ایک منفرد ومثالی تخلیق

منفرد تخلیق

ایک منفرد ومثالی تخلیق – ڈاکٹر معین الدین عقیل

انسانی ذہن کس قدر ذرخیز اورقابلِ رشک ہے کہ ہر آنے والے نت نئی تخلیقات اور ایجادات کا محرک یا سبب بنتا رہتاہے اور اس کی یہ کردار کبھی تھکتایا رکتا بھی نہیں

بشارت حسین وقار صاحب کی ایک بے مثال اور منفرد تخلیق

ایک حالیہ یا تازہ مثال جناب بشارت حسین وقار صاحب کی ہے جن سے میری پہلے نہ کبھی ملاقات ہوئی تھی نہ کسی طرح کا کوئی تعارف ہی تھا۔ ان سے واقفیت بس آج کل ہی کی بات ہے کہ جب ان کی ایک بے مثال تخلیق “صحیفہ نور” بالواسطہ میری نظر سے گزری اور جس نے یوں ہی اپنی ورق گردانی پر مجھے آمادہ کیا کہ میں شروع سے آخرتک بس اسی کا ہوکر رہ گیا

“صحیفہ نور” کی بناوٹ اور اس کی خصوصیات

یہ صحیفہ کیاہے بس ۵۴ صفحات پر مشتمل ایک نظم ہے جو اپنی نوعیت کے لحاظ سے یوں منفرد ہے کہ اس کا ہر مصرعہ لفظ ‘قران’ سے شروع ہوتا ہے اور قران ہی کی تعریف وتشریح بیان کرتاہے کہ جو شاعر کے فہم و ادراک میں ہے۔

ویسے تو ہر مسلمان قران سے واقف ہے کیو ںکہ اس کا اسلام سے ربط و تعلق قران ہی کے توسط سے ہوا ہےاور قران ہی نے اسے اسلام کی حقانیت اور اسلام کے فلسفے و حکمت اور اسرار و رموز سے آشنا کیاہے اورمزید تعبیر و تشریح کے لیے بھی ہمہ وقت حاضر رہتاہے، یہی کچھ بل کہ اور بھی بہت کچھ اور یہاں تک کہ سب ہی کچھ قران میں موجود ہے جس کی بس تعبیر و تشریح اس وقت ممکن اور یقینی ہے جب اس سے رجوع کیاجاے۔

فہمِ قرآن کے لیے ایک منفرد تخلیق اور اثر انگیز اسلوب

اس تخلیق میں، جو فنی اور تکنیکی طور پر، ایک واحد نظم کی صورت میں ہے لیکن تمام تر نظم کا مقصد و مدعا بس قران کی تعبیر و تشریح یا قران کوسمجھنے اور سمجھانے اور ان تہوں کو کھولنے اور نمایاں کرنے کے مقصد سے تخلیق ہوئی ہے جو ان افراد کے لیے از حدمفید ہے جو قران کو ہر اعتبار سے سمجھنا اور سمجھانا چاہتے ہیں۔

اس اعتبار سے یہ تخلیق یا نظم اپنی نوعیت کی مختلف و منفرد تخلیق ہے جس کی کوئی اورمثال شاید میری نظر سے بھی کبھی کہیں نہیں گزری ! یعنی اس کی تخلیق اس صورت میں ہوئی ہے کہ اس کا ہر مصرعہ ہر اعتبار سے قران کی تعریف و توصیف کے بیان کرنے سے متعلق ہے یا ہر مصرعہ اپنے طور پر قران یا اس کی حکمتوں اور دانش کو پیش کرنے کی کوششوں پر مشتمل ہے۔

کم تعلیم یافتہ افراد کے لیے پیغامِ اسلام کی تفہیم

یعنی شاعر نے ہر مصرعے میں اسلام یا قران کی حکمت و دانش کو بیان کیاہے اور اسلوب ایسا ہے کہ کم تعلیم یافتہ شخص بھی بیان کردہ خیال یا اس کی حکمت و دانش کو بخوبی سمجھ سکتاہے اور اس طرح کہ اسلام کی ساری حکمت و دانش یا پیغام پڑھنے والے کے ذہن میں اترجاتا ہے۔ یہ ایک حد درجے موثر اورکامیاب کاوش ہے جو ہمیں اس تخلیق کے شاعر کی جانب سے تمام تر انفرادیت اور تاثیر کے ساتھ نظر آتی ہے۔

شاعر کے خوبصورت لب و لہجے کی پذیرائی

اپنی نوعیت کی یہ منفرد و مثالی کاوش ہے جو انتہائی دل نشیں اسلوب اورپُرثر لب و لہجے میں تخلیق ہوئی ہے جویقین ہے کہ پڑھنے والوں پر حد درجے اثر انداز رہے گی۔ اس منفرد تخلیق اور بے مثال لب و لہجے کے شاہکار پر فاضل مصنف بشارت حسین وقار صاحب تہ دل سے مبارک باد کے حق دار ہیں۔

معین الدین عقیل صاحب کے مزید کالم پڑھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں