1965
کتابوں پر تبصرہ
Khalid Azim

  جنگ 1965 کی : وہ بحری ناکہ بندی جو پاکستان کر سکتا تھا، مگر نہ کر سکا

آبنائے ہرمز سے 1965 کی جنگ تک آبنائے ہرمز کی حالیہ کشیدگی نے ایک بار پھر دنیا کو سمندری ناکہ بندیوں کی اہمیت کا احساس دلایا ہے۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو محدود کرنے کے اعلانات، امریکی بحری بیڑوں کی غیر معمولی نقل و حرکت، اور اس پورے خطے میں بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیوں نے یہ سوال پھر زندہ کر دیا ہے کہ جنگوں میں سمندر پر کنٹرول کس قدر فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے۔ لیکن اگر تاریخ کے اوراق پلٹے جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان بھی ایک ایسا موقع حاصل کر چکا تھا جب وہ اپنے روایتی حریف بھارت کے خلاف مؤثر بحری ناکہ بندی نافذ کرنے کی پوزیشن میں تھا، مگر یہ منصوبہ

« مزید پڑھیے
کالم
Shah Waliullah Jinaidi

الوداع قمر بھائی! کرکٹ صحافت کا ایک عہد اپنے اختتام کو پہنچ گیا

کرکٹ صحافت کا ایک عہدِ رفتہ پاکستان کی اسپورٹس جرنلزم ایک ایسے درخشاں باب سے محروم ہوگئی ہے جس کی روشنی نصف صدی سے زائد عرصے تک نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی کرکٹ صحافت کو منور کرتی رہی۔ قمر احمد مرحوم کی وفات محض ایک سینئر صحافی کا انتقال نہیں بلکہ کرکٹ رپورٹنگ، تجزیے اور تاریخ نویسی کے ایک عہد کا اختتام ہے۔ وہ ان خوش نصیب لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے کھیل کو صرف دیکھا نہیں بلکہ اسے جیا، سمجھا اور آنے والی نسلوں تک پوری دیانت داری کے ساتھ منتقل کیا۔ ایک کھلاڑی سے ممتاز تجزیہ نگار تک کا سفر قمر احمد کا شمار دنیا کے صفِ اول کے ممتاز کرکٹ رائٹرز، مبصرین اور تجزیہ نگاروں میں

« مزید پڑھیے
کالم
Sohail Yaqoob - سہیل یعقوب

استاد صفت جلاد یا جلاد صفت استاد؟

استاد صفت جلاد یا جلاد صفت استاد؟ “خبر جب تصویر بن جائے تو ضمیر کو بھی جاگ جانا چاہیے۔” ایک مہمان جو جانے کا نام نہیں لیتا جب سے سماجی ذرائع ابلاغ ہماری زندگیوں میں داخل ہوا ہے، اس نے گویا ایک ایسے بن بلائے مہمان کی صورت اختیار کر لی ہے جو جانے کا نام ہی نہیں لیتا۔ شاید یہ اسی وقت رخصت ہوگا جب اس سے بھی زیادہ طاقتور اور مؤثر کوئی نیا ذریعہ ہماری زندگیوں میں آ جائے گا۔ تاہم یہ کہنا درست نہیں کہ اس کے صرف نقصانات ہیں؛ اس کے بے شمار فوائد بھی ہیں۔ آج کسی بھی خبر کو چند لمحوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچانے کا سب سے مؤثر ذریعہ یہی پلیٹ فارم

« مزید پڑھیے
کالم
Ali Munir Farooqui

مفتی تقی عثمانی صاحب کا فتویٰ اور ڈیجیٹل دنیا کے ادھورے سچ

مفتی تقی عثمانی صاحب کا فتویٰ اور ڈیجیٹل دنیا کے ادھورے سچ تحریر: علی فاروقی آج کل مفتی تقی عثمانی صاحب کا ایک فتویٰ گردش کر رہا ہے جس میں انہوں نے کرپٹو کرنسی کو حرام قرار دیا ہے۔ اس موضوع پر انٹرنیٹ پر بحث گرم ہے۔ بے نام اور بے لگام اکاؤنٹس، حسبِ عادت، تمیز کی حدود عبور کرتے ہوئے اپنی تربیت اور خون کا مظاہرہ کر رہے ہیں، لیکن اس بدتمیزی سے قطع نظر، آئیے اس معاملے کا باریکی سے جائزہ لیتے ہیں۔ مفتی صاحب نے اپنے فتوے میں کرپٹو کی ہر قسم کو حرام قرار دیا ہے، چاہے وہ بٹ کوائن ہو یا USDT۔ چھوٹا منہ بڑی بات، لیکن مجھے لگتا ہے کہ مفتی صاحب کو اس

« مزید پڑھیے
رمضان بلوچ
کتابوں پر تبصرہ
Maeraj Jami - معراج جامی

عصر حاضر کے کولمبس ۔ رمضان بلوچ

عصر حاضر کے کولمبس …… رمضان بلوچ ​ماضی کا کرسٹوفر کولمبس ایک بحری مہم جو تھا اور آج کے کولمبس ہمارے رمضان بلوچ صاحب ہیں۔ اُس نے امریکہ دریافت کیا تھا جو آج پوری دنیا کے لیے ایک ناسور بن چکا ہے مگر رمضان بلوچ صاحب نے جس لاپتہ شہر کا سراغ لگایا ہے وہ آج شہر کراچی کا ایک تابناک ستارہ ہے ۔ رمضان بلوچ صاحب نے ’’ایک لاپتہ شہر کا سراغ‘‘ میں کراچی کے علاقے ’’لیاری ‘‘ کا سراغ لگایا ہے۔ یہ سراغ اس اس قدر مفصل ،جامع اور دلچسپ معلوماتی انداز سے لگایا کہ کتاب کے کئی حصوں کو پڑھتے ہوئے ایک شدید محرومی کا احساس ہوا کہ کا ش میں بھی لیاری میں پیدا ہوا ہوتا

« مزید پڑھیے
معراج
تعارف
Editorial Desk

معروف ادیب، شاعر اور محقق سید معراج جامیؔ – ایک مختصر تعارف

معروف ادیب، شاعر اور محقق سید معراج جامیؔ – ایک مختصر تعارف اردو ادب کی دنیا میں سید معراج جامیؔ کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ وہ بیک وقت شاعر، محقق، نقاد، مزاح نگار، مدیر، مرتب اور اشاریہ ساز ہیں جنہوں نے نصف صدی سے زائد عرصے پر محیط اپنی علمی و ادبی زندگی میں اردو زبان و ادب کی بے مثال خدمت انجام دی ہے۔ 12 مارچ 1955ء کو لاہور میں پیدا ہونے والے سید معراج جامیؔ نے ایم اے اردو اور ایم اے مطالعۂ اسلامی کی ڈگریاں حاصل کیں۔ انہیں کراچی میں داغؔ اسکول کے آخری استادِ شاعر حضرت فدا خالدی دہلوی کی شاگردی کا شرف حاصل ہوا، جس نے ان کے شعری ذوق کو مزید نکھارا۔

« مزید پڑھیے
پڑھنے
کالم
Editorial Desk

تیز رفتار مطالعہ کا فن : ایک سائنسی خاکہ

تیز رفتاری سے پڑھنے کا فن: وہ 5 حیرت انگیز حقائق جو آپ کی زندگی بدل سکتے ہیں مکمل ویڈیو دیکھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں آج کے دور میں ہم معلومات کے ایک بے پناہ سیلاب میں گھرے ہوئے ہیں۔ ہر روز ہمارے سامنے سیکڑوں ای میلز، رپورٹس اور کتابیں آتی ہیں، لیکن وقت وہی محدود ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر لوگ اپنی پڑھنے کی رفتار میں اس لیے پھنسے ہوئے ہیں کیونکہ وہ بچپن کی ان فرسودہ عادات کے اسیر ہیں جو اب ان کی علمی پیداواری صلاحیت (Cognitive Productivity) کی راہ میں رکاوٹ بن چکی ہیں۔ تیز رفتاری سے پڑھنا محض وقت بچانے کا نام نہیں، بلکہ یہ اپنے دماغ کو

« مزید پڑھیے
قاسم حسین دادا
کالم
Shah Waliullah Jinaidi

قیامِ پاکستان کے بعد تعمیرِ وطن کا ایک روشن باب: قاسم حسین دادا اور ڈاڈیکس کی داستان

تعارف: ایک عہد ساز شخصیت سال 1947ء میں جب پاکستان معرضِ وجود میں آیا تو نوآزاد ریاست کو لاکھوں مہاجرین کی آبادکاری، روزگار، رہائش اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی جیسے غیر معمولی چیلنجز درپیش تھے۔ ایسے نازک دور میں قاسم حسین دادا جیسی فیاض اور دور اندیش شخصیات نے تعمیرِ وطن کی ذمہ داری اٹھائی۔ انہوں نے کاروبار کو محض منافع کا ذریعہ نہیں بلکہ قومی خدمت کا وسیلہ بنایا۔ خاندانی پس منظر اور ابتدائی زندگی قاسم حسین دادا 28 جولائی 1919ء کو ریاست کاٹھیاواڑ کے قصبے بانٹوا میں ایک کاروباری گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد حسین قاسم دادا برصغیر کے معروف صنعت کار اور دیانت دار تاجر تھے۔ ان کے گھر کا علمی اور سیاسی ماحول قائداعظم

« مزید پڑھیے

چند چنیدہ تحریریں

ہمارے چینل کی پسندیدہ ویڈیوز

Banker

کامیابی کی وہ پوشیدہ داستان جو کتابوں کے صفحات میں نہیں ملتی۔
بینکاری کی دنیا کے ان رہنماؤں کی سوچ، جو مارکیٹ کا رخ بدل دیتے ہیں۔ بچپن کے وہ سبق اور خاص حکمتِ عملی، جس نے انہیں بلندیوں تک پہنچایا۔آئیے جانتے ہیں وہ راز، 

Corporate Leader

عام پاکستانیوں کی وہ غیر معمولی محنت، جس نے کارپوریٹ دنیا کو حیران کیا۔ برسوں کی مشقت سے حاصل کردہ وہ دانش، جو صرف تجربہ کاروں کو ملتی ہے۔ذہانت اور بصیرت کے وہ قیمتی موڑ، جنہوں نے ناممکن کو ممکن بنا دیا

 

یونیورسٹی کی وہ ناقابلِ فراموش راتیں، جنہوں نے زندگی میں لڑنا سکھایا۔سابق طلبہ رہنماؤں کی زبانی، بچپن کی مضبوط بنیادوں سے کٹھن موڑ تک کا سفر۔ جدید دنیا کی پیچیدگیوں کو سمجھنے اور منزل پانے کے وہ ان کہے حقائق۔

جانیے ان معروف ادیبوں اور شاعروں کے بارے میں، جنہیں دنیا صرف ان کی تحریروں سے جانتی ہے۔ ​ان عظیم مفکروں کے ماضی کے وہ بند دروازے، جو پہلی بار آپ کے سامنے کھلنے جا رہے ہیں۔ ​ایک عام انسان کے اندر سے ایک انقلابی قلم کار کے جنم لینے کی وہ ان کہی داستان جس نے اپنی سوچ سے لاکھوں دلوں کو اپنی مٹھی میں لیا۔

کتاب اور صاحب کتاب

کتاب اور صاحب کتاب کتاب اور صاحب کتاب کتاب اور صاحب کتاب

کتابوں کے آئینے میں کتابوں کے آئینے میں کتابوں کے آئینے میں

ذکر کتاب تاثرات – اقتباسات ذکر کتاب تاثرات – اقتباسات ذکر کتاب تاثرات – اقتباسات

Banker

کامیابی کی وہ پوشیدہ داستان جو کتابوں کے صفحات میں نہیں ملتی۔
بینکاری کی دنیا کے ان رہنماؤں کی سوچ، جو مارکیٹ کا رخ بدل دیتے ہیں۔ بچپن کے وہ سبق اور خاص حکمتِ عملی، جس نے انہیں بلندیوں تک پہنچایا۔آئیے جانتے ہیں وہ راز، 

کیا آپ اپنی تحریر شائع کرانا چاہتے ہیں؟