
حیات و کلامِ حسین بن منصور حلاج
کچھ کتابیں صرف پڑھی نہیں جاتیں، انسان کو بدل دیتی ہیں حیات و کلامِ حسین بن منصور حلاج ان دنوں میرے زیرِ مطالعہ آنے والی ان نایاب کتابوں میں شامل ہے جنہوں نے مجھے محض نئی معلومات نہیں دیں بلکہ میرے کئی پرانے تصورات کو بھی بدل کر رکھ دیا۔ اس کتاب کو شیما مجید اور علامہ جاوید نے مرتب کیا ہے جبکہ اسے ادارۂ علم و عرفان نے شائع کیا ہے۔ تقریباً ساڑھے تین سو صفحات پر مشتمل یہ کتاب صرف ایک سوانح عمری نہیں بلکہ ایک ایسی تاریخی، فکری اور روحانی دستاویز ہے جو قاری کو صدیوں سے قائم تصورات پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ مکمل ویڈیو دیکھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج

زخمِ خنداں: فکری جراحی اور ظرافت کا ایک حسین امتزاج
اس تحریر کو آپ کے فراہم کردہ تمام مواد کے ساتھ مکمل تفصیل کے ساتھ ترتیب دیا گیا ہے۔ یہ بلاگ پوسٹ کے لیے ایک جامع اور تفصیلی ورژن ہے۔ زخمِ خنداں: ڈاکٹر محمد حنیف شیوانی کی فکری جراحی اور ظرافت کا ایک حسین امتزاج سید معراج جامیؔ صاحب کی یہ تحریر ڈاکٹر محمد حنیف شیوانی کی کتاب زخمِ خنداں پر ایک بصیرت افروز تبصرہ ہے۔ نشتر زخم لگانے اور بھرنے دونوں کے کام آتا ہے، اور زخم وہ گھاؤ ہے جو جسم کو نہیں روح کو گھائل کرتا ہے۔ اگر گھائل انسان میں رگِ حمیت ہو، تو وہ پھر نشتر کو صدا دیتا ہے۔ واضح رہے کہ یہاں حمیت سے مراد غیرت، عزتِ نفس، اور خودداری ہے، جبکہ منفی

کراچی کی تاریخ: کھتری عبدالغفور کی تحقیقی کاوشوں پر ایک نظر
کھتری عبدالغفور: کراچی کی تاریخ کے معتبر مورخ محترم کھتری عبدالغفور کا تعلق ان کاروباری طبقوں سے ہے جن کا ماضی صنعت و تجارت سے جڑا ہے۔ کراچی کی تاریخ کے مطالعے میں کھتری عبدالغفور کا نام اس لیے اہم ہے کہ میمن اور چنوٹی برادریوں کا تعلق ماضی میں محض حساب کتاب اور انگریزی کی شد بد تک محدود سمجھا جاتا تھا، مگر اب یہ قصہ پارینہ ہو چکا ہے۔ کھتری عبدالغفور کراچی یونیورسٹی سے گریجویشن کرنے والے ایک ایسے کاروباری شخص ہیں جنہوں نے اپنے وسیع وژن کے ساتھ کراچی کی تاریخ پر تحقیق کی ہے۔ اس تناظر میں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ کھتری برادری تقریباً دو سو سال سے کراچی میں مقیم ہے اور اپنی

اور چڑیا اڑ گئی
اور چڑیا اڑ گئی: بچپن کی ایک تکلیف دہ مگر دلچسپ یاد خوف اور تجسس کا وہ پہلا مرحلہ میں شائد چار یا پانچ سال کا تھا۔ ایک دن ہمارے گھر میں چہل پہل تھی۔ پڑوس کے لوگ اور چند عزیز و اقارب بھی آئے ہوئے تھے۔ اندر کے بڑے کمرے سے خواتین کی باتیں کر نے کی آوازیں بھی آرہی تھیں۔ چند کرسیاں اور ایک پلنگ، جس پر سفید چادر بچھی ہوئی تھی، صحن میں رکھا ہوا تھا۔ میں کونے میں کھڑا یہ تماشہ دیکھ رہا تھا۔ انہی لوگوں میں ایک ایسا شخص بھی تھا، جسے میں نے پہلے نہ دیکھا تھا۔ وہ اجنبی بار بار مجھے دیکھ رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں کپڑے کا تھیلا تھا، جس

ڈاکٹر اقبال ہاشمانی کی کتاب “ایامِ رقصِ طاؤس”: کراچی کے سنہرے دنوں کی بازگشت
ڈاکٹر اقبال ہاشمانی صاحب نے ازراہ کرم مجھے اپنی ساری کتابیں عنایت فرمائی مگر جب سے میں گفتگو فورم میں شامل ہوا ہوں، اس فورم کے کئی احباب کی کتابوں پر میں پڑھ چکا ہوں۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنی کسی کتاب کے لیے فورم میں اظہارِ خیال کا ذکر نہیں کیا۔ عنایت کی گئی کتابوں پر تو میں ضرور لکھتا ہوں اور پڑھتا بھی ہوں۔ اس لیے میں نے ڈاکٹر صاحب کی مذکورہ کتاب پر لکھ لیا تھا آج سمجھتا ہوں کہ اسے پڑھ بھی دوں۔ کیونکہ یہ ایک ادبی قرض ہے جس کی ادائیگی مجھ پر فرض ہے۔ میں صرف اپنے فرض کی ادائیگی کر رہا ہوں اس میں کسی کی فرمائش شامل نہیں ہے۔ ایامِ رقصِ طاؤس: ایک

میری زندگی کا خوبصورت دسمبر اور ازدواجی محبت کی حقیقی ترجمانی
دسمبر: یادوں کا ایک حسین باب ہر دن ہر ماہ ہر سال کی اپنی کہانیاں اپنی آپ بیتی اور اپنی جگہ بیتیاں ہوتی ہیں۔ دسمبر کے مہینے سے میری زندگی کی بھی بہت خوبصورت یادیں جڑی ہیں۔ شادی کا غیر متوقع موڑ: ایک تکلیف دہ ماضی سے خوشگوار مستقبل تک 26 دسمبر 1969 میری زندگی کا وہ خوبصورت دن ہے جب اللہ پاک کے لطف و کرم سے میں آنسہ تنویر خاتون سے بیاہتا تنویر رؤف بنی۔ ہماری منگنی پہلے ہو کر نجانے کیوں انہوں نے بنا کچھ کہے خاموشی سے اسطرح ختم کی کہ رابطہ تک یکسر منقطہ کرلیا۔ نا بات چیت نہ فون۔ پشاور آتے مگر ان کے گھر سے نہ کوئ آتا نہ ہمیں اطلاع دیتے۔ اس

یس سر سے نو سر تک
ایک جملہ جو سوچنے پر مجبور کر گیا اب سے کچھ عرصہ پہلے ایکسپریس اخبار میں جناب حمید احمد سیٹھی کا کالم “افسری اور جی حضوری” پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ انہوں نے اپنے کالم میں لکھا: «”اگر آج سرکاری افسر غلط کاری کے آگے دیوار بن جائے تو اس کی ٹرانسفر تو یقیناً ہو جائے گی، لیکن ملکی نظام راہِ راست پر آ سکتا ہے۔”» یہ مختصر مگر نہایت فکر انگیز جملہ اس مضمون کی تحریک بنا۔ تاہم، اس پر گفتگو سے پہلے ایک ایسی کہانی یاد آتی ہے جو ہم سب نے بچپن میں ضرور سنی یا پڑھی ہوگی۔ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے؟ کہتے ہیں ایک جگہ بہت سے چوہے رہتے تھے۔ ایک بلی روزانہ آتی

شاہ نواز جونیجو: ایک بااصول سیاستدان کی سیاسی جدوجہد اور تاریخی کارنامے
ابتدائی زندگی اور تعارف شاہ نواز جونیجو یکم جنوری 1932 میں گوٹ سنجر خان جونیجو میں پیدا ہوئے۔ آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں سے ہی حاصل کی۔ سیاسی سفر کا آغاز شاہ نواز جونیجو نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز 1962 میں ڈسٹرکٹ کونسل سانگھڑ کا رکن منتخب ہوکر کیا۔ مخدوم آف ہالا اور جام صادق علی سے قریبی تعلقات کی وجہ سے آپ نے پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ 1988 کا تاریخی الیکشن اور کامیابی آپ نے 1988 کے الیکشن میں سابق وزیراعظم محمد خان جونیجو کو شکست دے کر ملک کے سیاسی حلقوں کو حیرت میں ڈال دیا۔ آپ کو پارٹی نے بلدیاتی امور کا وزیر مملکت بنایا۔ شاہ نواز جونیجو: 49879 ووٹ محمد
چند چنیدہ تحریریں

جاپانی اسکالر کا اردو میں غیر معمولی خطاب
جاپانی اسکالر کا اردو میں غیر معمولی خطاب (Order of the Rising Sun, Gold Rays with Neck Ribbon) ڈاکٹر معین

خود نوشت ‘کاریز’: رفیع الدین راز کی ادبی اور سفری داستان
خود نوشت ‘کاریز’: رفیع الدین راز کی ادبی اور سفری داستان ‘جہا نیاں جہاں گشت ‘کا ایک دل نشیں کارنامہ:

کمیشن والی دوائیں اور لیبارٹری ٹیسٹ
ماضی کا طریقہ علاج: ڈاکٹر صاحبان کی تشخیصی صلاحیت (diagnostic)ڈاکٹر صاحبان اسی اور نوے کی دہائی میں مریضوں کا علاج

سچ حسب ذائقہ اور تلخ معاشرتی رویے
سچ کی کڑواہٹ اور سچ حسب ذائقہ کا تصور کسی جگہ پڑھا تھا کہ دشمن بنانے کیلئے ضروری نہیں کہ
ہمارے چینل کی پسندیدہ ویڈیوز
یونیورسٹی کی وہ ناقابلِ فراموش راتیں، جنہوں نے زندگی میں لڑنا سکھایا۔سابق طلبہ رہنماؤں کی زبانی، بچپن کی مضبوط بنیادوں سے کٹھن موڑ تک کا سفر۔ جدید دنیا کی پیچیدگیوں کو سمجھنے اور منزل پانے کے وہ ان کہے حقائق۔
جانیے ان معروف ادیبوں اور شاعروں کے بارے میں، جنہیں دنیا صرف ان کی تحریروں سے جانتی ہے۔ ان عظیم مفکروں کے ماضی کے وہ بند دروازے، جو پہلی بار آپ کے سامنے کھلنے جا رہے ہیں۔ ایک عام انسان کے اندر سے ایک انقلابی قلم کار کے جنم لینے کی وہ ان کہی داستان جس نے اپنی سوچ سے لاکھوں دلوں کو اپنی مٹھی میں لیا۔
ذکر کتاب تاثرات – اقتباسات ذکر کتاب تاثرات – اقتباسات ذکر کتاب تاثرات – اقتباسات
