خوابستان
ایک دل دہلا دینے والی ادبی اور معاشرتی کہانی
ماضی کی یادیں اور تنہائی کا سفر
ریٹائرڈ کسٹم آفیسر عقیل احمد اپنے گھر “خوابستان” میں رات کے وقت اپنے بچوں کے فون کے منتظر تھے۔ مگر ان کا ذہن ماضی کی بھول بھلیوں میں گم تھا۔ درحقیقت وہ خود احتسابی کے کرب سے گزر رہے تھے۔
علی گڑھ یونیورسٹی سے بی اے کرنے کے بعد انہوں نے اپنے والد کو بسترِ مرگ پر چھوڑا اور آنکھوں میں تابناک مستقبل کے خواب سجائے کراچی چلے آئے۔ خاندان والوں سمیت پورے گاؤں نے بہت سمجھایا کہ وہاں مت جاؤ، جو بھی جاتا ہے واپس نہیں آتا، مگر وہ نئے ملک میں قسمت آزمانے کے لیے نکل پڑے۔
قسمت نے ان کا ساتھ دیا اور انہیں کسٹم میں ملازمت مل گئی۔ وہ ترقی کرتے کرتے کسٹم سپرنٹنڈنٹ کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ مادی ترقی کے ساتھ ساتھ ان کی اخلاقی تنزلی بھی ہوتی گئی۔ انہوں نے ایک خوبصورت گھر بنایا اور اس کا نام “خوابستان” رکھا۔
مکمل ویڈیو سننے کیلئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں
بچوں کی بیرونِ ملک مصروفیات اور باپ کا انتظار
اچانک فون بج اٹھا اور وہ ماضی سے حال میں لوٹ آئے۔ “عدیل کا فون ہوگا۔” یہ سوچتے ہوئے انہوں نے فون اٹھایا۔ ان کا اکلوتا بیٹا عدیل ڈاکٹری کی اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ گیا تھا، وہاں ایک امریکی خاتون سے شادی کر لی اور وہیں کا ہو کر رہ گیا۔
“ابا! آپ خیریت سے ہیں؟ کوئی مسئلہ تو نہیں؟” “ہاں بیٹا، ابھی تو چل پھر لیتا ہوں۔ تم سناؤ، کیا حال ہے؟ بچے کس جماعت میں ہیں؟” “یہاں سب خیریت ہے۔ آپ ہماری فکر نہ کریں، اپنا خیال رکھیں۔ پھر بات ہوگی، ان شاء اللہ۔ اللہ حافظ۔”
فون بند ہونے کے بعد عقیل احمد کافی دیر تک موبائل کو دیکھتے رہے۔ انہوں نے کبھی اپنے بیٹے کو نہیں بتایا تھا کہ وہ شوگر اور بلڈ پریشر کے مریض ہیں۔
بیٹیاں بھی دور، باپ بھی تنہا
انہوں نے اپنی دونوں بیٹیوں کو بھی ڈاکٹر بنایا تھا۔ ایک لندن میں تھی اور دوسری کینیڈا میں۔ وہ دو تین سال بعد اپنے شوہروں کے ساتھ کراچی آتیں۔ دونوں کے شوہر اپنے والدین سے ملنے آتے، اسی بہانے بیٹیاں بھی آ جاتیں۔
عقیل احمد اکثر سوچتے: “کاش عدیل کی شادی کراچی میں ہوئی ہوتی، تو شاید وہ آتا جاتا رہتا۔” اتنے برسوں میں وہ صرف تین مرتبہ اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ پاکستان آیا تھا۔
انہوں نے اپنے تینوں بچوں کو اس لیے ڈاکٹر بنایا تھا کہ یہ پیشہ رزقِ حلال کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب انہیں محسوس ہوتا تھا کہ طب بھی کاروبار بن چکی ہے۔ پھر بھی وہ اس بات پر مطمئن تھے کہ ان کے بچے بیرونِ ملک حلال روزی کما رہے ہیں۔
مکمل افسانہ سننے کیلئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں
بیگم کی جدائی اور خالی ہوتا گھر
دونوں بیٹیوں کی شادی کے کچھ عرصے بعد ان کی اہلیہ کا انتقال ہوگیا۔ پرانے ملازم بھی ایک ایک کرکے ساتھ چھوڑ گئے۔ کوئی بیمار ہو کر گاؤں واپس چلا گیا۔ کراچی اب پہلے جیسا نہیں رہا تھا۔ ہر شخص دوسرے سے خوف زدہ رہتا تھا۔
اچانک انہیں یاد آیا کہ آج اتوار ہے، رات کو نجمہ اور ثمر کا فون آئے گا۔ کچھ دیر مطالعہ کرنے کے بعد وہ سو گئے۔ حسبِ توقع دونوں بیٹیوں کا فون آیا۔
“ابا! آپ ٹھیک ہیں؟” “ہاں، میں بالکل ٹھیک ہوں۔” وہ حسبِ عادت ان کے بچوں کا حال پوچھنے لگے۔ بیٹیوں نے جلدی میں کہا: “ابا! اپنا خیال رکھیے۔ دو دن کی چھٹی میں پورے ہفتے کا کام کرنا پڑتا ہے۔ پھر بات ہوگی۔ اللہ حافظ۔”
باپ کی خاموش شکایت
کبھی کبھی انہیں اپنی بیٹیوں پر غصہ بھی آتا۔ جب وہ پاکستان آتیں تو زیادہ وقت اپنی سسرال میں گزارتی تھیں۔ دوستوں سے ملتیں، خریداری کرتیں اور صرف تھوڑی دیر کے لیے ان کے پاس آتیں۔
اپنے مسائل بیان کرتیں، مگر ڈاکٹر ہونے کے باوجود ان کی گرتی ہوئی صحت کا اندازہ نہ لگا پاتیں۔ بس یہی کہتیں: “ابا! بڑھاپے میں ایسا ہی ہوتا ہے۔”
نانی کی نصیحت اور پاکستان کے خواب
پھر عقیل احمد اپنے ہی خیالات پر شرمندہ ہوگئے۔ انہوں نے خود سے سوال کیا: “میں نے کب اپنے والدین کا خیال رکھا تھا؟” باپ بسترِ مرگ پر تھے، ماں روتی رہیں، مگر وہ پاکستان آگئے۔
وہ کبھی واپس ہندوستان نہ جا سکے۔ انہیں یاد آیا کہ وہ علی گڑھ یونیورسٹی کے ان طلبہ میں شامل تھے جو گاؤں گاؤں جا کر پاکستان کے حق میں تقاریر کرتے تھے۔
وہ سمجھتے تھے کہ نئے ملک میں رشوت، بے ایمانی، اقربا پروری اور فرقہ واریت نہیں ہوگی۔ اسی دوران انہیں اپنی مرحومہ نانی کی بات یاد آئی۔ وہ ان پڑھ تھیں، مگر بصیرت سے مالا مال۔ انہوں نے کہا تھا:
“بیٹا! وہاں بھی یہی سب ہوگا، بلکہ شاید اس سے بھی زیادہ۔ یہاں اگر ہندو مارے گا تو شہید کہلاؤ گے، مگر وہاں مسلمان ہی مسلمان کو قتل کرے گا۔”
اس وقت وہ ہنس پڑے تھے۔ آج پہلی مرتبہ انہیں احساس ہوا کہ ان کی نانی ایک بہترین سیاسی تجزیہ کار تھیں۔
خواب بکھرتے گئے
تنہائی سے گھبرا کر انہوں نے ٹی وی کھولا۔ کرکٹ میچ جیتنے پر جشن منایا جا رہا تھا۔ نغمہ چل رہا تھا: “ہم ہیں پاکستانی، ہم تو جیتیں گے۔”
انہوں نے تلخی سے کہا: “اتنی خوشی ایسے منا رہے ہیں جیسے کشمیر فتح کر لیا ہو۔” اور ٹی وی بند کر دیا۔
خوابستان سے قبرستان تک
وقت گزرتا گیا۔ کچھ دوست ملک چھوڑ گئے، کچھ دنیا چھوڑ گئے۔خوابستان صبح کی سیر کے دوران دو نوجوانوں نے ادب سے سلام کیا۔ عقیل احمد خوش ہوئے اور انہیں گھر لے آئے۔
دونوں نوجوان ہفتے میں دو مرتبہ آنے لگے۔ وہ ان کی تنہائی بانٹتے، ان کی باتیں سنتے، ان کے ماضی سے واقف ہوتے گئے۔ عقیل احمد انہیں اپنے بچپن سے لے کر بڑھاپے تک کی پوری داستان کئی مرتبہ سنا چکے تھے۔
اعتماد کا بھیانک انجام
ایک رات دس بجے دونوں نوجوان آئے، مگر اس مرتبہ ان کا لہجہ بدلا ہوا تھا۔ انہوں نے کہا: “بڑے میاں! ڈرامہ بند کیجیے۔” عقیل احمد حیران رہ گئے۔ “کیا مطلب؟” “اب تک جو کچھ کمایا ہے، ہمارے حوالے کر دیجیے۔”
اسی دوران عدیل کا فون آگیا۔ انہوں نے جان بوجھ کر اونچی آواز میں کہا: “بیٹا! سب خیریت ہے۔”
بیٹے نے پوچھا: “ابا! کسی کی آواز آ رہی ہے؟” “کچھ نہیں، سب ٹھیک ہے۔” فون بند ہوگیا۔
ایک خوفناک دھوکہ
دونوں نوجوانوں نے ایک کاغذ ان کے سامنے رکھ دیا۔ وہ جعلی انتقالِ ملکیت کا معاہدہ تھا۔ عقیل احمد کے ہوش اڑ گئے۔ “میں نے تم سے کب مکان کا بیعانہ لیا؟”
جواب آیا: “سیدھی طرح دستخط کر دو۔” بے بس ہو کر انہوں نے دستخط کر دیے۔ دونوں نوجوان قہقہے لگاتے ہوئے چلے گئے۔
آخری اتوار
اگلے اتوار وہ پھر آئے۔ اسی وقت عدیل کا فون آگیا۔ ایک نوجوان نے فون اٹھایا۔ عدیل نے حسبِ معمول پوچھا: “ابا! آپ خیریت سے ہیں؟” اس نے طنزیہ انداز میں کہا: “خیریت؟ ہم نے تمہارے ابا کو خیریت سے جنت پہنچا دیا ہے۔”
عدیل چیخ اٹھا۔ “کیا مطلب؟” جواب آیا: “امریکہ سے ہر ہفتے صرف خیریت پوچھ لینا کافی نہیں ہوتا۔ بوڑھے باپ کو اکیلا چھوڑ دیا۔” چند لمحوں بعد فون بند ہوگیا۔
خوابستان قبرستان بن گیا
تھوڑی دیر بعد دوسرے شخص کا فون آیا۔ “ہاں بھائی! سب کام ٹھیک ہو گیا۔ ہم دونوں خیریت سے ہیں، آپ بے فکر رہیں۔” عقیل احمد کا “خوابستان” ان کا “قبرستان” بن چکا تھا۔ دونوں نوجوان آرام سے فریج سے کھانے پینے کی چیزیں نکالنے لگے۔
پھر ٹی وی کھول دیا۔ کرکٹ میچ کا اعلان ہو رہا تھا اور ساتھ ہی وہی نغمہ گونج رہا تھا:
“ہم ہیں پاکستانی، ہم تو جیتیں گے۔”
پاکستان زندہ باد






