
ایک پرسکون ٹھکانہ اور زندگی کی بیتیاں
ایک پرسکون ٹھکانہ اور زندگی کی بیتیاں اتوار کا پیغام: ایک خوشگوار شروعات اچھا سا ناشتہ بناو۔ پھر گھر کی صفائ کرو۔ مالکن کی طرح۔ ماسی کی طرح نہیں۔ نہ چوروں کی طرح! آج کوئ کتاب کھول کے دیکھو۔ اس میں ادیب نے کیا لکھا ہے۔ کوئ بزرگ اگر گھر میں ہے۔ تو ذرا انکا دل بہلاو ! انکے ساتھ بیٹھو لطیفے سناو۔ تیار کرکے کہیں گھمانے یا ملانے لیجاو۔ ارے بیبیوں کچھ عاقبت سنوار لو۔ بن ٹھن کے سنگھار کرکے میاں کو لبھاو آج اتوار ہے مسکراو گنگناو۔ محلے والوں کو کچھ اچھا پکا کرکھلاو۔ پاکستان کے لئے اچھا کرو اچھا سوچو۔ اس لئے کہ !! موج بڑھے یا آندھی آئے۔ دیا جلائے رکھنا ہے۔ گھر کی خاطر سو

پیڈرو پارامو‘ ۔۔۔ پڑھنے کا انوکھا تجربہ’
پیڈرو پارامو‘پڑھنے کا انوکھا تجربہ’ ایک ناول، ایک فضا، ایک معمہ کبھی کبھی آندھی ایک عجیب منظر پیدا کرتی ہے۔ فضا میں مٹی کے باریک ذرات معلق ہو جاتے ہیں، آسمان کا رنگ بھورا، مائل بہ سرخی ہو جاتا ہے، دُور ونزدیک کی چیزیں دُھندلا جاتی ہیں اور سانس لینا دشوار محسوس ہونے لگتا ہے۔ ایسے لمحوں میں دنیا کسی ویران خواب کی مانند لگتی ہے؛ گویا زندگی موجود تو ہے مگر پوری طرح نہیں۔ ’پیڈرو پارامو‘ کا موسم بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ اِس ناول کو پڑھتے ہوئے بار بار یہی احساس ہوا کہ اگرچہ کردار چلتے پھرتے ہیں، یادوں کو دہراتے ہیں، ایک دوسرے سے گفتگو کرتے ہیں لیکن پھر بھی کہیں کوئی کمی ہے، زندگی

قصہ ایک لفظ کی تلاش کا
قصہ ایک لفظ کی تلاش کا کبھی کبھار ایک معمولی نظر آنے والے لفظ کی تلاش میں برسوں گزر جاتے ہیں۔ ایک ایسے ہی لفظ کی تلاش کی کہانی جس نے کتابوں میں گھر بنا رکھا تھا۔ کوویڈ، کتابیں اور ایک معمولی سا سوال کوویڈ کے دنوں میں جب دنیا بھر کے لوگ اچانک اپنے اپنے گھروں تک محدود ہو گئے تھے، ہر شخص نے اس غیر معمولی صورتِ حال سے نمٹنے کا اپنا اپنا طریقہ ڈھونڈ لیا تھا۔ کسی نے باورچی خانے کا رخ کیا، کسی نے باغ بانی شروع کر دی، کسی نے برسوں پرانے تصویری البم کھول لیے۔ اور میں نے کتابوں کے ڈھیر لگا لیے۔ کتابوں کے یہ نئے ڈھیر بے یقینی کے سپاٹ دنوں میں

تاریخ َ ٹنڈو آدم
تاریخِ ٹنڈو آدم: سوامی ٹیئوں رام کی زندگی اور خدمات سوامی ٹیئوں رام کا جنم 4 جولائی 1887ء بروز ہفتہ تعلقہ ہالا کے شہر کھنڈو میں ہوا تھا۔ سوامی ٹیئوں رام کے والد چیلا رام آسنداس صوفی مزاج رکھنے والے انسان تھے اور والدہ کا نام کرشنا تھا۔ ان کے دادا کا نام بھگت ہری تھا، اس لیے ان کے ہاں لوگوں کا آنا جانا لگا رہتا تھا۔ انہی کی صحبت میں رہ کر وہ انسانی خدمت کے قائل ہوئے۔ جب وہ محض 16 برس کے ہی تھے تو مذہبی رواداری اور انسانی خدمت کے لیے پرچار کرنے لگے۔ ٹنڈو آدم آمد اور آستانے کا قیام کہا جاتا ہے کہ سنت ٹیئوں رام ایک مرتبہ مینگھو رام کا میلہ گھومنے

پاسپورٹ کی غلطی،دعا کی قبولیت
ایک پاسپورٹ، ایک غلطی، اور قبول ہونے والی دعا برطانیہ سے پاکستان واپسی کا سفر میں یونائٹڈ بینک کی ملازمت میں جنوری 1978 کو پاکستان سے ٹرانسفر ہوکر برطانیہ آ گیا تھا۔ یہاں پر مختلف عہدوں پر مختلف نوعیت کے فرائض انجام دینے کے سولہ سال بعد میرا واپس پاکستان ٹرانسفر ہو گیا۔ یہ جون 1993 تھا، جب مجھے ٹرانسفر کے احکامات ملے۔ بینک کے مجوزہ قوانین کے مطابق میں نے جولائی سے اکتوبر تک چار ماہ کی چھٹی کی درخواست دی۔ اس دوران میرے سولہ سال پر محیط کام سمٹ نہیں سکے تھے، لہٰذا میں نے دو ماہ کی مزید چھٹی کی درخواست دی، جو بغیر تنخواہ کے منظور ہو گئی۔ دسمبر میں، میں نے پاکستان جانے کا ارادہ

Mohabat Ka Jalal
محبت کا جلال اور مہمان نوازی کا لطف صبح بخیر میرے عزیزو، اللہ پاک کی رحمتیں ہوں آپ سب پر۔ میری ایک بیٹی شاہانہ عتیق اور ان کے شوہر عتیق کا محبت سے کھلایا گیا کھانا، کیا ہوشربا کھانا تھا! کیا لذت تھی، کیا خوشبو اور کیا سلیقہ تھا۔ پھر عتیق بیٹے نے خود بھگارے بینگن پکائے تھے، پامپلیٹ مچھلی ان کی باورچی خانے کی منتظمہ نے تلی تھی۔ عتیق خود کانٹے نکال کے گوشت میری پلیٹ میں ڈالتے رہے، شاہانہ نے مرغ بریانی بنائی تھی اور بہو نے سلاد اور دہی کا بہترین کچھ بنایا تھا (مجھے اس کا نام نہیں آتا)۔ سب نے اتنی محبت سے کھلایا کہ ہم بھی کھاتے چلے گئے، نہ اپنی عمر کو خاطر

جاپانی اسکالر کا اردو میں غیر معمولی خطاب
جاپانی اسکالر کا اردو میں غیر معمولی خطاب (Order of the Rising Sun, Gold Rays with Neck Ribbon) ڈاکٹر معین الدین عقیل جاپان کے شہنشاہ، اسلامی جمہوریہ پاکستان کے شہری، پروفیسر ڈاکٹر معین الدین عقیل کو ‘آرڈر آف دی رائزنگ سن، گولڈ ریز ود نیک ربن’ سے نوازتے ہیں۔ شاید کم ہی لوگوں کو معلوم ہو کہ اس وقت جاپانیوں میں، جو کراچی کے جاپانی قونصل خانے میں سفارتی کام کرتے ہیں، ایک جاپانی اسکالر بھی ہیں جو اردو جانتے ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اسلامی تصوف کے موضوع پر ایک مخصوص حوالے سے وہ سے پی ایچ ڈی بھی کر چکے ہیں۔ دو سال سے کراچی میں مقیم ہیں اور یہاں کی علمی اور تہذیبی سرگرمیوں میں

کراچی میں عوامی تعمیراتی منصوبے: عوامی تکالیف کا پیغام – ایک تجزیہ
کراچی میں عوامی تعمیراتی منصوبہ: عوامی تکالیف کا پیغام – ایک تجزیہ پاکستان میں فلاح و بہبود کے منصوبے، خاص طور پر شہری علاقوں جیسے کراچی میں، اکثر عوام کے لیے مشکلات کا باعث بنتے ہیں۔ جب کوئی سرکاری ادارہ سڑک، پانی، گیس، بجلی، یا دیگر تعمیرات کا کام شروع کرتا ہے، تو وہ عوام کو پہلے سے مطلع کرنا ضروری نہیں سمجھتا۔ بس شروع ہوجاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ گنڈاسا ہاتھ میں لیے پہنچ گئے میدان میں اور ماری ایک للکار کسی میں ہمت ہے تو سامنے آئے ہمیں روک کے دکھائے۔ نہ ہی متبادل راستوں، دھول سے بچاؤ، یا کاروبار کی حفاظت کا کوئی انتظام کیا جاتاہے اور نہ ہی عوام کیلئے کوئی مناسب نوٹس۔ یہ مضمون
چند چنیدہ تحریریں

جاپانی اسکالر کا اردو میں غیر معمولی خطاب
جاپانی اسکالر کا اردو میں غیر معمولی خطاب (Order of the Rising Sun, Gold Rays with Neck Ribbon) ڈاکٹر معین

خود نوشت ‘کاریز’: رفیع الدین راز کی ادبی اور سفری داستان
خود نوشت ‘کاریز’: رفیع الدین راز کی ادبی اور سفری داستان ‘جہا نیاں جہاں گشت ‘کا ایک دل نشیں کارنامہ:

کمیشن والی دوائیں اور لیبارٹری ٹیسٹ
ماضی کا طریقہ علاج: ڈاکٹر صاحبان کی تشخیصی صلاحیت (diagnostic)ڈاکٹر صاحبان اسی اور نوے کی دہائی میں مریضوں کا علاج

سچ حسب ذائقہ اور تلخ معاشرتی رویے
سچ کی کڑواہٹ اور سچ حسب ذائقہ کا تصور کسی جگہ پڑھا تھا کہ دشمن بنانے کیلئے ضروری نہیں کہ
ہمارے چینل کی پسندیدہ ویڈیوز
یونیورسٹی کی وہ ناقابلِ فراموش راتیں، جنہوں نے زندگی میں لڑنا سکھایا۔سابق طلبہ رہنماؤں کی زبانی، بچپن کی مضبوط بنیادوں سے کٹھن موڑ تک کا سفر۔ جدید دنیا کی پیچیدگیوں کو سمجھنے اور منزل پانے کے وہ ان کہے حقائق۔
جانیے ان معروف ادیبوں اور شاعروں کے بارے میں، جنہیں دنیا صرف ان کی تحریروں سے جانتی ہے۔ ان عظیم مفکروں کے ماضی کے وہ بند دروازے، جو پہلی بار آپ کے سامنے کھلنے جا رہے ہیں۔ ایک عام انسان کے اندر سے ایک انقلابی قلم کار کے جنم لینے کی وہ ان کہی داستان جس نے اپنی سوچ سے لاکھوں دلوں کو اپنی مٹھی میں لیا۔
ذکر کتاب تاثرات – اقتباسات ذکر کتاب تاثرات – اقتباسات ذکر کتاب تاثرات – اقتباسات
