حادثہ ایک دم نہیں ہوتا۔

خاران: مارشل لا ڈیوٹی کا ایک عجیب واقعہ

آج کل جو بلوچستان کے حالات ہیں، جو خاران کے حالات ہیں، اس پر انہوں نے ایک بڑا عجیب و غریب واقعہ بیان کیا ہے، جب ان کی خاران میں مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کے طور پر ڈیوٹی لگائی گئی۔

ایک نوجوان ڈپٹی کمشنر اس زمانے میں خاران کے سارے معاملات دیکھتے تھے۔ وہ بھی اپنی خوشی سے وہاں نہیں تھے۔ ان کا تعلق گوجرانوالہ سے تھا، لیکن چونکہ کچھ خاندانی تنازعات ہو گئے تھے، اس لیے انہیں بطور سزا خاران بھیج دیا گیا  تھا کہنے لگے  ”میں نے وہاں جا کر سب سے پہلے اپنے آنے کا مقصد اور مارشل لا ڈیوٹی کو بتایا اور اپنے لیے الگ دفتر کا مطالبہ کیا۔ وہ افسر کہنے لگا: ’مجھے بہت خوشی ہے کہ آپ آ گئے، ایک اچھی کمپنی مل جائے گی کیونکہ میں یہاں اکیلا رہتا ہوں۔ آپ میرے ساتھ ہی رہیے، میرا دفتر بھی استعمال کریں۔‘ میں نے کہا: ’بطور مارشل لا آفیسر میں سول انتظامیہ سے الگ رہ کر یہاں کام کروں  گا وہ افسر کہنے لگا یہاں ایک بنگلے میں ریسٹ ہاؤس ہے لیکن وہاں بجلی اور پانی کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ آپ سوچ لیں کہ آپ وہاں کس طرح گزارا کریں گے۔ پورے ڈسٹرکٹ خاران میں بجلی کا نظام ناپید ہے۔ مجھ سمیت کئی لوگ رات کو جنریٹر چلاتے ہیں یا دوسرے ذرائع سے گزارا کرتے ہیں۔ یہاں پانی کا کوئی نظام نہیں ہے، پورا ٹاؤن ایک مرکزی ٹینک سے پانی لیتا ہے جو زیرِ زمین کاریز سے ملا ہوا ہے۔ میرے پینے کا پانی دو پخالوں میں بس کے ذریعے نوشکی سے آتا ہے اور بس دن میں دو دفعہ چلتی ہے۔ یہاں ٹیلی فون بھی اکثر کام نہیں کرتا ہے، ہم نوشکی جا کر کوئٹہ بات کرتے ہیں۔ آپ میرے ساتھ ڈپٹی کمشنر ہاؤس میں رہیے، جو کچھ مجھے میسر ہے وہ حاضر ہوگا۔“

غربت، تنہائی اور بے مقصد تعیناتی

خاران کا علاقہ باؤنڈری پر ایران کے ضلع خاش سے ملا ہوا تھا، جہاں سے جانوروں کی تجارت بہت آسانی سے ہوتی تھی۔ آنا جانا کوئی مسئلہ نہیں تھا اور بارڈر کے پار آنا جانا لوگوں کا معمول تھا۔

یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ خاران میں رہنے والے لوگ بہت ہی غریب تھے۔ ایک ہی بازار تھا جس میں روزمرہ کی ہر چیز مل جاتی تھی۔ نہ کوئی سیاسی جماعت تھی، نہ پولیس کارروائی ہوتی ہوئی نظر آئی پھر لکھتے  ہیں میں سوچ رہا تھا کہ یہاں مارشل لا لگانے کا کیا مقصد ہے؟ میری تعیناتی قطعاً بے مقصد تھی :

بتاتے ہیں کہ بطور مارشل لا آفیسر میں نے کسی کے خلاف کوئی کیس بنایا اور نہ ہی یہاں کوئی سیاسی ہنگامہ ہوا۔

خاران میں 1955 میں غربت انتہا کی تھی۔ کسی قسم کے کوئی سیاسی مسائل نہیں تھے۔ ایران کے ساتھ بارڈر کھلا ہوا تھا، آزادی سے آنا جانا تھا اور وہاں کوئی ایشو نہیں تھا۔

ہاں، کسی قسم کی کوئی زندگی کی سہولیات نہیں تھیں۔

اس کے باوجود وہاں مارشل لا آفیسر کو بٹھایا گیا، جو تین مہینے مکھیاں مار کر آ گیا کہ وہاں ایسی کوئی چیز تھی ہی نہیں۔

بلوچستان کے لیے ایک بڑا سوال

میں سمجھتا ہوں کہ ہم لوگ آج کل جو کچھ خاران میں اور بلوچستان میں دیکھتے ہیں، شاید یہ اسی کا ردِعمل ہے۔

غربت اپنی انتہا پر تھی، لیکن کسی کو غربت ختم کرنے کی کوئی پروا نہیں تھی۔ پنجاب سے جا کر ڈپٹی کمشنر وہاں راج کرتا تھا، لیکن غربت اسی انتہا کی تھی۔

ساتھ ہی ساتھ ان ہنگاموں کو دبانے کے لیے، جن کا سرے سے کوئی وجود نہ تھا، وہاں مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کو تعینات کر دیا گیا۔

کاش یہ کوششیں اس وقت بلوچستان کو خوشحال بنانے میں کی جاتیں!

وزارتِ خارجہ میں ایک دلچسپ واقعہ

ایک اس میں بڑا دلچسپ قصہ ہے جب ان کی وزارتِ خارجہ میں ڈیوٹی لگائی گئی تھی۔

یہ 1981 کا واقعہ ہے کہ حکومتِ پاکستان کی طرف سے اسلامی ممالک کے وزراء کی کانفرنس کا اعلان ہوا تھا۔ تمام اسلامی ممالک کے وزراء یہاں آئے ہوئے تھے۔

لکھتے ہیں ”ایک بار ہوا یوں کہ چند عرب ڈیلیگیٹس نے فرمائش کی کہ ہمیں رات کے کھانے کے بعد بیڈ روم میں تربوز چاہیے۔ ہماری کمیٹی پریشان ہو گئی کیونکہ یہ موسم پاکستان میں تربوز کا نہیں تھا:

وہ اپنے جوائنٹ سیکرٹری کو داد دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ انہوں نے کانفرنس کے دوران اپنے عہدے کا پورا فائدہ اٹھایا اور ایک چھوٹا ہوائی جہاز قریب کے عرب ملک میں بھیج کر وہاں سے تربوز منگوائے۔

رات کو کھانے پر وہ تربوز سرو کر دیے گئے۔

یہ بھی اسی کتاب میں موجود ان بے شمار دلچسپ واقعات میں سے ایک ہے، جو ایک فوجی افسر کی زندگی کے مختلف رنگ ہمارے سامنے لے آتا ہے۔

ایک کتاب، ایک زندگی، اور بے شمار کہانیاں

’فوجی: ایک، کہانیاں بے شمار‘ محض ایک فوجی افسر کی یادداشتیں نہیں بلکہ ایک ایسے دور کی جھلک بھی ہے جس میں ہجرت کا دکھ، غربت کی تلخی، کالج کی خوشگوار یادیں، کرکٹ کا شوق، فوجی زندگی کے تجربات، جنگوں کے واقعات، سرکاری ذمہ داریاں، پاکستان کے مختلف علاقوں کی زندگی اور بے شمار انسانی کردار ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں۔

یہ کتاب ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ زندگی صرف بڑے واقعات کا نام نہیں۔ کبھی ایک بگھی کی تصویر، کبھی کالج کی کوئی یاد، کبھی علی گڑھ کا ایک دلچسپ واقعہ، کبھی خاران کی بے مقصد تعیناتی اور کبھی کانفرنس میں تربوز منگوانے کا واقعہ بھی پوری زندگی کی کہانی کا حصہ بن جاتا ہے۔

اور شاید یہی اس کتاب کی اصل خوبصورتی ہے کہ ایک فوجی کی زندگی میں کہانیاں ایک نہیں، بے شمار ہیں۔