The Rising Divorce Rate in Society Part 1
طلاق: ایک ناپسندیدہ حلال اور معاشرتی صورتحال
اگر کسی حرام چیز کو پینا مسنون قرار دیا جاسکتا ہے تو وہ “غصہ” ہے اور اگر کسی حلال چیز کو انتہائی ناپسندیدہ قرار دیا جاسکتا ہے تو وہ “طلاق” ہے۔ طلاق ازداجی تنازعات کے حل کے لئے آخری چارہ کار ہے اور میاں بیوی میں اتفاق کی کوئی صورت پیدا نہ ہونے پر علیحدگی کی اجازت دی گئی ہے۔ آج کل ہمارے یہاں Rising Divorce Rate میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوچکا ہے اور اس کی بےشمار وجوہات ہیں جن کا آئندہ کی تحاریر میں احاطہ بھی کیا جائے گا، لیکن آج کی اس تحریر میں اس بات کی کوشش کی گئی ہے کہ لوگوں کو طلاق کے قرآنی طریقہ کار کی یاددہانی کرائی جائے تاکہ اس Rising Divorce Rate کے طوفان کو روکا جا سکے۔
طلاق کا قرآنی طریقہ اور رجوع کی گنجائش
سب سے پہلے تو یہ بات سمجھنے کی ہے کہ ایک طلاق دینے سے بھی طلاق ہوجاتی ہے اور یہ اللہ تعالی کا ہم پر بہت بڑا احسان ہے کہ طلاق کے قرآنی طریقہ کار میں دو دفعہ رجوع کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ سورہ بقرہ میں اللہ تعالٰی فرماتا ہیں کہ “طلاق دو مرتبہ ہے، پھر یا تو عورت کو شائستہ طریقے سے روک لیا جائے، یا بھلے طریقے سے رخصت کردیا جائے اور بوقت رخصت تمھارے لئے جائز نہیں ہے کہ جو کچھ تم انھیں دے چکے ہو اس میں سے کچھ لو، سوائے اس صورت میں کہ زوجین کو اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکنے کا اندیشہ ہو”۔ عدت کی مدت کے بارے میں سورہ طلاق میں اللہ فرماتا ہے کہ “اے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) جب تم لوگ عورتوں کو طلاق دو تو انھیں ُان کی عدت کے لئے طلاق دیا کرو اور عدت کے زمانے کا ٹھیک ٹھیک شمار کرو”۔ اب اگر میاں بیوی میں ناچاتی ہے اور اگر انھیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اللہ کی قائم کردہ حدود میں وہ ایک چھت کے نیچے نہیں رہ سکتے تو اگر میاں چاہے تو بیوی کو ایک طلاق دے دے مگر یہ طلاق طہُر کی حالت میں دی جائے یعنی جب بیوی حیض کی حالت میں نہ ہوں تاکہ عدت کا ٹھیک ٹھیک تعین کیا جاسکے۔
عدت کے دوران قیام اور دوبارہ نکاح کے احکامات
اس دوران الگ ہوجانے کا حکم ہے لیکن ایک گھر میں رہا جائے تاکہ رجوع کی گنجائش رہے۔ اب یہاں تین حیض یا تین مہینے دس دن رکنے کا حکم ہے اگر تین حیض یا تین مہینے دس دن کے اندر رجوع کرلیا تو شوہر نے اپنی تین طلاق میں سے ایک کا حق استعمال کرلیا اور اب اس کے پاس دو طلاق کی گنجائش ہے لیکن اگر تین حیض یا تین مہینے دس دن میں رجوع نہ کیا تو طلاق ہوگئی اور اگر شوہر رجوع کرنا چاہے تو وہ اسی عورت سے نکاح کرکے ُاس کو اپنی زوجیت میں لے سکتا ہے۔ ایک طلاق کی صورت میں حاملہ بیوی کی عدت وضعِ حمل تک ہے اور حمل کے دوران رجوع کیا جاسکتا ہے اور حمل ختم ہونے کی صورت میں اگر شوہر اسی عورت کو اپنی زوجیت میں لینا چاہے تو نکاح کرکے لے سکتا ہے مگر وہ یہ بات سمجھ لے کہ وہ اب وہ اپنا ایک طلاق کا حق استعمال کرچکا ہے اور اب ُاس کے پاس طلاق کے صرف دو حق رہ گئے ہیں۔
دوسری طلاق اور حتمی علیحدگی کی حد
اگر ایک دفعہ رجوع کر لینے کے بعد دوبارہ ناچاتی ہوتی ہے یا پھر ناچاتی رہتی ہے اور میاں بیوی نے ایک دوسرے سے الگ ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے تو طریقہ کار وہی رہے گا جو اوپر درج کیا ہے۔ اگر عدت کی مدت میں رجوع کر لیا تو ٹھیک ورنہ طلاق ہو جائے گی اور رجوع کی مدت کے بعد اگر شوہر اسی عورت کو اپنی زوجیت میں لینا چاہتا ہے تو ُاس کو ُاس عورت سے دوبارہ نکاح کرنا ہوگا۔ شوہر اب یہ بات سمجھ لے اور ذہن نشین کر لے کہ اب رجوع کی گنجائش ختم ہوگئی ہے اور اب ناچاتی کی صورت میں تیسری طلاق کا حق استعمال کرنے کی صورت میں مستقل علیحدگی ہے اور اس کے بعد ُاسی عورت سے نکاح “حلالہ” کے بغیر ممکن نہ ہوگا۔
گواہوں کی اہمیت اور قرآنی حکم
ایک اور قرآنی حکم یہاں سمجھ لینا ضروری ہے کہ جب بھی شوہر نے طلاق کا حق استعمال کیا اور عدت یا رجوع کی مدت پوری ہونے کا وقت ہوا چاہتا ہے تو اس موقع پر اللہ فرماتا ہے کہ “پھر جب وہ اپنی (عدت کی) مدت کے خاتمہ پر پہنچیں تو یا انہیں بھلے طریقے سے (اپنے نکاح میں) روک رکھو، یا بھلے طریقے پر ُان سے جدا ہوجاؤ۔ اور دو ایسے آدمیوں کو گواہ بنالو جو تم میں سے صاحبِ عدل ہوں۔ اور (اے گواہ بننے والو) گواہی ٹھیک ٹھیک اللہ کے لئے ادا کرو”۔
فقہی نقطہ نظر اور معاشرتی روش
یہ طلاق دینے کا قرآنی طریقہ ہے کہ نہ جس کو پڑھایا جاتا ہے اور نہ سمجھایا جاتا ہے۔ تمام ڈراموں، فلموں غرضیکہ ہر جگہ تین طلاق ایک ساتھ دکھائی اور بولی جاتی ہے کیونکہ نہ ان کے پاس اتنا وقت ہوتا ہے یا پھر وہ اسی طریقے کی تبلیغ کرنا چاہتے ہیں۔ امام شافعی کے نزدیک ایک نشست میں جتنی دفعہ بھی طلاق کہی یا دی جائے گی وہ ایک ہی شمار ہوگی لیکن امام ابو حنیفہ کے نزدیک ایک نشست میں تین دفعہ طلاق کہنے سے تینوں طلاق ہوجاتی ہیں اور اب حلالہ کے بغیر اسی عورت کو آدمی اپنی زوجیت میں نہیں لے سکتا، چونکہ برصغیر پاک و ہند بشمول بنگلہ دیش میں آبادی کی اکثریت حنفی فقہ پر عمل کرتی ہے اس لئے ایک نشست میں تین طلاق دینے کی صورت میں طلاق اور مکمل علیحدگی ہوجاتی ہے لیکن اگر شوہر ناچاتی کی صورت میں قرآنی طریقہ کار کے مطابق طلاق دے تو دو دفعہ رجوع کی گنجائش باقی رہتی ہے۔
آگاہی کی ضرورت اور پیغامِ اصلاح
آج کی تحریر میں قرآنی طریقہ کار کے مطابق طلاق کے طریقے کی آگہی کی کوشش کی گئی ہے اور اگر صرف اس پر ہی عمل درآمد کر لیا جائے تو Rising Divorce Rate میں نمایاں کمی کی جاسکتی ہے۔ آئندہ کی تحاریر میں طلاق کے عوامل اور اس کے سدباب پر روشنی ڈالی جائیگی۔ آپ اگر چاہتے ہیں طلاق کے قرآنی طریقہ کار کی معلومات لوگوں تک پہنچے تاکہ Rising Divorce Rate پر قابو پایا جا سکے تو آپ اس کو پھیلا کر اس میں تعاون کر سکتے ہیں ورنہ ہم سب کو پیغامات تو روزانہ سیکڑوں کی تعداد میں آتے
اور جاتے رہتے ہیں۔
آخری حصّہ پڑھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں




