رشتے محبتوں کے
ایک خوبصورت شام کی یاد
شام تو روز ہوتی ہے لیکن کل کی شام اتنی خوبصورت تھی کہ اسکے بارے میں اپنی فیسبک فیملی کو نا بتایا تو نا انصافی ہوگی۔
پیارے بھانجے عرفان صدیقی کے گھر دعوت
تو جناب کل دعوت تھی ہماری اپنے پیارے۔ بھانجے عرفان صدیقی کے گھر۔
عرفان نے ہمارے خاندان میں سب کو دین کی تعلیم سے مزید جوڑ کے رکھا ہے۔ ماشاءاللہ انکا مدرسہ بھی ہے جہاں دین و دنیا کی تعلیم کے زیور سے نئ نسل کو آراستہ کیا جاتا ہے۔ نہ صرف دین بلکہ دنیا کی تعلیم بھی یعنی
اور عام پبلک تعلیم بھی دی جاتی ہے
A. Level , O Level !
کی بھی کلاسیں ہوتی ہیں۔ انکے اپنے سب بیٹے، بھانجے بھتیجے بھی ان کے مدرسے سے حفظ قرآن کر چکے ہیں۔ ماشاءاللہ۔
محبت، تواضع اور لذیذ کھانوں کی محفل
تو کل ہماری دعوت میں پائے نہاری ۔ بریانی ، مزیدار کباب دہی، سلاد اور گاجر کا حلوہ اور مٹھائ تھی۔ بات یہ نہیں کہ کیا کیا تھا اور کتنی ڈشز تھیں بلکہ جو حسن اخلاق تھا محبت تھی اور تواضع کا گرم جوش انداز تھا اسنے مزید نرمی گرمی اور خوشبو کے ساتھ ذائقہ میں سواد بڑھا دیا تھا۔ ہم شگر کے ماروں نے بھی ذیا بیطس کو پرے رکھ کر خوب ڈٹ کر لزیز کھانے اور میٹھے سے انصاف کیا۔
نسلوں تک قائم رہنے والی محبتیں
اللہ پاک یہ محبتیں اسی طرح ہماری نسلوں میں رواں رہیں اور یہ محبتیں نئے شامل ہونے والے رشتوں میں بھی اسی طرح مربوط رہیں۔ آمین۔
اس قسم کے مزید بلاگز پڑھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں
-
View all postsمسز تنویر روف ایک باصلاحیت، باوقار اور تجربہ کار شخصیت ہیں جنہوں نے پینسٹھ سالہ زندگی کو حوصلے، دانشمندی اور استقامت کے ساتھ گزارا ہے۔ وہ ماضی کی تلخیوں پر نہ رکنے بلکہ آگے بڑھنے اور بہتر مستقبل کی طرف دیکھنے پر یقین رکھتی ہیں۔
تعلیم کے شعبے میں تین دہائیوں سے زائد عرصے سے وابستہ، انہوں نے پرائمری سے یونیورسٹی سطح تک طلبہ کی علمی و اخلاقی تربیت کی ہے۔ مختلف ثقافتوں، زبانوں اور لوگوں سے ملنے کا شوق رکھنے والی مسز تنویر روف سفر کو علم اور دلوں کے قریب آنے کا ذریعہ سمجھتی ہیں۔
وہ پُراعتماد، خوش مزاج اور ہر ماحول میں خود کو ڈھال لینے والی خاتون ہیں۔ پاکستان کی علاقائی زبانوں پر عبور اور دنیا بھر میں پھیلے دوست ان کے انسانی تعلقات کو مزید خوبصورت بناتے ہیں۔ایک اچھی معلمہ ہونے کے ساتھ ساتھ آپ ایک اچھی مصنفہ اور مترجم بھی ہیں آپ کے سوانح عمری کے دو حصہ "زندگی خوبصورت ہے" اور "بڑھاپا بھی خوبصورت ہے" شائقینِ کتب میں مقبول ہوا اور اس کے علاوہ بھی آپ کی تصانیف اور تراجم بھی شائع ہوچکی ییں





