(Iqbaliat)آج کی اقبال شناسی
ڈاکٹر معین الدین عقیل
(Iqbaliat)
اقبال شناسی آج کا وہ محبوب و پسندیدہ موضوع ہے جو مطالعات اور تاریخ و تذکرے اور ہر طرح کے جائزے اور گفتگوکے لیے بلا کسی تردد اورتکلف استعمال میں آنے لگتا ہے
اور جو ایک لحاظ سے یکسر تکلفات سے بے نیاز بھی رہتاہے۔چناں چہ اگر دور نہیں محض پاکستان ہی میں اور اپنے ہی ماحول و معاشرے میں اگر ہم موضوعات کا شمار کریں جو (Iqbaliat)محض سندی مقالات و مطالعات کے لیے ہمارے سامنے آتے ہیں، ان میں اقبالیات
ہی ایک ایسا موضوع ہوتا ہے جو آج کل سب سے زیادہ اختیار کیاجاتاہے اور ہر اعتبار سے قابلِ لحاظ شمار بھی ہوتاہے۔زیر نظر مقالے کے مصنف سید روح الامین کی مطالعاتی خدمات کا اندازہ لگایاجاءے تو اس میں بھی اقبالیات فراموش کردہ موضوع نہ ہوگا اور فاضل مصنف نے یقینا” بطور موضوع کسی نہ کسی حد تک اقبال کو فراموش نہ کیاہوگا اور اپنے قلم کو ضرور آزمایاہوگا۔
عزیزی سید روح الامین ایک ہمہ جہت قلم کار اور صاحبِ علم و فکر مصنف اور دانش ور ہیں۔ ہر کچھ عرصے بعد ان کی کوئی نہ کوئی تصنیف یا کتاب اہلِ ذوق کو اپنی طرف متوجہ کرلیتی اور خیال و فکر کو نت نئی دعوتِ تلطف عطا کرتی رہی ہے۔اپنی عمر و تجربے کے اعتبار سے روح الامین صاحب کوئی معمر شخصیت اور عمر رسیدہ قلم کار نہیں لیکن اپنی اسی عمر میں انھوں نے قلم اور کاغذ سے متعلق جو تجربات حاصل کیے اور نام وری حاصل کی ہے وہ عمر رسیدہ اور معمر افراد کو بھی حاصل نہیں ہوتی۔ ان کا تجربہ بھی خوب ہے اور اس کی نوعیتیں بھی مثالی اور منفرد و نمایاں ہیں۔اب یہ بھی ایک غیرمعمولی کامیابی اور تحصیلِ شادمانی ہے کہ موصوف سے یوں ہی خاموش رہا نہ گیا ایک منفرد و نمایاں سندی کامیابی انھوں نے حاصل کرلی ہے جسے آج یہاں ‘ایم فل’ سے موسوم کیا جاتاہے۔ گویا روح الامین صاحب اب ایک اپنی سطح کے کامیاب اور منظور شدہ اور مستندمحقق ہیں، جسے دیکھ کر اب یقین کیا جاسکتا ہے کہ اب وہ دن بھی دور ن ہیں کہ وہ جلد پی ایچ ڈی اور ان شااللہ ڈی لٹ بھی ہوسکیں گے اور ہم سب نیاز مندوں کو فخر کرنے پر مجبور بھی کردیں گے، ان شااللہ۔
اپنے اس اعزاز کے حصول کی خاطر روح الامین صاحب نے جو موضوع اپنے مطالعات کے لیے منتخب کیاہے وہ بھی ان کی اپنی شخصیت اور مزاج کے عین مطابق ہے کہ جس کے تحت انھوں نے ایک معروف و ممتاز صاحبِ علم و دانش’ سید نورمحمد قادری کی اقبال شناسی’ کو بنیادی موضوع بنایا اور سیر حاصل مطالعہ بھی کیاہے جس پر انھیں کامیابی کی سند عطا ہوئی جو ہم سب کے لیے بھی قابلِ ستائش ہے۔بہر حال اب میں قارئین کا مزید وقت نہ لوں گا اور چاہوں گا کہ اب روح الامین صاحب کو، سید نور محمد قادری صاحب کواور اقبال کو پڑھیں ۔



