Life Story Of Mrs Tanveer Rauf

خواتین

پہلی قسط دیکھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں 

رؤف

 پہلی قسط میں کیا ہے ؟

 پہلا حصہ: مصنفہ کی پہچان اور مختلف نام 

(00:00 – 06:18)

ویڈیو کا آغاز مصنفہ کے مختلف ناموں اور ان کے پس منظر پر ایک دلچسپ گفتگو سے ہوتا ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ پیدائش کے وقت نیلی آنکھوں کی وجہ سے ان کا نام ‘نیلم’ رکھا گیا تھا، لیکن بعد میں وہ ‘سیدہ تنویر خاتون’ کے نام سے جانی گئیں۔ زندگی کے مختلف شعبوں اور خاندان کے افراد نے انہیں انو، تنی، اور مسز رؤف جیسے مختلف ناموں سے پکارا۔

ان کی کتاب کا ایک مزاحیہ واقعہ شیئر کیا گیا جہاں ایک بوڑھی عورت ان کے گھر آئی اور خود کو ‘اصل مسز رؤف’ ظاہر کرتے ہوئے گھر پر اپنا حق جتانے لگی۔ شروع میں سب نے اسے مذاق سمجھا کیونکہ وہ مصنفہ کے بچوں کے صحیح نام اور تعداد تک جانتی تھی۔ لیکن جب معاملہ سنگین ہو گیا تو ایدھی فاؤنڈیشن کی ایمبولینس بلا کر انہیں وہاں سے روانہ کیا گیا۔

 دوسرا حصہ: وہم کا واقعہ اور “بابوجی” کی یادیں 

(06:18 – 12:36)

میزبان گفتگو کو کتاب کے صفحہ 178 پر موجود ایک خوفناک اور سنسنی خیز واقعے کی طرف موڑتا ہے۔ مصنفہ بتاتی ہیں کہ ایک رات اچانک ان کی آنکھ کھلی اور اپنے کمرے میں دو اجنبی عورتوں کو سوتے دیکھ کر وہ ڈر گئیں۔ انہوں نے گھبرا کر اپنے بڑے بیٹے بلال کو جگایا، جس نے قریب جا کر دیکھا اور ہنستے ہوئے بتایا کہ وہ کوئی اجنبی نہیں بلکہ ان کی اپنی بیٹیاں سادیہ اور نادیہ ہی ہیں۔

اس کے بعد گفتگو ان کے مرحوم والد کی یادوں کی طرف منتقل ہوتی ہے جنہیں سب “بابوجی” کہتے تھے۔ وہ ریلوے میں ملازم تھے اور انتہائی ایماندار، سادہ اور کھرے انسان تھے۔ مصنفہ یاد کرتی ہیں کہ وہ پرانے زمانے کے حساب سے چیزوں کی قیمتیں طے کرتے تھے اور ان کے مہنگے انڈے یا کوئلہ خریدنے پر سخت ناراض ہوتے تھے۔

 تیسرا حصہ: کپڑے کی دکان اور پشاور میں جرمن سیاح 

(12:36 – 18:54)

اس حصے میں بابوجی کی ریٹائرمنٹ کے بعد کے دنوں کا ذکر ہے جب انہوں نے اپنی پینشن سے کپڑے کی ایک چھوٹی سی دکان کھولی۔ ان کا زیادہ دھیان کاروبار کے بجائے ڈکشنری اور ابنِ صفی کے جاسوسی ناول پڑھنے میں رہتا تھا۔ گاہک ان کی اس مصروفیت کا فائدہ اٹھا کر ادھار لے جاتے یا کپڑا چرا لیتے، جس کی وجہ سے دکان بند ہو گئی۔

اس کے بعد مصنفہ پشاور میں نہرو خاندان کی ایک پرانی مٹی کی حویلی میں منتقل ہونے کا احوال بتاتی ہیں۔ وہ ایک مضحکہ خیز قصہ سناتی ہیں کہ تین جرمن سیاح حویلی کو ویران کھنڈر سمجھ کر وہاں آ رکنے۔ وہ تین دن وہاں رہے، ان کی مہمان نوازی اور کھانے سے لطف اندوز ہوئے اور معصومیت میں انہیں قبرستان والا ایک پودا تحفے میں دے گئے، جبکہ انہیں پاکستان کی سب سے خوبصورت لڑکی قرار دیا۔

 چوتھا حصہ: حسن کا تصور اور موچی سے ناک چھدوانے کی آفت

(18:54 – 25:12)

آخری حصہ مصنفہ کے اپنے حسن کی خود پسندی پر مبنی ایک خوبصورت اقتباس سے شروع ہوتا ہے، جہاں وہ بتاتی ہیں کہ ان کے بھائی انہیں ہمیشہ پھول کی طرح نازک سمجھتے تھے۔ پھر وہ ایک مزاحیہ اور تکلیف دہ واقعہ سناتی ہیں جب ان کے شوہر، جو پاک فوج میں میجر تھے، فیلڈ ایریا میں تعینات تھے۔ مصنفہ کو ناک میں ‘لونگ’ پہننے کا شوق ہوا، تو انہوں نے اپنے فوجی اردلی کے ذریعے گلی سے ایک ناک چھیتنے والے کو بلوا لیا۔ ناک تو چِھد گئی لیکن دو دن بعد اس میں شدید انفیکشن ہو گیا اور لونگ پھنس گئی۔

جب وہی شخص دوبارہ گلی میں آواز لگاتا ہوا گزرا، تو اردلی اسے پکڑ کر اندر لایا۔ اپنی کی ہوئی حالت دیکھ کر وہ شخص خوفزدہ ہو گیا اور ڈھٹائی سے جھوٹ بولنے لگا کہ “میں تو موچی ہوں، میں نے کبھی کسی کی ناک نہیں چھیدی۔

دوسری قسط مکمل دیکھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں

رؤف

دوسری قسط میں کیا ہے؟

 پہلا حصہ: بڑے بھائی کی پدارانہ محبت اور بچپن کی یادیں

(00:00 – 05:15)

میزبان گفتگو کا آغاز یہ نوٹ کرتے ہوئے کرتا ہے کہ مصنفہ کی زندگی پر دو مردوں کے کردار کے گہرے نقوش ہیں: ان کے بڑے بھائی اور ان کے مرحوم شوہر، میجر رؤف۔ مصنفہ اپنے بڑے بھائی کے بارے میں خوبصورتی سے بتاتی ہیں جو ان سے بیس سال بڑے تھے اور انہوں نے مصنفہ کو ایک بیٹی کی طرح پالا۔ چونکہ ان کی پیدائش کے وقت ان کی والدہ شدید بیمار رہتی تھیں، اس لیے ان کے بھائی نے ان کی پرورش اور تعلیم کی بنیادی ذمہ داری سنبھالی۔

وہ ایک جذباتی یاد شیئر کرتی ہیں کہ کس طرح ان کے بھائی اور بڑی بہن نے ان کی زندگی بچانے کے لیے سات دن تک انہیں مسلسل گود میں لیے رکھا اور آتش دان جلائے رکھا۔ ان کے بھائی نے ہمیشہ اس بات کو یقینی بنایا کہ وہ اچھے کانوینٹ اسکولوں میں پڑھیں اور جب بھی مالی مشکلات آتیں، وہ آگے بڑھ کر مدد کرتے۔

دوسرا حصہ: سچائی کا سبق اور اسکول سے نکالے جانے کا قصہ

(05:15 – 10:30)

مصنفہ اپنے والد کے دیے ہوئے سچائی کے ایک بڑے سبق کا ذکر کرتی ہیں جسے ان کے بھائی نے بھی آگے بڑھایا کہ سچ بولنا سب سے آسان راستہ ہے کیونکہ سچ بولنے والے کو گہری نیند سے بھی اٹھا کر پوچھا جائے تو وہ وہی جواب دے گا، جبکہ جھوٹ بولنے والے کو یاد رکھنا پڑتا ہے کہ اس نے کیا کہا تھا۔ اس کے بعد وہ چھٹی جماعت کا ایک مزاحیہ واقعہ سناتی ہیں جب ان کی شرارت کی وجہ سے انہیں اسکول سے نکال دیا گیا تھا۔

جغرافیہ کی کلاس میں انہوں نے ایک فرضی “دریاۓ لیٹرین” کے بارے میں پرچی لکھ کر پوری کلاس میں گھما دی جس پر کلاس میں شور مچ گیا۔ پرنسپل کی طرف سے اسکول سے نکالے جانے پر وہ سیدھی اپنے بھائی کے ایئر ہیڈ کوارٹر آفس پہنچ گئیں۔ ان کے بھائی نے غصہ کرنے کے بجائے اگلے دن اسکول جا کر ان کا حاضری رجسٹر دیکھا اور صفائی کی تصدیق کر کے انہیں دوبارہ اسکول میں بحال کروایا۔

تیسرا حصہ: بھائی کی سخت گیری اور خود انحصاری کا سبق 

(10:30 – 15:45)

گفتگو ایک اہم موڑ لیتی ہے جب مصنفہ شوہر کے انتقال کے بعد کی ایک مشکل گھڑی کا ذکر کرتی ہیں۔ اگرچہ ان کے بڑے بھائی نے ہمیشہ انہیں عیش و آرام کی زندگی دی تھی—گاڑی، بڑا فریج اور گھر کا ایڈوانس کرایہ تک وہ خود دیتے تھے—لیکن میجر رؤف کے انتقال کے بعد انہوں نے اچانک مالی امداد بند کر دی۔

وہ دن میں تین بار فون کر کے خیریت ضرور لیتے تھے لیکن پیسے نہیں دیتے تھے۔ شروع میں مصنفہ کو اس پر بہت رنج ہوا کیونکہ ان کا وقت بہت مشکل گزر رہا تھا، یہاں تک کہ ٹوتھ پیسٹ جیسی بنیادی چیز کے لیے بھی تنگی تھی۔ لیکن بعد میں انہیں سمجھ آئی کہ یہ بھائی کی دانشمندانہ سخت گیری تھی؛ وہ انہیں بیساکھی دینے کے بجائے اپنے پیروں پر کھڑا کرنا چاہتے تھے۔ جب مصنفہ نے ‘ماما پارسی اسکول’ میں ملازمت اختیار کر لی اور خود کفیل ہو گئیں، تو بھائی کی نوازشات اور سخاوت اسی طرح دوبارہ شروع ہو گئی۔

چوتھا حصہ: میجر رؤف کا پرسکون انتقال اور روشنی سے پراسرار تعلق 

(15:45 – 21:01)

internal آخری حصے میں مصنفہ اپنے شوہر میجر رؤف کے انتقال کا احوال بتاتی ہیں، جنہیں وہ ایک انتہائی شریف، صابر اور دیندار انسان کے طور پر یاد کرتی ہیں۔ بسترِ مرگ پر بھی وہ بالکل پرسکون تھے

ماز پڑھنے کی خواہش کا اظہار کر رہے تھے اور بتا رہے تھے کہ کل بہت سے مہمان آئیں گے۔ مصنفہ بیان کرتی ہیں کہ ان کے انتقال سے کچھ دیر پہلے انہیں اپنے سینے پر صبر کی ایک بھاری سل رکھی ہوئی محسوس ہوئی۔ وہ اپنے شوہر اور بجلی کے ایک پراسرار تعلق کا تذکرہ کرتے ہوئے گفتگو کا اختتام کرتی ہیں کہ ان کی زندگی میں جب بھی گھر کی لائٹ جاتی، ان کے آتے ہی لائٹ آ جاتی تھی؛ اور یہ سلسلہ ان کی وفات کے بعد بھی کئی سالوں تک ان کی برسی کے دن عین مغرب کے وقت روشنی آنے کی صورت میں ظاہر ہوتا رہا۔

تیسری قسط مکمل دیکھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں

رؤف

تیسری قسط میں کیا ہے؟

پہلا حصہ: ذاتی فلسفہ، عالمی شخصیات اور سادگی کا جہیز

(00:00 – 05:12)

ویڈیو کا آغاز مصنفہ کے ایک خوبصورت اقتباس سے ہوتا ہے جس میں وہ کتاب لکھنے کی وجہ بیان کرتی ہیں۔ وہ خود کو ایک عام انسان سمجھتی ہیں جس کے پاس کوئی دنیاوی جائیداد نہیں، لیکن ان کا دل بہت خوبصورت اور وسیع ہے جو خدا کی بنائی ہوئی ہر چیز میں حسن تلاش کر لیتا ہے۔ وہ اپنی زندگی میں امریکی صدر آئزن ہاور، شاہِ ایران، حکیم محمد سعید، بینظیر بھٹو اور نواز شریف جیسی عظیم عالمی شخصیات سے ملاقات کا تذکرہ کرتی ہیں۔

اپنی نجی زندگی کا ایک مضحکہ خیز واقعہ سناتے ہوئے وہ بتاتی ہیں کہ جب ان کی بیٹی سادیہ کا رشتہ آیا تو روایتی جہیز کے پیسے نہ ہونے کے باعث وہ خود لڑکے والوں کے گھر چلی گئیں۔ وہ غلطی سے دو الگ الگ رنگوں کی چپل پہن کر چلی گئی تھیں اور وہاں جا کر صاف کہہ دیا کہ میرے پاس جہیز میں دینے کو کچھ نہیں، سوائے اپنی بیٹی اور جاپان سے آئے ایک نئے سویٹر کے۔

دوسرا حصہ: بھولپن کی غلطیاں اور خطرناک گاہک کی اصلاح

(05:12 – 10:24)

مصنفہ اپنی زندگی کی معصومانہ حماقتوں پر ہنستے ہوئے بتاتی ہیں کہ وہ ایک بار پشاور سے کراچی تک کا پورا سفر الٹی قمیض پہن کر کر گئیں اور لوگ سمجھے کہ یہ کوئی نیا ڈیزائن ہے۔ میزبان ان کے تدریسی کیریئر کے دوران پیش آنے والے جرائم پیشگی کے واقعات کے بارے میں پوچھتا ہے۔ وہ ایک دوپہر کا سنسنی خیز واقعہ سناتی ہیں جب وہ ایک سنسان علاقے سے ٹیکسی میں سوار ہوئیں۔

ڈرائیور کا حلیہ اور نیت خراب لگ رہی تھی اور اس نے گاڑی کی رفتار بڑھا کر ریڈیو فل کر دیا۔ مصنفہ نے خوفزدہ ہونے کے بجائے ایک شفیق استاد اور ماں کا لہجہ اختیار کیا اور اسے گاڑی آہستہ کرنے، بال کٹوانے اور اپنی ماں کی محنت کا پاس رکھنے کا درس دیا۔ ان کی اس بات نے ڈرائیور کو اس حد تک متاثر کیا کہ اس نے احترام سے پوچھا، “باجی، کیا آپ ٹیچر ہیں؟”

تیسرا حصہ: قاتلوں سے سامنا اور ماں کا رعب 

(10:24 – 15:36)

اپنی منفرد گفتگو کی عادت کا ذکر کرتے ہوئے مصنفہ بتاتی ہیں کہ مری کے سفر کے دوران ایک ٹیکسی ڈرائیور نے ان سے اعتراف کیا کہ وہ آٹھ قتل کر کے جیل کاٹ چکا ہے۔ اسی طرح کراچی میں ایک رکشہ ڈرائیور کو جھٹکے دینے پر ٹوکا تو اس نے اعتراف کیا کہ وہ ایک پیشہ ور ‘ٹارگٹ کلر’ ہے اور اب یہ کام اس لیے چھوڑ رہا ہے کیونکہ اس کاروبار میں اب وہ پیسہ نہیں رہا۔

میزبان ان کی کتاب سے ایک اور دلچسپ واقعہ نکالتا ہے جو ان کے بچوں پر ان کے رعب کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کا چھوٹا بیٹا علی چھت پر پانی کی ٹنکی پر چڑھ گیا تھا کہ جب تک لال بکرا نہیں آئے گا وہ نیچے نہیں اترے گا۔ اس کی بہن نے اسے یہ کہہ کر نیچے اتارا کہ “علی نیچے آ جاؤ، اگر تم گر کر مر گئے تو امی تمہیں بہت ماریں گی۔”

چوتھا حصہ: صدمے کی کیفیت، گھر کی چوری اور شامِ ہمدرد کا احوال 

(15:36 – 20:51)

(Denial)آخری حصے میں مصنفہ میجر رؤف کے انتقال کے بعد اپنے اوپر گزرنے والے شدید ذہنی صدمے اور ایک سالہ انکار

 کی کیفیت کا تذکرہ کرتی ہیں۔ شوہر کی جدائی کے غم اور بچوں کو کھو دینے کے خوف کی وجہ سے وہ ذہنی طور پر بالکل مفلوج ہو گئی تھیں اور حد سے زیادہ کھانے لگی تھیں۔ وہ بتاتی ہیں کہ ایک بار وہ بینک گئیں اور اپنا نام تک بھول گئیں، جس کے خوف سے انہوں نے گھر سے نکلنا بند کر دیا۔

اس ذہنی غفلت کے دور میں لوگوں نے ان کے کھلے گھر کا فائدہ اٹھایا اور سل بَٹے سے لے کر میجر رؤف کے فوجی میڈلز اور برتن تک چوری کر کے لے گئے، اور وہ چپ چاپ دیکھتی رہیں۔ آخر میں وہ ‘شامِ ہمدرد’ کی ایک تقریب کا احوال سناتی ہیں جہاں اردو زبان پر بحث کے دوران ان کی حاضر جوابی کو دیکھ کر نامور اسکالر حکیم سعید نے ان کی ذہانت کی کھل کر تعریف کی تھی۔

چوتھی قسط مکمل دیکھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں

رؤف

چوتھی قسط میں کیا ہے؟

 پہلا حصہ: اردو تراجم پر تنقید اور ‘ریفکشنز’ کی شاعری کا تذکرہ

(00:00 – 05:05)

ویڈیو کا آغاز مصنفہ کے ایک مضحکہ خیز واقعے سے ہوتا ہے جو ‘شامِ ہمدرد’ کے سیمینار میں پیش آیا۔ جب ان سے اردو کو ذریعہ تعلیم بنانے پر رائے مانگی گئی، تو انہوں نے دانشوروں کو چیلنج کیا کہ انہوں نے روزمرہ کی اصطلاحات کے بہت مشکل تراجم کیے ہیں۔ انہوں نے ہنستے ہوئے پوچھا کہ کیا کوئی بچہ تھرمامیٹر کے لیے ‘تپش پیما’ یا ملک شیک کے لیے ‘شیرِ متحرک’ جیسے الفاظ سمجھ پائے گا؟ ان کی اس بات پر نامور حکیم سعید نے ان کی بہت تعریف کی۔ (Reflections)میزبان ان کی انگریزی کتاب ‘ریفلیکشنز’

 کی تعریف کرتا ہے، جس میں انہوں نے چالیس سے زائد اردو شعراء (جیسے احمد فراز اور ساحر لدھیانوی) کی شاعری کا انگریزی میں باقاعدہ منظوم ترجمہ کیا ہے تاکہ نئی نسل اپنے کلچر سے جڑی رہے۔

دوسرا حصہ: سرونٹ کوارٹر سے عالمی اسکواش چیمپئنز کا سفر 

(05:05 – 10:10)

میزبان مصنفہ کی کتابوں ‘بڑھاپا خوبصورت ہے’ اور ‘زندگی خوبصورت ہے’ کی تعریف کرتا ہے جو موجودہ دور کی تنہائی پسند زندگی کے مقابلے میں خاندانی اقدار کو اجاگر کرتی ہیں۔ مصنفہ پشاور میں اپنے گھر کے سرونٹ کوارٹرز میں رہنے والے ایک ملازم کے خاندان کا احوال سناتی ہیں۔

انتہائی غربت کے باوجود ان بچوں کی ماں نے انہیں غیرت، صفائی اور اعلیٰ اخلاق کے ساتھ پالا۔ یہ بچے آگے چل کر دنیا کے عظیم اسکواش چیمپئنز بنے، جن میں جہانگیر خان اور جانشیر خان (جنہوں نے چھ بار عالمی ٹائٹل جیتا) شامل ہیں۔ مصنفہ یاد کرتی ہیں کہ وہ ان بچوں کے ساتھ کھیلی ہیں اور ان کی بہن سے دوستی کی وجہ سے ہی انہوں نے پشتو زبان سیکھی۔

تیسرا حصہ: کار حادثے کا الزام اپنے سر لینا اور بھابھی سے وفاداری 

(10:10 – 15:15)

مصنفہ اپنی جوانی کا ایک زبردست واقعہ سناتی ہیں جب ان کے بھائی کراچی گئے ہوئے تھے اور گھر میں ایک پرانی سیاہ فورڈ گاڑی موجود تھی جس کے بریک خراب تھے۔ ان کی بھابھی نے ضد کر کے مال روڈ پشاور پر گاڑی چلائی اور کار ایک خفیہ سی آئی ڈی افسر سے ٹکرانے کے بعد گارڈ روم کی دیوار میں جا گھسی۔

اپنی بھابھی کو ممکنہ سزا سے بچانے اور ان کے چار چھوٹے بچوں کی خاطر، مصنفہ نے فوری طور پر سیٹ بدلی اور حادثے کا پورا الزام اپنے سر لے لیا۔ وہ ہنستے ہوئے بتاتی ہیں کہ انہوں نے ہسپتال جا کر اس زخمی افسر سے معافی مانگی اور خاندانی سکون کی خاطر پشتو زبان میں اس کی سخت غصیلی گالیاں بھی ہنس کر برداشت کیں۔

چوتھا حصہ: بچھو کی دعا، ادبی چوری اور 77 سالہ زندگی کا فخر

(15:15 – 20:19)

میزبان مصنفہ کی شخصیت کا ایک مضحکہ خیز تضاد سامنے لاتا ہے کہ جو خاتون کار حادثے میں جیل جانے سے نہیں ڈری، وہ 1970 میں نماز کے دوران ایک کالا بچھو دیکھ کر گھبرا گئی تھی۔ نماز توڑنا گناہ سمجھتے ہوئے انہوں نے حالتِ قیام میں ہی دعا مانگی، “یا اللہ، ابھی تو میری شادی بھی نہیں ہوئی، مجھے بچا لے!” مصنفہ اپنے ترجمے کے کام کا ذکر کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ انہوں نے ایک سال لگا کر تقابلِ ادیان پر ایک ضخیم کتاب کا انگریزی ترجمہ کیا، لیکن اس شخص نے کینیڈا جا کر مصنفہ کا نام ہٹا کر اپنا نام چھپوا دیا۔

وہ اپنی گفتگو کا اختتام 77 ویں سالگرہ کا فخر سے اعتراف کرتے ہوئے کرتی ہیں اور خدا کا شکر ادا کرتی ہیں کہ وہ اس عمر میں بھی مکمل صحت مند اور خود مختار ہیں۔

 پہلا حصہ “زندگی خوبصورت ہے” پڑھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں

رؤف

 دوسرا حصہ “بڑھاپا خوبصورت ہے” پڑھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریںرؤف

اس قسم کے مزید بلاگز پڑھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں

 

رؤف