مجھے ہراساں کیا گیا!!! – سہیل یعقوب

ہراساں

مجھے ہراساں کیا گیا!!! – سہیل یعقوب

ہراساں کیے جانے کے الزامات اور تصویر کا دوسرا رخ

“مجھے ہراساں کیا گیا!!!” اس سے پہلے کہ یہ عنوان پڑھ کر آپ کے ذہن میں کوئی خیالات آئیں، میں اس بات کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ یہ کوئی آپ بیتی نہیں بلکہ یہ میری آج کی تحریر کا موضوع ہے۔ ویسے مکمل موضوع ہے کہ مجھے جنسی طور پر ہراساں کیا گیا۔ آج کل ایسے واقعات تواتر کے ساتھ پیش آ رہے ہیں اور ذرائع ابلاغ میں اس کو نمک مرچ لگا کر پیش کیا جاتا ہے۔

متنازعہ موضوعات پر لکھنا اور معاشرتی ردعمل

پاکستان میں لکھنا ویسے بھی مشکل کام ہے اور متنازعہ موضوع پر لکھنا تو جان جوکھوں کا کام ہے۔ میں نے کچھ عرصے پہلے ڈان اخبار میں ملیحہ رحمان کا مضمون پڑھا تھا اور اس میں بہت سی ایسی باتیں پڑھیں جو میں خود بھی سوچتا تھا، تو مجھے اس تحریر کے لیے تحریک ملی۔ جنسی طور پر ہراساں کیے جانے پر مردوں کی طرف سے کچھ لکھنے کا مطلب “آ بیل مجھے مار” کے مترادف ہے اور سب سے پہلے تو آپ کو نہ “Male Chauvinist”چاہتے ہوئے بھی

 کا خطاب مل جائے گا۔ لیکن یہ بھی ایک اٹل حقیقت ہے کہ انسان کی درج شدہ تاریخ میں جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے پہلے مقدمے میں فیصلہ عورت کے خلاف آیا تھا اور مرد کو مظلوم قرار دیا گیا تھا کیونکہ دامن آگے سے نہیں بلکہ پیچھے سے پھٹا ہوا تھا۔

ذرائع ابلاغ کا کردار اور یکطرفہ الزامات کی حقیقت

اب تک ذرائع ابلاغ کی گفتگو اور تحریروں سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس بات کا تعین بغیر کسی شبے اور تحقیق کے کر لیا گیا ہے کہ اس مقدمے میں ہر دفعہ مظلوم صرف عورت ہے اور مرد صرف اور صرف ظالم ہے۔ ہم سب یہ بات جانتے ہیں کہ کوئی بھی معاہدہ اس وقت تک پائے تکمیل پر نہیں پہنچتا جب تک دونوں فریق باہمی طور پر رضامند نہ ہوں اور رضامندی اسی وقت ہوتی ہے جب دونوں کو فائدہ ہوتا ہے۔

ہو سکتا ہے کہ آپ کہیں کچھ لوگ مجبور بھی ہوتے ہیں، بالکل درست، لیکن ایک دفعہ تمام الزام لگانے والوں کو ایک نظر دیکھ لیجیے کہ کیا ان میں سے کوئی آپ کو مجبور لگتا ہے؟ ایک اور بات، تقریباً تمام ہی مقدمات اچھا خاصا وقت گزرنے کے بعد درج کرائے گئے ہیں، قانون میں اس قسم کے تمام حالات اور واقعات کو ہمیشہ شک و شبہ کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

احساسِ جرم یا سوچی سمجھی حکمتِ عملی؟

ایک نتیجہ یہ بھی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ ایک فریق نے دوسرے سے فائدہ اٹھا کر اب احساسِ جرم کے تحت مقدمہ درج کرا دیا۔ ان تمام باتوں کا قطعی یہ مطلب نہیں کہ مرد مکمل طور پر بے گناہ ہے یا اسے کھلی چھٹی ہے، نہیں قطعی نہیں! مقصد یہ ہے کہ کسی بھی فرد کو صرف اپنی صنفی ساخت کی بنا پر یہ آزادی نہیں ہونی چاہیے کہ وہ جب چاہے اور جس طرح چاہے دوسری صنف کو تختہ مشق بنا دے۔

انصاف کے تقاضے پورے ہونے چاہئیں۔

جانبداری کسی بھی صنف کے لیے نہیں ہونی چاہیے۔

اگر کوئی اس کو حربے کے طور پر استعمال کرنا چاہے اپنے کسی بھی فائدے کے لیے، تو اس کو عبرت کا نشان بنا دینا چاہیے۔

اگر ہم نے اس کو ابھی نہیں روکا تو پھر اعتراض اور ڈسکلوژرجیسی فلمیں ہمارے معاشرے میں حقیقت بن جائیں گی۔ اگر آپ نے یہ فلمیں نہیں دیکھیں تو ضرور دیکھیے گا، اس میں کافی واقعات اور کردار آپ کو اپنے اردگرد نظر آئیں گے۔

معاشرتی دباؤ اور غیر جانبدارانہ انصاف کا حصول

اس کا ایک ہی حل ہے کہ انصاف کسی شک و شبہ اور کسی دباؤ کے بغیر ہونا چاہیے۔ ایک ایسا معاشرہ جو ہر طرح سے مجبور و محبوس ہو، وہاں اس کے لیے یہی کہا جا سکتا ہے کہ: “اے تے نہ کرن والی گل ہوئی”۔

اختتامی نوٹ: عوام کا فیصلہ اور اصل سچائی

میری اس تحریر سے اگر کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو پیشگی معذرت کیونکہ یہ میرا مطمعِ نظر قطعی نہیں تھا، میں تو بس تصویر کے دونوں رخ پیش کرنا چاہتا ہوں کہ نہ مرد ہونا کوئی جرم اور نہ عورت ہونا کوئی انعام۔ اللہ نے اس دنیا کو برقرار رکھنے کے لیے یہی دو صنف پیدا کی ہیں۔

اگر کوئی اپنی صنفی ساخت کی بنا پر دوسری صنف سے ناجائز فائدہ لینا چاہتا ہے، چاہے اپنی جسمانی طاقت کے ذریعے یا حسن کے ذریعے، دونوں غلط ہیں اور معاشرے کو اس کے سدباب میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ میری جو رائے تھی میں نے پیش کر دی، باقی جو آپ کا فیصلہ، کیونکہ آخری فیصلہ ہمیشہ عوام نے کرنا ہوتا ہے جو ہمیشہ درست ہوتا ہے اگر انہیں کرنے دیا جائے۔

ہراساں