فکرِ اقبال اور ملک و ملت کے تقاضے

فکرِ اقبال اور ملک و ملت کے تقاضے

موجودہ تعلیمی نصاب میں فکرِ اقبال کی صورتِ حال

اس وقت ہمارے تعلیمی نصاب میں جہاں جہاں اقبال کی شخصیت اور ان کا پیغام اور ان کی فکر کو، چاہے کسی پیرائے (شاعری، خطبات، مقالات، مکاتیب) میں بھی پیش کرنے کی طرف توجہ دی گئی ہے، وہ پورے طور پر قابلِ اطمینان نہیں اور ایسی کوششیں ہمارے نصابوں میں فکرِ اقبال کی شمولیت کے تقاضوں کو کماحقہٗ پورا نہیں کرتیں۔ اس ضمن میں اور اس حوالے سے جو جائزے لیے گئے یا مطالعات کیے گئے ہیں ان سے بھی بے اطمینانی کی یہی صورت ظاہر ہوتی ہے۔

وفاقی سطح پر یکساں اور نظریاتی نصاب کی ضرورت

اس صورتِ حال میں ہمیں نصاب کوقومی و ملی تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کے لیے فوری طور پر جو اصلاح و ترمیم اور اہتمام کی ضرورت ہے اس ضرض سے نصاب، بالخصوص وہ نصاب، جس کی نظریاتی و قومی اور معاشرتی اہمیت ہے یا جن میں متعلقہ موضوعات کو بہ آسانی پیش کیا جاسکتا ہے، صرف وفاقی سطح پر ترتیب دیا جائے اور پھر اسی کو سارے صوبوں میں رائج کیا جائے۔

ڈگری و اعلیٰ سطح پر عصری و عالمی تناظر

ڈگری اور اعلیٰ سطحوں پر فکرِ اقبال کے اہم نکات اورمضامین کو عالمی اور دنیاے اسلام کے تناظر میں اس طرح پیش کیا جاناچاہیے کہ یہ مسلمانوں کے لیے عصری تقاضوں کی موجودگی میں ایک فلاحی معاشرے اور اسلامی مملکت کے قیام میں رہنما ثابت ہوسکیں۔

ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر اقبالیات اور قومی تعمير

اگراقبالیات ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح کے مطالعات و تحقیقات موضوع بنیں تو ان کے لیے ظاہر ہے ایسے نصابی تکلفات کے بجائے اس سطح کے تقاضوں اور ضرورتوں کے مطابق موضوعات اور منصوبوں کی بابت سوچا جانا چاہیے اور ان سطحات کے موضوعات کوفکر اقبال کے تناظر میں قوم و معاشرے کی اصلاح و بہتری اورتعمیر و ترقی کے مقاصد کے تحت طے کیاجانا چاہیے

اس سطح پر محض احوال و آثار اور سرسری و سطحی جائزوںکو اختیارکرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے ۔ان سطحوں کے مطالعات میں اگرمقررہ نصابی تربیت اورسرگرمیوں کا کسی طرح کا التزام رکھا جاتا ہے اور مطالعات و تحقیقات کسی طرح سے اور کسی بھی حوالے سے فکر اقبال سے منسلک ہوں تو ان کا نصاب اور لائحہ عمل اقبال کی فکر اور مقاصد کو مجروح کرنے کا سبب نہ بنیں بل کہ مطالعات اقبال کے لیے معاون اوران کے فروغ کا سبب بنیں۔