سوشل میڈیا اور ہم!!! — سماجی ہونا یا سماجی دکھائی دینا

!!!سوشل میڈیا اور ہم

انگریز نے جب ہندوستان میں اپنے قدم جما لیے اور حکمران بن بیٹھا تو چونکہ وہ اپنے دوستوں اور دیگر رشتہ داروں کو پیچھے چھوڑ آیا تھا، اس لیے شاید اسے یہ ثابت کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی کہ وہ بھی ایک سماجی حیوان ہے۔ چنانچہ اس نے اپنے ہم رنگ، ہم نسل، ہم منصب، ہم نوالہ، ہم پیالہ اور نہ جانے کتنے ہی ’’ہم‘‘ لوگوں کے ساتھ وقت گزارنے اور سماجی سرگرمیوں کے لیے ہندوستان میں جم خانے اور کلب بنائے۔ انہیں صرف اپنے لوگوں تک محدود رکھنے کے لیے، مشہور روایت کے مطابق، باہر ایسے بورڈ بھی آویزاں کیے گئے جن پر لکھا ہوتا تھا: ’’کتوں اور ہندوستانیوں کا داخلہ ممنوع ہے۔‘‘ سوشل میڈیا کے دور سے بہت پہلے بھی سماجی فاصلے اپنی مختلف شکلوں میں موجود تھے۔

!بورڈ اتر گئے، ذہنیت باقی رہ گئی

انگریز چلے گئے، قوم آزاد ہوگئی اور جم خانوں اور کلبوں سے وہ بورڈ بھی اتر گئے، لیکن میرا خیال ہے کہ وہ بورڈ آج بھی آویزاں ہیں، بس اب نظر نہیں آتے۔ آج بھی مخصوص سماجی حیثیت رکھنے والے لوگ ہی ان کلبوں میں جلوہ گر ہوتے ہیں۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ اگر ان کے رشتہ دار، خصوصاً وہ جو سماجی حیثیت میں ان کے ہم پلہ نہ ہوں، ان سے ملنے کے خواہش مند ہوں تو جواب ملتا ہے: ’’ہم مصروف ہیں، کلب جا رہے ہیں۔‘‘ سوشل میڈیا نے بھی سماجی تعلقات کی نئی شکلیں ہمارے سامنے رکھی ہیں۔

یعنی نوٹس تو آج بھی موجود ہے، البتہ اب اس پر لکھی عبارت مقامی ضروریات کے مطابق بدل گئی ہے۔ سوشل میڈیا کے دور میں بھی بعض سماجی رویے اپنی پرانی شکلوں میں دکھائی دیتے ہیں۔

!جب ملاقات بھی آن لائن ہوگئی

ہم سب جانتے ہیں کہ انسان ایک سماجی حیوان ہے، اور اگر اس میں سے ’’سماجی‘‘ نکال دیں تو صرف حیوان رہ جاتا ہے۔ انسان کی اسی سماجی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے ہر دور میں نت نئے ذرائع اور طریقے متعارف ہوتے رہے ہیں۔ موجودہ دور سماجی ذرائع ابلاغ، یعنی سوشل میڈیا کا دور ہے۔ لیکن بدقسمتی سے سوشل میڈیا نے ملاقات کے معنی ہی بدل دیے ہیں۔

اب ملنا بھی آن لائن ہوگیا ہے۔ ملاقات آن لائن ہوتی ہے، بات چیت اسکرین پر ہوتی ہے، خوشی اور غم کے اظہار کے لیے چند الفاظ اور چند ایموجیز کافی سمجھے جاتے ہیں، لیکن زندگی کے آخری لمحات بعض اوقات تنہائی میں گزرتے ہیں۔ جس تواتر سے تنہائی اور بے تعلقی کے واقعات سامنے آ رہے ہیں، ڈر ہے کہ کہیں ہم اس کیفیت کو بھی معمول سمجھ کر قبول نہ کرلیں۔ ابھی جو تھوڑا بہت احساس باقی ہے، وقت کے ساتھ وہ بھی کہیں ختم نہ ہوجائے اور ہم احساس سے عاری لوگوں کا ایک ایسا ہجوم بن جائیں جہاں سب ایک دوسرے سے ’’جڑے‘‘ ہوں، مگر حقیقت میں کوئی کسی کے ساتھ نہ ہو، چاہے سوشل میڈیا پر سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے نظر آئیں۔

!سوشل میڈیا: سہولت یا غلامی

تاریخ میں جب بھی کوئی نئی چیز یا طریقہ متعارف ہوا، کوشش یہی رہی کہ وہ انسان کے تابع رہے، مگر شاید یہ پہلی مرتبہ ہے کہ انسان خود اس سوشل میڈیا کا عادی ہی نہیں بلکہ کہیں کہیں اس کا “غلام” بن چکا ہے۔

ہم نے ایسی بے شمار تصاویر اور ویڈیوز دیکھی ہیں جن میں لوگ سوشل میڈیا میں اس قدر منہمک تھے کہ حادثات کا شکار ہوگئے، مگر ہم ہیں کہ سبق سیکھنے کو تیار نہیں۔ شاید ہمیں حادثہ بھی اس وقت تک حادثہ نہیں لگتا جب تک اس کی ویڈیو وائرل نہ ہوجائے۔

!سماجی ہونا یا سماجی دکھائی دینا

ہماری سماجی زندگی اب صرف تعلقات تک محدود نہیں رہی بلکہ ان کی نمائش بھی ضروری ہوگئی ہے۔ میں پیزا کھا رہا ہوں، میں نے حلوہ پوری کھائی، میں فلاں مقام پر پہنچ گیا، میں فلاں طیران گاہ سے ملکی یا غیر ملکی سفر پر روانہ ہورہا ہوں۔ ہر چھوٹی سے چھوٹی چیز کی اطلاع دنیا کو دینا ضروری سمجھا جاتا ہے، خاص طور پر سوشل میڈیا پر۔

پھر لوگ بھی پیچھے کہاں رہتے ہیں۔ کھانے پر “Yummy” اس کے علاوہ پر “Nice” اور باقی ہر موقع کے لیے الگ الگ تاثرات موجود ہیں۔ ایک اور طریقہ ’’Like‘‘ کا ہے، جس کی بھی مختلف شکلیں ہیں، مثلاً دل یا انگوٹھا۔ سوشل میڈیا پر یہ تاثرات بھی ہماری سماجی گفتگو کا حصہ بن گئے ہیں۔

اگر فیس بک کا بٹن واقعی دل کی کیفیت بیان کرسکتا تو شاید دل کے ساتھ “چھریاں” بھی ہوتیں اور انگوٹھے کے ساتھ باقی انگلیاں بھی۔۔۔ باقی آپ سب سمجھدار ہیں! سوشل میڈیا کے یہ بٹن شاید ہر کیفیت بیان نہیں کرسکتے۔

!دوسروں کی خوشی ہمیں کیوں کھلتی ہے

ہمیں اپنے رویوں پر ذرا غور کرنا چاہیے۔ ہمارے مذہب نے تو دوسروں کی عزتِ نفس کا خیال رکھنے تک کی تعلیم دی ہے۔ اگر کوئی اچھی چیز ہمارے پاس ہو اور کسی وجہ سے ہم اسے اپنے ہمسائے کے ساتھ بانٹ نہ سکیں تو اسے اس انداز میں ضائع نہ کریں کہ ہمارے ہمسائے کو اپنی کم مائیگی کا احساس ہو۔ لیکن آج ہم سوشل میڈیا پر کیا کر رہے ہیں؟ اپنی ہر خوشی، ہر آسائش اور ہر سہولت کی نمائش ایسے کر رہے ہیں جیسے دوسروں کو اس کی اطلاع دینا ہماری ذمہ داری ہوں۔

!مذہبی ہونا یا مذہبی نظر آنا

اب بات صرف کھانے پینے یا سفر تک محدود نہیں رہی۔ اب تو مسجد میں داخل ہوتے ہی ’’Check-in‘‘ بھی ضروری ہوگیا ہے، سوشل میڈیا پر۔

یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے: اگر یہ خدا کے لیے ہے تو کیا اسے ہمارے Check-in کی ضرورت ہے؟ ہمارا ایمان تو یہ ہے کہ وہ دلوں کے حال جانتا ہے۔ اور اگر یہ لوگوں کے لیے ہے تو پھر اسے دکھاوے کے علاوہ کیا نام دیا جائے؟ سوشل میڈیا نے اس سوال کو بھی ہمارے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔

ہم سب جانتے ہیں کہ آخرت میں ہمارے اعمال کی گواہی صرف زبان ہی نہیں دے گی بلکہ ہمارے اپنے اعضا بھی گواہی دیں گے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس فیس بک، لائیک اور دکھاوے کے چکر میں ہم ایسی ’’فیس‘‘ دکھانے کے قابل ہی نہ رہیں جسے دیکھ کر ہمیں خود شرمندگی ہو۔ سوشل میڈیا کے استعمال میں بھی ہمیں اپنے اعمال کا خیال رکھنا چاہیے۔

خدا کے لیے ذرا ہوش کے ناخن لیجیے۔ ہر دور کے اپنے فتنے ہوتے ہیں اور اگر وقت پر ان کا سدباب نہ کیا جائے تو وہ معاشروں اور قوموں کو اندر سے کھوکھلا کردیتے ہیں۔ سوشل میڈیا بذاتِ خود کوئی برائی نہیں، مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہم اسے استعمال کرنے کے بجائے خود اس کے استعمال ہونے لگیں۔

ہمیں شاید دوبارہ یہ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ سماجی ہونا اور سماجی دکھائی دینا دو مختلف چیزیں ہیں۔ حقیقی ملاقات وہ ہے جس میں موبائل ایک طرف رکھا جائے، آنکھیں اسکرین کے بجائے انسان کو دیکھیں اور وقت کسی پوسٹ کے لیے نہیں بلکہ کسی انسان کے لیے دیا جائے، چاہے سوشل میڈیا ہماری زندگی کا کتنا ہی بڑا حصہ کیوں نہ بن گیا ہو۔

آخر میں ہماری قومی ذہنیت پر ایک کہانی۔

ایک گھر کے دروازے پر دستک ہوئی۔ دروازہ کھولا گیا تو سامنے پیزا ڈلیوری والا لڑکا کھڑا تھا۔ گھر کے مکین نے کہا: سوشل میڈیا کے دور میں ایسی کہانی شاید ہمیں اپنے رویوں پر غور کرنے پر مجبور کرے۔

ہم نے تو کوئی پیزا آرڈر نہیں کیا‘‘۔’’

:پیزا ڈلیوری والے نے کہا

‘‘معلوم ہے۔’’

:یہ کہہ کر اس نے پیزا کا ڈبہ کھولا، پیزا دکھایا اور بولا

’’یہ آپ کے پڑوسیوں کا آرڈر ہے۔ میں صرف اس لیے دکھانے آیا ہوں کہ ان کے گھر بجلی نہیں ہے اور وہ اسے فیس بک پر پوسٹ نہیں کرسکیں گے۔ آپ پیزا دیکھ کر جل بھن کر کباب بنیں اور چاہیں تو پھر وہی جلے بھنے کباب کھا لیجیے گا، جبکہ اپنے پڑوسیوں کو پیزا سے لطف اندوز ہونے دیں۔‘‘ سوشل میڈیا کے زمانے میں دوسروں کی خوشی اور اپنی نمائش کا یہ رویہ ایک دلچسپ طنز بن کر سامنے آتا ہے۔

شاید یہی ہمارا المیہ ہے۔ سوشل میڈیا نے ہماری خوشیوں اور دوسروں کی خوشیوں کو دیکھنے کا انداز بھی بدل دیا ہے۔

ہمیں اپنی خوشی سے زیادہ دوسروں کو اپنی خوشی دکھانے کی فکر ہے، اور دوسروں کی خوشی سے زیادہ اس بات کی کہ وہ خوش کیوں ہیں۔

والسلام

(سہیل یعقوب)