قطعات اور قطعات

حلیم انصاری

حلیم انصاری صاحب سے تعارف اور ربطِ خاص

حلیم انصاری صاحب سے کوئی بہت دیرینہ ربط و تعلق میرا نہیں ہے، بس حالیہ چند سالوں کی بات ہے جب ان کی تازہ ترین تخلیقات: ‘فکری نورنگیاں’ اور ‘عقیدت کے موتی’ نے مجھے ان کی جانب متوجہ کیا۔ اس میں خود ان کی عنایت و مہربانی بنیادی سبب رہی ہے، جس نے اس طور پر مجھے ان کا گرویدہ بنانے میں بھی فعال کردار ادا کیا ہے۔

حلیم انصاری بحیثیتِ قطعہ نگار اور میری رائے

اس سارے عمل میں خود ان کا تخلیقی کردار اور ادب و شعر سے ان کی نسبت اور خاص دلچسپیوں نے وہ اوصاف ان میں نمایاں کیے ہیں جنھیں میں نے انھیں ایک شاعر اور وہ بھی اپنے ایسے مخصوص لب و لہجے کے شاعر کے طور پر دیکھا، جنھیں تخصیصی طور پر ایک خالص قطعہ نویس بل کہ قطعہ نگار کی حیثیت میں میں نے محسوس کیا، جانچا اور پرکھا بھی ہے!

انھیں جانچنے پرکھنے کا موقع مجھے یوں ملا کہ ان کے قطعات کے مذکورہء بالا دو ایک مجموعے بھی میں نے ایسے دیکھے جو کچھ زیادہ پرانے نہیں، ابھی حال ہی میں تخلیق ہوئے اور شائع بھی ہوئے، کہ میں نے ان پر اپنے تاثرات شامل کرنے پر خود کو بصد خوشی و مسرت آمادہ بھی پایا اور کچھ اپنے احساسات لکھ بھی ڈالے!

عصرِ حاضر میں قطعہ نگاری کی انفرادی مثال

شاید عصرِ حاضر کے جدید شعرا میں محمد حلیم انصاری صاحب واحد ہی شاعر ہیں جو غالباً خود کو محض قطعات سے مخصوص کیے ہوئے ہیں اور اپنی ساری طاقت و طلاقتِ شعر کو قطعات کے توسط سے ہی اپنے کل اظہار کا وسیلہ بنائے ہوئے ہیں۔ وہ اس میں حد درجے کامیاب بھی ہیں کہ اب تک قطعات کے کئی مجموعے ان سے تخلیق ہوچکے ہیں اور کیا اپنے نفسِ مضمون، کیا اپنے دل نشیں اسلوب اور کیا اپنے طرزِ کلام؛ یہ اپنے رنگ و آہنگ کی ایک مثال بھی قائم کرچکے ہیں!

موضوعات کا تنوع اور شعری مجموعہ ‘بے پیندے کے لوٹے’

نفسِ مضمون اور خیال و فکر کے لحاظ سے جو نمایاں وصف ان کے کلام میں مجھے منفرد اور چونکانے والا نظر آتا ہے، ان میں تنوع ہے اور بے پناہ تنوع ہے جو کم ہی کسی شاعر کے کلام میں اس طرح کھل کر ملتا ہے۔ ‘بے پیندے کے لوٹے’ تو اس اعتبار سے خاصا مختلف اور منفرد بھی ہے کہ یہ نسبتاً ضخیم بھی ہے اور اس مناسبت سے متنوع بھی بہت ہے کہ خیال و فکر کی کوئی انتہا مجھے اس میں نظر نہ آئی!

موضوعات بے پناہ اس میں سموئے ہوئے موجود ہیں جن کی کوئی تخصیص یا تحدید نہیں کی جاسکتی، جو جذبہ و احساس کا نتیجہ بھی ہیں اور اپنے میں ماحول و معاشرے کا سب و ستم بھی لیے ہوئے ہیں اور تہذیب و سیاست کے شاخسانے بھی جنھیں کہا جاسکتا ہے۔ ان کے سابقہ مجموعوں: ‘فکری نورنگیاں’ اور ‘عقیدت کے موتی’ سے یہ مجموعہ مجھے ضخامت و تنوع میں بھی خاصا نمایاں لگا ہے۔

قادر الکلامی اور قاری پر اس کے اثرات

اسے دیکھ کر، پڑھ کر یہ احساس تو قوی رہتا ہے کہ حلیم انصاری صاحب چاہے اب قطعات تک ہی مخصوص ہوں، لیکن خاصے قادر الکلام شاعر ہیں کہ یہ مجموعہ اگرچہ نسبتاً ضخیم ہے لیکن محض جنوری ۲۰۲۰ء سے دسمبر ۲۰۲۳ء کی تخلیقات یا قطعات کا نتیجہ ہے۔ جسے ورق گردانی یا محض کھول کر دیکھیں تو جو قطعات یا ان کے عنوانات سامنے رہتے ہیں، وہ دیکھنے والے یا قاری کو پڑھنے پر آمادہ ضرور کردیتے ہیں!

پھر یہ یقینی ہے کہ جس قاری نے قبل ازیں حلیم صاحب کے قطعات پڑھے ہوں، وہ ضرور اس مجموعے کو توجہ اور دلچسپی سے پڑھنے کے لیے ‘کرشمہ دامن دل می کشد کہ جا ایں جاست’ کے مصداق لازماً اسے پڑھنے کا پابند رہے گا اور یہ حلیم انصاری صاحب کی ایک بڑی کامیابی ہی ہے۔

تو چلیے، اسے اب پڑھتے ہیں، چاہے شروع سے یا جہاں سے چاہیں!

معین الدین عقیل صاحب کے مزید کالم پڑھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں