علم، زبان اور ہمارا نظامِ تعلیم: اصل مسئلہ کیا ہے؟
ہمارے معاشرے میں اکثر یہ بحث چھڑتی ہے کہ اگر عدالتی فیصلوں کی روشنی میں اردو کو سرکاری زبان نافذ کر دیا جائے، تو شاید ہمارے تمام تعلیمی اور انتظامی مسائل حل ہو جائیں گے۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہمارے بچے مقابلے کے امتحانات (CSS) میں صرف اس لیے پیچھے رہ جاتے ہیں کیونکہ وہ انگریزی زبان پر عبور نہیں رکھتے۔ لیکن کیا واقعی مسئلہ صرف زبان کا ہے، یا ہم زبان کی آڑ میں اصل چیز یعنی علم کو بھول چکے ہیں؟
زبان بمقابلہ علم: مغالطے اور حقیقت
یہ سوچنا کہ ایک نوٹیفیکیشن جاری ہوتے ہی کہ “اگلا امتحان اردو میں ہوگا” سارے مسائل ختم ہو جائیں گے، ایک بہت بڑی خام خیالی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر امتحانات اردو میں بھی منعقد کیے جائیں، تب بھی کامیابی حاصل کرنا آسان نہیں ہوگا۔
اگر اس بات پر شک ہو، تو اپنے اردگرد کسی بھی بی اے پاس نوجوان کو کسی سنجیدہ موضوع پر (جیسے تاریخِ پاکستان، سیاسی بحران، یا روس یوکرین جنگ) انٹرنیٹ سے کاپی پیسٹ کیے بغیر، اپنے ہاتھ سے ایک مضمون لکھنے کو کہیں۔ آپ کو فوراً اندازہ ہو جائے گا کہ ہمارا اصل علمی معیار کیا ہے۔ مسئلہ انگریزی یا اردو کا نہیں، بلکہ علم کی گہرائی اور سوچنے کی صلاحیت کا ہے۔
مقابلے کے امتحانات (CSS) کا المیہ
ہم اکثر انگریزی دان طبقے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں، لیکن ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ پاکستان کے بہترین انگریزی میڈیم اسکولوں سے پڑھے ہوئے نوجوان، جو 16 سال انگریزی میں تعلیم حاصل کرتے ہیں اور پھر دو دو سال اکیڈمیوں میں تیاری کرتے ہیں، وہ بھی ان امتحانات میں بڑی تعداد میں فیل ہو جاتے ہیں۔ پاکستان میں سی ایس ایس کا پاسنگ پرسنٹیج دو فیصد سے بھی کم ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ خرابی زبان میں نہیں، بلکہ ہمارے نظامِ تعلیم میں ہے۔
ہمارا نظامِ تعلیم: رٹا ازم کا شکار
ہمارے تعلیمی نظام کی سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ اساتذہ بچوں کو اپنے ذہن سے سوچنے اور لکھنے کی تربیت نہیں دیتے۔ چاہے وہ اردو میڈیم اسکول ہو یا انگلش میڈیم، پورا زور اس بات پر ہوتا ہے کہ:
“جو لیسن نوٹس لکھوا دیے گئے ہیں، انہیں طوطے کی طرح رٹ لو اور امتحان پاس کر لو۔”
یہ رٹا نظام بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو مفلوج کر دیتا ہے، جس کی وجہ سے وہ آگے چل کر اعلیٰ سطح پر مقابلہ کرنے کے قابل نہیں رہتے۔
اردو زبان کے ساتھ اپنوں کا ظلم
اردو کے زوال کی ایک بڑی ذمہ داری اس “اردو داں” طبقے پر بھی عائد ہوتی ہے جنہوں نے اپنی علمی دکان چمکانے کے لیے اس زبان کو اتنا مشکل اور پیچیدہ بنا دیا ہے کہ نئی نسل اس سے دور ہوتی جا رہی ہے۔ علم کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آپ مشکل محفلوں میں بیٹھ کر اپنے بھاری الفاظ کی دھاک بٹھائیں۔ علم کا مقصد پیار سے سکھانا ہے۔
مروہ مقصود اپنی کتاب “میرا نام مروہ ہے“ میں لکھتی ہیں:
“اردو بولنا، دیکھنا، سننا اور پڑھنا اب صرف ایک خواب بنتا جا رہا ہے۔ ہم نے اس زبان کو اتنا مشکل اور پیچیدہ بنا دیا ہے کہ نئی نسل اس سے دور ہوتی جا رہی ہے۔”
آج کل جب کوئی مضمون یا کتاب لکھی جاتی ہے، تو زبردستی عربی اور فارسی کے مشکل الفاظ ڈھونڈ کر جوڑے جاتے ہیں، جبکہ آسان اور عام فہم اردو لکھنے والے کو وہ مقام نہیں دیا جاتا جو اس کا حق ہے۔
اردو: تب اور اب
1947ء سے پہلے اردو کی جو ترقی ہوئی، اس کے اثرات لاجواب تھے۔ اس دور میں جب انٹرنیٹ اور ٹی وی جیسے تفریح کے سامان کم تھے، تو بچوں اور بڑوں میں کتابیں پڑھنے کا بے پناہ شوق تھا۔ مشہور شعراء کی نظمیں بچے گلیوں میں گاتے پھرتے تھے، یہاں تک کہ مانگنے والے فقیر بھی ایسے خوبصورت اشعار پڑھتے تھے کہ زبان دانی کا معیار بلند رہتا تھا۔ مگر آج، انگریزی غلط بولنے پر تو مذاق اڑایا جاتا ہے، لیکن اردو کے زوال پر کوئی بات نہیں کرتا۔
سفارت کاری میں اردو کی طاقت: قدرت اللہ گوری کا قصہ
مشکل پسند اردو سے ہٹ کر، اگر آسان اور فصیح اردو بولی جائے تو یہ بین الاقوامی سطح پر بھی آپ کی کامیابی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ اس کی بہترین مثال جناب قدرت اللہ گوری کی کتاب “بارِ شناسائی“ سے ملتی ہے۔ وہ 35 سال سے زیادہ فارن سروس (سفارت کاری) میں رہے اور فخر سے کہتے ہیں کہ انہیں فارن سروس میں جو عروج ملا، اس کی وجہ ان کا اچھی اردو جاننا تھا۔
فارن سروس میں جہاں ہر شخص انگریزی کا ماہر تھا، وہاں 1985ء میں قدرت اللہ گوری صاحب کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے امور کا ڈائریکٹر جنرل مقرر کیا گیا کیونکہ دفترِ خارجہ میں ان کے سوا کوئی دوسرا ایسا افسر نہ تھا جو اردو زبان و بیان پر اتنی گرفت رکھتا ہو۔
صدر ضیاء الحق اور صاحبزادہ یعقوب علی خان کے ساتھ یادگار لمحات
صاحبزادہ یعقوب علی خان: وہ اردو شاعری (خاص طور پر غالب) کے دیوانے تھے۔ جب گوری صاحب ان کے لیے اردو میں تقریر تیار کرتے تھے، تو وزیرِ خارجہ کا اصرار ہوتا تھا کہ “اب تقریر کے متن میں غالب کے اشعار کے نگینے لگائے جائیں“ تاکہ تقریر منہ سے بولنے لگے۔
جنرل ضیاء الحق: 1985ء کے دور میں انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ بیرونی سربراہان کے اعزاز میں تقریر اردو میں کریں گے اور گوری صاحب ساتھ ساتھ اس کا انگریزی ترجمہ کریں گے۔ گوری صاحب لکھتے ہیں کہ ایک بار وہ روانی میں ترجمہ کرتے ہوئے آگے نکل گئے، تو صدر صاحب نے ناراض ہونے کے بجائے ہنس کر حاضرین سے کہا: “میرا مترجم چونکہ نوجوان ہے، اس لیے تیز رفتار بھی ہے”۔
کتاب کا تعارف: “بارِ شناسائی”
سیاست دانوں کے مفادات اور چولے بدلنے کے احوال ہوں یا پاکستان کی بڑی شخصیات کے نایاب قصے، قدرت اللہ گوری کی کتاب “بارِ شناسائی“ (ناشر: اٹلانٹس پبلیکیشنز) ایک شاندار دستاویزی حیثیت رکھتی ہے۔
اس کتاب میں انہوں نے اپنی سفارتی زندگی کے دوران قربت پانے والی عظیم شخصیات کے انتہائی دلچسپ اور نایاب خاکے کھینچے ہیں، جن میں شامل ہیں:
جنرل ضیاء الحق اور ذوالفقار علی بھٹو
خان عبدالولی خان اور محمد خان جونیجو
میاں نواز شریف اور جنرل پرویز مشرف
پروفیسر ڈاکٹر عبدالسلام
حکیم محمد سعید اور فیض احمد فیض
آخری بات
اگر ہم واقعی ترقی کرنا چاہتے ہیں، تو ہمیں زبان کے تعصب سے نکل کر اپنے تعلیمی نظام کو بہتر کرنا ہوگا، جہاں بچوں کو رٹّے کے بجائے “علم اور سوچنے کی صلاحیت” دی جائے۔ اور اردو کو مشکل بنانے کے بجائے آسان اور محبت کی زبان کے طور پر اپنانا ہوگا۔ یہ کتاب (بارِ شناسائی) اردو کی اہمیت اور ملکی تاریخ کو سمجھنے کے لیے ایک بہترین تحفہ ہے، اسے ضرور پڑھیے!
مکمل ویڈیو دیکھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں
اس قسم کے مزید بلاگز پڑھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں





