
قیامِ پاکستان کے بعد تعمیرِ وطن کا ایک روشن باب: قاسم حسین دادا اور ڈاڈیکس کی داستان
تعارف: ایک عہد ساز شخصیت سال 1947ء میں جب پاکستان معرضِ وجود میں آیا تو نوآزاد ریاست کو لاکھوں مہاجرین کی آبادکاری، روزگار، رہائش اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی جیسے غیر معمولی چیلنجز درپیش تھے۔ ایسے نازک دور میں قاسم حسین دادا جیسی فیاض اور دور اندیش شخصیات نے تعمیرِ وطن کی ذمہ داری اٹھائی۔ انہوں نے کاروبار کو محض منافع کا ذریعہ نہیں بلکہ قومی خدمت کا وسیلہ بنایا۔ خاندانی پس منظر اور ابتدائی زندگی قاسم حسین دادا 28 جولائی 1919ء کو ریاست کاٹھیاواڑ کے قصبے بانٹوا میں ایک کاروباری گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد حسین قاسم دادا برصغیر کے معروف صنعت کار اور دیانت دار تاجر تھے۔ ان کے گھر کا علمی اور سیاسی ماحول قائداعظم

منگھوپیر سے بیت المقدس تک: حضرت بابا فرید گنج شکرؒ کی روحانی میراث
تعارف: روحانیت کا ایک عالمگیر سلسلہ برصغیر کی روحانی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہیں جن کی زندگی محض ایک فرد کی داستان نہیں بلکہ تہذیبوں، علاقوں اور نسلوں کے درمیان محبت، اخوت اور انسان دوستی کے پل کی حیثیت رکھتی ہے۔ حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکرؒ انہی عظیم المرتبت صوفی بزرگوں میں شمار ہوتے ہیں جن کی تعلیمات نے صدیوں سے دلوں کو منور کیا اور جن کے روحانی فیض کی روشنی آج بھی برصغیر سے لے کر مشرقِ وسطیٰ تک محسوس کی جا سکتی ہے۔ روحانی اسفار: غزنی سے بیت المقدس تک حضرت بابا فرید گنج شکرؒ نے اپنے مرشد حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکیؒ کے حکم پر ایک طویل روحانی سفر اختیار کیا۔ (593

ڈاکٹر عقیل عباس جعفری: تحقیق و ادب کا ایک معتبر نام
ڈاکٹر عقیل عباس جعفری: تحقیق و ادب کا ایک معتبر نام zikrekitab.com محترم عقیل عباس جعفری صاحب نے پر بلاگز لکھنے پر آمادگی ظاہر کردی ہے جو ہمارے لیئے خوشی اور اعزاز ہے ڈاکٹر عقیل عباس جعفری کا نام تحقیق کے شعبے میں نیا نہیں۔ انھوں نے ابتداء معلومات عامہ کے شعبے سے کی اور اس حوالے سے کئی کتابیں تحریر کیں جن میں 366 دن، صفر سے سو تک، جہان معلومات، ہے حقیقت کچھ…، ایک سال پچاس سوال، کون بنے گا کروڑ پتی؟ ، پاکستان کرونیکل کوئز بک اور قائداعظم معلومات کے آئینے میں شامل ہیں۔ تصنیفی خدمات: تاریخ، تحقیق اور تدوین ڈاکٹر عقیل عباس جعفری کی سب سے نمایاں کتابیں ’’پاکستان کرونیکل‘‘ اور ’’پاکستان کرونیکل ضمیمہ‘‘ ہیں۔ ان

ظہیر بٹ: ایک مثالی استاد اور اسکول کی تعمیر و ترقی کی لازوال داستان
ایک استاد کی داستان بعض شخصیات اپنی زندگی صرف اپنے لیے نہیں بلکہ معاشرے، طلبہ اور آنے والی نسلوں کے لیے وقف کر دیتی ہیں۔ ظہیر بٹ صاحب بھی ایسی ہی بے مثال شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی تعلیم، خدمت اور اصول پسندی کے لیے وقف کیے رکھی۔ ایک قابلِ احترام شخصیت سے تعارف ظہیر بٹ صاحب میرے بھی بہت ہی اچھے اور قابلِ احترام دوستوں میں سے ہیں، اگرچہ مجھ سے کافی سینئر بھی ہیں۔ سب سے بڑا اتفاق یہ رہا کہ ان کے ریٹائرمنٹ کے تقریباً تین سے چار سال بعد میں نے خود اسی اسکول کا چارج بحیثیت ہیڈ ماسٹر سنبھالا اور تقریباً گیارہ سال تک اسی اسکول میں خدمات انجام دیتا

جوش ملیح آبادی کے پہلے مجموعہ کلام “روح ادب” کی اشاعت کو ایک سو چھ(106) برس مکمل ہو گئے
جوش ملیح آبادی کے پہلے مجموعہ کلام “روح ادب” کی اشاعت کو ایک سوچھ برس مکمل ہو گئے عقیل عباس جعفرییہ جولائی 1920ء کا واقعہ ہے جب شاعر انقلاب جوش ملیح آبادی کا پہلا مجموعہ کلام ’’روح ادب‘‘ اشاعت کے مرحلے سے گزرا۔ جوش ملیح آبادی: ایک ادبی سفر کا آغاز جوش ملیح آبادی 5 دسمبر 1894ء کو ملیح آباد میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا تعلق یوپی کے ایک جاگیردار گھرانے سے تھا۔ شعر و شاعری ان کی گھٹی میں پڑی تھی۔ ان کے والد نواب بشیر احمد خان، دادا نواب محمد احمد خان اور پردادا نواب فقیر محمد خان گویا سبھی صاحب دیوان شاعر تھے۔ 1903ء میں 9 برس کی عمر میں جوش نے پہلا شعر کہا۔ ابتدا

بتاشوں کی مٹھاس: ایک تہذیبی استعارہ
تہذیبی و ثقافتی پس منظر برصغیر کی تہذیبی روایت میں بعض اشیاء وقت کی گرد سے محفوظ رہتی ہیں۔ وہ اپنی مادی حیثیت سے آگے بڑھ کر اجتماعی حافظے، روحانی وابستگی اور سماجی وقار کی علامت بن جاتی ہیں۔ بتاشا بھی انہی خاموش علامتوں میں سے ہیں۔ چینی کے پگھلے ہوئے قطرے جب ٹھنڈک پا کر شفاف بلور کی صورت اختیار کرتے ہیں تو وہ محض مٹھاس نہیں رہتے بلکہ ایک پورے عہد کی نمائندگی کرنے ہیں۔ چینی کے بلبلے یا بلبلوں کی طرح کے ہونے کی وجہ سے اس کا نام “بتاشا” رکھا گیا ہے۔ بتاشے کا تعلق سلطنتوں سے نہیں، بلکہ ثقافت سے ہے ۔ یہ کسی خاص سلطنت (جیسے مغل یا مراٹھا) کی ایجاد نہیں تھے بلکہ

سیرتِ رسولِ عربی اور ریاست مدینہ میں قومی زبان کا مقام : مصّنف – محمد اسلام نشتر
سیرتِ رسولِ عربی اور ریاست مدینہ میں قومی زبان کا مقام تعارف تاریخ کا مطالعہ صرف واقعات کو دہرانے کا نام نہیں، بلکہ ان سے سیکھ کر اپنے حال کو بہتر بنانے کا عمل ہے۔ جناب اسلام الحق صاحب کی گراں قدر تصنیف “سیرتِ رسولِ عربیؐ اور ریاستِ مدینہ میں قومی زبان کا مقام” ایک ایسی تحقیق ہے جو ہمیں تاریخ کے آئینے میں زبان کی اہمیت، اس کے ارتقاء اور ایک مثالی ریاست میں اس کے کردار سے روشناس کراتی ہے۔ یہ کتاب نہ صرف سیرتِ نبویؐ کا ایک نیا زاویہ پیش کرتی ہے، بلکہ اردو زبان کے زوال پر بھی ایک گہرا فکر انگیز تبصرہ ہے۔ مکمل ویڈیو دیکھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں

ایک پرسکون ٹھکانہ اور زندگی کی بیتیاں
ایک پرسکون ٹھکانہ اور زندگی کی بیتیاں اتوار کا پیغام: ایک خوشگوار شروعات اچھا سا ناشتہ بناو۔ پھر گھر کی صفائ کرو۔ مالکن کی طرح۔ ماسی کی طرح نہیں۔ نہ چوروں کی طرح! آج کوئ کتاب کھول کے دیکھو۔ اس میں ادیب نے کیا لکھا ہے۔ کوئ بزرگ اگر گھر میں ہے۔ تو ذرا انکا دل بہلاو ! انکے ساتھ بیٹھو لطیفے سناو۔ تیار کرکے کہیں گھمانے یا ملانے لیجاو۔ ارے بیبیوں کچھ عاقبت سنوار لو۔ بن ٹھن کے سنگھار کرکے میاں کو لبھاو آج اتوار ہے مسکراو گنگناو۔ محلے والوں کو کچھ اچھا پکا کرکھلاو۔ پاکستان کے لئے اچھا کرو اچھا سوچو۔ اس لئے کہ !! موج بڑھے یا آندھی آئے۔ دیا جلائے رکھنا ہے۔ گھر کی خاطر سو
چند چنیدہ تحریریں

جاپانی اسکالر کا اردو میں غیر معمولی خطاب
جاپانی اسکالر کا اردو میں غیر معمولی خطاب (Order of the Rising Sun, Gold Rays with Neck Ribbon) ڈاکٹر معین

خود نوشت ‘کاریز’: رفیع الدین راز کی ادبی اور سفری داستان
خود نوشت ‘کاریز’: رفیع الدین راز کی ادبی اور سفری داستان ‘جہا نیاں جہاں گشت ‘کا ایک دل نشیں کارنامہ:

کمیشن والی دوائیں اور لیبارٹری ٹیسٹ
ماضی کا طریقہ علاج: ڈاکٹر صاحبان کی تشخیصی صلاحیت (diagnostic)ڈاکٹر صاحبان اسی اور نوے کی دہائی میں مریضوں کا علاج

سچ حسب ذائقہ اور تلخ معاشرتی رویے
سچ کی کڑواہٹ اور سچ حسب ذائقہ کا تصور کسی جگہ پڑھا تھا کہ دشمن بنانے کیلئے ضروری نہیں کہ
ہمارے چینل کی پسندیدہ ویڈیوز
یونیورسٹی کی وہ ناقابلِ فراموش راتیں، جنہوں نے زندگی میں لڑنا سکھایا۔سابق طلبہ رہنماؤں کی زبانی، بچپن کی مضبوط بنیادوں سے کٹھن موڑ تک کا سفر۔ جدید دنیا کی پیچیدگیوں کو سمجھنے اور منزل پانے کے وہ ان کہے حقائق۔
جانیے ان معروف ادیبوں اور شاعروں کے بارے میں، جنہیں دنیا صرف ان کی تحریروں سے جانتی ہے۔ ان عظیم مفکروں کے ماضی کے وہ بند دروازے، جو پہلی بار آپ کے سامنے کھلنے جا رہے ہیں۔ ایک عام انسان کے اندر سے ایک انقلابی قلم کار کے جنم لینے کی وہ ان کہی داستان جس نے اپنی سوچ سے لاکھوں دلوں کو اپنی مٹھی میں لیا۔
ذکر کتاب تاثرات – اقتباسات ذکر کتاب تاثرات – اقتباسات ذکر کتاب تاثرات – اقتباسات
