اس تحریر کو آپ کے فراہم کردہ تمام مواد کے ساتھ مکمل تفصیل کے ساتھ ترتیب دیا گیا ہے۔ یہ بلاگ پوسٹ کے لیے ایک جامع اور تفصیلی ورژن ہے۔
زخمِ خنداں: ڈاکٹر محمد حنیف شیوانی کی فکری جراحی اور ظرافت کا ایک حسین امتزاج
سید معراج جامیؔ صاحب کی یہ تحریر ڈاکٹر محمد حنیف شیوانی کی کتاب زخمِ خنداں پر ایک بصیرت افروز تبصرہ ہے۔ نشتر زخم لگانے اور بھرنے دونوں کے کام آتا ہے، اور زخم وہ گھاؤ ہے جو جسم کو نہیں روح کو گھائل کرتا ہے۔ اگر گھائل انسان میں رگِ حمیت ہو، تو وہ پھر نشتر کو صدا دیتا ہے۔ واضح رہے کہ یہاں حمیت سے مراد غیرت، عزتِ نفس، اور خودداری ہے، جبکہ منفی معنوں میں اس سے مراد غصہ اور نفرت ہے۔ اسی جوش و جذبہ سے مغلوب ہو کر زخم نشتر کو آواز لگاتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کی انسیت نشتر کے ساتھ دائمی ہے۔ زخمِ خنداں کے مصنف نے اسی جذبے کے تحت اپنی تحریروں کو تخلیق کیا ہے۔
ایک منفرد نشتر دریدہ قلم کار کی آمد
طبی ڈاکٹروں کا سب سے پسندیدہ مشغلہ نشتر کاری ہے، جبکہ علمی ڈاکٹروں کا سب سے عزیز کھیل جراحتِ دل ہے۔ ہمارے ڈاکٹر محمد حنیف شیوانی صاحب ان دونوں علوم کو ایک ساتھ رکھنے والے حاذقِ نشتر اور طبیبِ جراحت ہیں، یعنی وہ دو آتشہ ہیں۔ یہ ہنر خدا انہیں ہی دیتا ہے جو ان دونوں کمالات کو جاننے، پرکھنے اور برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ زخمِ خنداں کے مصنف کے بارے میں جاننے کی میں نے بھرپور کوشش کی، کیونکہ فی زمانہ یہ ان معدودے چند نشتر دریدہ قلم کاروں میں سے ہیں جن کا وجود آج گرائپ واٹر کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بیمار اور بچے کی کیفیت یکساں ہوتی ہے، اور زخمِ خنداں کے مصنف ان دونوں کے درد کو سمجھتے ہیں۔
بیماری، اشعار اور تیمار دار کی بے بسی
بیماری کی حالت میں اکثر مریضوں کو اشعار یاد ہو جاتے ہیں اور وہ تیمار داروں کو بے تکان سنانے لگتے ہیں۔ مریض تو شفا یاب ہو جاتا ہے مگر تیمار دار دوسرا بستر سنبھال لیتا ہے۔ بھلا مریض کے ان اشعار کا تیمار دار کے پاس کیا جواب ہو سکتا ہے؟ ابنِ انشا بیمار ہوئے تو اشعار پڑھے، اور استاد داغ دہلوی کو تو تیمار دار نے جھاڑ ہی پلا دی۔ زخمِ خنداں کے مطالعے کے دوران مجھے یہ تمام ادبی واقعات شدت سے یاد آئے۔ ڈاکٹر صاحب کی تحریریں مریضوں کے ان اشعار کی طرح دل میں اتر جاتی ہیں، اور زخمِ خنداں پڑھنے والے قاری کو وہ سکون ملتا ہے جو تیمار دار کو بیماری کے عالم میں نہیں مل پاتا۔
کتابوں کی اشاعت اور ادبی وقفے کا فلسفہ
ڈاکٹر حنیف شیوانی کی پہلی کتاب ’’م…م…مضامین‘‘ 2021 میں اور دوسری ’’آپ سے پردہ ہے‘‘ 2023 میں آئی تھی۔ ایک سال کے وقفے کے بعد تیسری کتاب زخمِ خنداں کی آمد جہاں بہبودِ آبادی کے لیے خطرہ ہے، وہاں کثیر الکتب کے لیے بھی ممنوع ہے۔ اسی لیے انسانوں کی بے چینی کو دیکھتے ہوئے حاذق نے کہا تھا کہ وقفہ ضروری ہے۔ مگر زخمِ خنداں کے خالق ان لوگوں میں سے نہیں جو صرف وقفے پر اکتفا کریں۔ چونکہ بچے دو ہی اچھے کے لیے دس بارہ بچوں کا ہونا ضروری ہے، اس لیے ڈاکٹر صاحب نے 2025 میں زخمِ خنداں کی نوید سنائی۔ یہ کتاب ماشاءاللہ صحت مند ہے، جس کا وزن 10 پونڈ، رنگ گورا، چہرہ کتابی اور آنکھیں شرابی ہیں۔
فکری جراحی اور فکرِ عاقبت کا حسین امتزاج
ڈاکٹر صاحب کا پیش لفظ پانچ سطری نظمِ آزاد میں ہے، جہاں وہ کہتے ہیں کہ چہرے پر ہنسی رکھتے ہوئے انہوں نے کئی سچائیاں چاک کی ہیں۔ اگر کہیں درد محسوس ہو تو جان لیجیے یہ محض مزاح نہیں، بلکہ فکری جراحی ہے۔ جراح کا جراحی کرتے وقت چہرے پر ہنسی رکھنا مریض کی زندگی کی گواہی دیتا ہے، مگر زخمِ خنداں کی ہنسی اگر مریض کو لے ڈوبے تو فکرِ عاقبت لاحق ہو جاتی ہے۔ دیباچے میں وہ لکھتے ہیں کہ ان کی زندگی دو ہتھیاروں، قلم اور نشتر کے سائے میں گزری ہے۔ سہیل ضرار خلشؔ نے زخمِ خنداں کے بارے میں کہا ہے کہ یہ کتاب ذہن کو جگاتی اور دل کو ہلکا کرتی ہے۔
چھ حصوں میں تقسیم اور سماجی اصلاح کا مشن
ڈاکٹر صاحب نے اپنی تحریروں کو چھ حصوں میں تقسیم کیا ہے: زبان و بیان، سماج، معیشت و شہری سہولیتیں، طنزِ عام، سیاست، اور آخر میں بکرا بیتی۔ زخمِ خنداں کے مصنف صرف مزاح نگار نہیں بلکہ ایک درد مند انسان بھی ہیں۔ وہ اپنی تحریروں کو ہنسی مزاح کا مربا نہیں بناتے، بلکہ انسانوں کے سدھار کے لیے اس میں تھوڑی سی کوکین بھی ملا دیتے ہیں۔ زخمِ خنداں کی تحریریں تریاق کا اثر رکھتی ہیں۔ میں نے ڈاکٹر صاحب کی ان آخری سطروں کو پڑھنے سے گریز کیا ہے جن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک معلم کا فریضہ نبھا رہے ہیں۔ زخمِ خنداں میں مزاح کے ساتھ ساتھ سنگینی بھی موجود ہے۔
سمندر کا واقعہ اور فدویانہ عاجزی کی حقیقت
زخمِ خنداں میں ایک واقعہ ہے جہاں کشتی ڈوبتے وقت دلہن کہتی ہے کہ آپ اماں کو بچا لیجیے، مجھے بچانے والے بہت سے ہیں۔ یہ مزاح کے پیچھے چھپی ایک تلخ حقیقت ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے فدوی کہنے پر جب بیگم پوچھتی ہیں کہ فدوی کون ہے، تو وہ جواب دیتے ہیں کہ فرمابردار اور جان نثار۔ موبائل پر ایپ کھولنے پر معلوم ہوتا ہے کہ فدوی کا مطلب خود کو تابع ظاہر کرنا ہے۔ بیگم صرف لغت نہیں نیتیں بھی پڑھ لیتی ہیں، اور زخمِ خنداں کے یہ قصے بتاتے ہیں کہ ڈاکٹر صاحب ایک فدوی ہیں۔ میں بھی یہی کہتا ہوں کہ میں کوئی دانا نہیں، بس زخمِ خنداں کا ایک فدوی ہوں۔
اردو ترجمہ
ڈاکٹر محمد حنیف شیوانی کی کتاب زخمِ خنداں پر سید معراج جامیؔ کا یہ تبصرہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح ایک ادیب اپنی تحریروں کے ذریعے معاشرے کے زخموں کا علاج کرتا ہے۔ مصنف نے کتاب کے ہر پہلو، ڈاکٹر صاحب کی دو آتشہ صلاحیتوں، اور ان کی کتابوں کے تسلسل کا ذکر انتہائی دلچسپ انداز میں کیا ہے۔ زخمِ خنداں محض ایک مزاحیہ کتاب نہیں، بلکہ ایک ایسی فکری جراحی ہے جو قاری کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ کتاب کے مختلف حصوں، سماجی مسائل، اور ذاتی زندگی کے واقعات کے ذریعے ڈاکٹر حنیف شیوانی نے قارئین کے دلوں میں گھر کر لیا ہے۔ اس مضمون میں مزاح اور سنجیدگی کا وہ توازن قائم کیا گیا ہے جو زخمِ خنداں کی اصل روح ہے۔




