ٹنڈو آدم میں میونسپل الیکشن 1952: قیامِ پاکستان کے بعد پہلا بلدیاتی معرکہ حصہ اول
پس منظر اور ابتدائی اقدامات
ٹنڈو آدم میں قیام پاکستان کے بعد پہلا الیکشن۔ ٹنڈو آدم میں میونسپل الیکشن 1952 حصہ اوّل
قیام پاکستان کے بعد حکومت پاکستان نے یہ ملک کو درپیش مسئلے سے نمٹنے کے لیے بلدیاتی انتخابات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ تک شہری سطح پر مسئلہ عوام خود حل کرسکے
ان بلدیاتی انتخابات سے پہلے، 1951 میں سندھ میں صوبائی انتخابات کرائے گئے تھے۔( ٹنڈو آدم اس وقت تعلقہ شہددپوار کی حد میں تھا . میونسپل کمیٹی شہدپوار اور میونسپل کمیٹی ٹنڈو آدم کی ایک نشت تھی ۔جس پر شاہ نذر کامیاب ہوئے تھے ۔)یہ انتخابات پاکستان میں جمہوری طرز حکمرانی کے ڈھانچے کے قیام کی جانب ابتدائی اقدامات کا حصہ تھے۔
سندھ، پاکستان میں پہلے بلدیاتی انتخابات 1952 میں ہوئے تھے۔ یہ انتخابات نئے آزاد ملک میں شراکتی جمہوریت کی ابتدائی کوشش تھے۔
انتخابات کا قانونی ڈھانچہ اور ترامیم
یہ بلدیاتی انتخابات انڈین کونسلز ایکٹ 1901 کے تحت پہلی بار برطانوی ہندوستان میں قانون ساز اداروں میں مقامی لوگوں کو اپنے نمائندے منتخب کرنے کا اختیار دیا گیااس بعد میں برطانوی حکومت نے ترمیم بل 1923 ۔1925 اور گورنمنٹ ایکٹ 1935 گورنمنٹ آف پاکستان نے اسی میونسپل ایکٹ 1901 میں 1952 میں ترامیم کر کے اس ایکٹ کے تحت میونسپل کمیٹی کے انتخابات کریں گئے ۔
ووٹرز اور امیدواروں کے لیے سخت شرائط
اس میں الیکشن میں حصہ لینے اور ووٹ کاسٹ کرنے کی اہلیت:- ان انتخابات کے لیے ووٹرز کے طور پر اندراج کی اہلیت بھی محدود تھی اور اس کا انحصار ٹیکس، جائیداد، تعلیم، سرکاری خدمات وغیرہ پر تھا۔
جائیداد کی اہلیت اس قدر بلند رکھی گئی کہ صرف مال دار زمیندار اور تاجر ہی نمائندہ بن سکتے
ٹنڈو آدم کی آبادی اور کونسلرز کا تناسب
1952 میں شہر کی آبادی 21260 تھی
کونسلر کی تعداد 24 بھی تھی
یعنی 900 کی آبادی پر ایک کونسلر تھا ۔
اس یعنی ہر محلہ یا علاقے کا الگ کونسلر تھا
اس دور کے شہر کی حدود اور جغرافیہ
اس وقت شہر کی ابادی پھٹان مسجد روڈ ۔ کالی روڈ جمن شاہ روڈ اور لیاقت روڈ کے دائرہ کے اندر ابادی تھی
تھوڑی آبادی ریئس الہ یار مری گوٹ اور گوٹ ریئس خیر محمد مری میں تھی
بلا مقابلہ انتخاب اور کونسل کے پہلے عہدیداران
اس وقت زیادہ تر امیدوار بلا مقابلہ منتخب ہوئے تھے کیونکہ امیدوار اور ووٹر کی شرائط انتی سخت تھی کہ عام آدمی کا الیکشن میں حصہ لینا اور ووٹ دینا ناممکن تھا ۔
اس کونسل کے پہلے پریذیڈنٹ رئیس دادو خان مری اور وائس پریزیڈنٹ ۔ رحمت اللہ خان۔ بنے
انتخابات کے اثرات اور وارڈ E کا تاریخی ضمنی انتخاب
اس الیکشن کے بعد شہر میں سماجی اور سیاسی سرگرمیوں میں اصافہ ہوا تھا ۔ ترقیاتی کاموں کا آغاز ہوا
اس دوران شہر کے ایک وارڈ میں ضمنی انتخاب ہوا تھا ۔ یہ الیکشن وارڈ E کی خالی نشست پر ہوا تھا ۔ وجہ معلوم نہیں ہو سکی ۔ لیکن یہ دلچسپ مقابلہ 31 جنوری 1956 میں ہوا تھا اور مسلم لیگ دو گروپ میں تقسیم ہوگئی تھی
جس کے لیے مسلم لیگ نے باقاعدہ ایک پملفٹ بھی شہر میں تقسیم کیا تھا ۔ یہ پمفلٹ سید فضل حسین شاہ جو کہ جنرل سیکریٹری تھے مسلم لیگ ورکربوڈر کے انہوں نے شایع کریا تھا ۔یہ مقابلہ مرزا خورشید بیگ اور ایم ایل اے شاہ نذر کے بیٹے بدر حسین کے درمیان ہوا تھا جس میں سخت مقابلے کے بعد شاہ نذر کے بیٹے بدر حسین کامیاب ہوگئے تھے ۔
1957 میں اس کمیٹی کی مدت ختم ہوگئی ۔

اس قسم کے مزید بلاگز پڑھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں





