پرانے دوستوں اور رشتوں کی مہک: یادوں کے دریچے سے
صبح بخیر! صحت، سلامتی اور سکون کی دعائیں
کچھ پرانے دوستوں سے جڑی یادیں بھول گئی تھی، جنت سے وہ جھانک رہے ہونگے کہ انکا ذکر نظر نہیں آرہا۔ تو ان سے شرمندہ ہوں۔ آج کی نشست خاص ان پیارے دوستوں اور رشتہ داروں کے نام
ماموں میاں: علم و تہذیب کا سنگم
انکا ہم سے رشتہ تو کوئی نہیں تھا مگر ہمارے والدین اور اس فیملی کے تعلقات انڈیا سے پاکستان تک تھے جو آج تک قائم ہیں الحمدللہ۔ ماموں میاں بہت نرم اور ٹھنڈے مزاج کے تھے۔ انڈیا سے تعلیم حاصل کی تھی جو انکی شائستہ گفتگو اور لطیف حس مزاح سے انکی تربیت اور نشست و برخواست سے تہذیب یافتہ ماحول میں پرورش پانے کا پتہ دیتی تھی۔
انکی محبت تھی کہ جو کتاب، مضمون یا کچھ بھی تحریر کرتے وہ مجھ سے ہمارے گھر A657 میں ضرور آتے اور پھر مجھ سے تبادلہ خیال کرتے۔ یہ صرف انکا بڑا پن اور اعلی ظرفی تھی ورنہ کیا میں، کیا پدی کا شوربہ۔ لطیفے بھی سناتے اور ہماری خوب محفل جمتی۔ نہ ہم عمر تھے نہ ہم خیال، بس انکا احترام اور اخلاق تھا۔ انکے اور میرے بچے ہنستے تھے کہ امی اور انکے دوست ماموں میاں کیسے خوش ہوتے ہیں۔
خالہ بی:رشتہ رواداری کی ایک لازوال مثال
خالہ بی نہ ہماری رشتہ دار تھیں نہ میری سسرال کی۔ مگر پہلے وقتوں کے لوگوں کی وضع داری کے کیا کہنے۔ خالہ بی کے شوہر، شیخ صاحب پشاور صدر میں کواٹرہ بلڈنگ میں رہتے تھے۔ ان کے گھر کے سامنے سڑک پار کیپیٹل سنیما تھا (جو اب بھی ہے)۔ خالہ بی کے شوہر شیخ صاحب اور ہمارے سسر شیخ منظور احمد صاحب دوست تھے۔
خوب شطرنج کی محفل جمتی جو گھنٹوں پر محیط ہوتیں، میری نندیں اور ساس صاحبہ شیخ صاحب کے گھر چلی جاتیں۔ جہاں گیلری میں بیٹھ کر سامنے سنیما میں چلنے والی فلم کے ڈائلاگ سنتیں اور محظوظ ہوتیں۔ دوستی مستحکم ہوتی رہی۔ شیخ صاحب کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ انہوں نے اسی بلڈنگ کے ایک کثیرالاتعداد بچوں والی فیملی سے ایک بچہ گود لے لیا۔ سب اس بچے کو انکا بیٹا ہی مانتے۔
ہمارے ساس سسر اور شیخ صاحب واپس جنت مکاں ہوگئے۔ مگر خالہ بی سے ہمارا رشتہ ویسا ہی رہا۔ انکا بیٹا پی آئی اے میں اچھی پوسٹ پر لگ گیا تھا۔ ہم فیصل آباد میں تھے تو خالہ بی پشاور سے ہمارے گھر آئیں۔ میں نے گھر کی چابیاں خالہ بی کو دے دیں وہ بہت خوش ہوئیں۔ ہمارے پاس محبت کے سوا تھا بھی کیا۔ ہماری گھریلو ملازمہ نے مجھ سے پوچھا کہ کیا یہ آپکی ماں ہیں۔
میں نے کہا نہیں۔ دوسرا سوال تھا کہ ساس ہیں، جواب پھر انکار میں سن سوالیہ نشان بن گئی۔ تو میں نے بتایا۔ وہ اس لئے بھی اتنے سوال کر رہی تھی کہ خالہ بی بہت خوبصورت گوری چٹی تھیں سو میری ماں تو نہیں ہوسکتی تھیں۔ روف صاحب سرخ سفید تھے تو ساس۔ خیر پھر بولی آپ نے چابیاں بھی دے دیں انکو۔ میں نے کہا فوجی کی جیب خالی۔
ہماری دولت صرف ہمارے بچے ہیں۔ چابیوں سے بچے کھیلتے تھے، تالا ہمارے گھر لگتا ہی نہیں کیونکہ ہمیشہ توڑا جاتا تھا وجہ چابی کا ہمیشہ ہی نہ ملنا ہوتا۔ آجتک یہی حال ہے۔ تالے چابی سے نجانے کیوں نہیں بنتی میری۔ خیر جی خالہ بی چھے ماہ رہیں بہت خوش رہیں۔ پورا انتظام سنبھالا۔ کیا پکے گا کیا ہوگا۔ تھا وہاں کچھ بھی نہیں صرف بھرم ہی بھرم۔ انکا بیٹا انتقال سے پہلے یعنی چند سال پہلے تک وہ دیور کی حیثیت سے آتا رہتا۔
یہ تھی رواداری اور رشتے نبھانے کا طریقہ اور سلیقہ جو آج مفقود ہیں۔ ایک اور فیملی سے ہمارا رشتہ اب تین نسلوں تک آگیا ہے الحمدللہ۔ ابھی تک روز خیر خیریت معلوم کرتے ہیں۔ وہ ہمارے گھر آتے ہیں رہتے ہیں۔ ہم پنڈی انکے گھر جا کر رہتے ہیں۔
اکبر بلوچ: ایک دبنگ مگر شفیق وجود
ایک دبنگ شخصیت کا مالک بلوچ۔ گھاس کاٹنے کی بڑی سی قینچی کندھے پر کلاشنکوف کی طرح رکھے گھومتا۔ جس کسی کو جھاڑیاں یا گھاس کٹوانی ہوتی یا درختوں کی شاخیں چھٹوانی ہوتیں وہ اکبر کی خدمات حاصل کرتا۔ روف صاحب بھی خوب کام لیتے۔
گھر کی، چھت کی صفائی یا پودوں کی تراش خراش۔ اکبر سے ہم سب مانوس تھے۔ پھر وہ پتہ نہیں کہاں چلا گیا۔ روف صاحب کا انتقال ہوگیا۔ کافی عرصہ بعد آیا۔ روف صاحب کا بہت دکھ ہوا اسے۔ تو میرے سر پر ہاتھ رکھ کر بولا پریشان نہیں ہونا۔ ہم تمہارا بھائی ہے۔ کوئی کام ہو تو ہم کو بولو۔ خیر اس دعا کے بعد نجانے کہاں چلا گیا۔
وقت گزرتا رہا۔ کافی عرصہ بیتا۔ سردیوں کے دن تھے۔ ہم سو رہے تھے۔ رات 3 بجے گھر کی گھنٹی بار بار بجی۔ میں نے اوپر گیلری میں سے پوچھا کون ہے۔ اندھیرا تھا۔ بولا ہم اکبر بلوچ ہوں۔ بیوی بچے ساتھ ہے۔ سردی بہت ہے۔ بستر رضائی دو۔ یا اللہ خیر۔ خیر اوپر سے ہی جو تھا لحاف گدے تکیہ وہ نیچے پھینکے۔ پھر وہ بھی سو گئے۔ ہم بھی سو گئے۔ یاد نہیں صبح وہ کب گئے۔
تہہ خانے کا راز اور پرانے گھر کی یادیں
جب اوپر کا گھر بن گیا تھا تو ایک دن ماموں آئے اور کہنے لگے کہ تم تو نیچے رہو میں اوپر کی منزل کرائے پر دونگا۔ میں کیونکہ ہر اتوار کو ان گھروں میں جھگڑا ہوتے دیکھتی تھی جن گھروں میں مالک مکان اور کرایہ دار رہتے تھے یا دو کرائے دار اوپر نیچے کی منزل پر رہتے تھے۔ وہ نیت باندھ کر فرض سمجھ کر کبھی بجلی کے بل کبھی پانی کبھی بچوں کی کسی بات پر خوب لڑتے۔ لڑنا بہت مشکل کام ہے۔
اس لئے میں نے روف صاحب سے مشورہ کرکے ماموں صاحب سے کہا کہ ہم دونوں منزلوں کا کرایہ دے دیں گے آپ کرایہ بتا دیں۔ ہم نے گھر کو بہت اچھا رکھا تھا کبھی کسی مرمت کے، پینٹ کے یا کسی بھی مد میں کبھی ان سے مدد نہیں لی تھی۔ ریکارڈ اچھا تھا اس لئے ہم نے ہی لے لیا۔ لڑائی تو میں نے بہت کی مگر روف صاحب سے۔ وہ تو مجھ سے لڑتے ہی نہیں تھے۔ کہتے تھے اب میں تم سے لڑونگا؟
ہاں جی تو ہمارے گھر میں تہہ خانہ بھی تھا جو پورا کمرہ تھا۔ سیڑھیوں سے نیچے جاتے تھے۔ میں نے ایک قسط میں لکھا تھا نا کہ چور بہت آتے تھے۔ تو روف صاحب کے بعد چور بھی محفوظ ہوگئے۔ وہ رات کو تہہ خانے میں آرام کرتے۔ واردات کرنے جاتے ہونگے۔ ہمیں بتایا ہمارے جمعدار اکبر نے کہ تہہ خانے میں کوئی آتا ہے۔
ہم نے جاکر دیکھا تو واقعی پنکھا بھی چل رہا تھا اور فرش پر ماچس کی تیلیاں اور سگریٹ کے ٹوٹوں کے ساتھ راکھ بھی پڑی تھی۔ ہم نے صفائی کروائی اور اوپر آگئے۔ پہلی منزل پر اسکول تھا۔ تالے چابی سے پیدائشی بیر ہے لہذا نہ اسکول میں تالا نہ تہہ خانے میں۔ چور ہماری حفاظت کرتے رہے ہم بھی سکون سے رہے۔




