وہ خواتین جن سے میں نے جینا سیکھا
زندگی کے سفر میں ملنے والی وہ خواتین جنہوں نے کردار، صبر اور محبت کے حقیقی معنی سکھائے
میری وہ خواتین دوست جن سے میں نے محبت پائ جینا سیکھا، صبر کرنا سیکھا، محنت کرنی سیکھی، خود داری سیکھی، عاجزی سیکھی ، بنا مطلب بنا غرض ملنا دلجوئی کرنا سیکھا، رنگ نسل، امیری غریبی غیر معنی ہوتے ہیں سیکھا، خدمت گزاری سیکھی، تحائف موقع بے موقعہ دینا سیکھا۔ مہمان نوازی سیکھی مگر دوستو پھر بھی اب تک رہی میں کاہل جاہل اور کام چور !
کچھ نا سیکھا ہم نے نہ سیکھی ہشیاری۔
سچ ہے دنیا والو کہ ہم ہیں اناڑی۔
۔ میری ماں — صبر، محبت اور بےلوث شفقت کا استعارہ
سب سے پہلے میری ماں۔ جن کے 14 بچوں میں سے 11 میری پیدائش سے پہلے واپس جنت چلے گئے اور سب سے بڑی بہن 20 سال کی عمر میں ڈبل نمونیہ کی وجہ سے لالا موسئ میں ملک عدم سدھار گیئں۔ میں سب سی آخری اولاد ہوں ، بڑے بھائ سید مظہر علی کے ذکر کے اور انکی تربیت کے بغیر میری زندگی ایسی شاندار نہ ہوتی۔
تو جناب امی نے کبھی مجھ سے کسی کا ذکر نہیں کیا۔ مجھے والد صاحب سے معلوم ہوا کہ بس صرف ان کے 14 ٹوٹل بچے ہوے جن میں سے 12 جنت واپس پہنچ گئے۔ ماں نے صبر کیا خاموش رہیں۔ کینسر جیسے موذی مرض میں جان دی مگر کبھی تکلیف کا شکوہ نہ کیا۔ ان سے میں نے صبر سیکھا۔ محبت سیکھی۔ چرند پرند انسان جانور سب امی سے اور امی ان سے بےلوث محبت کرتیں۔
ہمارے پالتو کتے کو کسی نے گولی ماردی۔ وہ امی کے پلنگ کے نیچے آکر لیٹا اور مر گیا۔ اسکی مادہ غم سے کچھ دن بعد ہی مرگئ۔ امی نے ایک زخمی گل گچی(مینا) کی خدمت کی تھی۔ دوران کینسر وہ روز امی کے پاس گرل پر آکر بیٹھی رہتی۔ امی کے انتقال کے بعد پھر کبھی نظر نہیں آئ۔
۔ صبرو — خاموش محبت اور اپنائیت کا درس
ایک بوڑھی پٹھان خاتون(خواتین )ہمارے گھر کام کرتی تھین۔ انکا نام صبرو تھا۔ دوپہر کو جب گھر میں سب آرام کرتے تو وہ مجھے ٹوٹی پھوٹی اردو اور پشتو میں کہانیاں سناتیں۔ پشتو کے گانے سناتیں۔ ایک دفعہ بیمار ہویئں تو اپنے بیٹے کے گھر چلی گیئں۔ کافی دن بعد بیٹے نے آکر بتایا کہ انکا انتقال ہوگیا۔ بیماری میں ان کے بیٹے نے بتایا کہ مجھے وہ یاد کرتی تھیں۔ اپنے کی طرح وہ صابر تھیں۔
۔ بھابھی — انسان کی قدر اور چیزوں سے بے نیازی
بھائ کی شادی کے بعد بھابھی(خواتین ) آیئں۔ ان سے بےنیازی سیکھی۔ میں کلاس چہارم میں تھی۔ ٹرے میں جگ اور 6 گلاس جو بھابی کے جہیز کا نیا سیٹ تھا مجھ سے ٹرے گر گئ اور چھناکے سے پورا سیٹ چور چور ہوگیا۔ بھائ نے مجھے گھور کر دیکھا مگر بھابی نے کہا کوئ بات نہیں۔ کتنی بڑی صفت ہے۔ میں نے ان سے انسان کی قدر اور چیزوں سے بے نیازی سیکھی۔ دریا دل میری بھابی۔ سلامت رہیں وہ صحت کے ساتھ آمین۔
۔ عائشہ باجی — محنت، تعلیم اور اخلاص کا روشن باب
عائشہ باجی : ونگ کمانڈر اشرف صاحب کی بیگم عائشہ باجی ہماری رشتہ دار تھیں۔ انہوں نے اپنے بچوں کے ساتھ میٹرک کیا کیونکہ شادی کم عمری میں ہوگی تھی۔ پھر انٹر، بی اے، ایم اے کیا اور پھر اسی کالج کی لیکچرر بھی لگ گیئں۔ بہترین انسان تھیں۔ سب سے ملتی تھیں۔ 5 سال کینسر کی دوایئں کھا لینے کے بعد پتہ چلا کینسر تھا ہی نہیں۔
وہ کراچی جاتیں تو قریب اور دور پرے کے تمام رشتے داروں محلے داروں کے گھر ملنے جاتیں۔ کوئ ان سے ملے نہ ملے وہ بلا تفریق و اسٹیٹس سب سے اسی اخلاص سے مسکرا کر ملتیں۔ نہایت صابر مہمان نواز خاتون تھیں۔ ان سے بلا تفریق محبت سے سب سے میل جولائی رکھنا سیکھا۔
۔ غریب خواتین — عاجزی اور رب پر یقین کا سبق
غریبوں سے میں نے عاجزی سیکھی۔ گھروں میں کام کرنے والیاں جن کو عرف عام میں ماسیاں کہتے ہیں وہ چاہے کتنے اچھے کپڑے پہنے ہوے ہوں۔ بے دھڑک آرام سے زمین پر بیٹھ جاتی ہیں۔ میں نے کہا بھی کہ کرسی پر بیٹھ جاو میرے پاس بیٹھ جاو مگر وہ خوشی خوشی اپنی مرضی سے بیٹھ جاتی ہیں۔ غریب زمین سے کتنا جڑا ہوتا ہے۔ کتنی عاجزی۔ سبحان اللہ۔ ہم پہلے دیکھتے ہیں کہ کہاں بیٹھیں جہاں آرام ملے۔ ہم عاجز نہیں ہیں۔ دنیا دار ہیں۔ دکھاوا کرتے ہیں۔
میری ایک ماسی تھی بیگما۔ وہ کہتی تھی ہائے اللہ جی جب تو مجھے بلائے گا تو میں دوڑی دوڑی آواں گی۔ خوشی خوشی آواں گی رب تیرے کول۔ اسکے چہرے کی چمک اور آنںسو بھری چمکتی آنکھیں دیکھ کر رشک آتا تھا کہ کتنی سچی اچھی عورت ہے۔ اور پھر ربالعزت نے اپنی بندی بلا لیا۔ اللہ پاک ایسا شفاف دل اور اللہ پاک کی رحمت کا یقین ہمیں نصیب کرے۔ آمین۔
۔ ایک خود دار لڑکی — خاموش قربانی اور خودداری کی مثال
ایک خود دار لڑکی ، جو سب کی خدمت کرنے والی۔ اپنا دکھ پریشانی کسی پر عیاں نہ کرنے والی اور ہر وقت دوسروں کی مدد کو تیار۔ سخت سے سخت وقت گزار لیا مگر کسی کو ہوا نا لگنے دی۔ اسکی ماں میری دوست ہے۔ ماں تک کو اس نے کبھی نہیں بتایا۔ ماں اسکی کچھ کم عقل ہے سمجھ ہی نا سکی مگر اب بیحد پشیماں رہتی ہے۔ بہت سمجھاتی ہوں مگر اسکے دل میں پھانس چبھی ہے اپنی کم عقلی کی۔ اللہ پاک ہم سب کو ہدایت دے اور معاف کردے۔
۔ صبیحہ — خوشیاں بانٹنے اور بے غرض دینے والی شخصیت
صبیحہ کو چلتے پھرتے اپنے غیر، وجہ بے وجہ تحفے بانٹنے کا شوق ہے۔ انکا بس نہیں چلتا کہ بس ڈرائیور کو بھی بس چلانے پر تحفہ دے دیں اور بس سے اترنے والے مسافر کو بھی کچھ دے دیں کہ اتنی دیر بیٹھا رہا ۔ یہ تو مذاق تھا لیکن حقیقت میں وہ ایسی ہی ہیں۔ موقعے ڈھونڈتی ہیں مدد کرنے کی خوشیاں بانٹنے کی۔ سلامت رہیں۔ ایسے لوگ بہت نایاب ہوتے ہیں۔ قدر کرنی چاہئے۔
۔ مائی ادے — علم، وقار اور استاد کا حقیقی روپ
مائ ادے۔ مردان میں چھوٹے سے قد کی جھریوں والے چہرے کی بہت وضع دار پٹھان (خواتین )بڑی بی قرآن پڑھاتی تھیں۔ کالا کام دار مخمل۔ کا چوغہ پہنے۔ کالی چادر اوڑھے لاٹھی ہاتھ میں لئے دیکھا تو بہت پیار آیا۔ ایک استاد کا صحیح معنوں روپ تھیں۔ میں نے انکو مجھے سورہ یاسین، سورہ ملک سورہ رحمان یاد کرانے کے لئے آمادہ کرلیا۔ روز لاٹھی ٹیکتی وقت مقررہ پر آتیں ۔ نور سا پھیل جاتا۔
ایک دفعہ روف صاحب پنڈی کسی کام سے گئے تو میں نے ادے سے کہا وہ رات کو میرے پاس رک جایئں۔ وہ اکیلی ایک کوٹھڑی میں رہتی تھیں۔ انکا آگے پیچھے کوئ تھا نہیں اس لئے انہوں نے حامی بھر لی۔ ہم سکون سے سو گئے۔ اگلی صبح روف صاحب آئے تو ادے کو دیکھ کر حیران ہوے۔ وہ ناشتہ کرچکی تھیں اس لئے چلی گیئں۔ روف صاحب کو بتایا کہ میں نے روک لیا تھا۔ روف صاحب کہنے لگے اگر رات کو یہ انتقال کرجاتیں تو پورا گاوں ان کا رشتہ دار بن کر قتل کا الزام لگا دیتا۔ خبردار جو آئندہ ایسی حماقت کی۔ ہم نے بھی سوچا کہ واقعی ہمیں ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا۔
اختتامیہ — زندگی ایک مسلسل سیکھنے کا سفر
ہیں تو اور بھی مگر ہم بھی تھک گئے آپ بھی بور ہوگئے ہونگے۔ اس لئے خدائے پامان




