ماں کی بیداری اور ہوم اسکولنگ کا آغاز
الحمدللہ ماں جاگ گئی! آج تک ماں گم تھی اپنی ذمہ داریوں اور بے شمار مصروفیات میں۔ مرد کا ہاتھ بھی بٹا رہی تھی، گھر کے مسئلے، خاندان اور نوکری بھی اس کے علاوہ بھی دنیا بھر کی مصروفیت تھی۔ اس لئے بچوں کی تربیت سے کسی حد تک غافل تھی۔ نتیجہ یہ ہوا کے بچے بھی بے پرواہ ہو گئے۔ انہوں نے اپنی دلچسپی انٹرنیٹ کی دنیا میں بسا لی۔ ذہن تو بڑھتا رہا، آگاہی بھی ہوتی رہی مگر رشتے، روایات سب پچھلے دروازے سے نکل گئے۔ اسکول، ٹیوشن، امتحان، کانفرنس، پروجیکٹس اور ایسی ہی ڈھیر ساری چیزیں۔ ماں بھی مطمئن کہ بچہ مصروف ہے، مگر وہ تو اصل میں کہیں گم ہو گیا تھا۔
رشتوں اور روایات سے دوری کا احساس
کچھ عرصہ پہلے ماں نے محسوس کیا کہ بچے تعلیم یافتہ تو ہو رہے ہیں مگر رشتوں سے، تہذیب سے، روایات سے دور ہو رہے ہیں۔ بس پڑھائی، گریڈز اور انٹرنیٹ! گھر، خاندان اور رشتوں سے دوری ہو رہی تھی۔
ہوم اسکولنگ کا کامیاب سفر اور “تجارت” پروگرام
پھر ماں نے لی انگڑائی! اس نے دماغ کی بتی روشن کی تو جانا کہ یہ سب جو کھو گیا ہے وہ تو گھر میں ہی ہے، ماں کی چھاؤں میں ہے۔ بس جی پھر تو اس نے کمر باندھی اور ہوم اسکولنگ (Home Schooling) شروع کر دی، جس کے ذریعے بچوں کی بہترین تربیت ممکن ہوئی۔ اس کی افادیت دیکھتے ہوئے یہ تو خوشبو کی طرح پھیلتی جا رہی ہے، ماشاءاللہ۔
2 فروری کو اسی سال شاندار پروگرام منعقد کیا گیا، جو تین سالوں سے ہو رہا ہے۔ بچوں کو مائیں گھر میں دین و دنیا کی تعلیم دے رہی ہیں۔ ہمدرد پبلک اسکول کے شاگرد ڈاکٹر سرجن اسامہ آصف زیدی نے مجھے اور ہمدرد کی دوسری استاد شاہانہ عتیق کو مدعو کیا۔ کیا شاندار انتظام تھا! مائیں اپنے بچوں کے ساتھ “تجارت” پروگرام میں ساتھ تھیں۔ والد بھی موجود تھے۔ بچوں کو تجارت کرنا عمل سے سکھایا گیا تھا۔
ایک اسٹال پر گئے تو میرے پاس کھلے پیسے نہیں تھے۔ وعدہ کیا کہ کھلے کرا کر پھر آئیں گے۔ ہم حسبِ عادت بھول گئے بلکہ دوسرے اسٹالز دیکھنے میں مصروف ہو گئے۔ وہ بچہ کچھ دیر بعد بھاگتا ہوا آیا کہ “آپ آئیں نہیں”۔ بہت خوشی ہوئی، آنکھیں بھیگ گئیں بچوں کی ذمہ داری اور تجارت کی روح کو سمجھنے کی عملی تربیت دیکھ کر۔ ان ماؤں کو سلام جو اتنی محنت کر رہی ہیں اپنے بچوں کی کردار سازی میں۔ زیادہ تر بچے حافظ بھی بن رہے ہیں، یعنی دین و دنیا ایک ساتھ۔
ڈاکٹر اسامہ ہمارے ساتھ ساتھ رہے۔ ہمارے لئے پانی کا بندوبست، آرام کا خیال اور ہم تو پیسے لے کر گئے نہیں تھے کیونکہ اندازہ ہی نہیں تھا کہ اتنا بڑا پروگرام ہوگا۔ تو اسامہ بیٹے نے اپنی جیب سے پیسے ادا کئے اور ہم نے کچھ چیزیں خریدیں۔ پھر اسامہ بیٹا مجھے اور شاہانہ کو اپنی گاڑی میں گھر چھوڑنے آئے۔ چند تصاویر ہیں، دیکھئے اور ماؤں کو سلام پیش کیجئے اور ان کی ہمت کو داد دیجئے۔ اتنی طویل تحریر پڑھنے پر شکریہ۔
عرفان صدیقی کے گھر دعوتِ شیراز اور حسنِ اخلاق
رشتے محبتوں کے! شام تو روز ہوتی ہے لیکن کل کی شام اتنی خوبصورت تھی کہ اس کے بارے میں اپنی فیس بک فیملی کو نہ بتایا تو ناانصافی ہوگی۔ تو جناب! کل دعوت تھی ہماری اپنے پیارے بھانجے عرفان صدیقی کے گھر۔
عرفان نے ہمارے خاندان میں سب کو دین کی تعلیم اور اخلاقی تربیت سے مزید جوڑ کے رکھا ہے۔ ماشاءاللہ ان کا مدرسہ بھی ہے جہاں دین و دنیا کی تعلیم کے زیور سے نئی نسل کو آراستہ کیا جاتا ہے۔ نہ صرف دین بلکہ دنیا کی تعلیم بھی، یعنی عام پبلک تعلیم بھی دی جاتی ہے اور A-Level اور O-Level کی بھی کلاسیں ہوتی ہیں۔ ان کے اپنے سب بیٹے، بھانجے، بھتیجے بھی ان کے مدرسے سے حفظِ قرآن کر چکے ہیں، ماشاءاللہ۔
تو کل ہماری دعوت میں پائے، نہاری، بریانی، مزیدار کباب، دہی، سلاد اور گاجر کا حلوہ اور مٹھائی تھی۔ بات یہ نہیں کہ کیا کیا تھا اور کتنی ڈشز تھیں، بلکہ جو حسنِ اخلاق تھا، محبت تھی اور تواضع کا گرم جوش انداز تھا، اس نے مزید نرمی، گرمی اور خوشبو کے ساتھ ذائقے میں سواد بڑھا دیا تھا۔ ہم شوگر کے ماروں نے بھی ذیابیطس کو پرے رکھ کر خوب ڈٹ کر لذیذ کھانے اور میٹھے سے انصاف کیا۔ اللہ پاک یہ محبتیں اسی طرح ہماری نسلوں میں رواں رکھے اور یہ محبتیں اور خوبصورت تربیت نئے شامل ہونے والے رشتوں میں بھی اسی طرح مربوط رہیں۔ آمین۔
خوبصورت خوب سیرت ڈاکٹر سارا جمال
میری 76 ویں سالگرہ گلشن معمار کا سفر
میری چھہترویں (76) سالگرہ دھوم سے مچی بھی اور منائی بھی گئی۔ کل یعنی 25 نومبر کو حکیم محمد سعید شہید کے ہمدرد پبلک اسکول کی معصوم، خوبصورت و خوبصیرت طالبہ ڈاکٹر سارا جمال (جو اب ماشاءاللہ تین بچوں کی ماں بھی ہے) کی دعوت پر ان کے گھر گلشنِ معمار جانا ہوا۔ سارہ نے اپنی گاڑی بھیجی تاکہ میں آرام سے جاؤں۔ یہ اس کی محبت، بہترین تربیت اور میری عزت افزائی تھی۔
ڈاکٹر سارا کا ڈرائیور بھی بہت باادب اور سلجھی ہوئی طبیعت کا خوبرو جوان ہے۔ راستے بھر ان سے گپ شپ کرتی آئی جو میری عادت ہے۔ میں اس لئے جس سے بھی ملتی ہوں اس سے سلام اور کلام ضرور کرتی ہوں، کیونکہ اللہ رب العالمین ہے، تو ہر فرد بھی ایک عالم ہے؛ اس کے اندر بھی معلومات کا خزانہ ہوتا ہے، اس خزانے سے کچھ میں بھی کشید کر لیتی ہوں۔
خوبصورت تحفہ، یادگار گفتگو اور الوداع
گھر پہنچ کر بیحد خوشی ہوئی۔ سارا کے محترم سسرنے پرتپاک طریقے سے ملے۔ دل میرا مزید شاد ہو گیا۔ وہاں ہمدرد کی پرانی دلچسپ باتیں ہوئیں۔ ہم سب اس وقت پرانے دور میں چلے گئے، بہت اچھا لگا۔
سارہ نے مجھے سالگرہ کا تحفہ ایک مگ دیا جس پر میری دونوں کتابوں والی میری تصویر ہے۔ اتنا خوبصورت خیال اور احساس! میرا دل شکرگزاری کے جذبے سے لبریز ہو گیا۔ پھر سارا کے سسر میری سالگرہ کا کیک بھی لے آئے اور یوں میری سالگرہ میں محبت اور خوشیوں کے رنگ مزید گہرے ہو گئے۔ سارہ کی تواضع کے کیا کہنے! اتنے لوازمات تھے ماشاءاللہ کہ سب تو کھائے بھی نہیں جا سکتے تھے، دیکھ کر دل خوش ہوا، جو کھایا وہ لذیذ تھا۔
اس خاندان کے سب بچے ہمدرد اسکول سے ہی پڑھے ہیں، جہاں ان کی بہترین علمی تربیت ہوئی۔ پرانے اساتذہ کا ذکرِ خیر ہوا۔ کچھ تو دارِ فانی سے کوچ کر چکے ہیں، اللہ پاک ان کی مغفرت فرمائے۔ سارا کے سسر نے میری کتاب “زندگی خوبصورت ہے” پر تفصیلی گفتگو ویڈیو میں ریکارڈ کی جو میری عزت افزائی ہے۔ سارا کا گھرانہ بہت دیندار ہے، الحمدللہ۔ سارا بھی حجاب میں رہتی ہیں۔ ان کی ساس صاحبہ سے بھی مختصر ملاقات رہی، وہ بہت نفیس اور خوبصورت دیندار خاتون ہیں۔ وہ درس میں جا رہی تھیں اس لئے مختصر ملاقات رہی۔
دوسری سارہ عدنان کا ذکر نہ کرنا زیادتی ہوگی۔ وہ خاص طور پر ملنے اپنے بچوں کے ساتھ آئیں۔ وہ بھی با پردہ ہیں ماشاءاللہ۔ دونوں سارہ ہوم اسکول چلاتی ہیں۔ سب سے پہلے اپنے ہی بچوں سے شروع کیا جو اب خوشبو کی طرح ہر سو پھیل رہا ہے۔
واپسی کا وقت ہو گیا تھا، ڈاکٹر سارہ کے دیور حسن عمر (جو خود بھی ہمدرد اسکول کے طالب علم ہیں) وہ مجھے خود چھوڑنے آئے۔ اور یوں جنم دن کا پہلا دن گزرا۔ میں بہت شکرگزار ہوں اپنے رب کی، اتنی محبت، عزت اور لائقِ تحسین تربیت یافتہ بچے دیکھ کر دل باغ باغ ہو گیا۔




